69

مقدس جھیل

    یہ وادی سطح سمندر سے 15000 ہزار کی بلندی پر واقع ہے اور اس کے چاروں طرف بلند و بالا پہاڑ واقع ہیں ۔ اس کے جنوب میں کوہ ہمالیہ کی برف پوش چوٹیاں اور شمال میں کوہ کیلاش کا پہاڑی سلسلہ ہے ۔ جو اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ایک دوسرے کے اوپر سر نکالے ہوئے سر نکالے کھڑے ہیں ۔ کوہ کیلاش اپنے پہاڑی سلسلے الگ تھلک ان جھیلوں کے نذیک آسمان کو چھوٹا ہوا اپنی 22000 ہزار فٹ بلندی کے ساتھ کھڑا کسی ہرم کی مانند دیکھائی دیتا ہے ۔ جس کے پہلو عمودی چٹانوں سے بنے ہوئے ہیں ۔ جن پر کہیں کہیں ڈھلان یا ابھرے ہوئے ٹکرے برف تھامے الگ نظر آرہے ہوتے ہیں ۔ اس کی نوکیلی چوٹی کبھی نہ پگھلنے والی برف سے ڈھکی ہمیشہ نظر آتی ہے ۔

گرمیوں میں جب موسم خوشگوار ہوتا ہے تو یہ جھیلیں زمرد کی طرح نیلی اور ان کے ارد گرد ایستادہ اور بکھری ہوئی چٹانوں ، بوقلموں رنگوں کی پچکاری کا ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں ۔ کوہ کیلاش کے عظیم ڈھلوان پہلو پانی کی دھاروں سے جھلملا رہے ہوتے ہیں اور اس کی بلند چوٹی سے گرد جیسی باریک برف دھوئیں کی مانند اڑتی نظر آتی ہے ۔ دور افق پر آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے بلند و بالا ہمالیہ کے پرشکوہ پہاڑ موتیوں کی طرح چمک رہے ہوتے ہیں ۔ اس وقت یہ دنیا کا خوبصورت ترین مقام ہوتا ہے ۔ شیطانی جھیل یا راکش تال پر اس قدر ہموار اور شفاف برف کی تہہ جمی ہوتی تھی ہے کہ اس کے نیچے نرسل کے پودے اور پھلیاں اتنی صاف نظر آرہی ہوتی ہیں کہ جیسے کسی کھڑکی سے نظر آرہی ہوتی ہیں ۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ راون نے اس جھیل کی تہہ میں بیس ہزار سال تک شیو کی پتیسا کی تھی ۔ جبھی اسے وردان ملا تھا ۔

 جھیل مانسرور جس کی تہہ میں ایک گرم پانی کا چشمہ ہے ۔ اس لیے یہ صرف ایک مختصر عرصہ کے لیے جمتی ہے ۔ جھیل پر سردویوں میں برف بڑے بڑے تودوں کی صورت میں حرکت کر رہی ہوتی ہے اور وقفوں وقفوں سے شور و شرابت کے ساتھ ان تودوں کو پانی کناروں کی جانب ڈھکیل رہا ہوتا ہے ۔ سال کے کسی موسم میں بھی ہوا کا طوفان چلنا یہاں عام بات ہے اور جب یہ طوفان چلتے ہیں تو بادلوں کے گرجنے کے ساتھ تیز ہوا میں تیز سیٹیوں کی آوازیں آتی ہیں اور یہاں سے گزرنے والے مسافروں کو گرمیوں میں ریت کے مرغولے اور سردیوں میں برف کی بوچھار اسے اندھا کئے دیتی ہے ۔ جس سے ہر کوئی پناہ چاہتا اور قدرت کے یہ مظاہر انسانوں کو سراسیمہ اور دہشت زدہ کرتے رہتے ہیں ۔ یہ خوبصورت جھیل سردیوں میں جم جاتی ہے اور گرمیوں میں یہاں پرندے بسرا کرتے ہیں اور اس کے اوپر لاکھوں مجھروں کے بڑے بڑے دل کے دل گھومتے رہتے ہیں اور یہاں تیز سرد ہوا جو خون کو رگوں کو جمادے مسلسل جلتی رہتی ہے ۔   

اس جھیل سے چار دھارے نکلتے ہیں ۔ یہ چار دھارے یہ ہیں ۔

(1) شمال میں دریائے سندھ جسے اہل تبت سنگ جن کمبا Sing Chin Kamba کہتے ہیں ۔ یعنی شیر کا منہ .

(2) مشرق میں سنپو Sunpo یا برہم پتر دریا ہے ۔ اسے اہل تبت تمچیاک کمبا یعنی گھوڑے کا منہ

(3) مغرب میں ستلج میں ہے ۔ اسے اہل تبت لنگ جن کمبا Lang Chng Kamba یعنی بیل کے منھ

(4) جنوب میں کرنالی ۔ جسے اہل تبت ماپچو کمبا Mapehu Kamba یعنی مور کا منہ کہتے ۔ یہ عجیب و غریب دریا جو دریائے گنگا کے سرچشموں میں سے ہے کوہ ہمالیہ سے بہت دور شمالی جانب نکل کر سلسلہ مذکور کے زبردست فیصل کو کاٹتا ہوا نیپال سے گزر کر بہتا ہوا اور لکھنو کے مشرق میں گھاگرا سے مل کر بالآخر گنگا میں جاملتا ہے ۔  

 ہندوؤں اور بدھوں کا بھی یہی کہنا تھا اور ان کی مذہبی تصویروں میں اس جھیل میں ان چاروں دریاؤں کو چار جانوروں کے منہ سے نکلتے دیکھایا گیا تھا ۔ مشرق میں سے برہما پتر گھوڑے کے منہ سے ، کرنالی کو جنوب میں مور کے منہ سے ، ستلج مغربی جانب سے ہاتھی کے منہ سے اور دریائے سندھ شمال میں ببر شیر یا سنگی کباب سے نکل رہا ہے ۔ اس لیے یہ دریا تبت سنگی کباب یعنی شیر دریا کہلاتا ہے ۔

 اس جھیل میں شیوجی کا باس ہے اور گنگا وشن مہاراج کے چرنوں سے نکل کر کنول کے پھول تس کی مانند باریک دھا سے مرت لوک میں گرتی ہے اور شیوجی ہنس روپ میں رہتے ہیں ۔ یہ جھیل برہما کے ہردے سے اپتت ہوئی ہے اور اس میں مہادیو جی اور کل دیوتاؤں کا باس ہے ۔ جن کی ویھ مان سردور کے رینکا (ریت) سے ارس پرس کرتے ہیں ۔ (چھو جاتے ہیں ) یا جو اس جھیل کے پانی میں اشنان کرتے ہیں وہ برہم لوک جاتے ہیں اور یہاں کے جل پان (نوش) کرتے ہیں وہ شیو لوک جاتے ہیں اور ان کے سو جنم کے پاپ ناس ہوجاتے ہیں ۔ حتیٰ کہ پشو کا نام مان سرودر ہو وہ بھی اس نام کی برکت سے برہم لوک میں چلا جائے گا ۔ اس کا پانی موتیوں کی طرح جھلکتا اور ہماچل کے مثل کوئی دوسرا پہاڑ نہیں ۔ اس لیے یہاں کیلاش پربت اور مان سرودر تال ہے اور جس طرح سورج کے پرکاش پر اوس جاتی اس طرح ہماچل کے وشنوں سے منشوں کے پاپ ناس ہوجاتے ہیں (رامائن)

ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ اس جھیل کی تہہ یا پاتال میں بنے ہوئے قلعے میں دیوتا رہتے ہیں اور اس جھیل کی سطح پر شیو اپنی بیوی پاربتی اور دوسری بیویوں ساتھ ہنسوں کی صورت میں سیر کرتا ہے اور اس کے ساتھ اس کے خدمت گار دیوتا بھی ہوتے ہیں ۔ اس جھیل کے چاروں طرف پہلے خانقاہیں اور جھوپڑیاں تھیں ۔ جہاں ہندو اور بدھ راہب اور رشی جو اس مقدس جھیل اور کیلاش کی یاترا کرنے والے ان میں ٹہرتے تھے ۔

پہلے یہاں کا سفر کوئی آسان سفر نہیں تھا ۔ یہاں آنے کے لیے جان جوکھوں میں ڈال کر سیکڑوں میل کا نہایت خطرناک سفر کرنا پڑتا تھا ۔ اس کے باوجو ہر سال سیکڑوں ہندو اور بدھ یاتری یہاں اس بے رحم وادی میں اپنی جانیں جوکھوں میں ڈال کر آتے تھے ۔ پہاڑوں کی بلندی کی وجہ سے یہاں کی فضاء بہت لطیف ہے اور آنے والے یاتری جو کہ کثیف ہوا کے عادی ہوتے تھے ان کے لیے یہ سفر اور دشوار ہوتا تھا اور چند قدم چلنے سے سانس پھولنے لگتا تھا ۔ مگر اتنی صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجو یاتری اپنے گناہ دھلوانے کے لیے یہاں آتے تھے ۔ آنے والوں میں کچھ لوگوں کے پاس مٹکے ہوتے تھے ۔ جس میں ان کے پیاروں کی راکھ ہوتی ہے اور وہ اس راکھ کو جھیل کی سطح ہر بکھیر دیتے تھے کہ انہیں مکتی مل جائے ۔ ان کے عقیدے کے مطابق اس جھیل میں نہانے کا مطلب تھا سارے گناہ دھل جائیں ۔ اس لیے ہر یاتری اس پانی میں نہاتا ہے ۔ اس جھیل میں گرم پانی کے چشمہ کی وجہ سے یہاں نہانا مشکل نہیں ہے اور ہر یاتری چاہتا ہے کہ وہ اس مقدس جھیل میں نہا کر اپنے گناہ دھولے اور ہر آنے والا یاتری واپسی پر اس جھیل کا مقدس پانی لے جانا نہیں بھولتا ہے ۔

ان جھیلوں کی یاترا کے لیے سے جاتری زیارت کے لیے بائیں طرف سے طواف شروع کرتے ہیں ۔ ان جاتریوں میں بعض بالکل برہنہ تن جن کے بدن پرسوائے ایک لنگوٹ کے کوئی اور کپڑا پہنے نہیں ہوتے اور نہ ہی کھانے کے لیے کچھ ہوتا تھا ۔ ان کے بدنوں پربھبوت ملی ہوتی تھی اور کسی نے رحم کھا کر کچھ دے دیا ورنہ فاقہ اور سردی میں ننگ ڈھڑنگ ان ہیبت ناک پہاڑوں پر جہاں پتھروں کے دھیڑ کے علاوہ پگڈندی کا بھی کوئی کا نشان نہیں ہوتا تھا یہاں پھر رہے تھے ۔

 کچھ ایسے بھی جاتری ہوتے تھے جو ساز و سامان اور ملازموں کے ساتھ گرم کپڑوں میں ملبوس ہوکر یہاں کی یاترا کے لیے آتے تھے ۔ یہاں آنے والے اکثر جاتری سرد آب و ہوا کی سختی سے بے حال ہو جاتے تھے ۔ ان کے پیر جاڑے سن ہوجاتے تھے یا برف میں گل گئے ہوتے تھے ۔ ان چہروں پر فاقوں کی علامات ہوتی تھی اور ان کے لیے ایک قدم چلنا مشکل تھا ۔ ان کے ہاتھو ں کی انگلیاں سردی سے سکڑ جاتی تھیں ۔

 ان جھیلوں کے گرو جو خانقاہیں وہ مختلف محنتوں کے اختیار میں تھیں ۔ مثلاً گوزل Gozul کی خانقاء تکلاکوٹ کے شیو لنگ کی ماتحتی میں ہے ، جے کپJaikepکی خانقاہ بھوٹان کے حاکم کے ماتحتی ہے اور جیو Jiuکی خانقاء ڈوکپا کے گومپا کی ماتحتی میں ۔ گومیا کے معنی خلوت کی جگہ یعنی خانقاء کے ہیں ۔ گو اب بھی یہ خانقاہیں ہیں اور ان سادھو بھی رہتے ہیں مگر ان کا قدیمی کردار ختم ہو چکا ہے ۔ کیوں کہ اب جھیل مانسرور کے گرد ریسٹ ہاؤس بنا دیئے ہیں جہاں اب یاتری رات گزارتے ہیں ۔

گوزل کی خانقاء جو خاصی بلندی پر واقع ہے اور وہاں سے مان سردور جھیل کا بڑا خوبصورت نظارا ہوتا ہے ۔ جیو میں وہی نالہ ہے جو ان دونوں متبرک جھیلوں کو آپس میں ملاتا ہے ۔ اس مسلے پر کہ ان دونوں جھیلوں کے درمیان کوئی تعلق ہے کافی عرصہ تک بحث جھڑی رہی ۔ یہاں تک کیپٹن ایچ اسٹریحی نے 1942ء؁ میں اسے دیکھا تھا کہ یہ جوئے آب ایک سو فٹ چوڑا اور تین فٹ گہرا اور مشرق سے مغرب کی جانب سے اسے عبور کرنا پڑتا ہے ۔ یہی مان سردور کا مخرج ہے جو اسی نام کے مغربی سلسلہ کوہستان کے شمالی حصے سے نکل کر شاید چار میل بہنے کے بعد راکش تال میں شامل ہوجاتا ہے ۔ یہ پہاڑی خطہ کچھ زیادہ بلند نہیں ہے اور جس کی بلندی شاید اوسطاً دو سو فٹ بلند ہوگی اور مغربی جانب مان سردور جھیل کو رکس تال جھیل سے الگ کرتا ہے ۔

یہ نالہ اکثر خشک رہتا ہے ۔ کیوں کہ آندھیوں سے اس نالے میں چار چار فٹ ریت پھر جاتی ہے ۔ مگر وہاں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ جب بارشیں زور دار ہوتی ہیں تو نالے میں پانی بہنے لگتا ہے ۔ کبھی اس قدر بارش ہوتی ہے کہ سیلاب آجاتا ہے اور بہت سے مویشی بہہ جاتے ہیں ۔ اس نالے میں گندھک کے گرم پانی کے بہت سے چشمے ہیں اور ان کے پانی کو ہاتھ لگانا بھی مشکل ہوتا ہے ۔ مان سروور جھیل میں ایک کشتی بھی پڑی تھی جو سیون ہیڈن کی تھی ۔

ان جھیلوں کا پانی اس قدر متبرک خیال کیا جاتا کہ یہاں مچھلی کا شکار ممنوع ہے ۔ ہاں اگر کوئی مچھلی اچھل کر باہر آگرتی تھی تو اس آسیب اور مویشوں کے ہر طرح کے امراض کا علاج اس مچھلی سے کیا جاتا تھا ۔ اس مچھلی کو صاف کرکے احتیاط سے ڈھوپ میں سکھالیتے تھے اور ضرورت پڑنے پر ایک ٹکڑا کاٹ کر اسے جلتے کوئلوں پر رکھ کر اس کا دھواں مریض کی ناک میں پہنچایا جاتا تھے ۔ اس جھیل کے پرندوں کے انڈوں کو نکالنا منع کر دیا گیا ۔ مگر پہلے ان انڈوں کو لوگ فروخت بھی کرتے تھے ۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مان سروور میں ایک سونے لنگ کا ہے اور اس جل میں سفید رنگ کا راج ہنس ہے ، جس کی ٹانگیں اور چونچ لال ہے رہتا ہے ۔ چنانچہ شیوجی کا دوکھ  ہے کہ میں ہر جگہ رہتا ہوں ۔ لیکن ہماچل یا کیلاش پربت میرا خاص استھان اور وہاں میں سدا کال یعنی ہمیشہ رہتا ہوں ۔ ہماچل جیسا کوئی پہاڑ نہیں ہے اس کے درشنوں سے کل رکشا پورن ہوجاتی ہے ۔ مان سروور جھیل کو برہما جی نے اپنی شکتی سے ان رشی مینوں کے خاطر پیش کیا تھا ۔ جو کیلاش پربت پر تپشیا اور بھجن کرتے تھے اور جن کو نت اشنان کے لیے جو ایک پارسا ہندو کی زندگانی کا لازمی دھرم ہے بہت دور جانے سے تکلیف ہوتی تھی ۔ پہاڑ کے نیچے پاس اس جھیل کے اتپت ہوجانے سے رشیوں کو تپیسا کا موقع ملا ۔ ان کا آنے جانے میں جو سمے لگتا تھا اس میں کمی ہوگئی اور وہ سمے اور بھی زیادہ دھیان اور سنہری لنگ کی پوجا میں صرف ہونے لگا ۔

چینیوں نے اب اس جھیل تک پہنچنے کے لیے عمدہ سڑکیں بنا دی ہیں ۔ جہاں ٹکلا کوٹ سے یاتری عمدہ بسوں میں بیٹھ کر چند گھنٹوں پہنچ جاتے ہیں ۔ آج بھی بھارت سے سیکڑوں یاتری یہاں کی یاترہ کے لیے آتے ہیں ۔ جب یاتریوں کی بس یہاں رکھتی ہے تو وہ بس سے اترتے ہی جھیل کے سامنے زمین پر ہاتھ لمبے کرکے لیٹ جاتے ہیں اور دیر تک پڑے رہتے ہیں ۔ پھر اس کے پوتر پانی میں اشنان کرتے ہیں اور اشنان کرنے والوں میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں ۔ اس کے بعد پوجا کی جاتی ہے اور واپسی کے وقت اس جھیل کا پوتر پانی لانا نہیں بھولتے ہیں ۔ جسے وہ بھارت پہنچ کر بوندوں کے حساب سے دوست احباب میں تقسیم کرتے ہیں ۔ اس جھیل کے پار اگر موسم صاف ہو تو کیلاش پربت نظر ہے ۔ جو ان یاتری عقیدت میں اضافہ کر دیتا ہے ۔ وہ دوبین کی مدد سے اس میں شیو لنگ ، ترشول ، پاربتی ، کارٹیکا اور گنیش کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جہاں چٹانوں کے نقوش انہیں یہ سب دیکھانے میں مدد گار ہوتے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں