89

مسلمانوں کا ذوال

قوموں کی زندگیوں میں اکثر ایسے مرحلے آتے ہیں اور کوئی پست قوم عروج حاصل کرلیتی ہے اور ترقی یافتہ پستی میں چلی جاتی ہیں ۔ قومیں کیوں زوال پزیر ہو تی ہیں ۔ اس کے محرکات پر اختلاف رائے رہا ہے ۔ اس پر ابن خلدون ، ٹائن بی اور موجودہ دور کے بے شمار مفکروں نے اس پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔ مگر یہ کسی ایک نقطہ پر متفق نہ ہوئے ۔ جب اس کے ذوال کا سبب کا کسی محرک کی طرف اشارہ کرتا ہے تو دوسرا اس کی ترید میں مثال دیتا ہے ۔ ہاں البتہ طاقت ور قوم کو ذوال میں صدیاں لگتی ہیں ۔ مثلاً رومن اور ایسا بھی ہوتا ہے ترقی یافتہ اقوام شکست کھا کر بھی فاتح ان کی ثقافت اپنانے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ مثلاً سمیری کلدانی سے شکست کھاگئے مگر کلدانی سمیری کے علم و فنون اور ثقافت کے آگے سجدہ رو ہوگئے اور ان کے علم فنون اور ثقافت اپنانے پر مجبور ہوگئے ۔ یہی بالکل ایسا ہی منگولوں کے ساتھ ہوا انہوں نے مسلمانوں کو شکست دے دی مگر ان کے علم و فنون ، ثقافت اور مذہب کو قبول کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ 
کبھی یونانیوں کے علوم کا شہرہ تھا اور ڈھائی ہزار سال سے ان کے مشاہیر کے قولوں پر بحث جاری ۔ مگر وہاں صدیاں گزر گئیں ہیں اور ان میں کوئی مشاہیر پیدا نہیں ہوسکا ۔ رومیوں نے کبھی نصف دنیا پر قبضہ کر رکھا تھا اب سمت کر ایک کونے میں سما گئے ہیں ۔ عربوں کا دور آیا تو ان کی فتوحات کے ساتھ ساتھ علم و فنون پر ان کی اجاردای قائم ہو گئی ۔ ترکوں نے دسویں صدی میں اسلام قبول کرنا شروع کیا اور سولویں صدی یہ مکمل اسلام قبول کرچکے تھے اور اٹھارویں صدی تک ترک برصغیر میں مغلوں کی صورت میں ، عثمانی نصف یورپ نصف افریقہ اور چوتھائی ایشیا پر ان کی حکمرانی کا سکہ چل رہا تھا ۔ قاچار ایران میں اور چین کے شاہی چین اور مشرقی بعید پر قابض تھے ۔ مگر انیسویں صدی کے نصف میں یہ سمٹ کر چند علاقوں پر ان کی حکومت رہ گئی تھی ۔ ترکوں کے ذوال کے ساتھ یورپی پوری دنیا پر چھا گئے ۔ یہاں تک برطانیہ عظمیٰ کے سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا ۔ مگر بیسویں صدی کے نصف تک یہ سمٹ کر اپنے ملکوں کے علاوہ چندہ معمولی علاقوں میں باقی رہ گئے تھے ۔ یورپی قوموں کے ذوال کے بعد امریکہ کی اجاردای کا دور شروع ہوا ہے ۔ امریکہ مستقل کسی علاقہ کو اپنے قبضہ میں نہیں رکھا اور اس کی موجودگی صرف چند فوجی اڈوں تک محدود رہ گئے ۔ مگر پہلے جن معاشی فائدوں کے حصول کے لیے طاقت ور حملہ آور حملہ کیا کرتے تھے ۔ امریکہ وہی فائدے اپنی ٹیکالوجی اور مستحکم دولت کے معاشی اور سیاسی فائدے اسی طرح کے حاصل کر رہا ہے ۔ اب شاید چین مستقبل میں یہ مقام حاصل کرلے ۔
یہاں سوال اٹھتا ہے یہ قوموں کو عروج اور زوال کیوں کر ہوتا ہے ۔ مگر اس کا جواب آسان نہیں ہے اور اس کا حوالہ میں اوپر دے چکاہوں ۔ لہذا جس بارے میں نہایت عالم و فاضل مفکرین سخت اختلاف رکھتے ہوں ان کے آگے میری حثیت سورج کے آگے چراغ کی ہے ۔ میری رائے شاید اتنی اہم نہیں ہو اور اس سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے اور میرا خیال جو غلط بھی ہوسکتا ۔ تاہم میرا خیال ہے ہم چیز کو مذہب کے چشمے سے دیکھتے ہیں ۔ یعنی مسلمانوں کی زندگیوں مذہب کا حد سے بڑھتا ہوا اثر ۔ حالانکہ ہمارے نبی کا فرمان ہے تم دنیا کے بارے میں بہتر جانتے ہوں اور اسلام جو پہلے ایک سادہ سا مذہب تھا اس میں قدیم زرتشتی مذہب کے زیر اثر شیعت اور تصوف کے راستے رسومات اور تقدیر اور توہمات کا ایک ایسا گورکھ دھندہ داخل کر دیا گیا ۔ حالانکہ دعا صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں دعا نہیں مانگتے تھے اور صرف ضرورت کے وقت دعا مانگا کرتے تھے اور اس کے لیے نماز کی قید نہیں تھی ۔ دعا تو زرتشتی مذہب کا اہم جزو ہے اور اس میں دعا اور اس کی اہمیت پر بہت زور دیا اور وہاں سے ہی دعائیں نمازوں اور دوسرے موقع پر رائج ہوئی ہیں ۔
قران کریم میں چھ ہزار چھ سو سے زیادہ آیات ہیں ۔ ان میں صرف چھبیس قانونی مسائل ہیں اور دوسو سے کچھ زیادہ مستکم آیات ہیں ۔ جن میں جنت ، ذوزق اور ڈرایا گیا ہے ان کی تعداد صرف ڈیڑھ سو ہیں ۔ اس کے مقابلے میں سات سو سے زائد آیتوں میں دنیا اور دوسری نعمتوں کا کا ذکر ہے وہ آیات میں لوگوں کو دعوت دی گئی ہے کہ یہ دنیا تمہارے لیے بنائی گئی ہے اور چاند سورج تمہارے لیے بنائے گئے ہیں اور تم اسے تسخیر کرو ۔ مثلاً سورۃ یاسین جو ہم کسی کے مرنے پر پڑھتے ہیں اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ اس نصف میں نصیتیں اور باقی دنیاوی نعمتوں کے بارے میں ہے اور اسے حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔  
کہنا کا مقصد یہ قران کی تعلیمات سے دور کرنے کے تاویل ، تفسیر اور وضعی حدیثوں سے مدد لی گئی ۔ آپ ابتدائی موطا امام مالک اور موطا امام محمد میں اس قسم کی خرافات نہیں ہے ۔ لیکن بعد کی حیثوں اور تفسیروں میں غلط یا زرتشی احکامات اور اسرئیلی روایات بھر دی گئیں ۔ اس کا اثر یہ ہوا ان کے زیر اثر ہماری جہد ختم ، عقل کو ممنوع کرنے ہماری سوچیں محدود ہوگئیں ہیں اور ہم ہر چیز اللہ سہل پسند ہونے کی وجہ سے ہر آسائش کو بغیر کسی محنت کے حاصل کرنا چاہتے ہیں اور صرف اور صرف لکیر کا فقیر اور توکل یعنی سب کچھ چھوڑ کر بیٹھنے کا عادی بنا دیا ہے اور ہم جہد و کوشش کے بجائے دعائوں سے حاصل کرنے اور تصوف کے زیر اثر صرف خواب دیکھتے ہیں ۔ اس وجہ سے ہم میں مکاری اور دوغلا پن آگیا ہے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے شاٹ کٹ دعا کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ کچھ محرکات ہیں جو مسلمانوں میں عام ہیں اور یہی مسلمانوں کے زوال کا سبب ہیں ۔ شاید اس سے اتفاق نہیں کیا جائے ۔ مگر اس میں بہت حد تک حقیقت ہے ۔ 
عبدالمعین انصاری
تہذیب و تدوین 
عبدالمعین انصاری
کیٹاگری میں : فکر

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں