71

مری اور گرد نواع کے عباسی

عباسی جو مری ہزارہ روالپنڈی اور جہلم کے زیریں علاقہ میں آبادی ہیں ۔ ابسن کا کہنا ہے کہ یہاں بہت سے قبائل جن میں دھوند )دھونڈ( ، ستی ، کیتوال ، دھنیال ، بکھرال ، بدھال ، اپسیال ، کھروال ، کنیال اور کہوٹ وغیرہ قبائل جہلم اس طرف کے پہاڑی علاقہ میں آباد ہیں اور ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سب نے بیرونی نژاد ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس پر ٹی دبلیو ٹالبورٹ نے حیرت کا اظہار کیا اور اس کہنا ہے حیرت ہے یہاں کسی قبیلے دعویٰ یہ دعویٰ نہیں ہے کہ اس تعلق اسی سرزمین سے ہے ۔ 
۱۸۸۵ء؁ کی مردم شماری تک ان کا دعوی تھا کہ وہ رسول اللہ کے چچا حضرت عباس کی اولاد میں سے ہیں ۔ مگر اس وقت تک ڈھونڈ کہلاتے تھے اور عباسی بعد میں کہلوائے ۔ ان کی ایک روایت کے مطابق ان کا مورث اعلی تخت خان تیمور کے ساتھ دہلی سے آیا تھا اور شاہ جہاں کے دور میں اس کا بیٹا ژوارب خان کہوٹہ آیا ۔ یہاں اس نے اور جدوال ، دھوند ، سرار اور تناولی کا بانی بنا ، اس کا بیٹا کھلورا یا کولو رائے کشمیر گیا جس نے وہاں ایک کشمیری لڑکی سے شادی کی اور اس کے بطن سے دھوند قبیلہ وجود آیا اور ایک کیتھوال عورت سے اس کے ناجائز تعلقات تھے ۔ جس سے ایک لڑکے نے جنم لیا جس سے ستی قبیلہ وجود میں آیا ۔ لیکن ستیوں کا کہنا ہے وہ نوشیرواں کی نسل سے ہیں ۔ یہ کہانی بتاتی ہے صرف تین سو سال سے کم عرصہ میں ان کی آبادی کثیر تعداد میں وجود میں آگئی اور مقامی آبادی فنا ہوگئی ۔ جو ممکنات میں سے نہیں ہے ۔   
ہزارہ کے علاقہ میں اندوال کے نام سے آباد ہیں ۔ انہیں ابسن ڈھونڈوں کی ہی ایک شاخ قرار دیا ۔ یہاں کی مقامی روایات انہیں راجپوتوں کی اولاد بتاتی ہے ۔ ای ڈی میکلیکن کہنا ہے وہ آج بھی مسلمانوں کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں ہیں ۔ حتیٰ انہیں برتن بھی چھونے نہیں دیتے ہیں ۔ ان کی شادی کی رسمیں ہندوانہ ہیں اور بارات دو تین روز دلہن کے گھر قیام کرتے ہیں ۔ یہ قبیلے سے باہر شادی شاذ کرتے ہیں ۔ تاہم کثیر زواجی عام ہے ۔  
کولو رائے ایک ہندوانا نام ہے اور ایک روایت کے مطابق اس کی پرورش ایک برہمن نے کی ۔ اپسن کا کہنا ہے اسے میجر ولس نے انہیں بتایا کہ تیس سال پہلے تک یہ اسلام سے برائے نام شناسا تھے اور ان کے رسم و رواج اور اعتقاد کی یاد گاریں ان میں اب باقی ہیں اور ان کا ماخذ ہندو ہے ۔ سکھ ان سے بہت نالاں تھے اور ان کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ۔ جیمز ٹاد تاریخ راجستان میں پنواروں کی ایک شاخ کا نام دھوندا بتاتا ہے ۔ لیکن غالباً ان کا تعلق پنواروں سے نہیں ہے ۔ ان میں نسلی تفاخر بہت زیادہ ہے ۔ یہ کاشت کار ہیں اور مویشی بھی پالتے ہیں ، پہاڑیوں پر رہنا پسند کرتے ہیں اور سردیوں میں پہاڑوں سے نیچے اتر آتے ہیں ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں