ملک 110

ملک

ملک عربی کلمہ ہے جس کے معنی بادشاہ کے ہیں اور قران الکریم میں اسی معنی میں آیا ہے ۔  نعمت اﷲ لکھتا ہے کہ ملک کا خطاب حضور ﷺ نے دیا تھا اور فرمایا تم لوگ طالوت کی اولاد ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے ملک کے خطاب سے عزت بخشی ہے ، اس لئے بہتر ہے کہ لوگ تمہیں ملک کہا کریں ۔

یہ تمام راویات موضع ہیں اور قران شریف میں طالوت کے لئے ملک کا خطاب نہیں آیا ہے اور نہ ہی تمام پٹھان ملک کے سابقہ یا لائقہ سے پکارے جاتے ہیں ۔ (دیکھے یہود النسل کادعویٰ) بلکہ ملک کا خطاب سرکاری طور پر تسلیم شدہ افراد کے علاوہ بڑے زمنداروں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔

تیسری صدی ہجری میں جب عباسیوں نے زیر تسلت ریاستیں تشکیل دیں تھی ۔ جو رفتہ رفتہ عباسیوں کی کمزوری کے باعث خود مختیار ہوگئیں اور برائے نام خلیفہ کی سیادت تسلیم کرتی تھیں ۔ عرب مورخین نے ان کے لئے ملک کا القاب استعمال کیا ہے ۔ بعد میں یہ القاب سلطان سے بدل گیا اور ان کے امرا کو ملک کا خطاب دیا جانے لگا ۔ یہی دستور وسط ایشیا برصغیر اور عرب کے ترک حکمرانوں نے جاری رکھا ۔ بعد کے زمانے میں یہ کلمہ شمالی برصغیر میں مورثی ہوگیا اور زمینداروں جو کہ ان امرا کے اخلاف تھے بدستور استعمال کرتے رہے ۔ آج بھی یہ ملک کے سابقہ استعمال افغانستان کے علاوہ سرحد اور پنجاب کے مورثی زمیندار کرتے ہیں ۔ حتیٰ تقسیم سے پہلے اس علاقہ کے مورثی ہندو زمیندار بھی یہ کلمہ استعمال کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ ہندو جاٹوں کی ذات ملک ہے ۔ اس طرح یہ کلمہ راجپوتانہ کے ٹھاکر کا متبادل ہے ۔ کیوں کہ راجپوتوں میں صرف زمیندار ہی ٹھاکر کے سابقہ سے پکارے جاتے تھے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں