nasal o zaban 71

نسل و زبان

لیکن مشترکہ زبان و مشترکہ تمدن اور نسل میں بہت فرق ہے ۔ اکثر حملہ آور قومیں جب کسی سرزمین پر حملہ کرتی ہیں تو فاتح یا مفتوح کی زبان میں تبدیلی آتی ہے ۔ اگر بہت سی قومیں ایک زبان بولیں تو اس سے ایک نسل کا ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے ۔ لسانی اور نسلی نقطہ نظر سے اس نظریہ کی ذرا اہمیت نہیں ہے ۔

زبان سے نسل کے تعلق کو سب سے زیادہ الزام فریدرش میکس ملر کو دیا جاتا ہے ۔ کیون کہ اس نے ابتدا میں شلائشر اور بیون سن کے خیالات کو زیادہ ہمنوائی کی اور اس نے ایک اصطلاح آریائی کو مروج کیا تھا ۔ اس کے لیے اس نے جو دلیلیں دیں وہ یہ تھیں ۔

(1) ہند ایرانی شاخ تمام آریائی زبانوں سے پرانی ہے اور یہ اپنے وطن میں آریائی کہلاتی ہے ۔ اس لیے اس خاندان کی زبانوں کو آریائی کہلانا چاہیے ۔

(2) قدیم آریائی زبان جس خطے میں پرورش پائی وہ وسط ایشیا کا وہی حصہ ہوگا جس کو روما ایریانا کہتے تھے ۔

میکس ملر نے پہلی مرتبہ آریائی کی زبانوں کی بنیاد پر آریائی نسل کا نظریہ قائم کیا تھا ۔ بعد میں اس نے اپنا موقف بدل لیا اور اس کی تردید کی کوشش کی ۔ اس کا کہنا تھا کہ آریائی نسل یا سامی نسل سے میری مراد ان لوگوں سے تھی جو کہ آریائی یا سامی زبانیں بولتے ہیں ۔ اس نے 1853ء میں بیون سن کو تورانی زبانیں کے عنوان سے ایک خط لکھا ۔ اس میں اس نے لکھا تھا لسانی تحقیق اور انسانیات کی تحقیق کو ایک دوسرے سے جدا کر دینا چاہیے ۔ کسی کھوپڑی کو آریائی قرار دینا ایسا ہی وحشت ناک ہے کہ جیسے کہ کسی ڈے لی کوسی فالک (لمبے اور پتلے سروں والی) زبان کا تذکرہ ۔ جہاں تک ہمیں قدیم آریائی ، سامی اور تورانی زبانوں کا علم ہے اور ہمیں یہی معلوم ہوا ہے بیرونی الفاظ سب ہی مستعار لیے گئے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے یہ زبانیں بولنے والے آبا و اجداد ایک دوسرے کے قریبی ہمسائے تھے تو کیا ان میں امن کے زمانے میں شادیاں نہیں ہوئی ہوں گیں اور کیا جنگ کے زمانے میں وہ مردوں کو مار کر عورتوں پکڑ کر نہ لے جاتے ہوں گے ؟ لسانیات کے طالب علم جب آریاؤں کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا مطلب ان لوگوں سے ہوتا ہے جو کہ آریائی زبانیں بولتے ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ آریا وہ لوگ ہیں جو آریائی زبانیں بولتے ہیں ۔ چاہے ان کا رنگ و خون کیسا ہی کیوں نہ ہو ۔ ان کو آریا کہنے سے ہمارا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کی زبان کی گرامر آریائی ہے ۔ مقدس قانونی کتابوں سے ہمیں دھوکا نہیں کھانا چاہیے ۔ محض یہ امر ان میں مختلف نسلوں کے لوگون کو دیکھا جاتا ہے کہ انسانی فطرت ان احکامات سے ذیادہ زبردست ہے ۔ قانون مین ممانعت ہو یا اجازت ہے لیکن باہمی شادیاں اور بیاہ ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں ۔     

میکس ملر کی تردید کے باوجود آریائی نسل کے نام پر انیسویں صدی میں یورپ میں نسلی امتیاز کے لیے ایک اچھا ہتھیار ہاتھ لگ گیا تھا اور فرانس کے گوبی نو Gobinean اور جرمنی کوزی نا Kossinna آریائی نسل کے نظریہ کو بڑھایا ۔ یہاں تک انگلینڈ بعض ادیبوں مثلاً کار لائل اور چارلس کنگسلے نے بھی اپنے مضامین مین آریائی نسل کا ذکر کیا ۔ اس طرح ایس جی ویلز نے اپنے تاریخ عالم میں آریائی زبان بولنے والوں کو آریائی نسل قرار دیا ۔ 

علم انسانیات کے ایک ماہر ہوریشیوہیل اس بنا پر کہ ڈراویڈی زبانوں اور آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کے قوائد میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں اور اس کے علاوہ اور دوسری بنیادوں پر ڈراویڈی اور آسٹریلیا کے قدیم باشندوں میں نسلی تعلق ظاہر کرنے کی کوشش کی ۔ مگر اس کا دارومدار زبان پر تھا ۔  

انیسویں صدی میں یورپ کی ملک گیری اور شہنشاہی نے بہت زرایع اختیار کئے ۔ ان میں ایک نسل کا کا نظریہ بھی تھا ۔ جس کے مطابق بعض نسلیں طبعاً پست اور ادنی درجہ کی ہوتی ہیں اور اعلیٰ نسلوں کا فرض ہے کہ انہیں تعلیم دی جائے ۔ اس نظریہ کے مطابق نسل کی بنیاد کبھی رنگ پر رکھی گئی اور کبھی زبان پر ۔ اس طرح آریائی نسل کے نظریہ کو مقبولیت حاصل ہوئی ۔

بعض نسلوں کی طبعی اور فطری فرستی کا نظریہ سب سے پہلے ایک فرانسیسی امیر ژوزف گوبی نو نے پیش کیا ۔ اس نے اپنی کتاب انسانی نسلوں کی عدم مساوات جو 1855ء میں شائع ہوئی ۔ اس میں آریائی نسلوں کی برتری کا دعویٰ کیا گیا ۔ ایک اور فرانسیسی لاپوز نے اپنی کتاب لارین Laryen میں آریائی اور نارڈک نسلوں کو ایک ہی ثابت کرنے کی کوشش کی ۔

جرمنی میں مشرقی پروشیا کے گستاف کوزی نا نے نسل کے تصور اور قدیم جرمنی کے آثار قدیمہ میں تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ کوزی نا کے مطابق ناڈرک یا جرمانی یا آرین ہم معنیٰ ہیں اور جرمنوں کے علاوہ اہل اسکنڈی نیویا بھی آریائی یا نارڈک نسل کہلانے کے مستحق ہیں ۔ یوں آریانی نسل کا نظریہ نارڈک نسل میں ضم ہوتا گیا ۔ اس آریائی نسل کے نظریہ نے سفید نسل کے نظریہ کو جنم لیا کہ یہ سفید نسل دوسری نسلوں سے برتر اور اعلیٰ ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں