84

ناگ

سانپ یا سانپوں کا بادشاہ شیش کہلاتا ہے اور رگ وید میں مختلف مقامات پر داسیو دشمنوں کو ہزارہا گالیاں دی ہیں اور انہیں حقارت سے شیش یا ششن کے پوجنے والے کہا گیا ہے ۔ اس سے یہ خیال پیدا ہوا کہ ممکن ہے سانپوں اور سانپ زادوں کے کوئی حقیقی معنی ہوں گے ۔ مثلاً رگ وید میں اندر اور آہی (سانپ) کی لڑائی کا اکثر ذکر آیا ہے ۔ جس میں اندر جو آریاؤں کا حامی تھا بالآخر فتح ہوئی تھی ۔ اب سوال یہ اٹھا کہ کیا اس سے ہمشہ کی طرح ایک فطری افسانہ ہی مراد ہے اور سانپ بادل کا سانپ ہے ۔ مگر بعد میں جو تحقیقات ہوئیں اس سے معلوم ہوا یہاں سانپ سے مراد سانپ کو پوجنے والوں سے ہے اور آریوں کے حامی دیوتا اندر اور داسیو کے سانپ دیوتا کی جنگ کو شاعرانہ زبان میں اس جنگ سے مراد ہے جو مسلسل دونوں قوموں میں عرصے تک جاری رہی ۔ داسیو جس کے ابتدا میں تاریکی ، خشک سالی اور جاڑے کے بھوتوں کو کہا جاتا تھا ، جس سے روشنی یا نور کے دیوتا لڑتے تھے ۔ مگر بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ داسیوں سے مراد دشمن بھی ہیں ۔ اس طرح ممکن ہے افسانوں کے بادلوں سے سانپ مراد ہوں جو ان کے دشمنوں کے دیوتا تھے ۔

سانپ کو گو آریا پسند نہیں کرتے تھے مگر وہ اس سے متاثر ضرور ہوئے اور رفتہ رفتہ انہوں نے سانپ دیوتا کی پوجا شروع کردی ۔ بعد کے زمانہ کی قدیم شاعری میں ناگاؤں ( سانپ یا افعی نما نیم انسان نیم افعی جو انسان سے زیادہ عقلمند ہوتے تھے بہت احترام کرنے لگے ۔ اس سے اس اثر کی تصدیق ہوتی ہے ۔ موجودہ دور میں ہندو مذہب میں بھی سانپوں کا خاص احترام ہوتا ہے اور ناگ پنجمی کا سالانہ تہوار بھی سانپوں کے احترام میں ہوتا ہے ۔ ہندوستان میں باوجود اس کے ہزاروں جانیں ساپنوں کے کاٹنے سے جاتی ہیں مگر کوئی ان سے نفرت نہیں کرتا ہے ۔ ناگ پنچمی کا تہوار جولائی کے آخر میں سانپوں کی رضا جوئی کے لیے ہوتا ہے ۔ لوگ جوق جوق جاتے ہیں اور سپیرے بھی سانپ لے کر شہروں میں پہنچتے ہیں ۔ اس میلے میں سانپوں کو دودھ کونڈں میں پلایا جاتا ہے ۔ لوگ انہیں خوشی سے دیکھتے ہیں ۔

ناگ مندر شمالی ہند میں نہیں ہیں اور ان کے پجاری اکثر نچلی ذات کہ ہیں ۔ سانپوں سے آریاؤں کو جو نفرت ہے وہ اونچی ذاتوں میں ابھی قائم ہے ۔ وہ سانپ کا اچانگ آجانا بدشگونی خیال کرتے ہیں ۔ اگر کوئی برہمن صبح سانپ دیکھ لے تو وہ اس روز کا کام چھوڑ دے گا ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں