87

مہ آبادی پیغمبر و حکمران

وحی کا ثبوت عالم مثال یا مانستان سے ہوتا ہے ۔ مہ آباد کے بعد سارے پیغمبر اسی شریعت پر بھیجے گئے تھے اور کسی پیغمبر نے بھی مہ آباد کی شریعت کے خلاف حکم نہیں دیا ۔ مہ آباد کے بعد تیرہ پیغمبر اور آئے اور ان سب کو آباد کہا جاتا ہے ۔ ان پیغمبروں پر بھی وحی نازل ہوتی رہی جو مہ آباد کی شریعت کے مطابق تھی ۔ ان چودہ پیغمبروں کے بعد ان کے بیٹے بھی سلسلہ وار اپنے باپ کے پیشوا اور حکمران مانے جاتے تھے اور یہ پیشوا اور حکمران عدل و انصاف پر چلتے تھے اور ان میں صرف خاندان کا بزرگ ہی حکمرانی کے درجہ پر فائز ہوتا تھا ۔ اگرچہ ان خاندانوں کے نام تبدیل ہوتے رہے مگر یہ سب مہ آباد کی اولاد ہیں اور ان کا کا عرصہ لاکھوں برسوں پر محیط رہا ہے ۔ لہذا دین زرتشت کے عقائد اور مذہبی احکامات کو سمجھنے کے لیے اس کے مذہبی پس منظر کو جاننا ضروری ہے ۔

    گلشاہ اور دوسرے پیغمبران

گلشاہ کے بعد ان کا بیٹا سیامک پھر ہوشنگ تہورث اور جمشید علی الترتیب پیغمبر ہوئے ۔ جمشید کا نامہ مملواز نکات فلسفیانہ و صوفیانہ ہے ۔ مگر ان کی قوم نے ان کی تعلیمات کو کماحقہ طور پر قبول نہیں کیا ۔ اس لیے ان پر دہ آک (ضحاک) ان پر مسلط کردیا گیا اور اس نے ان کو طرح طرح کے عذاب و تکلیفوں میں مبتلا کر رکھا ۔ دہ آک کا فتنہ کو فریدون نے آکر مٹایا ۔ یہ بزرگ اپنے اسلاف کی طرح جامع پیغمبری و بادشاہی تھے ۔ ان کے بعد منوچہر پھر کیخسرو اور ان کے بعد شت وخشور زرشت پیغمبر ہوئے ۔ ان لوگوں کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگوں نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے ۔ مگر یہ مہ آباد کی شریعت سے مختلف اور فلسفہ بھی جداگانہ تھا ۔ ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا تھا اس لیے یہ لوگ نامبارک کہلاتے ہیں ۔

    آبادان

پہلا حکمران خاندان مہ آبادیان کہلاتا ہے اور اس خاندان کا آخری حکمران آباد آزاد تھا ۔ اس کے عہد میں ملک آباد اور خزانے بھرے ہوئے اور بلند و بالا اور عالی شان محل اور خوبصورت عمارات تھیں ۔ ان کے علما ، دانشور اور فضلاء ، پرہیز گار اور خدا پرست اور اپنے قول و فعل میں مشہور تھے ۔ فوج ان کی بہادر اور شاندار اسلحہ سے لیس تھی اور عہدے دار خدمت گار اور عقل مند و جہاں دیدہ تھے ۔ اس کی سواری میں کوہ پیکر اور کوہ البز جیسے بلند ہاتھی اور تیز رفتار گھوڑے سواری کے لیے اور ان کے پاس دوسرے جانور اور چوپائے و خچر وغیرہ تھے ۔ نفیس چیزیں اور عمدہ ساز و سامان ، سونے و چاندی کے برتن ، قیمتی تخت و تاج اور نشاط انگریز باغات اور وسیع میدان اور ایسی چیزیں جن کا نہ آج وجود نہیں ہے اور نہ ہی بعد میں گلشاہی بادشاہوں کے عہد میں موجود تھیں ۔ لیکن آزاد نے تخت کو چھوڑ کر گوشہ نشینی کرلی ۔ اس لیے ملک کا انتظام کرنے والا کوئی نہ رہا ۔ انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہ رہا ۔ اس لیے سب کچھ برباد ہوگیا ۔ لوگ جنگلی درندے بن گئے تھے اور طاقت وروں نے کمزوروں پر ظلم ڈھانا شروع کر دیا ۔ ان کی آپس میں اس قدر خون ریزی ہوئی کہ سب کچھ تباہ و برباد ہوگیا ۔ کمزور لوگوں نے پناہ کے لیے پہاڑوں کی کھو اور تنگ و تاریک غاروں میں بود و باش اختیار کرلی تھی ۔

آخر کچھ لوگ آبادیان کی مقدس کتاب لے کر آباد آزاد کے بیٹے جی افرام کی خدمت میں حاضر ہوئے جو اپنے باپ کی طرح پرہیز گار و نیک تھا اور اس کا شمار عظیم انشان پیغمبروں میں ہوتا ہے ۔ وہ اپنے تقدس اور عبادت گزاری کی وجہ سے جی کہلاتا تھا اور آبادی سے دور ایک ویرانے میں پہاڑی غار میں رہتا تھا ۔ لوگ جمع ہوکر جی افرام کے پاس پہنچے اور اس عاجزانہ سے درخواست کی کہ وہ تخت شاہی پر ملک کا انتظام سمھال کر ملک کا انتظام درست کرے ۔ اسے علما ، دوسرے لوگوں اور آبادان کے واسطے و حوالے دیے ۔ مگر وہ راضی نہ ہوا ۔ آخر فرشتگان شروش فرمان خداوندی لے کر پہنچا کہ وہ اس منصب کو قبول کرلے ۔ چنانچہ جی افراہیم کے تخت شاہی پر بیٹھنے پر مجبور ہوگیا ۔ اس نے ملک کا انتظام درست کیا تو ملک میں خوشحالی پھیل گئی ۔ کیوں کہ آبادیان کے آئین و ادارے دوبارہ فعال ہوگئے اور انصاف کا بول بالا ہوگیا تھا ۔ یہ خاندان جیان کہلاتا ہے اور اس خاندان کا آخری حکمران جی آلام تھا اور خاندان کی سلطنت ایک اسپاء سال تک قائم رہی ۔

    شائی

ایک دن ملک کا حکمران مبارک شاہ جی آلاد اپنے آفرین خانہ یعنی نماز خانہ سے اچانک غائب ہوگیا تو اس سے سلطنت کا کام درہم برہم ہوگیا ۔ آخر کچھ لوگ پیغمبر شاہی گلیون ولد جی آلاد کے پاس گئے جو اپنے زہد کی وجہ سے شاہی اور شائی کہلاتا تھا اور اس سے تخت نشین ہونے کی درخواست کی گئی تو اس نے غور و فکر اور خدا کی رضا سے تخت نشین ہو گیا ۔ اس لیے اس کی اولاد شائیان کہلاتی ہے اور یہ شائیان سلسلے کا پہلا بادشاہ ہے اور خاندان شائیان کی سلطنت ایک سال تک رہی ۔ جی افرام آباد کی نسل میں سے تھا مگر اس کا بیٹا نہیں تھا اور وہ بیٹا اس لیے کہلاتا ہے کہ آباد آزاد کے بعد کوئی دوسرا کمال کو پہنچ نہیں سکا تھا ۔ ورنہ جی افرام اور آباد آزاد کے درمیان صدیوں کا فاصلہ تھا ۔ اس طرح شائی گلیو بھی جی آلاد کی نسل سے تھا ان کے درمیان بھی صدیوں کے فاصلے موجود تھے ۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہلے جی افرام کو آزاد کا بیٹا کہا گیا اور بعد اسے آزاد کی اولاد بتایا گیا اور شائی گلیو کو بھی جی الاد کا بیٹا کہا گیا ور بعد میں اسے جی الاد کی نسل سے بتایا گیا ہے اور یہ سب بادشاہ ایک ہی خاندان سے گزرے ہیں تو ہے الگ خاندان کی بنیاد رکھنے کی کیا وجہ ہے ۔      

    یاسیان خاندان

اس کے بعد یاسانیان خاندان کا سلسلہ شروع ہوا ۔ یاسان شائی مہبول کا بیتا اور نامور پیغمبر تھا ۔ جب اس کا باپ گوشہ نشین ہوگیا تو  دنیا کا نظام پھر درہم برہم ہوگیا ۔ لوگوں کے اصرار اور وحی آنے پر یہ تخت پر بیٹھا اور پھیلی ہوئی برائیوں کو دور کیا ۔ اس خاندان کا آخری حکمران یاسان آجام تھا اور یہ خاندان ننانوے سلام سال تک حکمران رہا ۔

یاسان آجام کی موت کے بعد دنیا حسب معمول تباہی سے دوچار ہوئی مگر اس کے بیٹا گلشاہ نے تخت کے لیے توجہ نہیں دی اور دنیا مسلسل تباہی سے دوچار ہونے لگی ۔ یہاں تک کہ لوگوں کا آپس میں ایسا کشت ہوا کہ خون کی نہریں جاری ہوگئیں ۔ قیمتی جواہرات اور قیمتی اشیاء لوٹ لی گیں اور لوگ جانوروں کی طرح لوگوں نے پہاڑوں کی کھو میں رہنے لگے ۔ اس خون خرابے سے قلیل تعداد میں لوگ ہیں زندہ بچے ۔ 

    گلشائی خاندان

بالآخر وحی آسمانی کے آنے پر گلشاہ (کیومرث) نے تخت و تاج سمھالیا ۔ اس نے عدل و انصاف کو بحال کیا اور اس کی اولاد جو منتشر ہوچکی تھی یکجا کیا اس لیے یہ ابوالبشر کہلاتا ہے ۔ کیوں کہ اس کے بیٹوں کے علاوہ بہت کم لوگ زندہ بچے تھے اور باقی ماندہ لوگوں اور نے دیو اور درندوں کا طریقہ اختیار کرلیا تھا ۔ چنانچہ کیومرث یعنی گلشاہ اور اس کے بیٹوں نے ان سے جنگ کرکے انہیں بالادستی قبول کرنے پر مجبور کیا اور انہیں بے آزاد جانوروں پر ظلم ڈھانے سے روکا ۔ کیومرث پر آسمانی کتاب بھی نازل ہوئی اور اس کی معزز و متبرک نسل سے سیامک ، ہوشنگ ، طہمورت ، جمشید ، فریدوں ، منوچہر ، کیخسرو ، زرتشت اور آذر ساسان اول و ہنجم کو پیغمبری کے لیے منتخب کیا اور ان سب کو مہ آباد اور کیورث کی شریعت پر مطابق عمل کرنے کی تلفین کی ۔ ان مبارک بادشاہوں پر آسمانی کتابیں بھی نازل ہوئیں اور یہ کتابیں مہ آباد کی کتابوں کے مطابق تھیں ۔ ان پیغمبروں کی جماعت میں کسی نے بھی زرتشت کے علاوہ آباد کے خلاف یا برعکس تعلیم نہیں دی تھی ۔ لیکن زرتشتی اس تاویل کرتے ہیں اور زرتشت کی تعلیم کو بھی مہ آباد کی تعلیم کے مطابق بتاتے ہیں ۔ اس لیے یہ زردشت کو دخشور سیمباری یعنی نبی ہرمز کہتے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں