60

موبدان

موبدوں کا رسوخ اور اثر محض اس وجہ سے نہ تھا کہ ان کو روحانی اقتدار حاصل تھا یا یہ کہ حکومت نے ان کو فصل خصومات کا کام دے رکھا تھا ۔ یا وہ پیدائش اور شادی اور تطہیر اور قربانی وغیرہ رسموں کو ادا کرتے تھے ۔ بلکہ ان کی زمینوں اور جاگیروں اور اس کثیر آمدنی کی وجہ سے جو انہیں مذہبی کفارووں اور اور نذر و نیاز کی رقموں سے ہوتی تھی اور پھر اس کے علاوہ انہیں کامل سیاسی آزادی حاصل تھی ۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے حکومت کے اندر اپنی حکومت بنائی ہوئی تھی ۔ شاہ پور دوم کے زمانے تک میڈیا اور بالخصوص آذربائیجان مغوں کا ملک سمجھا جاتا تھا ۔ وہاں ان لوگوں کی ذرخیز زمینیں اور پرفضا مکانات تھے ۔ جن کے گرد حفاظت کے لیے کوئی دیوار نہیں بنی ہوتی تھی ۔ بلکہ ان کا تقدس ان کا محافظ تھا ۔ اپنی ان زمینوں پر یہ لوگ اپنے خاص قوانین کے ماتحت زندگی بس کرتے تھے ۔ غرض یہ کہ روسائے مغان کے قبضہ میں بڑی جاگیریں تھیں ۔

موبدان زرتشی کی دینی حکومت میں مراتب کا ایک سلسلہ تھا ۔ جو نہایت منظم اور مرتب تھا ۔ لیکن اس کے بارے میں درست اطلاعت نہیں ہے ۔ طائفہ مجوس جن کو مغان یا مگوآن یا مگوگان لکھا جاتا ہے پیشوان مذہب میں کمتر درجے کے تھے لیکن کثیر تعداد میں تھے ۔ ان سے بڑا طبقہ موبدوں (مگوپت) کا تھا ۔ تمام سلطنت ایران میں ان کی تنظیم علاقوں پر مشتل تھی اور ہر علاقہ ایک موبد کے ماتحت تھا ۔ ایسے بہت سے نگینے اب بھی ملتے ہیں جن پر موبدوں کے نام اور تصویریں کھدی ہوئی ہیں ۔ مثلاً ایک نگینے پر خسرو شاہ ہرمز کے موبد پابگ کا نام لکھا ہوا ہے ۔ ایک پر ویذ شاپور موبد اردشیر خورہ کا ۔ اس طرح فرخ شاپور موبدان ایران خورہ شاپور ، بافرگ موبد میشان وغیرہ ۔

تمام موبدوں کا رئیس اعلیٰ جس کو زرتشتی دنیا کا پوپ کہنا چاہیے موبدان موبد تھا ۔ تاریخ میں پہلی دفعہ اس دینی عہدے کا ذکر وہاں آیا ہے جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ اردشیر اول نے ایک شخص جس کا نام شاید ماہ داؤ تھا موبدان موبد مقرر کیا ۔ ممکن ہے کہ یہ عہدہ اس سے پہلے موجود رہا ہوگا ۔ لیکن اس کی غیر معمولی اہمیت اسی وقت ہوئی جب مزدایت کو حکومت کا مذہب قرار دیا گیا ۔                    

ماہ داؤ کے علاوہ جو لوگ موبدان موبد کے عہدے پر سرفراز ہوئے ان میں ایک تو بہگ کا نام معلوم ہے ۔ دوسرے اس کا جانشین آذر بذ مہر سپندان تھا ۔ یہ دونوں شاہ پور دوم کے عہدے پر تھے ۔ اس کے علاوہ بہرام پنجم کے زمانے میں مہر دراز ، مہر اگادیذ اور مہر شاپور تھے اور خسرو اول (انوشیروان) کے عہد میں آزاد سذ موبدان موبد تھا ۔

تمام دینی امور کو نظم و نسق موبدان موبد کے ہاتھ میں تھا ۔ دینیات اور عقائد کے نظری مسائل ، فتوے صادر کرنا مذہبی سیاسیاست میں عملی معاملات کو طہ کرنا اس کا کام تھا ۔ کلیسائی عہدے داروں کو یقناً وہی مقرر کرتا تھا اور وہی معزول کرتا تھا ۔ دوسری طرف خود اس کا تقرر (جیسا کہ علامات سے ظاہر ہے ) بادشاہ کے اختیار میں تھا ۔ جب ملک کے کسی حصہ میں مروجہ مذہب کے خلاف مخالفت کا ہنگامہ برپا ہوتا تھا تو وہ تحقیقاتی کمیشن کے مقرر کرنے پر حکومت کے ساتھ تعاون کرتا تھا ۔ تمام مذہبی امور میں وہ بادشاہ کا مشیر ہوتا تھا اور روحانی مرشد اور اخلاقی رہنما ہونے کی حثیت سے سلطنت کے تمام معاملات میں وہ غیر معمولی طور پر اثر ڈال سکتا تھا ۔

موبد اور موبدان جو اہم فرائض انجام دیتے تھے ان میں موبدان موبد شاہ متوفی کا وصیت نامہ مرتب کرتا تھا اور اس کے بیٹے کو پڑھ کر سناتا تھا ۔ تاریخ کے خاص خاص زمانوں میں بادشاہ کے انتخاب میں موبدان موبد کو جو دخل تھا ۔ وہ طبری کے مطابق موبدان موبد بادشاہ کے گناہوں کے اعتراف کی سماعت بھی کرتا تھا ۔

آتش کدوں میں مراسم نماز کا ادا کرانا جس کے لیے خاص علم اور عملی تجربے کی ضرورت تھی ۔ ہیر بد وہی لفظ ہے جس کے لیے اوستا میں ایتر پایتی ہے ۔ خوازمی نے ہیر بد کی تعریف خادم النار کی ہے ۔ طبری نے لکھا ہے کہ خسرو پرویز دوم نے آتش کدے تعمیر کرائے جس میں اس نے بارہ ہزار ہیر بد زمزمہ و مناجات کے لیے مقرر کیے ۔ ہیر بد کے عہدے کی جو حرمت و توقیر ہوتی تھی وہ اس سے ظاہر ہے کہ ساتویں صدی عیسویں میں جب عربوں نے فارس کو فتح کیا تو اس وقت اس صوبے کا حاکم ایک ہیر بد تھا ۔ گویا دین و دنیا کی حکومت کا جامع تھا ۔

ساسانی عہد میں موبدان موبد کی رائے بادشاہ کے انتخاب میں بہت اہم ہوتی تھی ۔ اس کو تاج پہنانے کا فرض بھی اس کے لیے منسوب تھا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ساسانی عہد میں علمائے زرتشی اور موبدان موبد کا کیا رتبہ تھا ۔ یعقوبی نے جو فہرست امرا کی دی اس میں دُزُرگ فرماوار کے بعد موبدان موبد ، پھر ہیربدان ہیربذ ، وہیربذ ، پھر سپاہ بذ جس کے ماتحت پاذ گوسپان تھے ۔    

علمائئے زرتشت سخت متعصب تھے ۔ دین زرتشتی تبلیغی مذہب نہیں تھا اور اس کے پیشوا بنی نوع انسانی کی روحانی نجات کے لیے سرگرم نہیں تھے ۔ وہ حدود سلطنت میں کامل تسلط کا دعویٰ رکھتے تھے ۔ غیر مذہب کے لوگوں سے متلق ان کی وفادار مشکوک تھی ۔ مانویوں خطرے کا انہوں نے کامیاب دفیعہ کیا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں