86

مقدس کیلاش

کیلاش پہاڑ جس کی نوکیلی چوٹی پر کبھی نہ پکھلنے والی برف ہمیشہ جمع رہتی ہے اور اس کے قریب کی جھیل مانسرور ہندوؤں اور بدھوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے ۔ ان کے عقیدے کے مطابق یہ جگہ کائنات کا مرکز اور ارضی جنت ہے ۔ اس پہاڑ پر دیوتاؤں کا ایک عظیم شہر آباد ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں دیوی دیوتا رہتے ہیں اور یہیں شیو بھی دیوتا اپنی بیوی پاربتی کے ساتھ رہتا ہے ۔ ان کے عقیدے کے مطابق یہ مقدس مقام جہاں مہادیو خود رہتا ہے سندھ ، ستلج ، برہم بترہ اور کرنالی جیسے عظیم دریاؤں کی جنم بھومی ہے اور مہادیو کی یہ ارضی جنت ہے ۔ اس لیے اس مقدس پہاڑ پر انسانوں کو کبھی نہیں چڑھنا چاہیے ۔

رامائن میں کہ جو ہماچل کا دھیان کرتا ہے گو اسے دیکھنا نصیب نہ ہو پھر بھی اس کا درجہ اس شخص سے بڑھا ہوا ہے جو کاشی میں عبادت کرتا ہے ، جو ہماچل کا دھیان کرتا ہے اس کے کل پاپ دور ہوجاتے ہیں ، جس جیون کی مرت (موت) ہماچل پر ہوتی ہے اور مرتے وقت ہماچل کے برفانی مقامات کا دھیان کرتے ہیں وہ کل گناہوں سے بری ہوجاتے ہیں ۔ میری طاقت سے باہر ہے کہ میں دیوتاؤں کے سو جگوں میں ہماچل کے مہانن کرسکوں جہاں شیوجی کا باس ہے ۔ جہاں گنگا وشن مہاراج کے چرنوں سے نکل کر کنول کے پھول تس کی مانند باریک دھار سے مرت لوک میں گرتی ہے ۔ پھر مجھے مان سردور کے درشن ہوجاتے ہیں جہاں شیوجی ہنس روپ میں رہتے ہیں ۔ یہ جھیل برہما کے ہردے سے اپتت ہوئی ہے اور اس میں مہادیو جی اور کل دیوتاؤں کا باسن ہے ۔ جن کی ویھ مان سردور کے رینکا (ریت) سے ارس پرس کرتے ہیں (چھو جاتے ہیں ) یا جو اس جھیل کے پانی میں اشنان کرتے ہیں وہ برہم لوک جاتے ہیں اور یہاں کے جل پان (نوش) کرتے ہیں وہ شیو لوک جاتے ہیں اور ان کے سو جنم کے پاپ ناس ہوجاتے ہیں ۔ حتیٰ کہ پشوپکشی کا نام مان سرودر ہو وہ بھی اس نام کی برکت سے برہم لوک میں چلا جائے گا ۔ اس کا پانی موتیوں کی طرح جھلکتا ہے اور اس دھرتی پر ہماچل کی طرح کا کوئی دوسرا پہاڑ نہیں ۔ اس میں کیلاش پربت اور مان سرودر تال ہے اور جس طرح سورج کے پرکاش پر اوس جاتی اس طرح ہماچل کے وشنوں سے منشوں کے پاپ ناس ہوجاتے ہیں ۔

اس جگہ کے لوگ نہایت جود و کرم و خوش حال ہیں اور خوشی کبھی ان سے جدا نہیں ہوتی ہے اور ذوال کبھی ان میں دخل نہیں پاتا ہے ۔ ان کے ملک میں نہ سردی ہے نہ گرمی نہ اصمحلال نہ بیماری نہ رنج نہ خوف نہ مینھ ہی مینھ ہے نہ دھوپ ہی دھوپ ۔ (رامائن)

ہندوئوں کی  روایتوں کے مطابق کوہ میرو کی چوٹی پر برہما کا نگر (شہر) آباد ہے ۔ جس کے دربار میں ہزاروں دیوتا حاضر رہتے ہیں اور جہاں سبت رشی یا منی جو برہما کے پتر ہیں ۔ ستاروں کے جھنڈ میں جسے سبت (سات) رشی کہتے ہیں چمکتے ہیں ۔ یہیں گنگا کا پوتر دھارا وش مہاراج کے چرنوں سے نکل کر چندر لوک سے ہوتی ہوئی آسمان سے زمین پر گردش کرتی ہے اور برہما کی نگریا کے چار بڑے دھار ہوکر مختلف اطراف میں بہتی ہے ۔

یعنی کوہ کیلاش کوہ میرو برہما کا نگر ہے اور جس بیکنٹھ (جنت) کی انہیں تلاش ہے وہ یہیں ہے اور جن دیوتاؤں اگنی ، وایو اور اندر کو وہ پوجتے ہیں ان کا اصل مسکن یہیں ہے ۔

مگر یہ ہندوؤں کا یہ واحد مقدس کیلاش پہاڑ نہیں ہے بلکہ چار اور پہاڑ بھی کیلاش کہلاتے ہیں ، انہیں بھی مقدس سمجھا جاتا ہے اور ان پر بھی شیو کا بن باس بتایا جاتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندو اس پہاڑ سے بدھوں کے توسط سے واقف ہوئے ہیں ۔ جیسے جیسے یہ ناقابل تسخیر پہاڑوں کو دیکھ کر اس سے متاثر ہوکر انہیں کیلاش پکارا ۔ ہر بلند اور ناقابل پہاڑ کے بارے میں ان کا یہی گمان ہوا کہ یہی  وہی کیلاش ہے جس کے بارے میں ویدوں اور رامائن آیا ہے ۔ اس طرح یہ سلسلہ تبت کے کیلاش پر آکر رکا اور انہوں نے اسے انہوں نے اصلی اور حقیقی کیلاش تسلیم کرلیا کہ یہیں شیو اپنی پتنی پاربتی کے ساتھ رہتا ہے ۔ 

تبت کے بدھوں کا عقیدہ ہے اس پہاڑ کی چوٹی پر بدھ پانسو منجی سادھوں کے ساتھ رہتا ہے ۔ ان کے نذدیک کوہ کیلاش وہ انمول برفیلا پہاڑ ہے جو کائنات کا مرکز ہے اور جہاں ہزاروں دیوتا اور قدرت کی ارواح آباد ہیں ۔ جنھیں صرف پرہیزگار اور روحانی افراد ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ اس کے دامن میں واضح نظر آنے والا دائرہ آج بھی اس نشان کو ظاہر کرتا ہے جو جھیل راکش میں رہنے والی شیطانی قوتوں نے اس پہاڑ کے گرد رسہ باندھ کر اسے گرانے کی کوشش کی تھی ۔

اسر جو دھرم کے بردہ یا اخلاف ہیں اصل میں دیوتا ہی تھے ، مگر سرگ سے نکلال دیئے گئے اور اب وہ کوہ میرہ یعنی کیلاش کی جڑ میں جو زمین اور آسمان کا وسط ہے میں رہتے ہیں ۔ ان کی ہمیشہ دیوتاؤں کے ساتھ لڑائی ہوتی رہتی ہے اور جب لڑائی سے فرصت پاتے تب اپنی استریوں سے بھوگ بلاس کرتے رہتے ہیں ۔ ان کی لڑائی کا مقصد برکش کے کچھ انمول پھلوں کو چھین لینا ہے جو تمام پرتھوی کی پیداوار کا ست (لب لباب) ہے اور اس کی شاکھائیں (شاخیں) تبت میں ہیں اور جڑ خاص ان کے ملک میں ہے ۔ ان اسروں کا مقابلہ میں ان کا لڑاکا دیوتا گرمیلاGromila یا مارا جو نفسانیت اور خواہشات کا دیوتا کرتا ہے ۔ اس کا رتبہ برہما سے زیادہ ہے اور بہشت کا بادشاہ اور دیوتاؤں کے لشکر کا سردار بھی ہے ۔ 

 ان کا اعتقاد ہے کہ ہر ایک لوک آکاش میں جو اتھار ہے اس کی وسعت کا اندازہ ناممکن ہے ۔ نیلی ہوا کے تانے بانے پر کوندتی ہوئی بجلی کی طرح ٹہرا ہوا ہے اور ہیرے کی طرح سخت اور لازوال ہے ۔ اس پر پانی کا آکار بنا ہے اور پانی سونے کی بنیاد ہے اور اس بنیاد پرتھوی رکھی ہوئی ہے ۔ جس کے دھرے سے میرو پہاڑ ہے ۔ یہ 84000 میل تک بلند ہے ۔ اس کے اوپر آسمان ہے اور نیچے چھوٹی پہاڑیاں ہیں ۔ اس کے ارد گرد سمندر ہیں چار بڑے دیپ جن کی بنیادیں ٹھوس سونے کے کچھوے کی شکل کی ہیں ۔ ان دیبوں اور کوہ میرو کے درمیان سات سونے کے پہاڑوں ہیں جو کوہ میرہ کے حلقے میں لیے ہوئے ہیں ۔ ان میں سب سے پہلا 40000 میل بلند ہے ۔ بیچ میں سات سمندر نہایت خوشبودار دودھ ، دہی ، مکھن ، رکت (گنے کا رس) ، بس یا مدھر کھاڑی اور میٹھے پانی کے ایک کے دوسرے کے بعد اس سنسار کے ٹھیک نیچے ہیں ۔ میرو پہاڑ سب پہاڑوں کا راجہ اس طرح سیدھا کھڑا ہے جس طرح چکی کی لاٹ ہو ۔ اس کے ایک طرف آدھی دور اونچے چڑھ کر اکشا پورن کرنے والا ایک کلپ برکش (درخت) ہے ۔ جس کے لیے دیوتاؤں اور اسروں میں ہمیشہ لڑائی ہوتی رہتی ہے ۔ اس کے چاروں وشائیں سونے و جواہرات کی ہیں ۔ اس کے پورب کی دشا بلور یا چاندی کی ہے ، دکشن کی وشا نیلم کی ، پچھم وشا چنی و لعل کی ، اتر دشا خالص سونے کی ہے اور خوشبودار پھولوں اور جھاڑیوں سے ڈھکا ہوا ہے ۔

اس علاقہ کو جھیلوں کی وادی بھی کہا جاتا ہے ۔ کیوں کہ یہاں چار بڑی جھیلیں اور دوچھوٹی جھیلیں واقع ہیں ۔ جن میں مان سرود کو مقدس اور راکش تال کو منحوس خیال کیا جاتا ہے اور جھیل مان سرودر کو اہل تبت موبانگ یا مپان والی اس کی خوبصورتی کی وجہ سے کہتے ہیں ۔  اس جھیل سے وہ دریا نکل تا ہے جسے موبانگ یا موپانگ Mobang or Mapan کہتے ہیں اور اس مقدس دریا کا جل دیوتا پیتے ہیں ۔ یہاں سرگ کے لوک (عالم) میں جہاں دھر ماتا جیور رہتے ہیں ادھر سو جنم تک نہیں پہنچ سکتے ہیں ۔ یہاں رنج ہے ، نہ تکان ، نہ بھوک اور نہ خوف ہے ۔ یہاں کے باشندوں کو بڑھاپا نہیں ستاتا ہے اور وہ دس بارہ ہزار برس تک لگاتار سکھ بھوگتے رہتے ہیں ۔ برسات کی دیوی کو یہاں منہ برسانے کی ضرورت نہیں ۔ اس لیے کہ یہاں کی زمین پانی کی پیاسی نہیں اور نہ یہاں کال یا جگوں کی تفریق ہے ۔ 

اس طرف آنے والے راستوں میں ہر اس مقام پر جہاں کیلاش کی پہلی جھلک نظر آتی ہے عقیدت مند مسافروں نے پتھروں کے ڈھیر بنائے ہوئے ہیں جن پر دعائیہ علم پھرپھرارہے ہوتے ہیں ۔ خانقاہوں ، مقبروں ، مندروں اور تاریک الدنیا افراد کی چھوٹی چھوٹی چھوپڑیوں نے پہاڑ اور جھیل کو چاروں طرف سے گہرا ہوا تھا ۔  

شیرنگ کا کہنا ہے کہ تبت والوں نے بدھ مذہب ہندوستان سے حاصل کیا ہے ۔ اس صورت میں ایک قدرتی امر ہے کہ کیلاش اور مان سروور کے علاقے کو جو ہندوؤں کی بہشت یا سرگ ہے متبرک سمجھیں ۔حلانکہ اس علاقہ کو پہلے بدھوں نے مقدس مانا اور بعد میں ان کی پیروی میں ہندوئوں نے اس مقدس مانا ۔

یہ جگہ بدھوں اور ہندوؤں دونوں کے لیے مقدس و متبرک ہے ۔ یہاں گرمیوں کے موسم میں جب فضاء نہایت صاف ہوتی ہے اور ایک عجیب و پر لطف نظارہ نظر آتا ہے ۔ دائیں جانب پینتالیس میل کے فاصلہ پر مان سردور کی وسیع جھیل ہے اور بائیں جانب شکل و صورت میں مختلف جھیل راکش تال ہے ۔ ان جھیلوں کا نہایت دل آویز گہرے نیلے رنگ کا پانی اور اس کے عقب میں کیلاش کا پہاڑی سلسلہ ہے ۔ جس کے عین وسط کیلاش کی متبرک چوٹی واقع ہے ۔ جو ہندوؤں اور بدھوں دونوں کے بہشت کے پر ازشان عظمت پہاڑوں کے اس سلسلہ سے 22000 فٹ بلند چوٹی اس سلسلے پر حکمران ہے ۔ یہاں رنگ برنگ کی چٹانوں ، جھیلوں کے نیلگوں پانی اور میلوں تک پھیلا ہوا وسیع سبز میدان جو جانوروں کی چراگاہ ہے ۔ یہ نظارہ اتنا دلفریب کہ اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ یہاں اگرچہ جنگل کے درختوں کی ہلتی پتیاں نظر نہیں آتی ہیں ۔ تاہم یہاں کے گونا گوں رنگ آب و تاب کے لحاظ سے اس قدر خوبصورت ہیں کہ یوں معلوم دیتا ہے کہ پہاڑوں نے سبز و نفیس ریشم سے خود کو چھپا رکھا ہے ۔ یہاں کئی جھیلیں ہیں ان میں اہل تبت مان سروور کو رمپوک یعنی مقدس جھیل کہتے ہیں اور کیلاش کو دیوتاؤں کا بہشت سمجھتے ہیں ۔ جہاں برہم شکتی مان کا استھان ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں