72

مہ آبادی وقت کی اکائیاں

ان کے نذدیک اعداد و شمار کی تقسیم کچھ اس طرح تھی ۔ اکائی ، ڈھائی ، سیکڑہ اور ہزار اور سو ہزار کو ایک سلام ، سو سلام کو ایک شمار ، سو شمار کو ایک اسپار اور سو اسپار کو ایک رادہ ، سو رادہ کو ایک راز ، سو راز کو ایک آراز اور سو آراز کو بی آراز کہتے تھے ۔

ان کے نذدیک سال دو طرح کے ہوتے تھے ۔ ایک فر سال وہ ہوتا تھا کہ جب ستارہ بارہ برجوں کو طہ کرلیتا تھا تو اس مدت کو ایک دن کہتے تھے اور ایسے تیس دنوں کو ایک ماہ اور ایسے بارہ ماہ کو ایک فر سال کہتے تھے ۔ اس طرح دوسرے ستاروں کے بھی فر سال ہوتے تھے ۔ مثلاً فرسال کیوانی ، فرسال برجیسی ، فرسال بہرامی ، فرسال مہری ، فرسال ناہیدی وغیرہ ۔ دوسرا سال ایسا ہوتا جب کیوان تیس سال کے عرصہ میں بارہ برجوں کو طہ کرلیتا تھا تو اس مدت کو سال کیوانی اور اس کے ہر برج میں ڈھائی سال رہنے کی مدت کو ماہ کیوانی اور برجیس بارہ عرفی سالوں میں ایک گردش پوری کر لیتا ہے تو یہ سال ہرمزی کہلاتا تھا اور اس کے ہر برج میں ایک عرفی سال تک رہنے کو ماہ ہرمزی کہتے ہیں ۔ عرفی دن آفتاب کے ہر برج میں رہنے کی مدت کو ایک ماہ اور منطقہ البروج طے کرلینے کی مدت کو ایک سال سمجھا جاتا ہے ۔ اس طرح ماہ قمری سے مراد اس کی ایک گردش اور منطقہ البروج طہ کرنے مدت ہے اور ایسے سال اور مہینہ کو تیمور بھی کہتے ہیں ۔ اس طرح ان بادشاہی کا عرصہ لاکھوں برس پر محیط ہے ۔   

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں