74

مذہب عرفان

قدیم زمانے میں مغربی ایشیا کی مختلف قوموں ، نسلوں کے اختلاط نے مختلف تمدنوں اور عقیدوں کے امتزاج کے لیے حالات کو مساعد بنادیا تھا ۔ اس سے فلسفہ یونان مشرقی ادیان کے ساتھ مخلوط ہوگیا ۔ مثلاً زمانہ قدیم سے صوبہ میسوپوٹیمیا کے آرامی ماحول میں ایرانی اور سامی عقائد مخلوط ہوگئے تھے ۔ اس سے بیشمار اور رنگارنگ کے پیوندی مذہب پیدا ہوگئے ۔ ایک جدید جدید عنصر جو ان کے ساتھ اور شامل ہوگیا وہ ایشیائے کوچک کے پراسرار مذہب تھے ۔ پھر یونانیوں کے فلسفیانہ خیالات اور یہودیوں کے قبلائی یا باطنی عقائد اور کیمیائی نظریات میں مل جل گئے ۔ قدرت مجردہ اور قدرت کی طاقتیں جن کے مجسمے دیوتا کے طور پر پوجتے تھے اب ان کو یونانی نام دیے جانے لگے ۔ ایرانی ، بابلی اور یونانی اساطیر سب ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط ہوگئے اور مشرقی افسانوں کے اشخاص و دیوتا یونانی دیوتاؤں کے بھیس میں جلوہ نما ہونے لگے ۔ دنیائے خیر و دنیائے شر ، دنیائے نور اور دنیائے ظلمت کے درمیان ایک صریح امتیاز ، زندگی میں انسان کے مخصوص فرائض ، بہشت و ذوزخ ، روز قیامت اور تجدید کائنات ، قدرت باری کی ہمہ جایت اور اس کے ساتھ فرد انسان کے ذاتی اور باطنی تعلقات ، غرض یہ تمام اعتقادات جو ایرانی مزدائیت کے مخصوص خط و خال ہم کو ان مراسم مذہبی میں نظر آتے ہیں ۔ جن کے ذریعے مریدان مبتدی کی تقریب معبود کے ساتھ کی جاتی تھی ۔ یہ تقریب خاص مناسک اور خفیہ تعلیمات کے ساتھ ہوتی تھیں جو الہامی خیال کی جاتی تھیں ۔ وہ بعض پراسرار کتابوں میں محفوظ تھیں اور نامحرموں کے لیے ناقابل فہم تھیں ۔ ان میں مصری ، ایرانی ، کلدانی اور یہودی عقائد سب کے سب باہم مخلوط تھے ۔ اسی ماحول میں زرتشت مجوسی کے بعض جعلی نوشتہ جات ظہور پزیر ہوتے ہیں اور زرتشتی مذہب کے خاص بدعتی فرقوں میں زرتشت کو نوع انسانی کا نجات دہندہ قرار دیا جاتا ہے ۔ اس عہد کے باطنی عقائد کسی مقامی یا قومی یا حدود کے اندر نہ تھے بلکہ یہ مانا جاتا تھا کہ وہ نوع انسانی کے دین اصلی کے اصول پر مشتمل ہیں ۔ جن کے حقائق ناقص شکل میں مختلف مذاہب عمومی کے اندر جلوہ نماہ ہیں ۔

دوسری صدی عیسوی میں سلطنت روما کے اندر مذہب عرفان رائج ہوا ۔ عرفانی عقائد بیشک اس سے بیشتر موجود تھے ۔ چنانچہ اسکندریہ کے یہودیوں میں اس کے آثار نمایاں دیکھنے میں آتے ہیں ۔ لیکن اس کا مبدا قدامت کی تاریخی میں گم ہے ۔ دوسری صدی عیسوی سے عرفانی مذہب والے عیسائیوں کی کتاب مقدسہ سے اپنے عقائد کی تائید حاصل کرنے میں لگے تھے اور بہت سلسلہ ہائے تصوف مذہب عرفان ہی کی مختلف شکلیں جن کے مراسم اور اعتقادات مختلف ہیں ۔ لیکن بااین ہمہ ان نظامات کی گونا گونی میں مشرک عقائد کی ایک رو چلتی نظر آتی ہے ۔

مذہب عرفانGnosticsm  کے عقائد و مسائل نہایت پیجیدہ اور حیران کرنے والے ہیں اور ان کو سمجھنے کے لیے مذہب و فلسفہ دونوں کو جاننے کی ضرورت ہے ۔ عیسائیت سے پہلے عرفان میں یہودیت ، زرتشتیت اور فلسفہ یونان کے مسائل مخلوط تھے ۔ لیکن حضرت عیسیٰ کی شخصیت اور نوعیت کا مشکل مسلہ اس میں داخل ہوا ۔ عرفانیوں کا سب بڑا عقیدہ یہ ہے کہ انسان کو نجات فقط عرفان Gnosis کے ذریعے سے حاصل ہوسکتی ہے ۔

ان میں سب سے پہلا عقیدہ ثنویت کا ہے ۔ لیکن مزدائیوں کی ثنویت اور عرفانیوں کی ثنویت میں گہرا اختلاف ہے ۔ مزدائیت کی عالم نور اور عالم ظلمت میں سے ہر ایک بیک وقت روحانی بھی ہے اور مادی بھی ۔ اس کے برعکس عرفانی عالم نور کو عیناً عالم روح اور جہاں ظلمت کو عیناً جہاں مادہ سمجھتے ہیں ۔ زندگی کے اس تصور کا نتیجہ انتہائی یاس پذیری اور ترک دنیا کی شکل میں ظاہر ہوا ۔

مذہب عرفانی میں خدا کی ذات مرئی دنیا بلکہ تصورات کی دنیا سے پڑ ہے ۔ وہ خلائق لایدرک اور بے اسم ہے جس کو وہم انسانی پا نہیں سکتا ہے ۔ اسی خدائے اولین کی ذات سے کائنات صادر ہوئی ہے ۔ جو نشانات یا قرون کے ایک سلسلے کی شکل میں ہے جس کی ہر کڑی اپنے ماقبل والی کڑی سے گھٹ کر ہے حتیٰ کہ آخر میں مادی دنیا ہے جو اس سلسلے نشانات میں سب سے آخری اور کثیف ترین ماحصل ہے ۔ لیکن اس میں اپنے منبع ربانی کی طرف جانے کا میلان موجود ہے ۔ مادہ یا عالم اجسام بدی کا مسکن ہے ، لیکن سرشت انسان میں ایک شعلہ یزدانی ودیعت کیا گیا ۔ جو اس کو نجات کی راہ دیکھاتا ہے اور عالم نور تک اس کی معراج کے راستے میں جو خدائی حکام عدالت کے محکمہ عدل سے ہوکر جاتا ہے رہنما کا کام دیتا ہے ۔ یہ زمانہ متاخر کے عرفانیوں کا نظریہ خلق عالم کا تھا ۔ انسان یا انسان اولین ایک نیم ربانی شخصیت ہے جس تصور معلوم ہوتا ہے ایران سے لیا گیا ہے ۔ بعض عرفانیوں نے اسے آدم سمجھا اور بعد میں عیسیٰ کے جسم میں ظہور پزیر ہوا ۔ وہ خدائے بزرگ کا مولود اول ہے جو مادی دنیا میں نازل ہوا ۔ وہ کائنات کی روح ہے ، وہ خدائے ثانی ہے ، وہ نفس ناطقہ ہے ، وہ روح گویائی ہے ۔ اسی کے ساتھ مادے میں پستی کی ابتدا ہوئی اور ساتھ ہی نجات کے لیے جدوجہد کا آغاز ہوا ۔ لیکن نجات تائید آسمانی کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

افکار عرفانی کی ہر نوعیت ہم ایک نجات دہندہ کا آسمانی عقیدہ ملتا ہے اور یہی عقیدہ ہے جس کی وجہ سے عرفانیوں نے عیسائیت کو قبول کیا ۔ کیوں کہ ان میں وہ آسمانی نجات دہندہ ان کو حضرت عیسیٰ کی شخصیت میں مل گیا ۔ عرفانیوں کے بعض فرقوں کے نذدیک حضرت عیسیٰ ہی تھے جنہوں نے نبیۃ آسمانی صوفیا کو جو مادی حالت کی پستی آن گری تھی نجات دی ۔ فرقہ والنٹینی Vaeeentiiniian خدائے منجی (عیسیٰ) اور صوفیا کے درمیان ایک ازواج مقدس مانتے ہیں جس کی یاد گار وہ حجرہ زناف کے مذہبی مراسم بجالاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اساطیر اور نظریہ خلق عالم کے افسانے سب مراسم مذہبی کی تعبیر و تاویل کے طور پر شکل پذیر ہوئے ۔ ان مراسم میں ایک شخص کائنات کی اس جدوجہد کو مشاہدہ کرتا تھا جو وہ اپنی نجات کے کے لیے کر رہی ہے اور بذریعہ عرفان خود نجات حاصل کرتا تھا ۔ جس سے مراد قید مادہ کی زنجیروں سے رہائی ہے ۔ عرفان علم لدنی ہے نہ علم فکری اور وہ کشف و شہود اور باطنی توجہ سے حاصل ہوتا ہے ۔ جس کہ ذریعے انسان معرفت معنی سے طہم ہوکر نئی زندگی میں آتا ہے سیڈر Schaeder نے عرفان کی تعریف یہ کی ہے وہ حقیقی ہے جو محض اپنی صداقت سے انسان کو نجات کی طرف لے جاتی ہے ۔

عرفانیوں میں سے اکثر جن کے نظا، افکار سے ہم کم و بیش آگاہ ہیں سلطنت روما کے ایشیائی صوبوں کے رہنے والے تھے ۔ بابل میسو پوٹمیا کے عرفانی فرقوں میں ایک فرقہ مینڈیئن Mandseans تھا اور اسے عربی کتابوں میں اسے المفتسلہ لکھا گیا ہے ۔ وہ عراق میں اب بھی موجود ہیں اور صابئون کہلاتے تھے ۔ یہ عیسائی نہیں ہیں لیکن حضرت عیسیٰ کو مانتے ہیں اور لوگ انہیں حضرت یحیی کی امت کہتے ہیں اور ان کا مذہب مانوی مذہب سے ماخذ ہے ۔ عرب مصنفوں نے مشرق کے تمام عرفانیوں کو حنیف یا صائبین میں شامل کرلیا ہے ۔ جس کی نمائدگی دور جدید کے یزیدی کرتے ہیں ۔ جس میں ہر مذہب ہائے اور فلسفہ کے گونا گوں آثار ملتے ہیں ۔ لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ بعد کے دور میں عرفانی کسی ایک مذہب سے وابستہ ہوگئے تھے ۔ حقیقت میں عرفانی مشرقی وسطیٰ کے ہر مذہب سے وابسطہ رہے ہیں ۔ اگرچہ ان بہت سے فرقے مختلف مظاہر اور صورتوں کی پرستش و پوجا کرتے تھے ۔ مثلاً ان کا ایک فرقہ اوپیٹس Ophitces سانپ کی پوجا کرتے تھے ۔ یہ یونانی Ophis سے نکلا ہے اور جس کے معنی سانپ کے ہیں ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ سانپ اس لیے مقدس ہے کہ اس نے بہشت میں آدم کو علم کے درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی تھی ۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اولاد آدم علم سے محروم رہتی ۔ بعد کے دور میں عرفانیوں کے بہت سے مکتبہ ہائے فکر نے یہودیت ، عیسائیت اور ثنویت کو اپنے عرفانی خیالات کے ساتھ قبول کرلیا اور ان مذاہب میں انہوں نے اپنے خیالات داخل کردیے ۔ یہی صورت اسلام کے ساتھ پیش آئی اور بہت سے فرقہ خاص کر باطنیت ، شیعہ اور اہل تصوف ان کے خیالات کا واضح نتیجہ ہیں ۔ جس میں ایک آسمانی نجات دہندہ (مہدی) عقیدہ عرانیوں کے عقیدے کی باز گشت ہے ۔      

وہ ابتدائی خوش بینی جو محنت اور کام کی محرک ہے اور جس پر مذہب کی بنیاد ہوتی ہے وہ عرفانی کے عقیدے جبر و تقدیر کے تحت دب جاتی ہے ، زہد اور ترک دنیا کی طرف میلان بڑھ کر مذہب کی بنیادوں کو کھوکھلا اور اس کے لیے سم قاتل ثابت ہوتا ہے ۔ کیوں کے جبر کا عقیدہ نجات کے تحت تقدیر مقدم ہوجاتی ہے ۔ یہ فکر انسان کو جہد کے بجائے اس نتیجہ انتہائی یاس پذیری اور ترک دنیا کی شکل میں ظاہر ہوہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں