71

مہ آبادی بادشاہوں کے سلسلے

گلشاہی سلسلے کے بادشاہوں کے چار طبقات پیشہ ادیان ، کیانیان ، اشکانیاں اور ساسانیان گزرے ہیں اور اس سلسلے آخری حکمران یزدگر تھا ۔ ان مبارک بادشاہوں کی سلطنت چھ ہزار چوبیس سال اور پانچ ماہ رہی ہے ۔ ان کے عہد حکومت میں عالم آرا و پیراستہ ہوگیا تھا ۔ کیومرث ، سیامک اور ہوشنگ جو پیشندایان کہلاتے ہیں اور طہورث دیوبند اور جمشید نے وحی آسمانی ، تائید ایزدی اور ہدایت خداوندی نیز درست انداز اور صحیح غور و فکر کی بنا پر عبادت خداوندی معرفت الہی ، نیکوکاری و پرہیزگاری کے اصول قائم کیے ۔ کھانے پینے ، شادی اور بیاہ اور منہ اور تار سے بجنے والے باجے ، شہر ، باغ ، محل ، زیورات ، اسلحہ ، ملازمت کے درجے ، ستر کے ظاہر اور پوشیدہ رکھنے کے لحاظ سے مرد و عورت میں تفریق ، عدل و انصاف اور اس طرح کے اصول طہ کیے ۔ پیشندیان کے بعد گشائیان نے بادشاہی کے سلسلے کو بڑھایا اور الہام خداوندی اور پیغام الہی مطابق حکومت کی ۔ دنیا کی رونق بہار اور آرائش جو دنیا میں نظر آتی ہے وہ اسی مبارک گروہ کی مرحون منت ہیں اور بہت سی ایجادیں اور ان میں سے کچھ اب بھی باقی ہیں ۔

مہ آباد کی حکومت کے آغاز سے یزدگرد کی حکومت کے خاتمہ تک علاوہ ضحاک کے اکثر بلکہ تمام ہی بادشاہ عادل ، پرہیز گار اور جامع گفتار و کردار پسندیدہ کے مالک تھے ۔ اس مقدس گروہ کے اندر بعض شاہ انبیاء ، اولیا ، صالحین اور متقی افراد بھی تھے ۔ ان کے عہد میں ممالک آباد تھے اور فوج پوری طرح منظم تھی ۔ لیکن گلشاہ سے پہلے کے پیغمبر اور بادشاہ جو کہ مہ آباد سے یاسان آجام تک گزرے ہیں وہ بے حد بزرگ سمجھتے ہیں ۔ ان کی گفتگو و کردار میں قطعی کسی برائی نہیں پائی گئی تھی اور انہوں نے پیمان فرہنگ یعنی شریعت ماہ آباد کے خلاف کوئی فعل انجام نہیں دیا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں