71

معیشت کی کمزوری کا سبب

میں کوئی معاشی ماہر نہیں ہوں ۔ البتہ کچھ معمولی شد بد رکھتا ہوں ۔ اس لیے معیشت کے حالیہ حکومتی اقدامات آئی ایم ایف کے پاکستانی معشت پر حالیہ اقدامات کے اعلامات پر میرے ذہن مین کچھ سوالات پیدا ہوئے ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی ماہر معاشیات میرے سوالات کے جوابات دے یا میری تشفی کرے ۔
آئی ایم ایف نے انیس نکات پر ایک ایجنڈا پاکستان کو دیا کہ اسے اپنی معشیت کی بہتری کے لیے کرنا ہوں گے اور اس صورت میں ہی پاکستان کو آئی ایم ایف پاکستان کو قرض دے گا ۔ ان میں ایک پاکستان کو ساڑھے سات ہزار ارب سے زیادہ کے محصولات جمع کرنے ہوں گے ۔ 
میرا سوال یہ ہے کہ فرض کریں پاکستان ان انتیس نکات کی شرئط کو پورا کر دیتا ہے اور محصولات کی مد میں اچھی کارکردگی کا مظاہر کرکے اس ٹارگٹ سے زیادہ یعنی ایک ہزار ارب کے محصولات جمع کر لیتا ہے ۔ تو کیا اس صورت میں اس کی کرنسی کو استحکام یا قدر بڑھ جائے گی اور ادائیگی کا توازن اس کے حق میں ہوجائے گا ؟
میرا خیال ہے کہ کوئی بھی معشیت داں ان کا جواب نہیں دے گا ۔ کیوں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان اقدامات کا بین الاقوامی توازن ادائیگی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ جب کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خریداری کے لیے ہمیں ڈالر اور دوسری بین الاقوامی کرنسیوں کی ضرورت پڑے گی ۔ ان اقدامات سے ہمیں یہ کرنسیاں حاصل نہیں ہوگیں اور نہ ہی بین الاقوامی منڈی میں ہماری مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ہوگا بلکہ کمی ہوجائے گی ۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان اقدامات کی وجہ سے ہماری مصنوعات کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور ڈالر کی قدر میں کمی کا کوئی فائدہ نہیں گا اور ان اقدامات کی وجہ سے ہم اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکیں گے ۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہمارے پاس بین الاقوامی مارکیٹ میں بیچنے کے لیے چند اور محدود چیزیں ہی ہیں ۔ کیا ایسی صورت میں ہماری ادائیگی کا توازن بدستور ہمارے خلاف رہے گا اور ہمیں اپنی بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے بین الاقوامی مالیتی اداروں کے پاس قرض کے لیے نہیں جانا ہوگا ؟ کیا ایسی صورت میں ہماری معشت بہتری کے بجائے بدحالی کی طرف گامزن نہیں ہوگی ۔ کیوں کہ ملکی چیزوں کی لاگت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے بیرونی اشیاء زیادہ سستی ہوجائیں گیں ۔ کیوں کہ ہم نے بین الاقوامی تجارتی معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور اس کے تحت نہ ہم ان کی درآمد کو روک سکتے ہیں اور نہیں ان پر محصولات کا اضافہ کرسکتے ہیں ۔ اس ہماری ملکی رہی صنعتیں تباہ ہوجائیں گیں ۔ 
بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی اشیاء کو کھپانے کے لیے ملکی کرنسی کی قدر گرانا بہتر ہوتا ہے ۔ لیکن یہ اس صورت میں بہتر ہوتا ہے کہ ہمارے پاس بین الاقوامی مارکیٹ میں بیچنے کے لیے بہت کچھ ہو ۔ اگر ہمارے پاس بیچنے کے لیے کچھ بھی نہ ہو تو کرنسی کی قدر گرانے سے ہماری معشت میں مزید ابتری آجاتی ہے ۔ کیوں کہ ہم سوائے کھانے پینے کی اشیاء کے ہر چیز باہر سے منگاتے ہیں ۔ ہمیں اشیاء تعیش اے سی لگزری گاڑیوں کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ دوسری اشیاء جو کہ مہنگی ہوکر بھی ملکی اشیاء سے سستی ہوں گیں ۔ جب کہ ملکی اشیاء پر ٹیکس کی بھر مار سے مہنگی سے مہنگی ہوجائے گی ۔
سچی بات تو یہ ہم نے سوائے ایوب خان کے دور کے علاوہ کبھی اس طرف توجہ نہیں دی کہ ہم ایسی اشیاء کی تیاری پر توجہ نہیں دی کہ ہم انہیں برآمد کرسکیں ۔ ایوب خان کا دور ایسا تھا جس میں بھاری اشیاء کی طرف توجہ دی گئی اور بے شمار بھاری مشنری کے کارخانے اور ڈیم تعمیر کئے گئے ۔  
ہماری معیشت کا سب سے برا دور شوکت عزیز کا دور تھا ۔ جنہوں ایک ماہر معاشیات ہوکر ملکی معیشت میں تباہی کا پورا پورا سامان کیا ۔ اس زمانہ میں سنہرا دور تھا اور پاکستان سپوٹ فنڈ ملنے کی وجہ سے توازن ادائیگی اس کے حق میں تھا ۔ دوسری طرف ماحول ایسا بن گیا تھا کہ عرب ممالک کے سرمایادار اپنی سرمایا کاری مغربی ممالک میں نہیں کر رہے تھے اور انہیں پاکستانی صنعت میں سرمایاکاری کیا جاسکتا تھا ۔ اگر شوکت عزیز نے انہیں پاکستان میں تین غیر پیداوری شعبوں رئیل اسٹیٹ ، بینکاری اور اسٹاک ایکچیج میں سرمایا کاری کے لیے راغب کیا ۔ یہ شعبہ بظاہر سود مند تھے مگر ان کی ترقی سے ملک معیشت ترقی نہیں کرتی ہے ۔ ان میں سرمایہ کاری کرنے والے مختصر وقت کے لیے کرتے ۔ ان کے اس اقدام سے ملکی معیشت میں کوئی ترقی نہیں ہوتی ہے ۔ ہوا بھی یہی بینکوں نے پورے ملک میں ملازمین کو قرض کے سنہرے باغ دیکھا کر قرض کی طرف راغب کیا ۔ جس سے لوگوں نے اشیائے تعیش خریدنا شروع کیں ۔ دوسری طرف ہر ایک نے جس کے پاس تھوڑا بہت پیسہ تھا اس نے زمین کی خریداری کی اس سے وہ جائیداد جو دو لاکھ کی تھی کڑووں کی قیمت ہوگئی ۔ اس سے بظاہر ملکی معشت میں پیسہ کی ریل پیل ہوگئی تھی ۔ مگر یہ ایک خطرناک رجحان تھا اور اس کا انجام قیمتوں میں اضافہ تھا ۔ جو ہوا اور ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ۔ جب ہمارے روپیہ کی قدر پر دباؤ بڑھ گیا ۔ کیوں کہ اس موقع پر بیرونی سرمایا کاروں نے اپنا سرمایا نکال لیا اور ادائیگی انہیں روپیہ میں نہیں بیرونی کرنسی میں ادا کی گئیں تھی ۔ یہی وجہ ہے حکومت ختم ہوتے ہی بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے قرض کے لیے بین الاقوامی مالیتی اداروں کے پاس جانا پڑا ۔  
اگر ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے تو ہمیں اپنے ملک میں صنعت لگانی ہوگی ۔ مگر یہ سب پرائیوٹ سیکڑ نہیں کرسکتا ہے ۔ اس کے لیے حکومتی رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ ورنہ ہر پانچ سال کے بعد قرض کے لیے بھیک مانگنی پڑے گی ۔ اگرچہ نواز شریف حکومت سرمایا کاری کی مگر اس نے صرف نقل و حرکت کے شبعہ میں کی ۔ اس کا کیا فائدہ یا نقصان ہوا یہ ایک طویل کہانی ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں