94

ناصری

نعمت اللہ ہروی اس قبیلہ کا ذکر نہیں کرتا ہے ۔ شیر محمد گنڈاپور لکھتا ہے کہ ناصر کا نسب کماحقہ معلوم نہیں ہے ، ناصری خود کو غلزئی کی شاخ تصور کرتے ہیں اور ہوتکوں میں اپنی شمولیت کا اظہار کرتے ہیں ۔ لیکن ہوتکی ان کو اپنا ہم قوم نہیں مانتے ہیں اور انہیں اپنی رعیت سمجھتے ہیں ۔ بعض ناصری شاہ حسین غوری کو اپنا مورث اعلیٰ بیان کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض خود کو سادات کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ بعض لوگ انہیں بلوچ قوم کی شاخ خیال کرتے ہیں ۔ بعض لوگ انہیں لوہار کہتے ہیں اور انہیں آہنگری کا طعنہ دیتے ہیں ۔ بہر صورت اس قوم کا اصل حال معلوم نہیں ہے اور نہ ہی افغانوں کے انساب میں کہیں درج ہے ۔ بی ایس ڈاھیا انہیں جاٹ بتاتا ہے ۔

یہ غالباً مقامی باشندوںکی باقیات ہیں جنہیں آریائی حملہ آوروں نے مغلوب کرلیا تھا جو کہ سورج کی پوجا کرتے تھے اور اس کی اولاد کے مدعی تھے ۔ جب کہ مقامی باشندے مقامی دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے ۔ اس وجہ سے ان کو ناسر یعنی سورج کی پوجا نہ کرنے والے ۔ مسلمان ہونے کے بعد یہ کلمہ معرب ہوکر ناصر ہوگیا ۔ یہ اپنی اصلیت بھول گئے تاہم دوسرے قبائل کو احساس تھا کہ ان کا نسب چنداں بلند نہیں ہے ۔

کمتر نسل سے تعلق ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنی معاشرتی حثیت بلند کرنے کے لئے غلزئیوں نے اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کی لئے انہیں اپنے قبیلہ میں شامل تو کرلیا مگر اپنے میں ضم نہیں کرسکے ۔ اس کی وجہ ان کا نسلی طور پر کمتر ہونا تھا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں