97

مہمند

اس قبیلہ کا شجرہ نسب مہمند بن دولت یار بن غوری کند بن خرشبون بن سربنی بن قیس عبدالرشید ہے ۔ شیر محمد گنڈا پور لکھتا ہے کہ قوم مہمند کے جو لوگ پشاور کے میدانوں میں رہتے ہیں ان کو صرف مہمند کہا جاتا ہے اور جو لوگ کوہستان میں میں مقیم ہیں وہ برمہند کہلاتے ہیں ۔

اس کلمہ کے دوحصہ ہیں مہا+مند=مہمند ۔ مہا ہند آریائی کلمہ ہے ، جس کے معنی بڑا ، برتر اور عظیم کے ہیں اور یہ لائقہ کلمہ کے ابتدا میں لگ کر اس کی برتری اور عظمت کو ظاہر کرتا ہے ۔ مثلاً مہاراجہ بمعنی عظیم اور برتر راجہ اس طرح مہادیو یعنی عظیم دیوتا ۔

اس کلمہ کا دوسرا جزو مند ہے جو کہ جو قدیم سیتھی قبیلہ من کا معرب ہے اور اس کی بہت سی شکلیں افغانستان اور برصغیر میں عام ملتی ہیں اور یہ قبائل کے علاوہ علاقوں کے ناموں میں بھی آیا ہے ۔ اس طرح اس کے معنی من لوگوں کا بڑا گروہ کے ہیں ۔ غالبا یہ عہد قدیم میں قبیلے کے مرکزی حصہ پر مشتمل ہو گا جس کو تقدس حاصل ہوگا اور ان کے ساتھ مہا کا لائقہ استعمال ہوتا ہوگا اور اسی نسبت سے یہ مہامند سے مہمند ہوگیا اور اسی نام کو جد امجد کی حثیت سے افغانون کے شجرہ نسب میں پیش کیا گیا ۔ پہاروں پر رہنے والے بر مہمند کہلانے والے بر اس لیے کہلاتے ہیں اوستا میں بر کے معنی بلندی کے ۔ (دیکھے مندو)

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں