87

مندو

پٹھانوں کا قبیلہ مندو بن غرغشت بن قیس عبدالرشید نعمت اللہ ہروی نے اس کاشجرہ نسب دیا ہے ۔

اس کلمہ کا پہلا جزو من ہے یہ ایک سیتھی قبیلہ تھا اور ان قبائل میں شامل تھا جن کو داریوش نے ان کی شورش پسندی کی وجہ سے اپنی سلطنت کے مشرقی حصہ میں جلاالوطن کردیا تھا ۔ اس کا نام کتبہ بہستون کی فہرست میں درج ہے ۔ یہ کلمہ من افغانوں کے علاوہ برصغیر کے بہت قبائل اور علاقوں کے ناموں میں مختلف شکلوں میں ملتا ہے ۔

افغانوں میں یہ کلمہ مختلف قبائل کے ناموں کا جزو ہے جو مختلف شکلوں میں ملتا ہے ، مثلاً منگل ، میانی ، مندان ، مہمند وغیرہ اس کی شکلیں ہیں ۔ راجپوتانہ میں مندو نام عام ہے اور اس نام کے بہت سے ہندو راجے گزرے ہیں ۔ ملانی (یا مالی یا ملی یا ملہی) چوہان کی ایک شاخ ہے ۔ انہوں نے ملتان میں سکندرکا مقابلہ کیا تھا اور سکندر شدید زخمی کردیا تھا ۔ ملی اور ملہی جو کہ پنجاب میں آباد ہیں اور اس نام کے افغانوں میں بھی قبائیل پائے جاتے ہیں ۔

 غور کے علاقے میں ایک شہر مندیش تھا ۔ بقول مینورسکی دامن کوہ میں آل سنسب کا اصل مسکن تھا ۔ اسی طرح جبال غور میں ایک پہاڑ اسی نام کا تھا ۔ بقول مینورسکی یہ سوریوں کا قدیم زمانے سے مسکن ہے اور اب بھی اس علاقہ میں سوری آباد ہیں ۔ بلوچستان میں مند نام کا شہر واقع ہے ۔ راجپوتانہ میں مندور نام کا شہر ہے جس کو مندوری بھی کہتے ہیں ۔ یہ عہد قدیم میں پڑھیاروں کا دارلریاست تھا ۔ جس پر بعد میں چوہانوں نے قبضہ کرلیا تھا ۔ منڈلان اور مان پور نام کے شہر بھی راجپوتانہ میں ہیں ۔ مندو برصغیر اور افغانستان میں عام ہے اور یہ آریائی نسل سھیتی قبیلہ تھا اور بالاالذکر مندو بھی اس کی باقیات ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “مندو

اپنا تبصرہ بھیجیں