60

مہ آبادی احکامات

عبادت کے لیے کہا گیا ہے کہ انسان خدا کی نماز ہر طرف منہ کرکے پڑھ سکتا ہے ۔ مگر چاہیے کہ نماز کسی روشنی اور ستارے کی طرف منہ کرے ۔ یہیں سے آتش پرستی و ستارہ پرستی کی بنیاد قائم ہوتی ہے ۔ جو اب تک پارسیوں کا مسلک ہے ۔ مناکحت کا حکم دیا گیا ہے زنا سے منع کیا گیا ہے ۔ پیمان شکنی ، چھوٹ بولنے اور جھوٹی قسم کھانے سے پرہیز اور شراب صرف اتنی پینی جائز ہے کہ آدمی مدہوش نہ ہوسکے ، یتیم کا مال کھانے ، امانت میں خیانت کرنے کو برا کہا گیا ہے وغیرہ وغیرہ ۔

کچھ تقرر زمان سے بحث کی گئی ہے ، زیادہ تعلق علم ہیئت سے ہے ، کچھ پیشنگوئیاں ہیں ، مختلف جرائم کی سزاؤں کے طریقہ ہیں اور یہ مبارک نامہ اس وعدے پر ختم کیا گیا ہے کہ تیرے بعد تیرے مذہب سے لوگ ردگرداں ہوجائیں گے اور بہت سے رخنے پڑ جائیں گے ان کا دفیعہ جے افرام آکر کریگا جو تیری ہی اولاد ہوگا ۔

ان کا کہنا ہے کہ مہ آباد سے یاسبان آجام کے زمانے تک کوئی واقع اور بات خلاف عقل واقع نہیں ہوئی ۔ اگر ایسی باتں جو خلاف عقل ہوں اورانسانی عقل انہیں قبول نہ کرے ایسا ممکنات میں سے نہیں ہے ۔ یہ ان واقعات اور باتوں کی تاویل کرتے ہیں جو کہ شاہنامہ میں درج ہیں ۔ مثلاً سامک کا دیو کے ہاتھوں قتل ہونا ، دیوؤں کو قتل و مسخر کرنا اور اس طرح کی دوسری باتیں شامل ہیں ۔

وہ پانی جو بدرنگ ، بدبودار اور بدمزہ نہ ہو اور وہ گلاب جیسی چیزوں سے زیادہ پاک ہوتا ہے ۔ ایک گر یعنی وہ پانی جس میں سر ڈبویا جاسکے طہارت کے لیے کافی ہے ۔ ان کے نذدیک ان دعاؤں کو پڑھنا محبوب عمل ہے جو دساتیر میں واجب الوجود کی وحدانیت اور عقل و نفوس کی بڑائی اور علوم و علوی و سفلی اجسام کی حمد و تعریف میں ہیں اور ساتوں ستاروں کی حمد بیان کرتے ہیں ۔ بالخصوص ہر ستارے کی مخصوص خوشبوئیں سلگاتے ہیں ، بعد ازاں عبادت گزار مہینہ اور مہینہ کے دنوں کی حمد بیان کرتا ہے ۔ مثلاً اگر فرزین کا مہینہ ہے تو پہلے اس کی عبادت کرتے ہیں اور بعد ازاں اس مہینہ کے مختلف دنوں کے ستاروں میں سے ہر ایک کی عبادت کرتے ہیں ۔ بالخصوص اس دن کے ستارے جو اس ماہ کا ہمنام ہوتا ہے اور وہ دن روز عید شمار کیا جاتا ہے ۔ مثلاً ماہ فروردین مین فروریں کی جو مقرب فرشتہ ہے عبادت کی جاتی ہے ۔ 

مہ آباد کے مذہب کی بنیاد توحید پر تھی ۔ لیکن اس مذہب میں عبادت یا پوجا آگ یا ستاروں کی طرف رخ کے ادا کی جاتی تھی اور وہ آگ اور ستاروں کو معبود بھی مانتے تھے ۔ زرتشت اہورا ہرمزد کی طرف رجوع کرنے اور اس کو ایک ہستی مطلق معبود بناتے ہیں اور جو صفات ایک خدا کی ہونی چاہیے وہ ساری سفات ہرمزد میں بتاتے ہیں ۔ مگر زرتشت بھی عبادت کے لیے آگ یا ستاروں کا رخ کرنے کی ہدایت کرتے ہیں اور آگ کی تعظیم و احترام پرستش کی حد تک مذہب کا لازمی جزو قرار دیا ہے ۔ اس لیے زرتشتیوں کو آتش پرست اور ستارہ پرست بھی کہا جاتا ہے ۔ اس طرح مہ آباد کے پیروکار تناسخ کا عقیدہ کا بھی رکھتے جو زرتشتیوں میں بھی پایا جاتا ہے ۔ تاہم ان میں یہ عقیدہ مختلف اور ترقی یافتہ نہیں تھا ۔   

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں