88

مروت

نعمت اللہ ہروی اس قبیلہ کا ذکر نہیں کرتا ہے ۔ تاہم شیر محمد گنڈاپور نے اس کا شجرہ مروت بن نوحانی بن سیانی بن لودی بن شاہ حسین دیا ہے ۔

یہ کلمہ دو حصوں پر مشتمل ہے م+وت=مروت ۔ اس کلمہ کا پہلا جزو مر جس کے معنی پہاڑ یا بلندی کے ہی افغانستان سے برصغیر تک کی مختلف اقوام کے ناموں اور علاقوں کے لئے مختلف شکلوں میں آیا ہے اور اس کلمہ کا دوسرا جزو وت نسبتی ہے اس طرح اس کے معنی پہاڑ پر آباد یا اونچی جھگوں پر رہنے والوں کے ہیں ۔ (دیکھے اومڑ)

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں