72

موجودہ دور میں ستی

ستی کو اکثر رضاکارانہ طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔ جب کہ کچھ معاملات میں اسے مجبور بھی کیا گیا تھا ۔ 1785 کے ایک بیانیہ کے مطابق بیوہ کو بھنگ یا افیون نشے کے لیے دی گئی تھی اور اسے باندھ بھی دیا جاتا تھا کہ مزاحمت نہ کرسکے ۔

اس وقت کے برطانوی مقامی پریس نے ستی زبردستی کرنے کی وجہ ذاتی فائدہ بھی شامل تھا ۔ مثال کے طور پر کلکتہ ریویو نے مندرجہ ذیل واقع شائع کیا ۔

1822 میں کلکتہ کے جنوب میں 16 میل جنوب میں بیرپور میں مقامی ایجنٹ نے ستی کی اطلاع دی ۔ اس نے دیکھا کہ ستی ہونے والی عورت کو دو مردوں نے بانس سے باندھ کر پکڑ رکھا تھا کہ وہ فرار نہ ہوسکے ۔ 

ایک عورت کو ستی کے لیے جلتے ہوئے گڑھے میں پھینک دی گئی اور اس نے اس گڑھے سے نکلنے کو کوشش کی تو ایک شخص نے اسے بانس سے دھکا دے کر اسے الاؤ میں دکھیل دیا ۔

سرکاری کاغذات میں ایسا ہی ایک اور کیس درج جسے برطانوی جریدوں نے شائع کیا تھا ۔ یہ نمبر 41 اور صفحہ 411 پر درج ہے ۔ 1821 میں ایک ستی کے واقع میں ایک خاتون نے جب فرار ہونے کی کوشش کی تو اس کے رشتہ داروں نے دو بار آگ میں پھینک دیا ۔

احتیاطی تدابیر ،

بعض اوقات احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی تھی کہ بیوہ جلنے کے بعد ان شعلوں سے بچ نہ سکے ۔ اننت ایس الٹیکر Anant S. Altekar کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے گڑھے میں سے نکلنا بہت زیادہ مشکل ہے اور انہوں نے ستی کے لیے خاص کر مغربی ہندوستان آگ ایک گڑھے میں سلگائی جاتی تھی ۔ گجرات اور اترپردیش میں بیوہ کو عام طور پر اپنے شوہر کی لاش کے ساتھ ایک جھونپڑی بناکر اس میں اس کی ٹانگیں بناندھی جاتی تھی ۔ بنگال میں بیوہ کے پیروں کو باندھ دیا جاتا تھا اور اس سے تین بار پوچھا جاتا تھا کیا وہ جل کر جنت میں جانا چاہتی ہے ۔

اننت سداشیو الٹیکر کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ واقعات میں بیوہ کو ستی کے لیے مجبور کیا گیا مگر مجموعی طور پر بشتر واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ ستی عورت کی طرف سے ایک رضاکارانہ فعل تھا ۔

جولیا لیسلی Julia Leslie نے اٹھاویں صدی عیسوی کے ایک ماخذ میں بیوی کے فرائض کے بارے میں تریامب کیجاجان Tryambakayajvan نے لکھا ہے ۔ روایت کے تحت ستی اخلاقی بہادری سے اور ہتک آمیز روئیہ کی وجہ سے بیوہ خواتین ستی کا انتخاب کرتی ہیں اور اس طرح تریامباکا (بُری) بننے سے بچ جاتی ہیں ۔

ایسی خواتین جو اپنے پست ذہنوں کی اور حقیر ہوتی ہیں ۔ خواہ وہ اپنی مرضی سے ستی کرتی ہیں  یا غیظ و غضب یا خوف کی وجہ سے وہ سب گناہ سے ہیں ۔

علامتی ستی

کچھ ہندو برادریوں میں علامتی ستی کے واقعات ہوئے ہیں ۔ ایک بیوہ اپنے مردہ شوہر کے ساتھ چٹا پر لیٹتی ہے اور شادی اور آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں اور پھر بیوہ کو اٹھا دیتے ہیں اور شوہر کی لاش کو نذر آتش کر دیا جاتا ہے ۔ اس سری لنکا میںجدید دور کی ایک مثال سے تصدیق ہوتی ہے ۔ اگرچہ علامتی ستی کی عصری ثبوت ملتے ہیں ۔ لیکن اسے کسی بھی طرح جدید ایجاد نہیں سمجھا جانا چاہئے ۔ اتھرا وید میں اس رسم کی وضاحت کی ملتی ہے ۔ جس میں بیوہ اپنے مردہ شوہر کے پاس لیٹ جاتی ہے اور پھر اترنے کے لئے کہا گیا ہے ۔

جیوت روایت

بیسویں صدی میں ہندوستان کی ایک نے جیوات (زندہ مطمئن) کی پوجا کی گئی ۔ ایک جیویت ایک ایسی عورت ہے جو کبھی ستی کرنا چاہتی تھی ۔ لیکن ستی کی خواہش کو قربان کرنے کے بعد زندہ رہتی ہے ۔ دو مشہور جیوت بالا ستی ماتا ، اور امکا ستی ماتا تھیں ۔ دونوں 1990 کی دہائی کے اوائل تک زندہ رہیں ۔

ابتدائی برطانوی پالیسی

ستی کے بارے میں برطانویوں کا پہلا باضابطہ ردعمل 1680 میں ہوا تھا ۔ جب مدراس کے گورنر نے مدراس صدارت میں ایک ہندو بیوہ کو ستی سے روکنے کی برطانوی افسران نے کوشش کی ۔ لیکن برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی پالیسی مذہبی امور میں عدم مداخلت کی تھی ۔ اس لیے ستی کے خلاف قانون سازی یا اس پر پابندی نہیں لگائی تھی ۔ سب سے پہلے رسمی پابندی کلکتہ شہر میں 1798 میں عائد کی گئی ۔ جب کہ ارد گرد کے علاقوں میں ستی کی رسمیں بدستور جاری رہی ہے ۔ انیسویں صدی کے آغاز میں برطانیہ میں چرچ اور ہندوستان میں اس کے ممبروں نے ستی کے خلاف مہم کا آغاز کیا ۔ اس تحریک کے رہنماؤں میں رہنماؤں میں ولیم کیری William Carey اور ولیم ولبر فورس  William Wilberforce شامل تھے ۔ یہ لوگ کمپنی پر قانونی ایکٹ کے ذریعے ستی پر پابندی عائد کرنے کا دباؤ ڈال رہے تھے ۔ ولیم کیری اور دوسرے مشنریوں نے سیرام پور میں 1803–04 میں کلکتہ کے 30 میل کے دائرے میں ستی کے واقعات کو شمار کیا تو وہاں 300 سے زیادہ واقعات ہوئے ۔ ان مشنریوں نے ان ہندو مذہبی رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا جن کا کہنا تھا کہ یہ فعل ہندو مذہبی کتابوں کے برعکس ہے ۔

سیرام پور ڈنمارک کی کالونی تھی اس لیے کیری نے اپنی تحریک کو برطانوی علاقہ کے بجائے دئیش انڈیا سے شروع کیا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے تسلط علاقہ میں عیسائی مشنری سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔ 1813 میں ہاؤس آف کامنس میں تقریر کرتے ہوئے ولیم ولبر فورس William Wilberforce کیری Carey نے سیرام پور مشنریوں کے ستی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا کہ اس کی آڑ میں برطانوی ہندوستان میں عیسائی مشنری تبلیغ کی قانونی اجازت پر مجبور کر دہے ہیں کہ ستی اور دوسری معاشرتی برائیوں کا مقابلہ کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ہندو مذہب کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے والوں کو تبدیل کیا جائے ۔

ایلجیہ ہول Elijah Hoole نے اپنی کتاب ’جنوبی ہند کے ذاتی مشاہدات’ Personal Narrative of a Mission to the South of India میں 1820 تا 1828 کے دوران بنگلور میں ستیوں کا ذکر کیا ہے ۔ مگر ان ستیوں کا وہ خود چشم دید گواہ نہیں تھا ۔ اسے ایک اور مشنری انگلینڈ  Englandنے 9 جون 1826کو بنگلور کے سول اور ملٹری اسٹیشن میں ستی کی گواہی دی ۔ تاہم مدراس حکومت کی 1800 ابتدائی دہائی میں ستی کے واقعات بہت کم پیش آئے ۔ بنگال کے برطانوی حکام نے 1815 سے ستی کے واقعات کے اعداد و شمار جمع کرنے شروع کردیئے تھے ۔

آزادی کے بعد بھارت میں 44 سال (1943–1987) کے دوران ستی یا اس کی کوشش کرنے کے 30 واقعات ہوئے ہیں ۔ جب کہ سرکاری سطح پر ان کی تعداد 28 بتائی گئی ہے ۔ 1987 میں ایک کیس 18 سالہ روپ کنور کا تھا ۔ اس واقعے کے نتیجے میں ستی کے خلاف مزید قانون سازی کی گئی ۔ پہلے راجستھان میں اور بعد میں بھارت کی مرکزی حکومت نے اس کا دائرہ ملک بھر میں پھیلا دیا ۔

روپ کنور کی ستی کے بعد کی گئی ستی کے بعد بھارتی حکومت نے راجستھان ستی روک تھام آرڈیننس 1987 1 اکتوبر 1987 کو نافذ کیا اور بعد میں ستی (روک تھام) ایکٹ 1987 میں کمیشن نے منظور کیا ۔ جس میں ستی (روک تھام) ایکٹ 1987 حصہ اول ، سیکشن 2 (سی) میں ستی کی وضاحت کی ہے ۔

زندہ جلانا یا دفن کرنا –

(i)کسی عورت کے ساتھ اس کے شوہر کی یا کسی دوسرے رشتہ دار کی لاش کے ساتھ یا شوہر یا اس طرح کے رشتہ دار سے وابستہ کے ساتھ یا چیز کے ساتھ ۔

(ii)کسی بھی عورت کے ساتھ کسی بھی رشتہ دار کی لاش کے ساتھ چاہے اس طرح کے جلانے یا دفن کرنے کا خواتین کی طرف سے رضاکارانہ طور پر کیا جائے یا کسی دوسری صورت میں ۔

ستی ایکٹ کی روک تھام ستی کی حمایت یا اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش کو غیر قانونی بنا دیتا ہے ۔ ستی کی حمایت بشمول کسی کو زبردستی کرنا یا کسی کو ستی کا ارتکاب کرنے پر مجبور کرنا سزائے موت یا عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے ۔ جب کہ ستی کی تائید کرنا ایک سے سات سال قید کی سزا ہوسکتی ہے ۔

مگر قانون کے بنانے سے اس کا نفاذ ہمیشہ موثر نہیں ہوتا ہے ۔ قومی کونسل برائے خواتین (این سی ڈبلیو) The National Council for Women (NCW) نے اس قانون کی کچھ خامیوں کو دور کرنے کے لئے ترامیم کی تجویز پیش کی ہے ۔ قدیم متبرک مقامات پر عبادت کے مخصوص طریقوں کی ممانعت تنازعہ کی بات ہے ۔

2002 میں ایک 65 سالہ کٹھو کے نام کی خاتون بھارت کے پینا ضلع میں اپنے شوہر کے ساتھ ستی ہوئی ۔ 18 مئی 2006 کو ودیاوتی نام کی ایک 35 سالہ خاتون نے اترپردیش کے فتح پور ضلع کے راری بوجرگ گاؤں میں اپنے شوہر کی چتا پر چھلانگ لگا کر خود کو ہلاک کرلیا ۔ 21 اگست 2006 میں ساگر ضلع میں ایک 40 سالہ خاتون جناکرانی اپنے شوہر پریم نارائن کی چتا کے سال جل کر ہلاک کرلیا ۔ جاناکرانی کو اس فعل کو انجام دینے کے لیے کسی نے مجبور یا حوصلہ افزائی نہیں کی تھی ۔ اکتوبر 2008 میں چھتیس گڑھ کے ضلع رائے پور کے کسڈول بلاک میں چیچھر میں ایک 75 سالہ خاتون للمتی ورما نے اپنے 80 سالہ شوہر چتا میں چھلانگ لگا کر اس وقت ستی کرلی جب دوسرے لوگ شمسان گھاٹ سے چلے گئے تھے ۔

محقیقین نے ان واقعات بحث کی ہے کہ آیا ان خواتین کی طرف سے ستی یا خود کشی کا تعلق معاشرے سے ہے یا ذہنی بیماری کی وجہ سے اور ایسی مثالیںدنیا بھر کی خواتین میں ملتی ہیں ۔ روپ کنور کے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد دنیش بھوگرا کا کہنا ہے کہ یہ امکان موجود رہتا ہے کہ شدید رنج و افسردگی کے نتیجے میں خود کشی کا واقع ہوسکتا ہے ۔ مزید ان کا کہنا ہے کہ یہ امکان نہیں ہے کہ کنور کو کی ستی کے اقدام کو ذہنی بیماری اور معاشرتی ماحول نے کوئی ادا کیا ۔ تاہم کلوکیColucci  اور لیسٹر Lester کا کہنا ہے میڈیا نے ستی کا ارتکاب کرنے والی خواتین میں سے کسی میں بھی ستی خودکشی سے قبل نفسیاتی مرض تشخیص نہیں کیا تھا اور ان کی خودکشی کے پیچھے ثقافت یا ذہنی بیماری بنیادی وجہ نہ تھی ۔ انعامدار ، اوبر فیلڈOberfield  اور ڈیرل Darrell نے بتایا ہے کہ ستی کا ارتکاب کرنے والی خواتین اکثر بے اولاد یا بوڑھی ہوتی ہیں اور انھیں انتہائی بری زندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس لیے بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوکر ایک بیوہ عورت کی خودکشی کا سبب بن سکتا ہے ۔ جائزہ لینے سے زیادہ تر یہ بیان کیا گیا ہے کہ عورت اپنے مردہ شوہر کی چتا کے پاس بیٹھی یا لیٹی ہوتی ہے ۔ بہت سے مثالوں میں خواتین نے بیان دیا کہ انہیں چتا کے قریب بیٹھا دیا جاتا ہے جو اس فعل پر روشنی ڈالتے ہیں ۔

ماخذ ۔ انگش وکی پیڈیا
تہذیب و تدین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں