50

مغ

ہندی آریاؤں کی طرح ایرانیوں کے درمیان بھی پرہتوں کا ایک طبقہ موجود تھا ۔ جس کو مغ Muge یا مگوس یا مجسوس کہتے تھے ۔ مذہبی رسوم کی ادائیگی اسی طبقہ کے متعلق تھی ۔ اس طبقہ نے بھی مذہب کے اندر بہت پیچیدگیاں پیدا کردیں تھیں ۔ تقریباً ایک ہزار قبل مسیح تک مذہب مجوس یا آئین مفان کہتے ہیں رائج رہا ۔ پھر ایران میں ایک پیغمبر میں آیا جس کی تعلیم نے ملک کے اندر بہت مقبولیت حاصل کرلی ۔

یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ زرتشت ایران کے پارسیوں پیغمبر اور مجوسی مذہب کا بانی تھا ۔ بقول ہیروڈوٹس مجوس ایک طبقہ تھا جس کہ فرائض برہمنوں سے ملتے جلتے تھے اور قدیم زمانہ میں وہ علم و اخلاق کا نمونہ سمجھے جاتے تھے ۔ ایک اور پہلوی مصنف ژند و اوستا کو مجوس کے مذہبی صحائف کا مجموعہ کہتا ہے ۔ البیرونی کا بھی یہی کہنا ہے کہ مجوسی زرتشت سے پہلے بھی موجود تھے ۔ گو اب کوئی بھی ایسا مجوسی نہیں ہے جو کہ زرتشت کا مقلد نہ ہو ۔ شامی و عربی مصنفین نے زرتشت کو آتشت پرست مجوسیوں کا پیغمبر لکھتے آئے ہیں ۔ اس طرح یونانیوں اور رومیوں نے زرتشت کو مجوسی بتایا گیا ہے ۔ لیکن ژند و اوستا میں مجوسیوں کا پتہ نہیں چلتا ہے ۔ اس بنا پر یہ کہنا کہ یہ مجوسیوں کے صحائف کا مجموعہ ہے درست نہیں ہے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ فیثاغورث مجوسیوں سے علم حاصل کرنے کے لیے بابل گیا تھا ۔ سقراط کا ایک استاد گوبرایس بھی ایک مجوسی تھا ۔

مجوس یا مغان اصل میں میڈیا کے ایک قبیلے یا اس قبیلے کی ایک خاص جماعت کا نام تھا جو غیر زرتشتی مزدائیت کے علمائے مذہب تھے ۔ مذہب زرتشت نے ایران کے مغربی علاقوں (میڈیا اور فارس) کو تسخیر کیا تو مغان اصلاح شدہ مذہب کے روسائے روحانی بن گئے ۔ اوستا میں یہ تو علمائے مذہب آذروان کے قدیم نام مذکور ہیں ۔ لیکن اشکانیوں اور ساسانیوں کے زمانے میں معمولاً مغ کہلاتے تھے ۔ ان لوگوں کو ہمیشہ قبیلہ واحد کے افراد ہونے کا احساس رہا اور لوگ بھی ان کو ایک ایسی جماعت تصور کرتے تھے جو قبیلہ واحد سے تعلق رکھتی تھی اور خداؤں کی خدمت کے لیے وقف ہے ۔

میڈی مغوں کے قدیمی مذہب کے پیرو تھے ۔ لیکن اس مذہب کے بارے میں کوئی بات واضح طور پر کہی نہیں جاسکتی ہے ۔ گاتھا میں لکھا ہے کہ مغوں کے قدیمی مذہب میں جو توہمات داخل ہوگئے تھے زرتشت ان سے مذہب سے پاک کرکے اس نئے مذہب کی دعوت دی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زرتشت کا مذہب بنیادی طور پر مغوں کے قدیمی مذہب سے مختلف نہ تھا اور مغ بھی زرتشت کے پیروؤں کی طرح اہورا مزد کی پرستش یقناً کرتے ہوں گے ۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس میں سحر و توہمات بڑتے گئے ہوں گے ۔

عہد ساسانی میں علمائے مذہب امرائے جاگیردار کے دوش بدوش چلتے تھے اور جب کبھی ضعف و انحطاط کا دور آجاتا تھا تو یہ دونوں جماعتیں بادشاہ کے خلاف ایک دوسرے کی موید ہوجاتی تھیں ۔ لیکن یہ دو گرو بالکل ایک دوسرے سے الگ تھے اور ہر ایک کی ترقی کا راستہ جدا تھا ۔ جہاں تک ہمیں علم ہے ساسانیوں کے زمانے میں امرا کے بڑے بڑے گھرانووں میں سے کوئی شخص موبدان موبد نہیں بنایا جاتا تھا ۔ موبدوں کا انتخاب ہمیشہ مغان قبیلے سے ہوتا تھا ۔ جس کی تعداد طبعی طور پر صدہا سال سے بہت بڑھ گئی تھی ۔ طائفہ مغان نے بھی ایران کی شاندار تاریخ میں سے اپنا ایک شجرہ نسب تیار کیا جو نجباء کے عالی شان خاندانوں کے شجرے کے مقابلے میں تھا ۔ ساسانیوں نے اپنا نسب (بواسطہ ہخامنشیان) کو دِشتاسپ تک پہنچایا تھا تھا جو زرتشت کا مربی تھا اور اکثر دوسرے عالی خاندانوں نے بھی (بواسطہ اشکانیاں) اپنا مورت اعلیٰ اسی کو قرار دیا ۔ اس کے مقابلے پر موبدوں کا جد اعلیٰ شاہ افسانوی منش چتر (منوچہر) قرار پایا گیا جو اساطیری خاندان پرداتَ سے تھا کہ وشتاسپ سے بہت زیادہ قدیم ہے ۔

طبقہ علماء مذہب اپنے دنیاوی اقتدار کو ایک مقدس اور مذہبی رنگ دیتے تھے اور اسی ترکیب سے وہ ہر شخص کی زندگی کے اہم معماملات میں دخل دے سکتے تھے ۔ گویا یوں کہنا چاہیے کہ ہر شخص کی زندگی مہد سے لحد تک ان کی نگرانی میں بسر ہوتی تھی ۔ مورخ اگاتھیاس لکھتا ہے کہ فی زماننا ہر ایک ان (مغان) کا احترام کرتا ہے اور بے حد تعظیم کے ساتھ پیش آتا ہے ۔ پبلک کے معملات ان کے مشوروں اور پیشن گوئیوں سے طے پاتے ہیں اور لوگوں کے باہمی تناذعات کا غور و فکر کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں ۔ اہل فارس کے نذدیک کوئی چیز مستند اور جائز نہیں سمجھی جاتی ہے جب تک ایک مغ اس کے جواز کے لیے سند نہ دے ۔

جیکسن ، ڈار مشٹیٹر اور گائیگر کو اتفاق ہے کہ زرتشتی مذہب میڈیا میں پیدا ہوا اور اوستا کی زبان شمال و مشرق ایران یعنی باختر کی زبان تھی ۔ لیکن ہر روایت سے ثابت ہوتا ہے ان کے اصول و عقائد میڈیا سے آئے تھے اور ان کو لانے والے آتھرون یا آذربان (آتش پرست پجاری) تھے جو کہ بلا ختلاف شمال و مشرق کے صحرا نورد مبلغان مذہب بیان کیے جاتے ہیں ۔ مگر ان کا وطن رے اور میڈیا کہا جاتا تھا ۔ ڈار مشٹیٹرنے ایک نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ لفظ ’موغو‘ جس سے مجوسی نکلا ہے اور اوستا میں یہ صرف ایک مقام پر آیا ہے اور وہ بھی مرکب یعنی ’موغوط یش‘ یعنی مجوسیوں سے نفرت کرنے والا یا ستانے والا ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران خاص کے باشندے ان کے خون کے پیاسے اس لیے نہیں تھے کہ وہ آتھروں یا مذہب زرتشت کے منادی کرنے والے تھے ۔ بلکہ ان سے اس لیے خار کھاتے تھے کہ وہ میڈوی قوم کے مجوسی تھے ۔ جن کی حکومت کے کھنڈروں پر اہل فارس کی حکومت قائم ہوئی تھی اور ان کے علم بغاوت نے ابتدائی ہخامنشیوں کے دور میں فارس کا ناک میں دم کر دیا تھا ۔ خصوصاً مجوسی (مغوش) گوما کے انحراف نے جو اپنے کو سائرس کا بیٹا بردیہ کا بیٹا مشہور کرکے تخت ایران کا دعویدار بن بیٹھا تھا ۔ جسے خود دارا نے اپنے ہاتھ سے قتل کیا تھا ۔ جس کو دار نے نے بے ستون پر کندہ کرایا تھا ۔ 

اس کے علاوہ نو مدعیان تخت میں جن کو دارا نے انیس لڑائیوں شکت دے کر اسیر کیا تھا ۔ بقول ڈار مشٹیٹر کے جنوب کے ایرانی جہاں اہل میڈیا کے پجاریوں کو احترام کی نگاہ دیکھتے تھے اور مذہبی رسوم ادا کرنے میں ان کا وجود ناگریز سمجھتے تھے وہاں ان کے خلاف نفرت خصومت بھی شدید رکھتے تھے ۔ مگر یہ اس دقت ثابت ہوسکتا ہے جب یہ ثابت جاے کہ ہخامنشیوں کے دور میں ہی ادستا لکھی گئی تھی ۔ اشکانی ددر میں آریائی پرہتوں یعنی مغ یا مجوس Mage کی حثیت کم کرکے ان کی جگہ محافظین آتش کدہ یعنی اوردان Athrawan نے لے لی تھی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں