45

مزد

    میکس ملر کا کہنا ہے کہ نواح مشرق کے اس حصے میں جو اب سرزمین افغانستان میں شامل ہیں ۔ اس سرزمین پر قبائل شہر نشین یا کم از کم وہ قبیلے جو نیم خانہ بدوش ، نیم زراعتی اور خاصے تمدن یافتہ ہوچکے تھے ۔ یہ ہمیشہ بادیہ نشین قبائل کے حملوں کے خطرے میں رہتے تھے اور یہ سیاسی دشمنی منتقل ہوکر میدان مذہب میں آگئی ۔ دیوتاؤں کے دو جماعتوں کے درمیان جو مخالفت تھیں اور اس سرزمین پر غالباً ساتویں صدی قبل مسیح میں زرتشت (زراتشترا) ایک اصلاح شدہ مزدائیت کا پیغمبر بن کر آیا ۔ یہی وجہ ہے کہ زرتشت کے نذدیک دٗئے وَ (دیو) سے مراد شیاطین بدکردار تھے ۔ یہاں مذہب زرتشت کے اس عقیدے نے خوب نشو و نما پائی ہے کہ روز ازل سے دو مخالف روحوں میں جنگ جاری ہے ۔ یعنی روح توانا یا روح خیر جس کا نام سپَنَتَ مینیوُُ جس کے معنوں میں اختلاف ہے اور جو گویا مزد کی حقیقت اصلی ہے اور روح شر اکامینیو اور اہرمن اسی کی بگڑی شکل ہے ۔ یہ نام اوستا کے جدید حصوں میں انگرمینیو ہے ۔ مزد کے ممتاز ترین آسمانی معاونوں یعنی چھ فرشتے جن کو زمانہ متاخر میں امیشہ سپت کا مشترک نام دیا ہے اور اس کے معنی توانائے جاوید کے ہیں ۔ ان کے ساتھ ساتواں سپنت مینیو ہے ۔ ان اسمائے مجردہ کے پردے میں غالباً وہی قدیم دیوی دیوتا مستور ہیں جو عناصر قدرت کی طاقتوں کے مظاہر ہیں ۔ مثلاً آرمینی اصل میں دھرتی (عنصر خاکی) کی دیوی ہے ۔ زرتشتی کا ایک اور معبود کا ایک اور معبود سُراوشَ (اطاعت) ہے ۔ زرتشت نے ان مقبول عام دیوتاؤں کو جو اس مذہب میں اسماء مجرد کے تحت میں اختیار نہیں کیے گئے یا تو انہیں دیوؤں میں شامل کیا گیا یا انہیں بالکل ترک کر دیا گیا ۔ تخریب و ہلاکت کے دیوؤں میں سے جو روح شر کے معاون ہیں سب سے مستند اَئیشم (فارسی کا خشم بمعنی غصہ اسی سے مشتق ہے)َ ہے ۔ جو غارت گروں بادیہ نشینوں کی بے رحمی کا مظہر ہے ۔   

قدت کے یہ مظاہر جو پوجے جاتے تھے ان معبودں کے ساتھ جلد ہی نئے خدا شامل ہوگئے ۔ جو اخلاقی قوتوں کی نمائندے یا ذہنی تصورات کے مجسمے تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آریاؤں کی ایرانی و ہندی شاخوں سے پہلے ان کی دونوں جماعتوں کس قدر تفرقہ نمایاں ہوچکا تھا ۔ جن میں سے ایک دئے وُ (دیو) تھے جن کا ممتاز نمائندہ خدائے جنگ اندرا تھا اور دوسرے اَسُر (ایرانی اَہُر) تھے جو جو حقوق و عمود کے دیوتا تھے جن میں برتر ترین وَرُنَ اور مترا تھا ۔ اکثر محقیقن کی رائے ہے کہ ایرانیوں کا دیوتا مزد (حکیم) جو اَہُرا کہلاتا ہے ۔ یہ قدیم زمانے میں وَرُنَ تھا جس کا قدیم نام ایرانیوں کے یہاں محفوظ نہ رہا ۔ وہ دیوتا جو اَہُر کہلاتے تھے ان صفات کے مالک تھے جو اخلاق و تہذیب و تمدن کے ساتھ وابستہ سمجھی جاتی ہیں ۔ برخلاف اس کے جو دئے وَ (دیو) کے نام سے پکارے جاتے تھے ۔ ان کی پرستش کرنے والے خانہ بدوش وحشی قبیلے تھے ۔ جس وقت اہل ایران تاریخی دور میں داخل ہوتے ہیں اس وقت مزد یا اَہُرا یا اہُرا مزد مشرق میں پرامن اور مہذیب قبائل کا خدائے بزرگ بن چکا تھا ۔ دیگر الفاظ میں مزدائیت زرتشیت سے بھی قدیم ہے ۔ مزد کیسی خاص قبیلہ یا قوم کا خدا نہیں تھا بلکہ وہ نوع انسان اور دنیا بھر کا خدا تھا ۔ اس عقیدے کی وجہ سے مزادئیت میں افراد انسانی اور قدرت ربانی کے درمیان زیادہ قریبی تعلق ہے بہ نسبت دوسرے مذاہب کے جو مغربی ایشیا میں پیدا ہوئے ۔ بہ اخلاق شخصی کا محرک ہے اور وہ اس مذہب میں پاکیزہ ترین شکل میں نمایاں ہے ۔ ان دو خصوصیتوں (یعنی مزد کی عالمگیری اور افراد بشر کے ساتھ قریبی لگاؤ) کی وجہ سے ایرانی عقائد نے رفتہ رفتہ مشرق قریب (مغربی ایشیا) کے مذہبی افکار پر اپنا اثر نافذ کیا ۔ گویا یہاں دو قدیم دیوتا اہورا اور ورنا کا انضمام ہوکر اہورا مزد کی ہستی وجود میں آئی ۔

میکس ملر نے چند اصطلاحات کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ اشتقاق کے لحاظ سے ایک ہیں لیکن معافی کے لحاظ ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ سنسکرت میں دیو منور کے معنی دیتا ہے اور دیویان ذکیر یا ہستیاں منور ہندوؤں کے دیوتا ہیں ۔ اس کے برخلاف اوستا میں دیوا فارسی جدید میں دیو کے معنی شیطان کے آئے ہیں ۔ چنانچہ ایک پارسی اقرار و ایمان کرتا ہے کہ میں دیوؤں یا ہندو دیوتاؤں کو خیرباد کہتا ہوں اور ہرمزد کا بندہ بن جاتا ہوں ۔ فارسی کا ’ہ‘ سنسکرت میں ’س‘ کی آواز دیتا ہے اور اوستا کا اہوراہ سنسکرت کا اسورہ ہے جس کے سنسکرت میں معافی ارواح خبیثہ کے ہیں ۔ ان دو لفظوں سے میکس ملر نے زرتشت کی تصویر کھنچ دی ہے کہ وہ پیغمبر تھا مصلح تھا اور جب ہندو اور ایرانی دو حصوں میں تقسیم ہوکر منتشر نہیں ہوئے تھے تو وہ معبوث ہوچکا تھا ۔ نیز اس نے کثرت اشیاء پرستی کی مبتدل حالت کے خلاف جس نے رفتہ رفتہ قدیم و پاکزہ تر خیالات کی جگہ لے لی تھی صدا بلند کی ۔ غرض مخالفت میں زوراسٹر (زرتشت) نے ہندو دیوتاؤں کو جنہیں وہ مٹانا چاہتا تھا اپنے مذہب کا شیطان بنا ڈالا اور بالآخر کسی قدیم (ہجرۃ) میں سخت گردں پرستاران دیواں سے جدا ہوکر اپنے متبعین جان نثار کو ساتھ لے کر مغربی اضلاع میں آگیا اور اس کا نام ایران رکھ لیا اور یہیں بود باش اختیار کرلی ۔ اس قیاس کا اس خیال پر ہے کہ زوراسٹر کا وطن باختر ہے اور یہ خیال کہ ویندیداد کے فرد گرد اول پر قائم کیا گیا تھا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں