61

مغربی تبت

تبت کے مغربی حصہ میں ایک نہایت کف دست مرتفع میدان ہے ۔ جس کی بلندی 15000 فٹ ہے ۔ اس میں مانسرور اور راکش تال کی جھیلیں ہیں جو گارٹک اور ڈابا کی جانب پھیلا ہوا ہے اور جہاں تکلا کوٹ سے چل کر بہت جلد بہنچ جاتے ہیں ۔ کرنالی دریا کی وادی جس میں تکلا کوٹ اور کھجرناتھ واقعہ ہیں اس مرتفع میدان سے بہت نیچے ہیں ان میں تکلا کوٹ صرف 13000 فٹ بلند ہے ۔ کم بلندی کی وجہ سے یہ خطہ ذرخیزز اور سیراب ہے ۔ تکلا کوٹ سے مان سردود کی طرف جائیں تو بلندی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ وہاں ایک وسیع میدان میں پہنچتے ہیں جو 15000 فٹ بلند ہے ۔ وہاں زور آور سنگھ کی قبر اور نگنگ کی خانقاہ ہے ۔ یہاں سے نیچے کی طرف نظر ڈالنے پر دریا کرنالی کی وادی میں لہراتے ہوئے سبز کھیتوں سے مرضع نظر آتی ہے ۔ اس کی سرحد رنگنگ کے قریب سے شروع ہوتی ہے ۔ جو اس راہ کی خوبصورت ترین جگہ ہے ۔ یہاں تیز ہواؤں سے بھی پناہ ملتی ہے اور جانوروں کے لیے چارا بھی بافراط ہے ۔ نیز کارڈم و دیگر دوسرے دیہات جو دریائے کرنالی کے اوپر واقع ہیں اسی کی حدود میں شامل ہیں ۔ بالدک جو پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر اسی مرتفع میدان کے وسط میں واقع ہے ۔ یہ جگہ نہایت سرد کے باعث اور ایندھن دستیاب نہ ہونے کی وجہ اس قابل نہیں تھا کہ یہاں رات گزاری جائے ۔ یہاں سے دو راستہ جاتے ہیں مغرب کی طرف کا راستہ راکش تال یا شیطانی جھیل کو جاتا اور ماضی میں نیپال کے بھوٹ سوداگروں کو یہ راستہ بہت پسند تھا ۔ دوسرا مشرقی راستہ درہ گرلا سے گزرتا ہوا مان سردور جھیل کو جاتا ہے جو 14900 فٹ بلندی پر واقع ہے ۔ 

تبت کے اس علاقہ میں آبادی بہت کم ہے ۔ اب چینوں نے یہاں کی سڑکیں پکی بنادی ہیں اور بہت سی پختہ عمارتیں اور مارکیٹیں اور دوسری سہولتیں فراہم کردی ہیں ۔ ورنہ کرنالی کی ذرخیز وادی میں بہت کم پکے مکان تھے ۔ مان سردور جھیل اور گارٹک کے درمیان خانقاہوں اور عہد داروں کے مکانات کو چھوڑ کر یہاں پکے مکانات اتنے کم تھے کہ ہاتھوں کی دونوں انگلیوں پر آجاتے تھے ۔ یہاں اب بہترین شاہراہیں بن گئیں ہیں ۔ پہلے یہاں سے نام نہاد شاہی سڑک گزرتی تھی جس کا کوئی نشان نظر نہیں آتا تھا ۔ یہاں کے جو بھی نقشے دستیاب تھے وہ نہایت غلط بنائے گئے تھے اور ان کی مدد سے کوئی بھی سفر نہیں کرسکتا تھا ۔ یہاں برخا شہر ایک عظیم انشان میدان میں واقع ہے جو کے پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور میلوں تک پھیلا ہوا ہے ۔ مگر یہاں پہنچنے والوں کو مشرقی جانب ایک پشتہ کی آڑ کی وجہ سے دور سے نظر نہیں آتا تھا ۔ اس کا راستہ ریت کے ٹیلوں اور جھاڑیوں میں سے گزرتا تھا ، جہاں تیز ہوائیں مسافروں کا چلنا دوبھر کر دیتی تھیں اور اجنبی اکثر راستہ بھول جاتے تھے ۔ مغربی تبت میں تقریبا ہر جگہ ندیوں اور دلدلوں کی وجہ سے یکسانیت بہت ہے اور فاصلہ کی کوئی نشاندہی نہیں ہوتی تھی اس لیے ان میں تمیز کرنا بہت مشکل تھا ۔

برخا جیسے بڑے شہر میں صرف دو مکان جنہیں چھونپڑا کہنا زیادہ مناسب تھا ۔ جس میں برصغیر کا ایک معمولی دہقان رہنا پسند نہیں کرے ۔ ان میں ایک تارجم کا اور دوسرا وہ مکان تھا جس میں سرکاری عہدادر آکر ٹہرتے تھے ۔ ان مکانوں کے کمرے نہایت تیرہ و تاریک تھے اور ان میں کھڑکیوں کی جگہ چھوٹے چھوٹے روشن دان تھے جس میں ہوا کو داخل ہونے کی کوئی روکاوٹ نہیں تھی ۔ کیوں کہ یہاں شیشہ کا کوئی تصور نہیں تھا اور کھڑکیوں میں شیشہ کی جگہ باریک کپڑا لگا ہوتا تھا کہ دھول مٹی رک جائے اور صرف روشنی آئے ۔ ان مکانوں میں نہ آتش دان ہوتے تھے اور نہ ہی دھواں نکلنے کا کوئی راستہ ۔ یہاں حرارت اور کھانا پکانے کے لیے گائے ، بیلوں کے گوبر اور بھیڑ بکریوں کی میگنیاں جالائی جاتی تھیں ۔ اس لیے ان مکانوں کی چھتیں ان کے کاجل سے رچ بس گئیں تھیں ۔ اس کاجل کا بڑا فائدہ یہ تھا کہ اس کی وجہ چھتیں خراب نہیں ہوتی تھی اور آرائش کام بھی کرتی تھی ۔ یہاں ڈوکپاؤں کے چند خیمے بھی تھے جہاں عورتیں بھیڑ بکریوں کا دودھ دھوتی تھیں ۔ یہ عورت تمام بھیڑ بکریوں کی گردنیں ملا کر اس طرح باندھ دیتی ہیں کہ ان کے لیے جنبش کرنا مشکل ہوجاتا تھا ۔ جن کی گردنیں ایک طرف ہوتیں تھی اور دوسری جانب سے عورتیں ان بھیڑ بکریوں کا دودھ نکالتی تھیں ۔ یہ دودھ پیا نہیں جاتا بلکہ اس سے گھی بنایا جاتا تھا ۔ گھی کو مشکیزوں میں جن پر بال بدستور لگے رہتے تھے بھر کر رکھا جاتا تھا ۔ اس گھی کا ذائقہ نہایت بدمزہ ، بدبو دار اور کراہیت آمیز ہوتا تھا ۔ چوں کہ یہاں پینے کے لیے دودھ میسر نہیں تھا اس لیے ان میں سے کوئی بیمار پڑ جاتا تو اس کی غذا کی فراہمی مسلہ بن جاتی تھی ۔ مغربی تبت میں ایک دیہاتی قسم کا عہدار ہر جگہ ہوتا تھا ۔ اس کے ماتحت چند گاؤں کے مکھیا Makpan ہوتے تھے ۔ جن کو چھوٹے چھوٹے جھگڑے طہ کرنے اور کچھ سزا جن بید اور قید کا اختیار ہوتا تھا ۔ جب کہ پیچیدہ مقدموں کو ایک مجسٹریٹ طہ کرتا ہے اور اس کی اپیل جنگ پن یا تارجم کے یہاں ہوتی تھی ۔

بدھ مت کی بہت سی باتیں خاصی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہیں ۔ مثلاً دعاؤں ایک نلکی یا پیٹی میں بند کرکے اسے بار بار گھمانے سے وہی مطالب ہوتا تھا جو ازراہ ادب گھٹنے جھکانے اور بار بار التجا کرنے سے ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے بدھ مندروں ، خانقاہوں اور ویرانوں میں دعائیہ چرخیاں ہوتی ہیں ۔ جنہیں لوگ گھماکر اپنی خیر و عافیت کی دعا مانگتے ہیں ۔ مگر تبت میں غربت کی وجہ سے لوگ کچھ معاوضہ لے کر مجرم کے بدلے سزا بھگتنے کو مل جاتے تھے ۔ یہاں وایسرائے اور چنگ پن اپنے بدلے اپنے ملازموں یا عزیزوں خدمات کے لیے بھیج دیتا تھا ۔ یہاں ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جو دوسرے کے بدلے خواہ وہ پیدل ہو یا لیٹ کر ڈنڈوت کرتے ہوئے طواف نہایت قلیل اجرت میں کرتے تھے ۔ لوگ عموماً معاوضہ دینے میں حجت نہیں کرتے تھے کیوں کہ یہ نہایت قلیل ہوتا تھا ۔

دار چنگ میں ایک ندی جو اس متبرک پہاڑ سے نکلتی ہے اور جاتری اس کے ٹھنڈے پانی میں نہاتے تھا ۔ گو یہ نہانا صرف چلو پھر پانی سر پر ڈالنا ہوتا تھا ۔ البتہ معاوضہ لے کر نہانے والا کوئی نہیں ملتا تھا کیوں کہ یہاں کوئی بھی نہانا پسند نہیں کرتا تھا ۔ 

تبت کے جاتری بھی بڑی کثرت سے آتے تھے ۔ اس کے علاوہ وسط ایشیا کے بہت دور دراز مقامات سے لوگ آتے تھے ۔ خاص کر کنبھ کے میلے میں جو ہر بارویں سال لگتا تھا اور اگر موسم اچھا رہا تو اس میلے میں لوگوں کی کثیر تعداد شریک ہوتی تھی ۔ یہاں آنے والے جاتری اپنے ساتھ کثیر تعداد میں مویشی جن میں یاک بھیڑ و بکریاں اور گھوڑے لاتے تھے ۔ ان جانوروں پر بیچنے کے لیے مال لادا ہوتا تھا ۔ یہ مال مویشوں اور مال کی خرید و فرخت کرتے اور ان کا دودھ اور گوشت استعمال کرتے تھے ۔ ان میں بعض افراد ایسے چالاک ہوتے تھے جو آتے تو خالی ہاتھ اور واپسی کے وقت جوڑ ٹور کے ذریعے ایک گلے کے مالک بن چکے ہوتے تھے ۔ یہاں آنے والے اکثر جاتری اپنی بھیڑوں کو سرخ رنگ سے رنگ دیتے تھے تاکہ بیماریوں اور آفات سے محفوظ رہیں ۔ یہ آفات سے محفوظ رہیتی تھیں یا نہیں مگر یہاں کے ویران میدانوں میں یہ بڑی دلفریب نظر آتی تھیں ۔       

ان جھیلوں اور کوہ کیلاش کے مغربی کنارے پر تیرتھ پوری جاتریوں کا بڑا مرکز ہے ۔ یہ دارچنگ سے تین منزل کے فاصلے پر ستلج دریا کے کنارے واقع ہے ۔ ستلج کا اصل مخرج ڈال جو کے خانقاہ کے قریب ایک بڑا چشمہ ہے ۔ راکش تال سے ایک خشک نالا مان سرور میں جارہا ہے جس میں کہیں کہیں پانی نظر آتا ہے ۔ تیرتھ پوری کے چشمہ سے پانی دریائے ستلج میں جاتا ہے اور یہ جگہ گندھک کے گرم چشموں اور قدیم روایتوں کی وجہ سے ایک دلچسپ مقام ہے ۔ یہاں گندھک کا ایک گرم چشمہ بھی ہے ۔    

اس جگہ تین وادیاں ملتی ہیں جس کی سبز مرغزاروں میں دریا بل کھاتا ہوا گرتا ہے ۔ یہاں بھی طواف کیا جاتا ہے اور چار ٹینس اور پتھروں کے ڈھیر اس کی نشان دہی کرتے ہیں ۔ یہ تبت کا دلفریب مقام بدھ اور ہندو دونوں یاتریوں کے لیے متبرک مقام ہے یہاں سے وہ گزرتے تھے ۔ یہاں ایک خانقاء گومپا ہے جس کا انتظام براہ راست ٹولنگ کی خانقاہ کے سپرد تھا ۔ لیکن اس کے انتظام میں لداخ کو بھی کچھ دخل تھا ۔  

 اس وادی سے ہوکر مسار کی جانب ایک راستہ جاتا جو کہ تیرتھ پوری سے دو میل دور ہے ۔ اس وادی میں مویشیوں کے چرنے کے لیے عمدہ گھاس ہے اور یہ وادی مسار کے مقام پر ایک ایسے وسیع میدان میں جاکر ختم ہوتی ہے جس کو ہر طرف بلند ہوتے پہاڑ تند و تیز ہوا کو روک لیتے ہیں ۔ یہاں تارجم کی چوکی تھی اور یہاں لاہسہ ، ڈابا اور گیانیما کی سڑکیں ملتی تھیں اس لیے خاصہ بارونق علاقہ تھا ۔

اس جگہ سرسبز خوبصورت چراہ گاہیں مگر درخت نہیں پائے جاتے ہیں ۔ اصل میں دس ہزار فٹ کی بلندی کے بعد درخت ، بارہ ہزار فٹ کی بلندی کے بعد جھاڑیاں بھی ختم ہوجاتی ہے اور صرف گھاس رہ جاتی ہے ۔ تبت بلند و بالا میدان میں واقع ہے اور اس لیے یہاں   درخت نہیں پائے جاتے ہیں اور اس لیے یہاں ایندھن کی شدید کمی تھی ۔ یہ خوبصورت سرسبز چراگاہیں جھیلوں کے گرد اور ان سے بھی آگے جہاں تک نظر کام کرتی ہے دور تک میلوں تک پھیلی ہوئی ہوتی ہیں ۔ ان چراہگاہوں کی وجہ سے یہاں ہزاروں کی تعداد میں بھیڑ ، بکریاں اور دوسرے مویشی چرتے نظر آتے ہیں ۔ یہاں فضاء اس قدر صاف ہے کہ دور دراز کے مقامات بھی قریب نظر آتے ہیں ۔ جب کوئی ان کے قریب جانے کی کوشش کرتا ہے یا دوربین سے دیکھتا ہے تو اس پر فاصلے کے فریب کا حال کھلتا ہے ۔ یہ چراگاہیں مان سردور جھیل کے مشرق میں اور کچھ دور تک کیلاش کے شمال میں نیز متبرک جھیلوں کے مغربی جانب دور تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ یہ جگہ تبتی اون کی وجہ سے مشہور تھا اور یہ اون عہد قدیم سے برصغیر میں برمدآد کی جاتی تھی ۔ جہاں نہایت خوبصورت نرم و ملائم قیمتی شائل بنی جاتی تھیں جو نہایت پسند کی جاتی تھی اس لیے ان کی بہت مانگ تھی ۔ یہاں نمک اور سہاگا بھی ملتا ہے جو کہ کیلاش کے پہاڑی سلسلے کے شمال میں ان کانیں کچھ فاصلہ پر واقع ہیں ۔ مگر ان چیزوں لے جانے میں سب سے بڑا مسلہ باربرداری کا تھا ۔ اب یہاں چینوں نے شاندار راستہ بنادیئے ہیں جن پر جدید طرز کی عمدہ گاڑیاں ڈورتی پھرتی ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں