55

مغربی تبت کے باسی

    مغربی تبت میں بہت سی قومیں آباد ہیں ۔ لیکن ان سب کا کھانا پینا ، شادی بیاہ اور رسم و رواج ایک سے ہیں اور ذاتوں کی تفریق یہاں نہیں ہے ۔ البتہ مانسردور کے گڈریے ڈوکپا جو خانہ بدوش ہیں اور اپنے گلوں کو مشرق و شمال اور کس قدر مغرب کے وسیع میدانوں میں لیے پھرتے ہیں ۔ یہ ایک طرح کا گون اور کھال کے پوستین پہنتے ہیں اس کے نیچے استر کی جگہ سمور لگا ہوتا اور کمر سے بندھا ہوتا ہے اور بچوں کی پوشاکیں بھی اس طرح کی ہوتی ہیں ۔ پہاڑوں پر ٹھنڈ میں تو اس لباس میں سکون ملتا ہے لیکن میدانوں میں جب بہار آتی ہے یہ لباس تکلیف دینے لگتا ہے ۔ دن میں جب گرمی پڑتی ہے تو مرد اور عورتیں دونوں ایک ہاتھ پوستین کے باہر نکال لیتے ہیں ۔ اس طرح ان کا آدھا سینہ جس پر کوئی اور کپڑا پہنا نہیں ہوتا ہے بالکل کھل جاتا تھا ۔ مرد تو کام کے دوران دوسرا ہاتھ بھی نکال کر کمر تک ننگے ہوجاتے تھے ۔ انہیں سخت سے سخت سردی بھی نہیں ستاتی ہے ۔ یہ اپنے کپڑے کبھی کبھار تبدیل کرتے تھے اور شاذ ہی انہیں دھوتے تھے ۔ اگر کہیں گرم پانی کا چشمہ نظر آجائے تو اس میں یہ اکھٹے مل کر نہاتے لیتے تھے ۔ یہاں کی خواتین اپنے چہرے کو دھوپ سے بچاؤ کے لیے کالے بیجوں والا بیلا ڈونا بیریز کا رس مل لیتی تھیں ۔ ان کی خوراک زیادہ تر بھنے ہوئے (تسامپا) جو تھے ۔ یہ تسامپا خانہ بدوش نیچے وادیوں سے ساتھ لاتے تھے ۔ ان خانہ بدوشوں کو دودھ اور مکھن اپنے ڑیوڑوں سے حاصل ہوجاتا تھا ۔ یہ ان میدانوں میں اپنی بھیڑ بکریاں اس وقت تک چراتے رہے ہیں جب تک مان سردور اور راکش تال جم جاتی ہے اور میدانوں میں کئی کئی فٹ برف جمع جاتی ہے ۔ اگرچہ گرم چشموں کی بدولت یہ جھیلیں اس وقت تک منجمند نہیں ہوتی ہیں جب تک سردی میں شدد نہیں آجاتی ہے ۔ پھر بھی انہیں اپنے پینے کے پانی کے لیے کلہاڑیوں سے برف کھودنی پڑتی ہے ۔ ان کے خیمے یاک کے بالوں سے بنے ہوئے اور دو پلو ہوتے تھے ۔ جن کے بیچ میں دھواں نکلنے کے لیے ایک سوراخ ہوتا تھا ۔ کہا جاتا ہے یہ خیمے نہایت گرم ہوتے ہیں اور زور دار ہوا ھی ان خیموں پر اثر نہیں کرتی ہے ۔ ان دوکپاؤں کے خیمے ہمیشہ سیاہ ہوتے تھے اور دور سے ہی یہاں کی سبزی میں نمایاں نظر آتے تھے کہ یہ دوکپاؤں کے خیمے ہیں ۔

مقدس جھیلوں کے مغرب میں رہنے والے دوکپا غریب ہیں اور ضرورت کی اشیاء کو چوری کرنے کو برا نہیں سمجھتے تھے ۔ لیکن ان کے مشرقی بھائی بڑے امیر اور متمول تھے ۔ یہ بڑے بڑے گلوں کے مالک تھے جن میں ہزاروں کی تعداد میں جانور ہوتے تھے اور ان کی دولت مندی مشہوراور ضرب المثل تھی کہ فلاں ڈوکپاؤں کی طرح امیر ہے ۔ یہ چوورں اور ڈاکوؤں سے حفاظت کا باقیدہ انتظام رکھتے تھے ۔ ان خانہ بدوشوں کو تاجروں کی طرح ڈاکوں کا خطرہ بھی ہوتا تھا ۔ اس لیے ان خانہ بدوشوں کے پاس خونخوار کتے بھی ہوتے تھے اور اجنبیوں کو دیکھ کر ان پر حملہ آور ہوجاتے تھے ۔ ان کے پاس تیز گھوڑے اور عمدہ ساخت کے ہتھیار ہوتے تھے ۔ بعض کے پاس روسی بندوقیں ہوتی تھیں اور یہ ہمیشہ گلوں کے ساتھ سفر کرتے تھے اور کانوں سے نمک اور سہاگا اپنے مویشیوں پر لاد کر لاتے تھے ۔ جب ڈاکو ان پر حملہ کرتے ہیں یہ فوراً پیچھا کرتھے اور ان سے اپنی مویشی چھین لاتے تھے ۔

یہ وادی سرما میں برف کی تہہ جم جانے پر یہ جگہ اجاڑ ہوجاتی تھی ۔ مگر جب اس وادی میں ہواؤں اور پالے میں کمی ہوتی ہے اور سبزی نمودار ہوتی ہے تو خانہ بدوش اپنا سامان باندھ کر پہاڑوں کا رخ کرتے تھے ۔ ان کے آگے لڑکے ہوتے ہیں جو کہ اپنی بھیڑ بکریوں کو ہانک رہے ہوتے تھے ۔ ان کے پیچھے آدمی جو اپنے خیموں اور سامان سے لدے ہوئے گدھوں اور یاکوں کو ہانک رہی ہوتے تھے ۔ ان کے پیچھے خواتین جو کہ چاندی گھونگرو ، زمرد کے ہار اور گھلوبند پہنی ہوئی ہوتی تھیں ۔ انہوں نے اپنے سروں پر کھانے پکانے کا سامان اور برتن اٹھائے ہوئے ہوتے تھے ۔ یہ عورتیں شوخ رنگ کی شالیں اوڑھے ہوئے اور ان کے کندھوں یا گود میں بچے ہوتے تھے ۔ ان خانہ بدوشوں میں کوئی بھی بغیر سامان کے نہیں ہوتا تھا ۔ چھوٹی بچیاں بھی ایک من کا وزن اٹھائے جارہی ہوتی تھیں ۔ یہ راستہ جو میدانوں سے شروع ہوکر چٹانوں سے گزر کر دریا سندھ کے کنارے کنارے اوپر کی سمت جارہا ہوتا ہے ۔ جس کے ایک طرف بلند و بالا پہاڑوں کی دیواریں اور دوسری سمت میں دریائے سندھ کی طرف جاتی ہوئی عمودی کھائیاں اور پھسلتے ہوئے برف کے تودے اور مٹی کی چٹانیں یعنی مستقل خطرہ منڈلا رہا ہوتا تھا ۔ ان خانہ بدوشوں کو ان خطرروں اور مشقت سے اس وقت نجات ملتی تھی جب یہ سطح مرتفع کو غبور کرکے تبت کے کناروں پر پہنچتے  اور وہاں سے میدان میں پھیل جاتے تھے ۔

یہ خانہ بدوش جو کہ عموماً چند ہی خاندانوں پر مشتمل ہوتے تھے اور اپنے جانورں کو چرانے کے لیے مستقل چراگاہوں کی تلاش میں گھومتے رہتے تھے ۔ یہ دیہات کے کسانوں کو حیرت سے دیکھتے تھے کہ یہ تھوڑی سی زمین پر تھوڑی سے فضل کے لیے اپنے علاقہ سے جڑے ہوئے ہیں ۔ یہ دودھ اور مکھن کے بدلے گزرنے والے تاجروں سے چائے حاصل کرتے تھے اور وہ چائے کو سوڈے اور بساند والے مکھن کے ساتھ ملا کر ایک مشروب بناتے تھے جو انہیں بہت پسند تھا ۔ مگر جو اس کے عادی نہیں ہوں ان کے لیے ممکن نہیں ہے یہ مشروب ان کے حلق سے نیچے اترے ۔ انہیں اگر کوئی خرگوش یا جنگلی بھیڑ نظر آ جاتی تھی وہ اس کا شکار کرلیتے تھے ۔ اس طرح انہیں گوشت میسر آجاتا تھا ۔ حالانکہ یہ کٹر بدھ ہیں مگر اس کے باوجود گوشت کو بہت پسند کرتے ہیں ۔ ان کے لیے سب میں بڑا مسلہ ایندھن کا ہوتا تھا ۔ کیوں کہ یہاں کوئی درخت وغیرہ نہیں ہوتے ہیں صرف چند جھاڑیاں پائی جاتی ہیں ۔ یہ ان کی لکڑیاں استعمال کرتے ہیں یا پکانے کے لیے یاکوں کا خشک گوبر استعمال کرتے تھے ۔

تبتیوں میں ایک عورت کے کئی خاوند ہونا عام بات تھی ۔ عورتیں اکثر کمزور و نجیب ہوتی تھیں اور ان میں خودکشی کا رواج بھی عام تھا ۔ ان کے خاندان مختصر ہوتے تھے اور بہت سی عورتیں خانقاہوں میں چلی جاتی تھیں ۔ وہاں کے مرد بھی لاما ہوجاتے تھے یا مجرد زندگی بسر کرتے تھے ۔ شاید اس کی وجہ سے وہاں کی آبادی بہت کم تھی ۔ تبت میں لڑکیوں پیدائش کم ہوتی تھی اور ایک گاؤں میں چارسو سے زیادہ لڑکے تھے اور اس کے مقابلے میں لڑکیاں صرف نصف تھیں ۔ اس لیے ہر لڑکے کے لیے علحیدہ بیوی ہونا بھی مشکل تھا ۔ اس لیے بھی ایک عورت کے کئی شوہر ہوتے تھے اور ہر شوہر کو گھر میں جگہ بھی نہیں ملتی تھی اور گھر چھوڑ کر کہیں اور رہنے کی صورت میں اس کا حق بھی اس عورت سے جاتا رہتا ہے ۔ ایک مسلمہ رواج تھا کہ تمام غیر صحیح النسب بچوں کی پرورش ماں اور اس کا کنبہ ذمہ وار ہوتا تھا ۔ 

ایسا ہوتا تھا بھائیوں کے علاوہ باپ بھی بیوی میں شریک ہوجاتا تھا ۔ شیرنگ نے لکھا ہے کہ یہاں کے ایک بڑے وائسراے کی بیوی کا انتقال ہوگیا تو اس نے دوسری شادی کرنے کے بجائے مناسب سمجھا کہ اپنے بیس سالہ بیٹے کی بیوی کے ساتھ شریک ہوجائے ۔ یہاں یہ بھی رواج تھا کہ کوئی شخص کسی بیوہ سے شادی کرتاہے تو اس تمام لڑکیاں اس کی ذوجیت میں آجاتی تھیں ۔ 

بعض پست درجہ کے تبتی اکثر مارمٹ اور گھونس بھی کھاتے ہیں ۔ مگر عام لوگ انہیں حکارت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ یاک جسے ہندو گائے سمجھتے ہیں جنگلی ہو پالتو تبت میں عام طور پر کھایا جاتا ہے اور اس کے گوشت کو بہت پسند کیا جاتا ہے ۔ مرغیاں یہاں دستیاب نہیں ہیں اس لیے انڈے یہاں نہیں ملتے تھے ۔ تکلا کوٹ کے جنگ پن نے ایک مرغی خانہ بنایا تھا مگر سردیوں میں وہ سب لنگڑی ہوگئیں ۔ یہاں سڑکیں نہیں تھیں اور نہ تبتی اس پر توجہ دیتے تھے اور یہاں کے پتھریلے راستے باربرداری کے جانوروں کے سموں میں گھس کر ان کے پرکھچے اڑا دیا کرتی تھے اور نہ یہاں کے لوگ پل بنانا جانتے تھے ۔ دریاؤں میں بہت پتھر ہیں اور دریا پار کرتے ہوئے جانوروں کے پیر ان پتھروں میں بری طرح پھنس جاتے تھے ۔ تبت میں لوگ کوئی نیا کام کرنے خوف کھاتے تھے کہ اس مہاتماؤں اور پاک روحوں کو نقصان پہنچے گا ۔ اسی خوف کی وجہ سے سرکاری ملازمین کوئی نیا کام یا تعمیرات کرانے سے ڈرتے تھے ۔

گارٹنگ میں خشک موسم میں زمین پر ایک سپید رنگ کی خاک بچھ جاتی ہے ۔ اگر کسی جانور کے پیٹ میں یہ گھاس کے ساتھ چلی جاتی ہے تو اس کے بال گرجاتے ہیں اور وہ سردی برداشت نہیں کرپاتا اور سردی سے وہ جلد مرجاتا ہے ۔ دریائے سندھ میں کثرت سے عمدہ مچھلیاں پائی جاتی ہیں اور وہاں کے باشندے انہیں ہاتھ سے ٹٹول ٹٹول کر پکڑتے تھے ۔ کیوں کہ یہاں جال یا بنسریاں نہیں ہوتی تھیں ۔ ویسے عام تبتیوں کا خیال ہے کہ مچھلی اور پرندوں کا گوشت حرام ہے ۔ جب کہ یہاں کے بشتر علاقوں میں سبزیاں ، مرغیاں اور اناج پیدا نہیں ہوتا تھا اور دودھ اتنا گراں ہے کہ مشکل سے ہی کسی کو پینا نصیب ہوتا تھا ۔

تیرتھ پوری سے گیانیما کے راستے میں دو مرتبہ سولہ ہزار پانچ سو فٹ بلند دروں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ پہلے چتیمب Chatumb اور دوسرا چھوجا تھول Chhujathal آگے بڑھے ہوئے ایک پہاڑی سلسلے میں صرف دو جگہ ایسی تھیں جہاں پڑاؤ کیا جاسکتا تھا ۔ کیوں کہ ان جگہوں کہ علاوہ کہیں اور پانی دستیاب نہیں تھا ۔ گیاتیما کا بشتر راستہ ایک ہموار میدان سے گزرتا ہے ۔ وہاں کا قلعہ بلند مقام پر ہونے کی وجہ سے دور سے نظر آتا تھا ۔ اس قلعہ کی بشتر عمارتیں کھنڈر تھیں اور ان وسیع کھنڈرات سے بخوبی واضح ہوتا تھا کہ یہ کسی زمانے میں نہایت مستحکم اور آباد مقام ہوگا ۔ اس علاقہ کی بلندی تقیریباً اس میدان کے برابر ہے جو اس کے شمال میں گارٹنگ تک پھیلا ہوا ہے ۔ گیاتیما کا مرتفع میدان شب چلام کی منڈی اور وادی ستلج کے کنارے کنارے پندرہ ہزار فٹ بلندی سے شروع ہوکر نشیب کی طرف بتدیح چودہ ہزار فٹ تک دھلوان ہے ۔

گیانیما کا میدان پتھروں سے بالکل صاف ہے ۔ جب کہ شمال میں میدان مرتفع پتھروں کی وجہ میں سخت تکلیف ہوتی ہے ۔ یہ علاقہ ہمالیہ کے برفانی پہاڑوں کے قریب ہے ۔ اس لیے یہاں سال پھر تین فٹ تک برف جمی رہتی ہے ۔ عام دنوں میں رات میں بہت سردی ہوجاتی ہے ۔ یہاں دو منڈیاں تھیں جہاں صرف دو ماہ کے لیے تاجر جاتے تھے ۔ کیوں کہ وہاں پختہ تعمیرات کی اجازت نہیں تھی کہ کہیں زمین کی روح کو صدمہ پہنچے اس لیے لوگ خیموں میں رہنے پر مجبور تھے ۔

یہاں کی آب و ہوا اور ہر موسم میں تکلیف دہ ہے ۔ کیوں کہ سردی کے علاوہ یہاں کی دھوپ تکلیف دہ ہوتی ہے ۔ کیوں کہ سائے اور سردی سے پریشان شخص گرم کپڑے پہن کر دھوپ میں چلے جائے تو وہ دھوپ کی تمازت سے بھن جاتا ہے اور کپڑے تنگ کرنے لگتے ہیں ۔ زرا سی بارش ہوجائے تو موسم نہایت سرد ہوجاتا ہے ۔

دریائے ستلج کے کنارے کاشتکاری بھی ہوتی ہے ۔ مگر یہاں صرف جو ، مٹر اور سرسوں ہی بوئی جاتی ہیں ۔ برہون یا پہاڑی چشموں سے نالیوں کے ذریعے فضلوں کو پانی دیا جاتا ۔ یہاں بارش کو پسند نہیں کیا جاتا ہے ۔ کیوں بارش میں ژالہ باری فضلوں تباہ کر دیتی ہے ۔ اس لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی ایسی حرکت نہیں کریں کہ آسمانی دیوتا خفا ہوکر مینا برسائیں ۔ اس لیے یہ لوگ احتیاط کرتے ہیں کہ بندوق کا فائر یا کسی اور طرح کی تیز آواز نہیں ہونے پائے ۔ یہاں کے باشندے غاروں میں رہنے کے عادی تھے ۔ اگرچہ ان کے مکانات بھی تھے پھر بھی یہ غاروں میں رہنا پسند کرتے تھے ۔ یہ غار نہایت پیچدہ اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور انہیں دیکھ کر حیرت ہوتی تھی ۔ یہاں بہت سے دیہات ویران اور مکانات خالی اور غیر آباد ہیں اور عجیب وحشت اور اداسی برستی ہے ۔ 

چینیوں کی آمد کے بعد یہاں بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئیں ہیں ۔ شاندار چوڑی سڑکیں اور دریائوں پل تعمیر کئے گئے ۔ یہاں ریلوے لائین بچھادی گئی اور ہوائی اڈے بھی تعمیر ہوئے ۔ اس طرح یہاں نقل و حرکت کی شاندار سہولتیں اب میسر ہیں ۔ چینوں نے بہت سی عمارتیں تعمیر کرائیں ۔ اس کے علاوہ یہاں بے شمار ہوٹل ، جن میں فائو اسٹار ہوتل شامل ہیں ، دوکانیں ،شاپنگ سینٹر بن گئے ہیں ۔ جس سے اب یہاں لوگوں کی زندگی میں انقلاب برپا ہوگیا ہے ۔  

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں