64

مسلمانوں کے مقدس مقامات اورہندوؤں کے منادر

اس طرح ہندوؤں کے مندرؤں کے بھی بارے میں بھی اس طرح کی روایتیں منسوب کرتے ہیں ۔ مثلاً دوارکا میں زحل کا بت تھا اور اس کا نام وژکیوان تھا اور رفتہ رفتہ یہ دوارکا ہوگیا ۔ گیا میں کیوان کا بت تھا اور اس بت خانہ کا نام گاہ کیوان تھا جو رفتہ رفتہ گیا ہوگیا ۔ متھرا میں بھی کیوان کا بت خانہ تھا اور چوں کہ وہاں عموماً مہتران قوم آتے تھے اس لیے وہ مہترا کے نام سے مشہور ہوا اور رفتہ رفتہ متھرا بن گیا ۔ اس طرح وہ عیسائیوں کے اکثر مقدس مقامات کا بھی اس طرح کا حال بتاتے ہیں ۔ ان کا عقیدہ ہے کوئی مقام جو مقدس ہو اور غیر قوم کے ہاتھ میں جاکر وہاں عبادت میں تبدیلی واقع ہوگئی ہو تو اس سے اس کے تقدس و عظمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔      

پارسیوں کا خیال ہے مسلمانوں اور ہندوؤں کے جتنے مقدس و متبرک مقامات ہیں وہاں قدیم زمانے میں آتش کدہ یا معبد تھا ۔ وہ مدینہ ، مکہ ، کربلا ، بیت المقدس ، نجف اور روضہ علی کے بارے میں ان کا کہنا ہے یہ قدیم زمانے معبد یا آتش کدے تھے ۔ ان کے مطابق مہ آباد میں استخیر کی تعمیر کے بعد ایک معبد بنایا گیا تھا یہ مقام اب کعبہ کہلاتا ہے ۔ حجرہ اسود ان کے نذدیک بہت قدیم ہے جس کو ہیکل کیوان بتاتے ہیں ۔ ضحاک کے وقت وہاں بت پرستی ہوتی تھی اور یہاں چاند کا ایک بت رکھا گیا تھا ۔ جس کی وجہ سے یہ شہر کا نام ہوگہ ہوگیا تھا اور عربوں نے اسے مکہ بنالیا ۔

بیت المقدس میں ایک ہیکل گنگدژ جسے ضحاک نے بنایا تھا ۔ ضحاک نے جب فریدوں پر حملہ کیا تو اس نے فریدوں پر جادو سے پتھر برسائے تھے ۔ فریدوں نے ان میں سب سے بڑے پتھر کو اپنے علم سے روک لیا تھا اور یہی پتھر صخرہ کہلاتا ہے ۔ مدینہ میں بھی ایک بت کدہ تھا اور یہ ماہ سے منسوب ہے یعنی مہدینہ (دینہ ۔حق) تھا اور کثرت استعمال سے ہ اڑ گیا اور مدینہ بن گیا ۔ اس طرح نجف میں ایک آتشکدہ فراخ پیرائے تھا اور اس کا پورا نام نااکفت تھا (اکفت آسیب) ۔ تااکفت شدہ ، شدہ نکف ہوا اور نکف سے نجف بن گیا ۔ کربلا میں ایک آتش کدہ مہ یاز تھا اور اس کو کار بلا بھی کہا جاتا تھا اور کار بلا سے کربلا ہوگیا ۔ بغداد میں جس جگہ شیعوں کے امام موسیٰ کا مرقد ہے وہاں ایک آتش کدہ شید پیرائے تھا ۔ مرقد امام اعظم ابوحنیفہ کی جگہ ایک آتش کدہ ہوریا راسم تھا اور جہاں آج کل مسجد کوفہ واقع ہے وہاں بھی ایک آتش کدہ روز آذر تھا ۔ اسے فریدوں نے بناکر اس کا نام آذر خرد رکھا تھا ۔ بعد میں یہ اور ناموں سے بھی موسوم ہوا تھا ۔ طوس بن ابن نوذر جب اس آتش کدہ کی زیارت کو گیا تو اپنے نام سے ایک شہر بسایا جو کہ فردوسی کا مولد ہے ۔ 

مسجدوں کی محرابوں کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ زہرہ کے بت کی نقل ہے اس لیے مسجدوں میں انہیں تقدس حاصل ہے ۔ مسلمانوں میں جمع کے دن کو جو تقدس حاصل ہے وہ بھی زہرہ یا ناہید کے دن کی ہونے کی وجہ سے ہے ۔

اس میں مجھے کوئی شک نہیں ہے یہ دساتیر جسے مہ آباد کا صحیفہ کہا جاتا ہے وہ دسویں صدی عیسوی سے پہلے کی کتاب نہیں ہے ۔ کیوں کہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے ایرانی ان خیالات سے واقف نہیں تھے ۔ اس میں قدیم ایرانی مذہبی تصور اور خیالات جس میں قدیم آریاؤں کا آگ کی پرستش اور تناسخ کو سامنے رکھ کر اعلیٰ درجہ توحید کو جس طرح پیش کیا گیا ہے اس کا تصور مسلمانوں سے سے پہلے پیدا ہی نہ ہوا تھا اور نہ اس کی کوئی شہادت ملتی ہے ۔ ان کے ارد گرد کے علاقوں میں توحید پرست یہودیت موجود تھے مگر ان کا تصور بہت دھندلا تھا ۔ اس لیے اس توحید کو ہم یہودی اثر نہیں کہہ سکتے ہیں ۔ ستارہ پرستی کا عقیدہ انہوں نے کلدانیوں اور بابلیوں سے لیا ہے جو ستاروں کی پوجا کرتے تھے ۔ ان کے مذہبی خیالات اور نظریات کا ایرانیوں پر بھی بہت زبردست اثر پڑا ۔ یعنی دین زرتشت میں توسیع اور نئے نئے خیالات کے داخلہ کا سلسلہ نویں عیسوی صدی بلکہ اس کے بعد تک جاری رہا ۔ جیسا کہ کیخسرو نے دبستان مذہب سولویں صدی عیسوی لکھی تھی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں