63

میجر موکلر کا استدلال

میجر موکلر لکھتا ہے کہ نام بلوچ کے سلسلے میں ایک رائے دینے کی جسارت کروں گا ۔ جس میں صداقت کا عنصر موجود ہے تو شاید مجھ سے بہتر کوئی ماہر لسانیات اس کی تصدیق کرے گا ۔ وہو ہذا ۔ جب میں نے کسی بلوچ سے اس نام کے معنی پوچھا تو اس نے لازماً یہی جواب دیا ۔ (گویا یہ ایک ضرب المثل تھا ) بلوک بدروک ( بعض حصوں میں بدوش ) بد کے معنی برا اور روک یا روش معنی دن کے ہیں ۔ ( روز فازسی میں ) گویا پہلوی یا زند ( قدیم فارسی ) میں بلوچی یا جدید فارسی بد کے ہم معنی ہے ۔ لہذا بدروک یا بدروش یا بدروس مترادف ہے ۔ قدیم تر پہلوی یا زند کے گدروک یا گدروش اور یونایوں کے گدروشی یا جدروشی کے آوازوں کے باہمی تغیر پزیری کی وجہ سے بدروک یا بدلوک کے مساوی ہوجاتا ہے ۔ جس میں سے ’د’ قدرتاً حذف ہوجائے تو بلوک جیدروشی کے مساوی ہوجا ہے ۔ اگر اس انداز سے گدروک سے بلوک کا اشقیاق ہو تو لسانی لحاظ سے ناقابل قبول گردانا جائے تو پھر ہم یہ فرض کوسکتے ہیں کہ یونانیوں کے وقت بدبلوک یا بدروش کی کی ضرب المثل زبان و خاص و وام تھی ۔ لیکن یہ ان دنوں بلوک گدرش کہلاتے تھے اور یونانیوں نے اس کے اس نام کے بدلے لکھا ہے جو یقناً بلوص ( یا بلوچی ) سے ماخوذ تھا ۔

میجر موکلر کا استدلال اگرچہ اپنی جگہ درست ہے ۔ تاہم یہ حقائق پر مبنی نہیں ہے ، اسے لسانی اور تاریخی حوالے سے رد کیا جاسکتا ہے اور اس لیے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔

ہم میجر موکلر کے اس استدلال کو لسانی لحاظ سے رد نہیں کرسکتے ہیں ۔ کیوں کہ فارسی گ یا گو کے بدلے ب سے بلوچی میں بدل جاتا ہے ۔ مثلاً گوات برائے باد ۔ بارگیش برائے بیش ، گوازے برائے بازی ، گوان ( گوانگ ) برائے بانگ ۔

مکران گزیٹیر میں ہے کہ مکران کی قدیم آبادی کے بارے میں آرین لکھتا ہے کہ اندرونی آبادی اوریطائی اور جیدضوی یا جید روسوئی یا جدروشیہ ہے ۔ جید روشوئی کی شناخت گدور سے ہوتی ہے ۔ جس میں سے چند لس بیلہ میں رہنے والے ریاست کی جٹ یا جدگال آبادی کا حصہ ہیں ۔

مکران گزیٹیر میں گدرا کی نشادہی جدروشیہ سے کی گئی ہے ۔ جب کہ لسبیلہ گزیٹیر میں گدرا کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ حبشی النسل غلاموں کی اولاد ہیں ۔ ان کے نقوش حبشی النسل ہیں اور انہیں ماضی میں خوجے درآمد کیا کرتے تھے ۔ اس کا مطلب یہی ہے گدرا یونانیوں کے گدوشیہ یا جدروشیہ نہیں ہوسکتے ہیں ۔ یونانیوں کے بیانات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ قبیلہ کثیر تعداد میں اور وسیع علاقہ میں پھیلا ہوا قبیلہ تھا ۔ کیوں کہ لس بیلہ سے مکران تک ان کا ذکر ملتا ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قبیلہ کہاں گیا ;238; اگر ہے تو اس کی موجودہ شکل کیا ہے ;238;

بلوچستان گزٹیر کے مطابق جاٹ یہاں کے قدیم باشندے ہیں اور یہ یہاں جدگال کی شکل میں موجود ہیں ، نیز اس کے علاوہ جٹ ، جت ، جتک ، جتوئی کے علاہ اور دوسری شکلوں میں بھی ملتے ہیں اور آبادی کا بڑا حصہ ان پر مشتمل ہے ۔ اس کلمہ کا ابتدائی حصہ ’ جد ‘ یونانیو کے ’ جد ‘ کی ہم آواز ہے جو کہ جاٹ سے مشتق ہے ، جب کہ گال یا گل مجموعہ کے معنی دیتا ہے ، اس طرح اس کے معنی جاٹوں کا قبیلہ کے ہیں ۔ یہاں یونانیوں نے کلمہ گال کی جگہ روسئی یا روشیہ استعمال کیا ہے اور یہ کلمہ بھی نسبتی ہے اور یونانیوں نے یہ نسبتی کلمہ بہت سی قوموں کےلیے استعمال کیا ہے اور اس کے معنی جد گالوں کے قبیلہ کہ ہیں ۔

جاٹ یا جٹ سیتھی النسل قبائل ہیں کیوں کہ یہ عادات و اطووار میں قدیم سیتھیوں سے بہت قریب ہیں ، انہی کی طرح وسیع المشروب ہیں ، اس طرح کی دوسری خصوصیات ان میں اب بھی موجود ہیں ، اسلیے مورخین نے سیتھیوں کو جاٹ کے اخلاف بتایا ہے ۔

دارا نے سیتھی قبائل کو ان کی شورش پسندی کی بناء پر انہیں اپنی سلطنت کی مشرقی حصہ یعنی بلوچستان میں جلا الوطن کردیا تھا اور ان کے نام کتبہ بہہ ستون میں درج ہیں ۔ مگر دو سو سال بعد سکندر بلوچستان سے گزرا تو یونانیوں نے ان سیتھی قبائل کا کو کوئی ذکر نہیں کیا ۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ سکندر کے زمانے تک سیتھی قبائل اپنی اصلیت بھلا کر یہاں کے ماحول سے پوری طرح ہم آہنگ ہو چکے تھے ۔ اسلیے سکندر کے مورخین نے ان قبائل کا ذکر جدروشیہ یا جدرسیہ یا گدروشیہ کے نام سے کیا ہے ۔

گو بعد کے زمانے یعنی یونانیوں کے بعد سیتھی اس علاقہ میں دوبارہ آئے تھے اور اس علاقہ میں پوری طرح چھاگئے تھے اور یہاں کے باشندوں کو اپنا محکوم بنالیا تھا ۔ مگر بنیادی طور پر یہ دونوں گروہ ایک نسل کے سرچشمہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مگر ایک طویل عرصہ یعنی تقریباً پانسو سال سے زیادہ وقت کے فاصلوں نے ان کے درمیان دوری پیدا کردی تھی ۔ اس طرح ان میں مذہب اور لسانی تفریق کے رہن سہن بھی بدل چکا تھا ۔ یہی وجہ ہے عرب یہاں آئے تو انہوں نے یہاں کے قدیم باشندوں کو جاٹ بتایا ۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہاں مقامی روایات اور عربوں کے مطابق یہاں ترک بھی آباد تھے ۔ اس سلسلے میں توران کی ریاست کا ذکر کے علاوہ عربوں سے اٹھارہ ترک سوار جن کے گھوڑوں کی د میں کٹی تھیں کا ذکر کیا ہے ۔ وہ کون تھے ترک تھے یا سیتھی ;238;

بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے یہ ترک ہی تھے ۔ سیتھیوں کو یہاں آئے ہوئے تقریباً آٹھ سو سال گزر چکے تھے اور وہ یہاں کے ماحول سے پوری طرح آہنگ ہوچکے تھے اور یہ ترک ہی تھی ۔ کیوں عربوں کی آمد سے کچھ پہلے نوشیروان کی دعوت پر ترک یہاں نفوذ کرچکے تھے ۔ جس نے ترکوں کو ہنوں کی شورشوں کو ختم کرنے کے لیے بلایا تھا اور پھر ترک افغانستان سے دریائے سندھ کے کنارے تک چھاگئے تھے ۔ ترکوں سے پہلے ہنوں کی اس علاقہ میں حکومت تھی ۔ اس طرح عربوں کی آمد کے وقت یہاں کی آبادی جاٹ یعنی سیتھی النسل کے باشندوں کی تھی ۔

تہذیب و ترتیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں