68

میرے علمیت

عجیب بات ہے میری محدود علمیت کے باوجود مجھ پر ہمیشہ صاحب علم کا الزام لگتا رہا اور لوگ معلوم نہیں مجھے کیا مجھتے رہے ہیں ۔ حالانکہ میں بارہا اس کی ترید کرتا رہا ہوں کہ میرا علم ناقص اور محدود ہے ۔ مگر کوئی بھی میری بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ میں اگر میں مطالعہ کا شوقین نہیں ہوتا تو یقینا کسی قابل ہوتا اور اس لیے میں اپنی کبھی بھی ایک اچھا طالب علم نہیں رہا ہوں اس لیے مشکل سے پاس ہوتا تھا ۔ اس کی وجہ یہ تھی مجھے کتابیں پڑھنے کی بیماری تھی اس لیے میں نے کبھی کورس کی کتابوں پر توجہ نہیں دی اور نہ نوٹس تیار کرتا تھا اور نہ ان کے رٹے لگاتا تھا ۔ جب امتحان آتے تو رات کو کتابوں پر ایک نظر ڈالتا اور صبح پیپر دے کر آتا ۔ مگر دوسرا مسلہ یہ تھا میں نہایت تیزی سے لکھتا تھا اس لیے میری رائٹنگ بہت بری ہوتی تھی ۔ اس میں سے اکثر الفاظ غائب ہوتے تھے اور کریلا پر نیم چڑھا سلبس سے ہٹ کر لکھتا تھا ۔ الجبرا اور انگلش پر میں نے کبھی توجہ نہیں دی ۔ البتہ میرے ٹیچر میرے سوالات سے بہت گھبراتے تھے ۔ اکثر ٹیچر مجھے اس کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی وہ اتنا کچھ نہیں جانتے تھے ۔ مثلاً ایک دفعہ میڑک میں فزکس کا پیریڈ تھا ہمارے استاد بھاری پانی بھاری پانی کا ذکر کر رہے تھے ۔ مگر میں نے اس بھاری پانی کے بارے میں سوال کیا جس میں غالباً اوکسیجن کے دو ایٹم ہوتے ہیں ۔ مگر استاد نے یہ کہہ کر بیٹھا دیا کہ یہ تمہارے کورس میں نہیں ہے ۔  
میں عام زندگی میں بہت بھلکڑ ہوں ۔ میں اپنے رومال ، موبائل ، پرس و پیسے ، چابیاں ، کتابیں اور دوسری چیزیں اکثر گرا دیتا ہوں ۔  بقایا پیسے لینا وغیر اکثر بھول جاتا ہوں ۔ امی مجھ سے نالاں تھیں میں بازار سے سامان لانے میں آدھی چیزیں بھول آتا تھا ۔ اس کے میں نے چیزوں کی تعداد گن لیتا تھا اور یہ بات الگ ہے فہرست میں کچھ سامان مختلف ہوجاتا تھا ۔ اس طرح قریبی لوگوں بلکہ بھائیوں کے نام بھی بھول جاتا ہوں اور کوئی کام کرتے ہوئے چیزیں ادھر کر دیتا ہوں ۔ بقول بیگم کے میری آدھی زندگی چیزیں ڈھونڈنے میں گزری ہے ۔ میں اس کے جواب میں مسکرا کر کہتا ، اس کے باوجود میں جو کچھ کرتا وہ دوسرے لوگ نہیں کرتے ہیں ۔ میرے ہر کام کرنے کی جستجو پر کہتی All the jak nan king ۔ اس کے جواب میں کہتا کیا میں نے اس کتاب لکھ کر ثابت نہیں کیا ۔ میری شادی سے پہلے ہی میرے بھائی اور بہنوں نے میری بیگم کو مزاق میں کہتے تھے بھابی کہیں جانا تو اپنا خیال رکھنا بھائی پر نہیں رہنا ۔ ورنہ بھائی تو تمہیں پھول آئیں گے ۔ دو طرح کی چپلیں ، دو رنگ کے موزے الٹے کپڑے اور دو طرح کپڑ تو عام بات رہی ہے ۔ ایک دفعہ الٹی شلوار پہن کر آفس گیا تو کلیک نے میرا مزاق اڑانا چاہا ۔ مگر سب کو میں نے سب کو یہ کہہ کر خاموش کرا دیا شکر کرو پہن کر آیا ہوں اور پہن کر نہیں آتا تو تم کیا کر لیتے ۔  
ایک دفعہ کسی نے مجھ سے یہ سوال کیا گیا کہ تمہارا پسندیدہ کھانا کون سا ہے ؟ میں پریشان ہوگیا اور جواب نہیں دے سکا ۔ گھر آکر بیگم سے یہی سوال کیا کہ میرا پسندیدہ کھانا کون سا ہے ؟ بیگم نے جواب دیا کوئی نہیں سبزی کے علاوہ اور دوسری چیزیں کھالتے ہو ۔ اس طرح میرا پسندیدہ موضع کون سا ہے ؟ اس کا جواب میرے لیے آسان نہیں ہے ۔ میں مختلف موضع پر لکھتا ہوں اور بہت سے خاص کر سائنسی موضع پر نہیں لکھتا ہوں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مجھے یہ ناپسند ہیں بلکہ اس بارے میں میری معلومات زیادہ نہیں ہیں ۔ جب میں باہر جاتا تھا تو اس سے پہلے بیگم میرے پرس کی تلاشی لیتی کہ پیسے ہیں کہ نہیں اور نہ ہونے کی صورت میں پیسے رکھ دیتی تھی ۔    
مجھے سب سے بری بات جو لوگوں کی لگتی ہے وہ وقت کا ضیاء اور وقت پابندی نہیں کرتے ہیں ۔ اس لیے میرے پاس ہر وقت کتاب رہتی ہے اور میں اس کا مطالع کرنا شروع کردیتا ہوں ۔ میں نہیں جانتا ہوں میری زندگی نارمل تھی کہ نہیں ۔ مگر قابل رشک ضرور رہی ہے ۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا اور جو کچھ میرے پاس نہیں رہا تو اس کی طمع میں نے نہیں کی ۔ کیوں کہ ایک اچھا جواری ان پتوں ہی سے کھیلتا ہے جو اس کے پاس ہوں ۔ وہ اپنی ہرانے کا الزام پتوں کو دینے کے بجائے اگلی بازی چیتنے کی کوشش کرتا اور میں بھی وہی کچھ کرتا ہوں ۔
اپنی آوارگی وحشت کا سبب  
ہمیں معلوم ہے تمیں کیا بتائیں

عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں