74

مغ

ہندی آریاؤں کی طرح ایرانیوں کے درمیان بھی پرہتوں کا ایک طبقہ موجود تھا ، جو کو مغ Muge یا مجسوس کہتے تھے ۔ مذہبی رسوم کی ادائیگی اسی طبقہ کے متعلق تھی ۔ اس طبقہ نے بھی مذہب کے اندر بہت پیچیدگیاں پیدا کردیں تھیں ۔ تقریباً ایک ہزار قبل مسیح تک مذہب مجوس یا آئین مفان کہتے ہیں رائج رہا ۔ پھر ایران میں ایک پیغمبر میں آیا جس کی تعلیم نے ملک کے اندر بہت مقبولیت حاصل کرلی ۔ یونانی اور لاطینی مصنف مگوس Magos سے بلا امتیاز مغ اور موبد دونوں مراد لیتے ہہیں ۔ اس کے برعکس عربی اور فارسی موبد مذہب زرتشتی کلیسائی کے تمام مراتب پپرر حاوی ہے ۔                                
یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ زرتشت ایران کے پارسیوں پیغمبر اور مجوسی مذہب کا بانی تھا ۔ بقول ہیروڈوٹس مجوس ایک طبقہ تھا جس کہ فرائض برہمنوں سے ملتے جلتے تھے اور قدیم زمانہ میں ان وہ علم و اخلاق کا نمونہ سمجھے جاتے تھے ۔ ایک پہلوی مصنف ژند و اوستا کو مجوس کے مذہبی صحائف کا مجموعہ کہتا ہے ۔ البیرونی کا بھی یہی کہنا ہے کہ مجوسی زرتشت سے پہلے بھی موجود تھے ۔ گو اب کوئی بھی ایسا مجوسی نہیں ہے جو کہ زرتشت کا مقلد نہ ہو ۔ شامی و عربی مصنفین نے زرتشت کو آتشت پرست مجوسیوں کا پیغمبر لکھتے آئے ہیں ۔ اس طرح یونانیوں اور رومیوں نے زرتشت کو مجوسی بتایا گیا ہے ۔ لیکن ژند و اوستا میں مجوسیوں کا پتہ نہیں چلتا ہے ۔ اس بنا پر یہ کہنا کہ یہ مجوسیوں کے صحائف کا مجموعہ ہے درست نہیں ہے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ فیثاغورث مجوسیوں سے علم حاصل کرنے کے لیے بابل گیا تھا ۔ سقراط کا ایک استاد گوبرایس بھی ایک مجوسی تھا ۔
مجوس یا مغان اصل میں میڈییا کے ایک قبیلے یا اس قبیلے کی ایک خاص جماعت کا نام تھا جو غیر زرتشتی مزدائیت کے علمائے مذہب تھے ۔ مذہب زرتشت نے ایران کے مغربی علاقوں (میڈیا اور فارس) کو تسخیر کیا تووہ مغان کہلائے اور اصلاح شدہ مذہب کے روسائے روحانی بن گئے ۔ اوستا میں یہ تو علمائے مذہب آذروان کے قدیم نام مذکور ہیں ۔ لیکن اشکانیوں اور ساسانیوں کے زمانے میں معمولاً مغ کہلاتے تھے ۔ ان لوگوں کو ہمیشہ قبیلہ واحد کے افراد ہونے کا احساس رہا اور لوگ بھی ان کو ایک ایسی جماعت تصور کرتے تھے جو قبیلہ واحد سے تعلق رکھتی تھی اور خداؤں کی خدمت کے لیے وقف ہے ۔
عہد ساسانی میں علمائے مذہب امرائے جاگیردار کے دوش بدوش چلتے رہے اور جب کبھی ضعف و انحطاط کا دور آجاتا تھا تو یہ دونوں جماعتیں بادشاہ کے خلاف ایک دوسرے کی موید ہوجاتی تھیں ۔ لیکن ویسے یہ دو گرو بالکل ایک دوسرے سے الگ تھے اور ہر ایک کی ترقی کا راستہ جدا تھا ۔ جہاں تک ہمیں علم ہے ساسانیوں کے زمانے میں امرا کے بڑے بڑے گھرانووں میں سے کوئی شخص موبدان موبد نہیں بنایا جاتا تھا ۔ موبدوں کا انتخاب ہمیشہ مغان قبیلے سے ہوتا تھا ۔ جس کی تعداد طبعی طور پر صدہا سال سے بہت بڑھ گئی تھی ۔ طائفہ مغان نے بھی ایران کی شاندار تاریخ میں سے اپنا ایک شجرہ نسب تیار کیا جو نجباء کے عالی شان خاندانوں کے شجرے کے مقابلے میں تھا ۔ ساسانیوں نے اپنا نسب (بواسطہ ہخامنشیانٰ) کو گِشتاسپ تک پہنچایا تھا تھا جو زرتشت کا مربی تھا اور اکثر دوسرے عالی خاندانوں نے بھی (بواسطہ اشکانیاں) اپنا مورت اعلیٰ اسی کو قرار دیا ۔ اس کے مقابلے پر موبدوں کا جد اعلیٰ شاہ افسانوی منش چتر (منوچہر) قرار پایا گیا جو اساطیری خاندان پرداتَ سے تھا کہ وشتاسپ سے بہت زیادہ قدیم ہے ۔
ظبقہ علماء مذہب اپنے دنیاوی اقتدار کو ایک مقدس اور مذہبی رنگ دیتے تھے اور اسی ترکیب سے وہ ہر شخص کی زندگی کے اہم معماملات میں دے سکتے تھے ۔ گویا یوں کہنا چاہیے کہ ہر شخص کی زندگی عہد سے لہحد تک ان کی نگرانی میں بسر ہوتی تھی ۔ مورخ اگاتھیاس لکھتا ہے کہ فی زماننا ہر ان (مغان) کا احترام کرتا ہے اور بے حد تعظیم کے ساتھ پیش آتا ہے ۔ پبلک کے معملات ان کے مشوروں اور پیشن گوئیوں سے طے پاتے ہیں اور لوگوں کے باہمی تناذعات کا غور و فکر کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں ۔ اہل فارس کے نذدیک کوئی چیز مستند اور جائز نہیں سمجھی جاتی ہے جب تک ایک مغ اس کے جواز کے لیے سند نہ دے ۔
موبدوں کا رسوخ اور اثر محض اس وجہ سے نہ تھا کہ ان کو روحانی اقتدار حاصل تھا یا یہ کہ حکومت نے ان کو فصل خصومات کا کام دے رکھا تھا ۔ یا وہ پیدائش اور شادی اور تطہیر اور قربانی وغیرہ رسموں کو ادا کرتے تھے ۔ بلکہ ان کی زمینوں اور جاگیروں اور اس کثیر آمدنی کی وجہ سے جو انہیں مذہبی کفارووں اور اور نذر و نیاز کی رقموں سے ہوتی تھی اور پھر اس کے علاوہ انہیں کامل سیاسی آزادی حاصل تھی ۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے حکومت کے اندر اپنی حکومت بنائی ہوئی تھی ۔ شاہ پور دوم کے زمانے تک میڈیا اور بالخصوص آذربائیجان مغوں کا ملک سمجھا جاتا تھا ۔ وہاں ان لوگوں کی ذرخیز زمینیں اور پرفضا مکانات تھے ۔ جن کے گرد حفاظت کے لیے کوئی دیوار نہیں بنی ہوتی تھی ۔ بلکہ ان کا تقدس ان کا محافظ تھا ۔ اپنی ان زمینوں پر یہ لوگ اپنے خاص قوانین کے ماتحت زندگی بس کرتے تھے ۔ غرض یہ کہ روسائے مغان کے قبضہ میں بڑی جاگیریں تھیں ۔ 

تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں