موجودہ دور میں ذکری 160

موجودہ دور میں ذکری

موجودہ دور میں ذکری

میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ کوئی مذہب جب نقل مکانی کرکے کسی دوسرے علاقہ میں جاتا ہے تو وہ مقامی ضرروتوں کے مطابق اس میں عقائد اور رسومات میں تبدیلیاں آجاتی ہیں اور وہ جزو ایمان بن جاتا ہے ۔ برصغیر اور ایران میں مسلمانوں پر قدیم مذہب کے اثرات نمایاں ہیں ۔ جو اکثر وضعی حدیثوں دینے کے علاوہ قران کی بہت سی آیات کو دلیل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ مثلاً وحدت الوجود جو صوفیا نے اختیار کیا اس کو پیش کرتے ہوئے قران کریم کی بہت سے آیات کو دلیل کے طور پر استعمال کیا ۔ اگرچہ اسلام میں صدیوں تک ان عقائد کا پتہ نہیں چلتا ۔ تاہم صوفیا نے چودہ اہم سلسلوں کو آنحصرت تک اپنے باطنی عقائد کی بنیاد رکھی اور اس میں اہل بیت بھی ایک اہم ستون ہے ۔ جسے مجھے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے اور میں اس پر بہت کچھ لکھ چکا ہوں ۔

ان عقائد میں امام مہدی کی آمد ، تاویل ، باطنیت ، وحدت الوجود وغیرہ ایسے عقائد ہیں جن کو مسلمانوں کے مختلف فرقوں نے کسی نہ کسی طرح استعمال کیا ۔ اس میں شیعی فرقوں کے علاوہ سنی فرقے شامل ہیں ۔ ورنہ شیعی اور مقامی عقائد کسی نہ صورت میں برصغیر کے سنیوں پر پڑھے ہیں ۔ بہت سے عقائد قران کی تفسیر و تاویل مختلف فرقوں نے مختلف کیں ہیں ۔ خاص کر شیعی فرقوں نے تاویل کا طریقہ اپنایا ہے اور قران کے ظاہری معنوں سے ہٹ کر مختلف آیتوں کی تاویل کی ۔ جس کو بعد میں صوفیا نے اپنایا ۔ مثلاً وحدت الوجود اور تصوف کا اسلام کے ابتدائی دور میں دور تک ذکر نہیں تھا ۔ مگر مختلف صوفیا خاص کر ابن عربی نے ان کو قران کی مختلف آیتوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ بعد میں قران کی اس طرح تاویل کے طریقہ کو سنیوں نے بھی اپنالیا ۔

مہدوی گو مہدی جون پوری کی پیروی کرتے ہیں ۔ مگر ان کی عبادات کچھ سنیوں سے مختلف ہیں ۔ مگر بیشتر کو قران سے لیا گیا ہے اور ان کے درود کچھ اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ ان میں مہدی جون پوری کا نام شامل ہے اور ان کا کلمہ کچھ مختلف ہے اور اس میں مہدی کا نام شامل ہے ۔ مگر یہ بھی عام زندگی میں فقہ حنفی پر عمل کرتے ہیں ۔

ذکری اور ایک گروہ یعنی قادیانی ایسے گروہ ہیں جو ہمارے معاشرے میں ناپسندیدہ ہیں اور انہیں عام طور پر کافر خیال کیا جاتا ہے ۔ مگر حقیقت میں مہدوی ذکری اور قادیانی عام معملات میں سنیوں سے زیادہ قریب ہیں ۔ خاص کر قادیانیوں جن پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کا کلمہ الگ ہے اور انہوں نے قران میں تخریب کی ہے ۔ جب حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ انہوں نے نہ قران نہ اور کلمہ میں تخریب کی ہے اور درود بھی وہی پڑھتے ہیں ۔ وہ ہر معاملہ میں حنفی فقہ پر عمل کرتے ہیں اور انہوں نے کسی چیز میں تخریب نہیں کی ہے ۔ یعنی ان میں رتی پھر تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔ حتیٰ غلام احمد قادیانی نے جو الہام کا دعویٰ کیا تھا اس کو بھی صوفیا کی طرح اپنے پیروں کو اس کی پیروی کرنے کی تعلیم نہیں دی ۔ البتہ وہ غلام احمد قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا ۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیوں کیا یہ بھی دلچسپ داستان ہے کبھی لکھوں گا ۔ جب کہ اس کے مقابلہ میں مہدی کو ماننے والوں نے اپنے کلمہ اور درود میں مہدی کا نام شامل کیا ہے ۔ قادیانیوں پر جو الزام لگایا کہ انہوں نے قران میں تخریب کی نہایت غلط ہے ۔ البتہ وہ جو استدلال کرتے ہیں اس کی بنیاد قران کی تفسیر و تاویل ہے نہ کہ قران میں تخریب کی ہے ۔ اس کے علاوہ حدیثیں جو زیادہ تر صحا ستہ کی ہیں دلیل دیتے ۔ دیکھا جائے جائے قادیانی عام زندگی میں دوسرے مسلمانوں سے کردار میں بہت بہتر ہیں ۔ مگر قادیانی عام مسلمانوں سے الگ رہتے ہیں اور غلام احمد کو نبی مانتے ہیں ۔

مہدی جونپوری جب سندھ آئے تو سندھ کا حکمران شاہ حسین مہدی جونپوری کا عقید مند تھا ۔ مگر یہاں کے علماء نے مہدی جونپوری کی مخالفت کی تھی اور انہیں سندھ سے چلے جانے پر مجبور کیا تھا ۔ عجیب بات ہے سندھ کے علماء نے مہدی جونپوری سے عقائد میں اختلاف نقشبندی سلسلے میں بیت اور اجازت لی تھی ۔ ان میں کلہوڑا ، لواری شریف ، پیر بھر چونڈی ، پیر جھنڈو اور پیر پگارا شامل ہیں ۔ بلکہ ذکری روایتوں میں لکی کے پیر صدر الدین کی مہدی سے بیت کا ذکر ہے ۔ یہ وہی پیر صدر الدین ہیں جن کے بارے میں تحفہ الکرام لکھا کہ ان کا کہنا ہے سندھ میں محنت میں نے کی اور سمٹ کر شہباز قلندر لے گیا ۔ 

ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں نقشبندی سلسلے میں عبادات اور ریاضات کا طریقہ ذکر جلی ہے اور ایک دائرے میں بیٹھ کر اللہ ہو یا دوسرے کلمات کی مل کر ضرب لگاتے ہیں اور اسی طریقہ پر ذکری اور مہدوی عمل کرتے ہیں ۔ اس طرح ذکریوں کی عبادت کی جگہ ذکرانہ اور مہدویوں کا دائرہ کہلاتا ہے ۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے مہدیوں میں نماز کے بعد ایک دائرے میں ذکر کیا جاتا ہے ۔ یعنی نقشبندیوں میں اس طرح ریاضت کی جاتی ہے اور ذکری بھی نماز کے بجائے ذکر کرتے ہیں اور اس لیے وہ ذکرانہ بناتے ہیں ۔

ذکریوں کا دعویٰ ہے مہدی جونپوری مکران آئے تھے اور انہوں نے ہمیں ذکر کی تعلیم دی تھی اور کوہ مراد پر ان کا قیام دس سال تک رہا ۔ اس لیے وہ جگہ ہمارے لیے مقدس ہوگئی ہے ۔ گو تاریخی طور پر یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ مہدی جونپوری یہاں آئے تھے اور تاریخی طور پر اس مذہب کو بلیدیوں اور گجگیوں نے یہاں ذکریت کو پھیلایا تھا ۔ بلیدی وادی ہلمند سے آئے تھے اور ایک ذکری روایت میں بوسعید نے میاں عبداللہ نیازی کے ہاتھوں بیت کی تھی ۔ لیکن مہدوی نماز پڑھتے ہیں مگر ذکری صرف ذکر کرتے ہیں اور نماز کے بجائے ذکر کا رواج ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس علاقہ میں باطنیوں اور قرامطہ کے خیالات پھیلے ہوئے تھے ۔ جس نے بعد میں ذکر مذہب کی شکل اختیار کرلی ۔ 

جہاں تک کوہ مراد پر ان کا حج کا الزام ہے اور ذکری اسے حج نہیں کہتے بلکہ کئی ذکریوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے مکہ جاکر حج کیا ہے ۔ جب کہ ان کا کہنا ہے کہ ہم اس جگہ کو مقدس مانتے ہیں اس لیے وہاں جاکر ذکر کرتے ہیں اور یہ اجتماع ستائیس رمضان کو ہوتا ہے ۔ میرے علم کے مطابق دو سندھ میں دو مزارت ایسے ہیں جہاں نو ذوالحج کو عرس ہوتا تھا اور پہلے ان عرسوں میں شریک ہونے والے جہلا اپنے کو حاجی سمجھتے تھے ۔ ان میں سے ایک لواری شریف اور دوسری حیدرآباد میں مکی شاہ کی درگا ہے ۔ ان میں مکی شاہ پر تو اتنا شور نہیں اٹھا مگر لواری شریف پر کافی ہنگامہ ہوا اور مطالبہ کیا گیا کہ لواری شریف میں نو ذوالحج کے اجتماع پر پابندی لگائی جائے اور لگ بھی گئی تھی ۔ مگر لواری شریف کے عقیدت مندوں نے احتجاج کیا کہ لواری میں حج نہیں ہوتا ہے بلکہ نقشبدیوں کا ذکر ہوتا ہے ۔ کافی کچھ تحقیق کرکے اس اجتماع کی اجازت دی گئی اور مزار کی کمیٹی نے بھی اخبارات اور مختلف پوسٹروں میں کے ذریعے یہ اعلان کیا گیا یہاں حج نہیں ہوتا ہے بلکہ صرف عرس میں ذکر ہوتا ہے ۔ اس طرح اس لوگوں کے پتہ چلا کہ یہاں حج نہیں ہوتا ہے ۔ اس لیے مجھے بھی یہ الزام مجھے غلط لگتا ہے ۔ ویسے یہ اجتماع رمضان کی ستائیسویں شب کو ہوتا ہے ۔  

یقناً اس اجتماع میں ذکر کی وجہ سے جس میں ذکریوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی تھی حج خیال کیا گیا ۔ ورنہ حقیقت میں یہاں ذکر ہی ہوتا ہے جو کہ نقشبندی طریقہ ہے اور ذکر اور چوگان کرتے ہیں ۔ گو ان کا کہنا ہے کہ ہم نماز ادا کرتے ہیں ۔ حقیقت میں ان کے ذکرانہ ملتے ہیں مگر مسجدیں نہیں ملتی ہیں ۔ ایسا لگتا ہے موجودہ دور جب ان کے مہدیوں سے تعلقات بڑھے تو یہ نماز کے قائل ہوگئے ہیں ۔   ذکریوں کا کلمہ شیعوں کی طرح مہدی کے نام کا اضافہ ہے ۔ باقی دوسرے ذکر وغیرہ بھی قران سے لیے گئے ہیں اور ذکری بھی عام زندگی میں فقہ حنفی پر عمل کرتے ہیں ۔  

ذکریوں میں چوگان کا طریقہ رائج ہے اور اس میں ایک دائرے میں لوگ کھڑے ہوتے اور بیچ میں عورتیں یا آدمی کھڑے ہوکر اس میں حمد ، نعت اور مہدی کی تعریف میں مختلف اشعار اور قصائد گاتے ہیں اور جواب میں دائرے میں کھڑے ہوئے لوگ گل مہدیہ کہتے ہیں یا ان اشعار کے مصروں کو دہراتے ہیں ۔ جہاں ٓآبادی کم ہوتی ہے وہاں عورتیں اور مرد دونوں شریک ہوتے ہیں ۔ اگر شرکاہ کی تعداد زیادہ ہو تو عورتوں اور مردوں کے چوگان علحیدہ ہوتے ہیں ۔ غالبا اس اجتماع میں مردوں کے ساتھ عورتوں کی شراکت کی وجہ غلط قسم کی کہانیاں وجود میں آئیں ۔ ذکری اور مہدوی دونوں مہدی جونپوری کو مہدی مانتے ہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بھی ماتے ہیں ۔ موجودہ دور میں ذکری اور مہدی ایک دوسرے تعاون کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں اور ذکریوں کا کہنا ہے کہ ہمیں شیعوں نے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی مگر انہوں نے انکار کردیا ۔ کیوں کہ ذکریوں کے مہدی آچکے ہیں مگر شیعوں کے مہدی ابھی نہیں ٓآئے ہیں ۔ اس کے علاوہ ذکری خلافہ راشدین اور صحابہ کی حرمت کے قائل ہیں اور یہی عقیدہ مہدیوں کا ہے ۔ اگرچہ یہ دونوں فرقے مہدی کے قریبی ساتھیوں کو صحابی کی درجہ دیتے ہیں ۔

یہاں میں نے تین مختلف فرقوں کا ذکر کیا ہے جو کہ ہمارے درمیان ہی رہتے ہیں مگر ہم ان کے بارے میں کم ہی جانتے ہیں اور تینوں ہی فقہ حنفی پر عمل کرتے ہیں ۔ ان میں ذکری اور مہدوی دوسرے مسلمانوں سے رشتے ناطہ بھی کرتے ہیں اور دوسرے اجتماع میں شریک ہوتے ہیں ۔ اس لیے ہم ان کو اقلیت یا غیر مسلم نہیں کہہ سکتے ہیں ۔ البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ گمراہ ہیں مگر مسلمان ہیں اور ان کا بھی پاکستان پر انتا ہی حق ہے جتنا دوسرے مسلمانوں کا ۔ ماضی میں ذکریوں کے خلاف بہت کاروائیاں کی گئیں اور اب بھی ان کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا جاتا ہے اور اکثر ان کے عبادت خانے تباہ اور ان کو قتل کیا جاتا رہا ہے ۔ یہ سلسلہ اب رک جانا چاہیے اور انہیں کتنا ہی غلط کہیں مگر حقیقت میں مسلمان ہیں ۔ کیوں کہ یہ قران کو مانتے ہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں ۔ خلافت راشدہ اور صحابہ کی حرمت کے قائل ہیں ۔ یہ فقہ حنفی پر عمل کرتے ہیں ۔ ان میں اور دوسرے لوگوں میں فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ ان کے عقیدہ کے مطابق مہدی آچکے ہیں اور مہدی کا عقیدہ دوسرے مسلمان بھی رکھتے ہیں ۔ ان کا ذکر نقشبندی سلسلہ کی عبادت کا ۔ لہذا انہیں بھی امن اور سکون سے زندگی بسر کرنے دیا جائے ۔

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں