61

مذہبی پیشوا

آریاؤں کے اثر بڑھانے والے آریاؤں کے مذہبی پیشوا تھے ۔ جو بعد کے زمانے میں برہمن کہے جانے لگے ۔ رگ وید میں رشیوں کے ذی اثر خاندانوں کے نام مذکور ہیں جو بھجنوں کو لکھنے والے بیان کئے جاتے ہیں ۔ رگ وید کی سات جلدیں ان سے منسوب ہیں ۔ اور تصریحاً اور کنایتاً یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ مختلف قبائل کے بادشاہوں کے پجاری اور پروہت اور ان بھجنوں کو لکھنے والے تھے ۔ بلکہ یہ ان کے وزیر اور مشیر بھی تھے ، اس رسم کو برہمنوں کے عہد میں ترقی ہوئی ۔ یعنی برہمن راجاؤں کے منتری ہونے لگے ۔ لیکن غور سے دیکھنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شاہی خاندان سب کے سب آریا نہ تھے ۔ اس لیے تعجب ہوتا ہے کہ ایک آریا پجاری کسی داسیو (دیسی) بادشاہ کا پروہت اور شاعر ہو ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آریاؤں نے مقامی لوگوں کو بھی اپنے مذہب کی طرف راغب کرلیا تھا ۔ پجاریوں کی یہ اوالعزمی فلاح قومی کی معاون تھی ۔
اہل ہند میں لوگوں پر مذہبی پیشواؤں کا بڑا اثر ہے ۔ لوگ ان کے سامنے اپنی حاضری کو بڑی سعادت سمجھتے ہیں اور ان کا ہر طرح سے اعزاز کیا جاتا ہے ۔ ان قدم چومے جاتے ہیں اور انہیں بھاری نظرانہ پیش کیا جاتا ہے ۔ اکثر اوقات وزارت کے عہدے پر فائز ہونے کے علاوہ اکثر راجاؤں کے یہ خاص مشیر ہوتے ہیں ۔ ویدک عہد کے آریائی پیشوا بھی اسی قبیل کے ہوں گے ۔ جنہوں نے اگنی اور سوما کی پرستش کو آریاؤں کی زبان اور مذہب کے ساتھ سانپ کی پوجا کرنے والوں میں رائج کیا ۔ تبدیلی مذہب کی رسم نہایت سادہ ہوتی تھی ۔ یعنی چیلا بنانے کی رسم مختصر رسم کی طرح اور آریائی عقائد تسلیم کرلینے کے بعد سانپوں کے ناپاک بچے درخشاں دیوتاؤں کی دو جنم لینے والی اولاد میں تبدیل ہوکر آریاؤں کی مذہبی اور سیاسی جماعت میں داخل ہوجایا کرتے ہوں ۔ 
رگ وید میں ایک چھوٹا سا منتر ہے جسے گائتری کہتے ہیں ۔ یہ منتر نہایت سادہ اور متبرک خیال کیا جاتا ہے ۔ جس کی خاص برکتیں اور جسے ڈھائی ہزار سال سے زیادہ عرصہ سے ہندو دن میں کم از کم تین دفعہ پڑھتے ہیں ۔ اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے ۔
’’آسمان میں رہنے والے سوتیار دیوتا (کی برکت) سے ہم وہ عظمت حاصل کریں جس کی ہمیں آرزو ہے اور ہماری دعاؤں میں اثر دیــ’’۔ (رگ وید سوم ۶۲،ا۔۱)
یہ منتر بہ ظاہر بالکل معمولی معلوم ہوتا ہے اور تعجب ہوتا ہے کہ اس قدر متبرک کیوں ہے ۔ لیکن اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ کہ یہ منتر ان لوگوں سے پڑھایا جاتا تھا جو آریائی مذہب میں داخل ہوتی تھے تو یہ شبہ رفع ہوجاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ہزار سال سے یہ کیوں مقدس خیال کیا جاتا ہے ۔ البتہ اس امر کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ منتر اس خاص غرض سے استعمال کیا جاتا ہے تھا ۔ لیکن قرین قیاس ہے کیوں کہ آسمان اور سوریا کی پرستش جو آتش پرستی کی ترقی یافتہ شکل تھی آریائی فطرت پرستی کی نشانی تھی ۔ جب کہ غیر آریا زمین کی پرستش کی نشانی سانپ تھی ۔ 
گائتری منتر وید کے اس مجموعہ میں شامل ہے جو کہ رشی وشِو متر سے منسوب ہے اور ہم اس اختلاف سے بھی واقف ہیں جو کہ برہمنوں کی دو بڑی جماعتوں میں تھا اور انہیں دو ویدک رشیوں وسشٹھا اور وشوامتر سے منسوب ہیں ۔ 
آریاؤں کے مذہبی پیشواؤں کا دعویٰ تھا کہ ہم دیوتا ہیں ، دنیا کے حاکم اور ہر چیز کے مالک ہیں ۔ ہم دیوتاؤں کو بھی اپنی قربانیوں اور زہد و تقویٰ سے مطیع کرسکتے ہیں ۔ اس کے برخلاف وشو متر اور اس کی اولاد کے پیرو آزاد خیال اور ترقی کے دلدادہ تھے ۔ تالیف قلوب سے غیر اقوام کو آریاؤں میں شریک کرنا چاہتے تھے ۔ غالباً ان کی مساعی جمیلہ سے آریائی مذہب اور زبان کا دیسی فرمان رواؤں اور ان کے قبائل میں رواج ہوا اور وہ آریاؤں کے زیر اثر ہوگئے ۔ وہ دیسی اقوام کو شریک کرنا چاہتے تھے ۔ مگر اس حکمت عملی سے قدیم باشندوں کے بہت سے عقائد اور رسوم آریائی مذہب میں داخل ہوگئے اور بعد کے زمانہ میں مخلوط ہندو دھرم پیدا ہوا ۔ پرانے خیالات کے مخالف دیسی باشندوں کی رسوم اختیار کرنے پر طعن و تشنیع کرتے اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے اور اس خطرے کو رفع کرنے کے لیے ذات کی قیود پر سختی کے ساتھ عمل کرتے تھے ۔ وہ وشو متر کے تقدس سے انکار نہیں کرسکتے تھے ۔ کیوں کہ رگ وید میں اس کا درجہ خود ان کے رشی کے مساوی تھا اور یہ قصہ گڑھا گیا کہ وشو متر برہمن نہ تھا بلکہ چھتری تھا ۔ جس نے اپنے زہد و تقویٰ سے دیوتاؤں کو مجبور کیا کہ اسے یہ اعزاز بخشیں ۔ دونوں رشیوں اور ان کی اولاد میں جھگڑا صدیوں تک جاری رہا اور بعد کے زمانے کی برہمنی کتابوں کی نظموں میں ان واقعات کو مبالغہ سے بیان کیے گئے ہیں ۔ مگر رگ وید میں اس جھگڑے کا ذکر بالکل نہیں ۔ البتہ بعض بھجنوں میں اس کا اشارہ ملتا ہے ۔ اس طرح تنگ خیالی اور قدامت پرستی کے مقابلے میں ذات کا ایک نیا پہلو نظر آتا ہے ۔ یعنی تحریک جس میں اگنی اور سوما کے قدامت پرستوں سے اپنی جماعت کو محفوظ رکھنے کے لیے وجود میں آئے تھے اور تبلیغ و تالیف قلوب سے غیر آریاؤں کو آریاؤں کی جماعت میں داخل کر رہے تھے ۔ دیسیوں کی آریائی مذہب میں مساوات کی شرط سے داخلہ کے بارے میں اس بھجن کا وہ اشلوک نہایت اہم ہے جس میں وشو متر قوم بھارت کی دور اندیشی کی تعریف کرتا ہے ۔ غالباً اپنے سابقہ مربیوں یعنی ترت سو داخل کیے گئے تھے ۔ بعد کے زمانہ یعنی برہمنوں کے اوائل میں صرف اس شرط پر داخل کیے جانے لگے کہ وہ ایک ادنیٰ حثیت رہنے پر قانع رہیں ۔ شودروں کی جماعت اسی طرح وجود میں آئی ۔ ہیوٹ کا کہنا ہے کہ برہمنوں کا خیال تھا کہ برہمنوں کی تعداد قلیل اور ادنیٰ درجہ کے قبائل پر حکومت کرے اور دونوں جماعتوں یعنی قدامت پرست اور آزاد خیال دونوں کا مقصد یہی تھا ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں