113

میر تقی میر کی بلی کے بچے

ہمارے ملک میں اولاد نہ ہونے پر یا اس کے مر جانے پر داوؤں پر کم یا اس کے ساتھ تعویز گنڈوں ، منتیں مزاروں کے چکر اور اور طرح طرح ٹوٹکے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ آج بھی اس ترقی یافتہ دور میں اصل اساب کے بجائے ان پر زور دیا جاتا ہے ۔ جو کہ اب ہمارے معاشرے میں کم ہوگیا ہے مگر ختم نہیں ہوا ۔ اس کی بنیادی وجہ تعلیم سے لوگوں میں شعور میں اضافہ اور علاج کی سہولتوں میں اضافہ ہے ۔ مگر تعویز گنڈوں کا سبب اہوام پرستی ہے جو ہمارے ذہنی سے ختم نہیں ہوئی ہے اور امید ہوتی ہے شاید اس طرح اولاد ہوجائے گی ۔
پہلے برصغیر کے لوگوں ضعیف اعتقادی بہت پھیلی ہوئی تھی ۔ خاص طور پر اولاد کے لیے تو بہت جتن اب بہت کیے جاتے ہیں ۔ اس وقت لوگوں میں ہندوؤں کے زیر اثر اس درجہ سرایت کرگیا تھا پہلے جن کی الاد نہیں ہوتی تھی یا مرجاتی تھی وہ تعویز گنڈے اور ٹوٹکے وغیرہ کیا کرتا تھا ۔ مثلاً حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی کی درگا پر ایک چشمہ تھا اور اس چشمہ کے بارے میں مشہور تھا کہ اس چشمہ میں نہانے سے شفا ہوتی ہے اور اگر لاولد میاں بیوی اس میں غسل کرلیں تو اولاد ہوجاتی ہے ، چنانچہ جہاندار شاہ نے اولا کے لیے یہاں اپنی بیوی کے ساتھ غسل کیا تھا ۔ یہ ٹوٹکہ وغیرہ انسانوں کے علاوہ جانوروں کے لیے کئے جاتے تھے ۔ ان کی بنیاد توہم پرستی تھی ۔ میر تقی میر کی ایک بلی تھی اور جب کبھی وہ بچے دیتی تو مرجاتے تھے ۔ میر تقی میر اس کے بچوں کی زندگی کے لیے تعویز گنڈے اور ٹوٹکے کئے تھے جب کہیں جاکر اس بلی کے بچے زندہ رہے اور میر تقی میر اسے منظوم بھی کیا جو کہ ان کی کلیات میں ہے ۔  

حاملہ ہوکر کئی بچے دیئے

ایک دو بھی سونہ ان میں سے جئیے
متصل ایسا ہوا جو اتفاق

مرگ بچوں کی گزری سب پہ شاق
حفظ اس کی کوکھ کا لازم ہو

جھاڑے پھونکے ہر ایک عازم ہو
نذرین مانیں نقش لائے ڈھونڈ کر

نیل کے ڈوروں میں باندھے پیٹ پر
چھچھڑوں پر بعضوں نے افسوں لکھے

بعضوں نے تعویز لے کر خوں لکھے
بی بلائی سے بہت کی التجا

گربہ محراب سے چاہی دعا
گوشت کی چیلوں کو بھنکیں بوٹیاں

مالش کی موٹی پکائی روٹیاں
لڑکیاں مٹھائیاں کھاٹوں کے

اس طرح جو دبکی بلی کم ملے
دیتے ٹکڑا منھ کو ہر ایک کھولتے

اور بولی بلیوں کی بولتے
صدقے اترے چھچھڑے جو ڈھیر دھیر

گربہ لاوہ نے کھائے ہوکے سیر
کہیں مناجاتیں دن شب لاتعداد

گربہ زاہد سے چاہی مدد
بوہریرہ کے تئیں مانا بہت

بلیوں کو دیا کھانا بہت
پانچ بچے اس نے نوبت دیئے

بارے بس وے قدرت حق جئیے
یکیوں نہ ایسی ہووے انداد سترگ

بی بلائی بوہری بس بس بزرگ
بچوں کی ولادت اور اس کے زندہ رہنا بی بلائی کا طفیل سمجھا جاتا تھا
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں