66

منو

 
 سنسکرت میں انسان کے لیے فعل مصدر سے ماخوذ بمعنی سوچ، غور و فکر 
انسانی مخلوق کو پیدا کرنے والا اور حکمران۔ چودہ منو ہین اور ہر کا زمانہ سو نتر ہے۔ ہر ایک منو کی عمر 4,320,000 برس ہوتی ہے۔ پہلے منو کا نام سو ایم بھو تھا۔ روایت کے مطابق برہماجی نے اپنے جسم سے ایک عورت اور مرد پیدا کی۔ اس جوڑے سے ایک مرد درااج پیدا ہوا اور پھر اس کے ایک منو سوائم بھو پیدا ہوا۔ دوسری رویات ہے پرہماجی نے اپنی بیوی سے ایک مرد اور اپنے جسم سے ایک عورت پیدا کی۔ اس کے ساتھ منو سوائم بھو کا بیا ہوں۔ وہ اور اس کی بیوی روپا دونوں انسانوں کے جد امجد ہیں۔ ان کو مہارشی بھی کہا جاتا ہے۔ 
اس منو نے منو سمرتی یعنی دھرم کے اصول درج ہیں۔ دوسری تصنیف اس کی منو منگتا ہے۔ منو سمرتی کو قدیم سمرتی مانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے جب منو نے منوسمرتی تصنیف کی تو اس میں ایک لاکھ اشلوک تھے۔ اب اس میں صرف چار ہزار اشلوک رہے گئے ہیں۔ مگر جو منوسمرتی لوگوں کے پاس ہے اس میں صرف دو ہزار چھ سو چوراسی اشلوک ہیں۔ اس کے علاوہ یجر وید کا سوتر ایک گرنتھ کلپ سوتروں کا اور گریہہ سوتر بھی اس تصانیف بتائے جاتے ہیں۔    
ہند اساطیر میں سومبھو کا بیٹا ایلا کا باپ اور خاوند  ایلا منو کو نوع انسانی اور دوسرے منوں اور پرجاتیوں کے والدین تسلیم کئے جاتے ہیں۔ یہ دوسرے منو ظہور کے آغاز میں سامنے آتے ہیں۔ ان کا وجود کل اشیاء کی وحدت پر مشتمل ہوتا ہے اور پھر ان میں سے ہی باقی ہر چیز نکلتی ہے۔ سشت سے مماثلت رکھتے ہیں جو چھوٹے پیمانے پر لیکن عین اسی انداز میں پرجاپتی کا کام کررتے ہیں جو چھوٹے پیمانے پر عین اسی انداز پرجاپتی کا کرتے ہیں۔ منو نوع انسانی کا مجموع ہے۔ منو تمام انسانوں کا امتزاج ہوتے ہوئے بھی ایک اکائی شعور کا حامل ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے انسان مختلف خلیوں کا مجموعہ ہے، جن میں ہر ایک اپنی جگہ زندہ وجود ہے۔ لیکن شعور کی سطح پر انسان بطور اکائی موجود ہے۔ لیکن یہ شعور۔ ہزاروں لاکھوں شعوروں کے امزاج کا عکاس ہے۔ 
لیکن منو کوئی انفرادی وجود نہیں بلکہ انہیں کل انسانوں کی وحدت کہا جاسکتا ہے، نوع انسان جن دس پرجاپتیوں کی اولاد ہے وہ منوؤں سے ہی نکلی ہے۔ یہ پرجاپتی مہا پرش بھی کہلاتے ہیں۔ برہما کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے خود منو کے روپ میں جنم لیا اور اپنی اصل ہیت سے وابستہ تھا۔ جب کہ اس کا مادہ روپ سو اجسام پر مشتمل تھا۔ 
کسی بھی منونتر میں چودہ منو جوڑوں کی شکل میں آتے ہیں۔ ایک منو دور کے آغاز میں ایک اور کے آغاز میں ایک اور انجام پر ظہور پزیر ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظوں میں ایک منو دور کے بیج اور دوسرا جڑ کے طور پر کام کرتا ہے۔ ان جوڑوں کے کے نام پر یوں ہیں۔
سومبھو اور سور چشا۔ 
آتامی اور تماس 
رائے دت اور چکشش
ویوت اور ساورن۔ دیوت انسانوں کا جد امجد ہے۔ 
ڈکش ساورن اور برہم ساورن 
درم ساورن اور رور ساون 
راؤچ اور بھوتیا 
کرہ ارض پر کی حالیہ ساری آبادی کا جدا امجد دیوست ہے۔ آج کی انسانیت کی چوتھی لہر ہے اور دیوت من اس کی جڑ ہے۔ اس منو کو چوتھی لہر یا انسانی کی نہ صرف سربراہی کرنا ہے بلکہ اسے ختم بھی کرنا ہے۔ دسرے الفاظوں میں وہ اس چوتھی نسل پر آگ اور پانی کی کارفرمائی اور عمل انگیزی کا اہتمام کرتا ہے۔ جب نصف کرہ ارض پر کی ساری آبادی ایک بڑے سیلاب میں ڈوپ چلی تھی تو اس منو نے ان میں سے کچھ بچا کر نوع انسانی کی بقاء کا کام کیا تھا۔ اس وقت دوسرا کرہ ارض کا دوسرا نیم کرہ پستی حالت تنوع اور غنودگی سے جانے کی کیفیت میں مبتلا تھا۔ 
ایک اور حوالے سے منو تیسرا اصول اول اور دوسرے حوالے سے ہمارے اندر کار فرما لافانی روحانی ایگو ہے۔ یہ ایگو کائنات میں جاری و ساری معبود مطلق سے پھوٹی ہے 
جڑ اور بیج منو سشتا بھی ہیں، کیوں کہ کرہ ارض پر حیات کے ایک دور کے خاتمہ پر بیج منو اس کرہ ارض پر حیات کے دوبارہ پیدا کر کے ارتقاء پزیر ہونے کی ذمہ دار جڑ منو کے ممتاثل ہے۔
ماہرین میں سنسکرت نام منو کے معنی اور وقت کے ساتھ آنے والے تغیرات پر اختلاف رائے موجود ہے۔ بول میں مستمل لفظ من سے مشتق ہے۔ جو غور و فکر کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نوع انسانی اور بشر کے ہم معنی الفاظ بھی اس کا مصدر سمجھے جاتے ہیں۔ منس اور اس فہرست سے باہر نہیں ہیں۔ 
1200 ق م کی رگ وید میں باپ منو (منس) جیسی اصلاحات سے پتا چلتا ہے کہ اس میں پہلے بھی انسانی نسل کا منو سے چلنا تسلیم کیا جاتا تھا۔ ستھ برہمن کی ایک معرف کہانی میں واضح بیان کیا گیا ہے کہ انسانی نسل منو سے چلی۔ منو نے ایک مچھلی کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ایک بہت بڑی کشتی بنائی اور انسانوں میں صرف اس کے کوئی زندہ نہیں رہا۔ پانیوں میں اترنے پر اس نے عبادت اور نفس کشی کو اپنا شعار بنالیا۔ اس کے نتیجہ میں ایک عورت ایلا پیدا ہوئی۔ ساری نوع انسانی ان دونوں کی اولاد ہے۔ 
منو پہلا انسان ہی نہیں بلکہ پہلا بادشاہ بھی تھا۔ تمام شاہی خاندان کسی نہ کسی طور منو سے جاملتے ہیں۔ اس کا اولین بیٹا اکسوکو Aiksvaku جو ایودھیا کا بادشاہ تھا۔ اکسوکو کے بڑے بیٹے وککسی نے اکسوکو سلطنت کی بنیاد رکھی۔

اس کی نسل سورج بنسی کہپلاتی ہے۔ اکسوکو کے دوسرے بیٹے نمی نے ودھیا Videha سلطنت قائم کی۔ نابھاند ست نے ویشالی کا سلسلہ حکومت قائم کیا۔ جب کہ منو کے تیسرے بیٹے سریارتی نے آننت، چوتھے بیٹے نابہاگا نے راتھر سلسلہ باشاہت قائم کیا۔ منو کی بیٹی اڈا کا بھی پردوان نامی ایک بیٹا تھا۔ اس نے پراتھستان میں ایلا سلسلہ نامی باشاہت قائم کی۔ اردشی نامی اپسرا کے ساتھ پردوان کی محبت سنسکرت ادب میں محبت کی مقبول ترین داستانوں میں سے ایک ہے۔
ست پنتھ برہمن سے پتہ چلتا ہے کہ قربانی کی پہلی آگ بھی منو نے روشن کی تھی۔ آپستمب دھرم سوتر کے مطابق منو نے ہی عبادت کا آغاز سوختہ قربانی سے کیا۔ اس کی نسل ہون کی رسم اپنے جد کے اتباع میں ادا کرتی ہے۔ مرنے والے کے متعلق رسوم میں سے اہل شرادھ کو بھی منو سے منسوب کیا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں منو نے سماجی اور اخلاقی قوائد و ضوابط کا آغاز بھی کیا تھا۔ مختلف کتب میں دھرم کے متعلق بیانات کو بھی منو سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو وہ رشی بھی ہے جس نے مصدقہ ترین سھرم شاستر متکشف کیئے۔
تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں