60

ناگ ارجن

ناگ ارجن بدھ مت کا پیروکار ، فلسفی اور سائنسدان تھا ۔ اس نے بدھ فرقہ مہایان کی ایک شاخ مادھمک کی بنیاد رکھی ۔ اس کی بارے میں بہت کم معلومات ہیں ۔ ان کے بارے مشہور ہے کہ وہ کیمیا گر سائنسدان ، مصور اور مشہور مصنف تھا ۔ ناگ ارجن جنوبی ہند کا ایک برہمن تھا ۔ یہ دوسری صدی عیسوی میں برار اڑیسہ میں پیدا ہوا ۔ کمار جیو نے ناگ ارجن سوانعمری ۴۰۵ء؁ میں چینی زبان میں لکھی ہے اس کے مطابق ناگ ارجن کی پیدائیش دوسری صدی عیسوی کی ہے ۔ شربت چندر داس کا کہنا ہے کہ تبت کے دلائی لامہ کے پاس جو کہانی ہے اس کے حساب سے ناگ ارجن کی پیدائش عیسیٰؑ کی پیدائش سے ۵۶ سال پہلے ان کی پیدائش ہوئی تھی ۔ ہیونگ سانگ کا کہنا ہے کہ نارگ ارجن بدھ کے مرنے کے چارسو سال پہلے پیدا ہوا تھا ۔ 

روایت کے مطابق ناگ ارجن کے مقابلے میں شاستر جاننے والا اس زمانے کوئی دوسرا نہیں تھا ۔ چینی یاتری ہوانگ سانگ ان کے بارے میں لکھتا ہے کہ دنیا کو چمکانے والے چار سورج ہوئے ، ان میں سے ناگ ارجن ہے ۔ انہوں نے بدھ فلسفہ کے مادھمک مت کی تنظیم نو کی جو کہ مہایان کی ایک شاخ ہے ان کے عقیدے کو مادھمک یعنی بیچ کا راستہ کہتے ہیں ۔ سارتھ ناتھ میں بدھ نے اپنی پہلی تقریر میں بھی مادھیم مارگ یعنی بیچ کا راستہ کی بات کی تھی ۔ لیکن مادھمک مت والوں کا راستہ بدھ کے مادھیم مارگ سے مختلف ہے ۔ یہ نہ تو سنسار کی سچائی کو مانتے ہیں اور نہ ہی دنیا سے نجات پانے کو ۔
ناگ ارجن کی کتابوں کا چینی میں ترجمہ ہوا ہے ۔ وہاں یہ سان لون یا سان رین کہلاتی ہیں ۔ یہ تین کتابیں ہیں اور ان میں پہلی کتاب جس میں ۴۰۰ اشلوک ہیں ، دوسری کتاب بارہ راستہ یہ ناگ ارجن کی لکھی کتابیں ہیں اور تیسری کتاب شت شاستر ہے یہ ناگ ارجن کے شاگرد آریہ دیو کی لکھی ہوئی ہے ۔ شیرا فرقہ کا خیال ہے کہ ناگ ارجن کی چوتھی کتاب شہی لن بھی ہے ۔ ناگ ارجن کی کتابیں پہنچیں تو لوگ اس سے بہت متاثر ہوئے اور اس کے پیرو کار ہوگئے ۔ بعد میں ساتویں صدی عیسویں میں یہ کتابیں کوریا اور جاپان پہنچ گئیں اور وہاں کی مذہبی کتابون میں ان کا شمار ہوتا ۔ ناگ ارجن کی مشہور کتات ’مول مدھیم کاریکا‘ کہتے ہیں ۔ ان کے مت کو ’شونیاود‘ بھی کہتے ہیں ۔ ناگ ارجن نے دنیا کو محض خواب و خیال یا مایا کہا ہے ۔ ناگ ارجن نے ہندو دیوتاؤں کو بدھ مت میں شامل کرلیا ۔ اس طرح بدھ کی پوجا کا ڈھنگ ناگ ارجن نے ہندوؤں جیسا کردیا ۔ تبت میں بھی ناگ ارجن کی پوجا ہوتی ہے ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں