78

مِتسیا اوتار

ایک حیرت انگریز بات یہ ہے کہ کسی طوفان کا ذکر وید منتروں میں نہیں آتا ہے ۔ حالانکہ بعد کی رزمیہ کی مذہبی داستانوں اور پرانوں میں کئی جگہ ان طوفانوں کا ذکر آتا ہے اور ہندوؤں کی مذہبی داستانوں کا اہم حصہ ہے ۔ وشنو کے تین اوتار مچھ (مگر مچھ) ، کچھ (کچھوا) اور بارہ (سور) ہر ایک حالت میں بنی انسان کو پانی کی تباہیوں سے بچاتا ہے ۔ اگرچہ طوفان ویدوں کا حصہ نہیں بن سکا تاہم یہ برہمن گرنتھوں اور پرانوں یہ قصہ کو مختلف صورتوں میں بیان کیا گیا ہے ۔ نہ صرف منو اور مچھلی کی کہانی بلکہ سنگ پشت اور سور کی کہانی بھی کم و بیش ایسے پستکوں میں ملتی ہے ۔ 
ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں طوفان کا قصہ کئی طرح بیان کیا گیا ہے ۔ البتہ متسیا (مچھلی) پران میں اس کا علحیدہ سے ذکر ہے اور اگنی پران میں میں اس کا ذکر اختصار سے ہے ۔ مگر طوفان کا تفصیلی ذکر بھاگوت پران میں ہے ۔ جو نہایت اہم پران اور وشنو کی تعریف میں ہے ۔ مہابھارت میں بھی اس ذکر ضمنی قصے کے طور پر ملتا ہے ۔ 
یورپ کے محققین کا خیال تھا اس کا ماخذ توریت کی کتاب پیدائش ہے ۔ مگر جب یہ پتہ چلا کہ یہ قصہ شت پتھ برہمن میں بھی ہے تو اس کی قدامت وید کے زمانے تک پہنچ گئی اور محققین کو اپنا خیال تبدیل کرنا پڑا اور بعد کی روایتوں میں جو تفصیلات تھیں اس سے اس روایت کی کمی و بیشی پوری ہوگئیں ۔    
ست پتھ برہمن کے مطابق ’’صبح منو نہانے کے لیے پانی لایا اور جب وہ نہا رہا تھا تو ایک مچھلی اس کے ہاتھ آگئی ۔ 
مچھلی نے اس سے کہا مجھے پرورش کر میں تیری جان بچاؤں گی ۔ 
کس چیز سے تو میری جان بچائے گی ۔ 
ایک طوفان آنے والا ہے جو سب مخلوخات کو بہا لے جائے گا ۔ میں اسی طوفان سے تیری جان بچاؤں گی ۔ 
میں تیری پرورش کیسے کروں ؟
’’مچھلی نے کہا جب تک مچھلیاں چھوٹی ہوتی ان کے لیے بڑی تباہی ہے ۔ کیوں کہ مچھلیاں مچھلیوں کو کھا جاتی ہیں ۔ تو پہلے تو مجھے ایک برتن میں رکھ ۔ جب میں برتن میں نہ آسکوں تو ایک گڑھا کھو کر اس میں رکھ ۔ جب میں گڑھے میں نہ آسکوں تو مجھے سمندر میں لے جاکر ڈال دینا ۔ کیوں کہ پھر مجھے کوئی نیست و نابو نہ کرسکے گا ۔ 
مچھلی بہت جلد بڑی ہوگئی ۔ تب اس نے کہا فلاں سال میں طوفان آئے گا ، پھر تم میری طرف متوجہ ہونا اور ایک جہاز تیار کرلینا اور جب طوفان آئے تو اس میں بیٹھ جانا ، میں تمہیں طوفان سے بچاؤں گی ۔
منو مچھلی کو اس طرح پرورش کرنے کے بعد اسے سمندر میں لے گیا اور جس سال کی مچھلی نے نشان دہی کی تھی ۔ اسی سال اس نے ایک جہاز تیار کرلیا اور جب طوفان آیا تو اس میں بیٹھ گیا ۔ مچھلی تیرتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اس نے جہاز کے رسے کو اپنے سینگ سے باندھ لیا اور اس طرح وہ شمالی پہاڑ (ہمالیہ) تک پہنچ گئی ۔ 
مچھلی نے تب کہا میں نے تیری جان بچائی ہے اپنے جہاز کو ایک درخت سے باندھ دے مگر کہیں ایسا نہ ہو کہ جب تو پہاڑ پر ہو تو رسی پانی سے کٹ جائے اور جب پانی کم ہونے لگے تو تو بھی آہستہ آہستہ اتر جانا ۔ حسب ہدایت وہ آہستہ آہستہ اترنے لگا اور اس لیے شمالی پہاڑ کی ڈھال کو منو کا اتار کہتے ہیں ۔ سب مخلوق کو طوفان بہا کر لے گیا اور صرف منو دنیا میں رہ گیا ۔ 
منو اولاد کا خواہش مند تھا اس لیے وہ عبادت اور سخت ریاضتوں میں مصروف ہوگیا ۔
منو ایک سال تک دہی اور گھی دیوتاؤں کو چڑھاتا رہا اور آخر کار اس کی دعاؤں اور چڑھاؤں نے ایک حسین عورت ادا کی شکل اختیار کرلی ۔ جو اس کے پہلو میں کھڑی ہوگئی ۔ دونوں ایک ساتھ رہنے سہنے لگے اور ان کی اولاد سے ایک نئی قوم یعنی منو کی قوم پیدا ہوئی ۔ آریا ہندو اپنی قوم کو اسی نام سے یاد کرتے تھے ۔  
منو بعض اوقات صرف آدمی کے معنوں میں آتا ہے اور اس کے لغوی معنی سوچنے والے کے ہیں ۔ انسان کو اکثر اوقات فانی بھی کہا گیا ہے ۔ قدیم آریاؤں کے خیال میں انسان سوچنے والا اور مرنے والا تھا ۔ انسان کی یہ تعریف نہایت جامع و مکمل ہے ۔
اس قدیم و سادہ روایات میں اس مشہور واقعے کا صرف خاکہ موجود ہے اور اگر روایات کا سلسلہ جاری نہ رہتا تو اس منفرد روایت سے کوئی قطعی نتیجہ نہ نکل سکتا تھا ۔ کیوں کہ اس میں یہ بھی نہیں بیان کیا گیا ہے کہ مچھلی کیا تھی اور صرف ہم قیاس کرسکتے ہیں کہ وہ کوئی دیوتا یا دیوتاؤں کی پیام بر تھی ۔ مہابھارت کی روایات بلحاظ قدامت اس کے بعد کی ہے اور اس سے زیادہ مکمل ہے ۔ جس سے مزید تفصیلی حالات معلوم ہوتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یاما کا بھائی تھا جیسا کہ دیگر ذرائع سے معلوم ہوتا ہے ۔
ایک مہارشی منو جو دِوس دَت کا بیٹا تھا اور سالہا سال سے سخت ریاضتوں میں مصروف تھا ۔
ایک دفعہ چرنی کے کنارے ایک مچھلی اس کے پاس آئی اور اس سے کہا ، حضور ! میں چھوٹی سی مچھلی ہوں ، میں بڑی مچھلیوں سے ڈرتی ہوں ۔ تمہیں چاہیے مجھے ان سے بچالو ۔ کیوں کہ بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہیں ۔ روز ازل سے ہمارے رزق کی یہی صورت ہے ۔ اس طوفان بلا سے مجھے بچالو اور میں تمہیں اس کام کا صلہ دوں گیں ۔
یہ سن کر منو کو رحم آگیا ، اس نے مچھلی کو اپنے ہاتھ میں لے کر ایک برتن میں ڈال دیا جو چاند کی کرنوں کی طرح صاف و شفاف تھا ۔ منو اس کو بیٹے کی طرح سمجھتا تھا اور اس کی پرورش سے مچھلی بڑھتی گئی ۔ کچھ دن کے بعد وہ برتن میں سما نہ سکتی تھی اور منو کو دیکھ کر کہ مجھے کہیں اور لے چلو تاکہ مجھے بڑھنے کا موقع ملے ۔
منو نے اسے برتن سے نکال کر ایک بڑے تالاب میں ڈال دیا جس میں اس کی نشو و نما ہوتی رہی ۔ لیکن گو یہ تالاب دو یوجن (ایک پیمانہ) لمبا اور ایک یوجن چوڑا تھا ۔ مگر کنول سے آنکھ والی مچھلی اس میں ہلنے کی جگہ نہ تھی ۔ اس نے منو سے کہا ، مجھے سمندر کے راجہ کی کی چہتی رانی گنگا میں لے چلو میں وہیں رہوں گی ۔
منو نے اس مچھلی کو گنگا میں لے جاکر ڈال دیا ۔ جہاں اس کا جثہ بڑہتا رہا ۔ آخر کار اس نے منو سے پھر کہا میرا جسم اس قدر بڑھ چکا ہے کہ میں گنگا میں جنبش نہیں کرسکتی ہوں ۔ تم مجھے سمندر میں لے چلو ، منو نے اسے گنگا میں سے نکلال کر سمندر میں ڈال دیا ۔  
منو نے جب اسے سمندر میں ڈال دیا تو اس نے کہا حضور والا آپ نے میری پرورش ہے اور اب مجھ سے سنیئے کہ جب وہ وقت آئے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے ، بہت جلد تمام مخلوقات ذی روح اور غیر ذی روح نیست و نابود ہوجائیں گی ۔ اس لیے میں آپ کو وہ چیز بتاتی ہوں جس سے آپ کو بہت فائدہ ہوگا ۔ دنیا کو پاک کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ 
یہ وہ وقت ہے کہ جو دنیا کی ہر چیز کے لیے خواہ وہ متحرک ہو یا غیر متحرک سخت مصیبت کی ہے ۔ اپنے لیے ایک مظبوط جہاز بنالو جس میں ایک رسہ لگا ہو ۔ اس میں سات رشیوں کے ساتھ بیٹھ جاؤ اور اس میں ان تمام تخموں کو علحیدہ کرکے رکھ لو جنہیں زمانہ قدیم کے برہمنوں نے بیان کیا ہے ۔ جب جہاز میں بیٹھنا تو میرے منتظر رہنا ۔ یہ میری پہچان یہ ہے کہ میرے سر میں سینگ ہوگا ۔ دیکھو تم ایسا کرنا ۔ میں سلام کرتی ہوں اور جاتی ہوں ۔ اس بحر عظیم کو تم میرے بغیر عبور نہ کرسکو گے ۔ میری بات کو جھوٹ نہ سمجھنا ۔ منو نے جواب دیا میں وہی کروں گا جو تم کہتی ہو ۔
ایک دوسرے کو خیرباد کہنے کے بعد دونوں نے اپنی راہ لی ۔ منو نے حسب ہدایت اپنے ساتھ تخم لے لیے اور اپنے خوبصورت جہاز میں طوفان خیز سمندر میں بہتا رہا ۔ تب اس نے مچھلی کا خیال کیا جو اس کی خواہش کو معلوم کرتے ہیں افتاں و خیزاں چلی آئی اور اس کا سینگ دور سے نظر آتا تھا ۔ جب منو نے سینگ والے دیوزاد کو دیکھا جو پہاڑ سے اونچا تھا تو اس نے جہاز کے رسے کو اس کے سینگ سے باندھ دیا ۔ جہاز جب اس کے سینگ سے باندھا گیا تو مچھلی اس کو تیزی سے کھینچتی ہوئی بحر شور میں سے لے چلی جس کی لہریں رقص کرتی تھیں اور جس کے پانی میں بجلی کی گرج تھی ۔ بحر مواج کے تھپیڑوں سے جہاز ایسا ہلتا تھا گویا کوئی مخمور عورت مسانہ وار جھومتی جلی جارہی ہے ۔ نہ زمین نظر آتی تھی نہ آسمان سوائے پانی ، آسمان اور ہوا کے کچھ نہ تھا ۔ 
اگر کوئی نظر آتا تھا تو صرف رشی ، منو اور مچھلی ۔ کئی سال تک بغیر کسی تکان کے مچھلی جہاز کو پانی کھنیچتی رہی اور آخر کار ہماوت (ہمالیہ) کی سب سے اونچی چوٹی پر پہونچ کر اس نے دم لیا ۔ تب اس نے رشیوں سے ہنس کر کہا جہاز کو فوراً اس چوٹی باندھ دو ۔ انہوں نے اس کے حکم پر عمل کیا ۔ اس لیے ہماوت کی سب سے اونچی چوٹی ناؤ بندھن کے نام سے مشہور ہے ۔  
دوست نواز مچھلی نے تب رشیوں سے کہا میں اعلیٰ ترین ہستی پرجاپتی برمھ ہوں ۔ مچھلی کی شکل اختیار کرکے میں نے تمہیں اس خطرہ عظیم سے نجات دی ۔ منو اب تمام زندہ چیزوں یعنی دیوتاؤں اسوروں اور آدمیوں ، تمام عالموں اور تمام چیزوں کو پیدا کرے گا ۔ خواہ وہ متحرک ہوں یا غیر متحرک ۔ میری عنایت اور کمال ریاضت سے وہ تخلیق عالم کے کام میں مہارت حاصل کرگے اور پریشان نہ ہوگا ۔
اس گفتگو کے بعد مچھلی چشم زن سے غائب ہوگئی ۔ منو تمام مخلوقات کو وجود میں لانے کے لیے انتہا درجہ کی ریاضت میں مصروف ہوگیا اور تمام چیزوں کو پیدا کرنے لگا جو نظر آتی ہیں ۔ 
اس کہانی میں علاوہ اس کی ادبی خوبیوں اور شرح و بسط کے تین اہم امور کا اضافہ ہوا ہے ، جس سے کلدانی اور توریت کی روایات سے اس کا تعلق ثابت ہوتا ہے ۔
(۱) طوفان آنے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ دنیا کو پاک کرنے یا اہل دنیا کو سزا دینے کا آگیا ۔ 
(۲) بچنے والوں میں صرف منو ہی نہیں ہے ۔ بلکہ اسے یہ بھی اجازت ہوتی ہے کہ سات رشیوں کو اپنے ساتھ لے لے اور تخموں کو (نہ کہ اپنے دوستوں اور اہل خاندان کو) 
(۳) پرسرار مچھلی منو پر ظاہر ہوتی ہے کہ میں برہما یعنی اعلیٰ ترین ہستی ہوں اور حکم دیتی ہے کہ دنیا کو ازسر نو آباد کرے ۔ بلکہ اسے یہ بھی حکم دیا گیا کہ علاوہ آدمیوں کے دیوتاؤں اسوروں اور عالموں کو وجود میں لائے ۔
متسیا (مچھلی) پران کی روایت میں مبالغہ آمیزی اور بھی زیادہ ہے اور اس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ بچانے والا دیوتا بجائے برہما کے وشنو ہے اور یہ تغیر اسی وقت ہوا ہوگا ۔ جب کہ برہمنوں میں کئی فرقے پیدا ہوگئے تھے ۔ ان میں سے ایک فرقہ نے وشنو کو جو رگ وید کے چھوٹے شمسی دیوتاؤں میں ہے تمام مخلوقات کا محافظ اور منجی قرار دیا تھا ۔ 
متسیا پران میں منو ایک بہادر بادشاہ ہے جو سوریا کا بیٹا کا تھا ۔ اعلی درجہ کا تقدس حاصل کرکے تخت شاہی سے دست کش ہوگیا اور اپنے بیٹے کو اپنا وارث کر دیا ۔ اس کے بعد وہ سخت ریاضتوں میں دس لاکھ سال تک ملاویا (ملیبار) کے کسی خطے میں مصروف رہا ۔ ایک روز وہ وشنو کو نذر چڑھا رہا تھا کہ ایک مچھلی پانی کے ساتھ اس کے ہاتھ میں آگئی ۔ اس کے بعد وہی واقعات بیان کیے گئے ہیں ۔ یعنی مچھلی پہلے برتن میں رکھی گئی ، پھر گھڑے میں ، پھر کنویں میں ، پھر جھیل میں اور گنگا میں اس کے بعد سمندر میں پھینک دی گئی ۔
مگر جب تمام سمندر اس سے بھر اٹھا تو منو نے خوف زدہ ہوکر کہا تو کوئی دیوتا ؟ کیا تو واسیو دیو (وشنو کا نام) ہے ؟ دوسرا اتنا بڑا کیسے ہوسکتا ہے ؟ اے دنیا کے مالک میں تیری تعظیم کرتا ہوں ۔ یہ الفاظ سن کر جھناروں (وشنو کا نام) دیوتانے جو مچھلی کی شکل میں تھا کہا تو نے ٹھیک کہا اور مجھے خوب پہنچانا ۔ تھوڑے دن میں زمین اور اس کے پہاڑ ، باغ اور جنگل سب زیر آب ہوجائیں گے ۔ اس جہاز کو دیوتاؤں کی جماعت نے مخلوقات کے بچانے کے لیے بنایا ہے ۔ اسی جہاز میں بٹھالے سب جاندار مخلوقات کو خواہ وہ تری سے پیدا ہوں یا انڈوں سے یا جننے سے اور پودوں کو اور ان کی مصیبت سے محفوظ رکھ ۔ جب جگ کے اواخر میں جہاز ہوا کے زور سے ڈگمگانے لگے تو اسے میرے سینگ میں باندھ دینا ۔ دنیا کی تباہی کے بعد تو پرجاپتی (مخلوقات کا مالک یا پیدا کرنے والا) ہوگا ۔ اس دنیا کی تمام متحرک اور غیر متحرک چیزوں کا ۔
تمام جانداروں سے مراد غالبا ہر قسم کے جاندار چیزوں کے جوڑے سے ہے ۔ کیوں کہ جہاز کتنا ہی بڑا ہو اس میں تمام جاندار چیزیں نہیں آسکتی ۔ اس طرح پودوں سے مراد ہر پودے کے ایک نمونے یا ان کے تخم سے ہے ۔ انسانوں میں وشنو صرف ایک رشی کا نام لیتا ہے ۔ جو منو کا ساتھی تھا ۔ مزید حالات دریافت کرنے پر دیوتا تشریح کرتا ہے کہ طوفان عظیم سے قبل سو سال تک تمام دنیا میں قحط ہوگا اور آگ لگ جائے گی ۔ جس کی وجہ سے تمام دنیا بلکہ کرہ زمہریر بھی خاکستر ہوجائے گا اور دیوتا اور اجزام فلکی بھی نیست و نابود ہوجائیں گے ۔ البتہ دیوتاؤں میں صرف برہما رہ جائے گا اور اجزام فلکی میں چاند اور سورج ، وید بھی جہاز میں رہنے کی وجہ سے بچ جائیں گے ۔ متسیا پران کی روایت اور کلدانی روایت میں ایک اہم فرق یہ ہے کہ متسیا پران میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ طوفان بطور سزا کے نازل نہیں ہوگا ۔ بلکہ ہر جگ یا قرن کے اختتام اور دوسرے قرن کے آغاز پر برہمنوں کے عقائد کے مطابق جب دنیا اسی طور پر تباہ ہوتی ہے اور ازسر نو آباد ہوتی ہے ۔ یہ روایت یکایک اس عبارت پر ختم ہوجاتی ہے ۔ 
جب وہ وقت آیا جس کی وشنو نے پیشن گئی کی تھی طوفان اسی طور پر آیا ۔ دیوتا سینگ والی مچھلی کی شکل میں نمودار ہوا ۔ اننت ناگ سانپ منو کے پاس رسے کی شکل میں آیا ۔ اس نے جہاز کو مچھلی کے سینگ سے رسے (سانپ) سے باندھ دیا اور جہاز پر کھڑا رہا ۔ 
بھاگوت پران کی مفصل روایات میں جو ناٹک کی شکل میں ہے ۔ دنیا کی تباہی کی کوئی اخلاقی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے اور اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر جگ کے اختتام پر دنیا کبھی کبھی نیست و نابود ہوجاتی ہے اور سمندر میں ڈوب جاتی ہے ۔ مگر اس میں ایک اور مصیبت کا ذکر ہے جو انسانوں اور دیوتاؤں پر پڑی تھی ۔ یعنی دیدوں کو زبردست ہیاگریَوا چرا کر لے گیا جو دئیت قوم کے بھوتوں میں تھا اور دیوتاؤں سے ہمیشہ پرخاش رہتے تھے اور ان کے نیک کاموں کو بگاڑ دیا کرتے ۔ ویدوں کی چوری سے برافروختہ ہوکر وشنو نے مچھلی کی شکل اختیار کی ۔ اس روایت کا ممدوع منو نہیں بلکہ ایک شاہی رشی ستیا ورت شاہ ڈراویڈا ہے ، جو وشنو کا معتقد اور نہایت متقی اور پرہیزگار تھا اور دوسرے قرن میں اس نے بطور منو ولد دوس وت جنم لیا ۔
ایک روز جب وہ کیری تامالا ندی (ملیبار کی ایک ندی) میں پتریوں کو پانی چڑھا ریا تھا ۔ ایک مچھلی پانی کے ساتھ اس کی مٹھی میں آگئی ۔
اس کے بعد پھر مچھلی کی درخواست وغیرہ کے قصے کو دہرایا گیا ہے اور منو پہچان گیاکہ وشنو دیوتا مچھلی کے بھیس میں نمودار ہوا ہے اور اس وجہ دریافت کرنے پر دیوتا نے جواب دیا ۔
اس کے ساتویں دن تینوں عالم تباہی کے سمندر میں ڈوب جائیں گے ۔ جب دنیا اس میں ڈوب جائے گی تو ایک بڑا جہاز جو میں بھیجوں گا تیرے پاس آئے گا ۔ اپنے ساتھ پودوں ، ہر قسم کے تخموں ، ساتوں رشیوں اور تمام مخلوقات کو لے کر جہاز میں بیٹھ جانا اور بلا خوف و خطر سفر کرنا ۔ جب ہوا طوفان خیز ہو اور جہاز زور زور سے ہلنے لگے تو بڑے سانپ سے اسے میرے سینگ میں باندھ دینا ۔ کیوں کہ میں قریب ہوں گا ۔ 
چنانچہ جملہ واقعات اسی ترتیب سے ہیں اور تباہی کے بعد وشنو ہیاگریوا کو قتل کرکے چوری شدہ وید چھین لیتا ہے اور شاہ ستیاورت دنیاوی اور دینوی علوم کا حامل وشنو کی سرفرازی سے اس قرن کا منو ابن ودس وت ہوگیا ۔ 
یہی متسیا اوتار یعنی مچھلی کا اوتار ہے ۔ وشنو نے مختلف اوقات پر دنیا کو کسی خطرہ عظیم سے بچانے کے لیے دس دفعہ بھیس بدے تھے ۔ جن میں ایک ابھی باقی ہے اور اس جگ یعنی قرن کے اختتام پر آئے گا ۔ اگنی پران کی روایت اس سے مختلف ہے ۔ مگر اس میں کوئی اضافہ یا تغیر نہیں ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں