40

مزدایت

مذہب زرتشت ایران میں صدیوں تک روایتی مزدایت پر کار بند رہا اور اس کا ارتقاء ایران کے مختلف کے حصوں میں کسی قدر مختلف ہوا تھا ۔ مثلاً ہخامنشیوں کے وقت فارس کا مذہب مزدایت اس مزدایت سے مختلف تھی جو کہ میڈیا کے مغوں یا موبدوں کا مذہب تھا اور ان کے مابین بہت اختلافات تھے ۔ جس زمانے میں یونانی مورخ ہیروڈوٹس نے جو اہل فارس اور اہل میڈیا کے مذہبی عقائد و رسوم کو بیان کیے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت تک زرتشت کی مذہبی اصلاحات ایران کے مغرب تک نہیں پہنچی تھی اور چوتھی صدی قبل مسیح میں میڈیا کے مغوں یا مبدوں میں وہ مزدائیت ملتی ہے جو زرتشت کی طرف منسوب کی جاتی ہے ۔ لیکن وہ بھی بعض امور میں گاتھا کی مزدائیت سے اتنی ہی مختلف تھی جتنی کہ وہ اوستائے جدید کی مزدایت سے اختلاف رکھتی ہے ۔ ایک نہایت قدیم ایرانی عقیدہ جس کے کچھ دھندلے آثار گاتھا میں ملتے ہیں ۔ اس کے مطابق خدائے خیر اور خدائے شر توام بھائی تھے جو زمان نامحدود (زَروان یا زَردان) کے بیٹے تھے ۔ مزدائیت کی ایک اختلافی صورت میں جس پر کلدانی علم نجوم کا بہت اثر پڑا اور جو ایشائے کوچکے کے مجوسیوں میں نشو و نما پائی ہے ۔ متھرایت (یعنی پرستش متھرا یا مہر پرستی) پیدا ہوگئی اور اسے خدا پرستی تصور کیا گیا ۔ یہ متھرا پرستش سلطنت روما میں بھی بہت مقبول اور رواج پزیر ہوئی ۔ 

اوستا کے قدیم حصے میں (جس کا لباب باب گاتھا ہے) اور جدید حصہ میں نمایاں تفاوت ہے ۔ یعنی جو قدیم دیوتا مقبول عام تھے دبائے نہ جاسکے اور موبدان زرتشتی گاتھا کے مخصوص معبودوں کے ساتھ ان کو بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ مشرقی ایران کی مزدائیت میں زرتشت کی اصلاحات سے پہلے بعض یشت (بھجن) میں ہر دل عزیز دیوتاؤں کی ستائش کے موجود تھے ۔ مثلاً مترا یا متھرا کی ستائش میں جو عہد و پیمان کا دیوتا ہے اور ساتھ ہی خدائے نور یا ارَدوی سُورا جس کا لقب انااہتا جو پانی اور ذرخیزی کی دیوی ہے یا ستارہ تِشترِیا (شعرا یمانی) ہے یا ورَثر غنا کہ جنگ و فتح کا دیوتا ہے یا خورنہ جو شاہان آریان کا جاہ و جلال ہے ۔ ُفروشی یعنی وہ فرشے جو باایمان لوگوں کے ہمزاد و محافظ ہیں ۔ یہ وہ یشت جو پہلے سے موجود تھے ۔ لیکن اب انہیں زرتشتی عقائد کے مطابق کرلیا گیا اور ان کے ساتھ مزید یشت تصنیف کیے گئے ہیں ۔ یعنی انہیں موبدان زرتشت نے خود تصنیف کیا ہے ۔ قدیم یشت (بھجن) جن میں ایرانیوں کے افسانوی تاریخ اور زرتشت کے بارے میں اطلاعات ملتی ہیں ۔ حقیقت میں جدید اوستا کا یہی قدیم ترین حصہ ہیں اور یہ لٹریچر گاتھاؤں سے بھی زیادہ پرانا ہے ۔

مغربی ایران میں بالعموم ایشیا کے مغربی حدودو پر یونانیت نے مختلف مذاہب میں موافق صورت پیدا کردی ۔ بابلی ، یونانی اور ایرانی دیوتا عیناً ایک سمجھے جانے لگے ۔ چنانچہ اہرا مزد کو بعل کے ساتھ متھرا کو شمس کے ساتھ اور اناہتا کو اشتر کے ساتھ ملتس کیا گیا ۔ کماژین کے بادشاہ انٹیوکس اول (۶۹۔۳۳۴ق م) نے جن دیوتاؤں کے بت کھڑے کیے ان کے نام یہ ہیں (۱) زیوس اور ومزدیس Zeus-Oromasdes (اہرا مزدا) (۲) اپولو ، متھراس ، ہیلوس ، ہرمیس APollo-Mithras-Helios-Hermes (۳) ارتنگینس (ورثرغنا) ہرقلیس ، آریس Artagens.Heracolius-Ares (۴) مجسمہ مملکت کماژین جس اس نے میرا نہایت ذرخیز وطن کماژین کا لقب دیا ۔ ان یونانی ایرانی دیوتاؤں کی پرستش کے لیے اس نے مستقل مذہبی رسوم جاری کیں اورمتھرا پرستوں نے جن میں سے بعض شیطان پرست تھے (جو انگرمینیو یا اہرمن کے ماننے والے تھے) زروانی عقیدہ اختیار کرلیا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں