35

مہا وِوِس دَت

رات کی مہیب صورت آسمان کی بیٹی اور شفق کے تمام بھائیوں (اشونوں) کی ماں کا ہونا قرین قیاس ہے ۔ یہ بھی گمان غالب ہے کہ وہ یاما کی ماں ہے ۔ بقول ہیلی برانٹ یاما سے مراد چاند سے ہے ، اس شوہر مہا وِوِس دَت سے مراد اکثر اور بعد ویدک کے زمانے میں بیشتر سوریا سے ہے ۔ مگر رگ وید میں ہمیشہ سوریا مراد نہیں ہے ۔ ودس دت مثل ناموں کے ایک صفت ہے ۔ جس کے معنی درخشاں کے ہیں ۔ سوریا کے علاوہ دوسری چیزیں بھی چمکنے والی اور درخشاں ہیں ان کی ماہیت کو عبارت پر غور کرنے سے معلوم کرنا چاہیے ۔ بھجنوں کی بعض عبادتوں کو بغور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وِدَس وَت سے مراد منور اور درخشاں آسمان سے بھی ہوسکتے ہیں ۔ مثلاً
’’ماتِرش وَن جو دیوؤں کا ہر کارہ اگنی کو بہت دور سے لایا’’۔ (رگ وید ششم ۸،۱۴)
’’اے اشونوں اپنی رتھ پر آئو جو خیال سے زیادہ تیز رو ہے اور جس کو ربھوؤں نے بنایا تھا ۔ اس رتھ پر جس کے جوتنے کے وقت آسمان کی بیٹی اُشاس (سپید صبح) پیدا ہوتی ہے اور عالیشان دن و رات بھی وِدَس وَت (منور آسمان) سے’’۔ (رگ وید دہم ۳۹،۱۲)
’’رات کو وِدَس وَت کے پاس ٹھیر کر اے اشونوں ہمارے گیتوں کو سن کر سوما پینے کے لیے یہاں آؤ’’۔
وِدَس وَت چونکہ ان کا باپ ہے اس لیے ان کا اس کے پاس ٹہرنا خلاف قیاس نہیں ۔ یعنی بہ الفاظ دیگر یہ خیال کیا جاسکتا ہے شفیق صبح کو نمودار ہونے سے قبل رات کو آسمان میں منتظر رہتی ہے ۔ 
یہاں یہ بھی بیان کرنا بے موقع نہ ہوگا کہ قربان کرنے والوں کو اخلاقاً دوسوت کا خطاب دیا جاتا تھا ۔ قربانی کرنے سے پرستش کرنے والا دیوتاؤں قربت حاصل کرتا ہے اور اس مخصوص وقت میں گویا ان میں سے ہوجاتا ہے ۔ اس طرح مصر میں مرنے کے بعد ہر شخص کو اسیرس کہا جاتا تھا ۔ جس سے مقصود یہ تھا کہ اس نے دیوتا کے آغوش میں خیر و برکت حاصل کی ہے ۔
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ سرائیوں (تیز رو رات) توشتار (درشت رہ اور غضب ناک آسمان) کی بیٹی ہے ۔ جو اس کو ودس وت (منور آسمان) سے بیاہ دیتا ہے اور ان دونوں سے یاما (چاند) پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد دیوتا اسے چونکہ وہ غیر فانی ہے فانیوں سے چھپا دیتے ہیں ۔ اس طرح غائب ہوجاتی ہے ۔ مگر اس اثناء میں شفق کے توام بھائیوں (اشونوں) کو جنتی ہے اور ان کو بھی وہ پہلوٹھے بیٹے کی طرح چھوڑ دیتی ہے ۔ یہ افسانہ صراحت طلب نہیں ہے ۔ البتہ دوسری بیوی کی اصلیت جو بجائے اس کے ودس وت کو دی گئی تھی ظاہر نہیں ہوتی ہے ۔ لیکن شارحین کا بیان ہے کہ اس سے عقلمند پجاری پیدا ہوا جو انسانوں میں بنی نوع انسان کا مورث بیان کیا گیا ہے اور جس سے اس قدیم خیال کا پتہ چلتا ہے کہ بنی نوع انسان کی اصل آسمانی ہے ۔ مگر اب تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ وہ کون تھی ۔ یعنی اس سے کون سا منظر قدرت مراد تھا ۔ اس افسانے کی توضیح کی کوشش میں اس قدر قطع و برید اور اضافہ ہوا ۔ جس کی وجہ سے وہ بالکل مبہم ہوگیا اور پھر ہمیں رگ وید کی طرف متوجہ ہونا پڑا کہ مناظر قدرت میں اس کی اصلیت دریافت کی جائے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں