nasal-parasti-k-nazriyat 75

نسل پرستی کے نظریات

(۱) مذہبی نظریہ ۔ اس کے مطابق تمام بنی نوع انسان حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں حام ، سامی اور یافت کی نسل سے ہیں ۔ یہ نظریہ امریکہ کی نسل سے متروک ہوچکا ہے ۔ اس کے علاوہ زرد اور شرق الہند کی نسلوں اس میں فٹ نہیں ہوتے ہیں ۔

(۲) سفید رنگ کی نسل کا نظریہ ۔ اہل یورپ جن کا عام طور سفید رنگ ہے ۔ اپنے آپ کو ایک علحیدہ گروہ سمجھتے ہیں ۔ اس میں کچھ ترک ، ایرانی اور یہودی بھی شامل ہوتے ہیں ۔

(۳) آریائی نسل کا نظریہ ۔ اس میں ایک بڑا نقص ہے بہت سی رنگدار قومیں روس کے جارجی اور آرمینی بھی آریائی زبانیں بولتی ہیں اور انہوں نے بھی آریا ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس لیے ایشیائی قوموں کو مخلوط قراد دیا گیا اور یورپیوں کو نارڈک نسل سے منسوب کیا گیا ۔ جرمنی میں اس نظریہ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی تھی ۔ اس میں خرابی یہ ہے کہ بہت سی یورپی اقوام جیسے فن ، استھونی ، ہنگری اور باسک آریائی زبانیں نہیں بولتی تھیں ۔ اس لیے جو قومیں آریائی زبانیں نہیں بولتی ہیں وہ اپنے یورپین یا سفید کہتی ہیں تھیں ۔   

ؔ (۴) یوروپین ہونے کا نظریہ ۔ اس نظریہ کا جغرافیائی حدود پر دارومدار تھا ۔ اس نظریے کے تحت یورپ کے لوگ دوسری نسلوں سے ممتاز قرار دیئے گئے ۔ قانونی طور پر بھی اس کا استعمال کیا گیا ۔ مثلا انگلستان کی سول سروس ایسے برطانوی باشندے اہل تھے جو یورپین نسل کے ہوں ، امریکہ میں آبادکاری کے لیے سفید غیر یورپین باشندوں کے علاوہ دوسرے باشندوں کے داخلہ کی ممانعت تھی ۔ انگلستان کی لبرل پارٹی نے بھی سفید یا آریائی یا نارڈک کے بجائے یورپین گروہ کی تائید کی ۔ جنگ عظیم اول میں برطانیہ کے وزیر اعظم نے کوشش کی کہ ترکی کا وجود یورپ میں باقی نہ رہے ۔ اب بھی اسی اصول کے تحت یورپین کامن مارکیٹ میں ترکی کو رکنیت نہیں دی جارہی ہے ۔ ایچ اے ایل فیشر نے اپنی تاریخ یورپ میں اس کا اعتراف کیا ہے کہ ایک یورپین تمدن بھی ہے اور ہم آسانی اس میں اور پیکن یا بنارس یا طہران کے باشندے میں تمیز کرسکتے ہیں۔ مگر اکثر ہندوستانیوں کو اکثر اٹلی ، اسپین اور یونان کے سمجھنا اور اس طرح بہت سے پرتگالی باشندوں کو ایشیا اور یورپ کے باشندے سمجھنا عام بات ہے ۔ نسلی ملاپ کے باعث مضخ جغرافیائی حدود کی بنا پر کوئی خط فاضل نہیں کھنچا جاسکتا ہے ۔ اس طرح بہت سے مصریوں ، شامیوں ، عربوں اور الجرائر اور تیونس کے بربر باشندوں کو یورپین سمجھا جاتا ہے ۔
(۵) نارڈک نسل کا نظریہ ۔ اس نظریہ کی بنیاد یورپ کی سفید نسل اصل میں نارڈک یعنی سفید سنہرے بالوں والی دراز قد نسل تھی ، جس کا وطن اسکینڈی یویا یا جنوبی روس تھا ۔ یہی نسل میڈی ٹرے نین نسل اور یوریشیائی نسلوں سے ملی اور ان کے رنگ کو سفید کر دیا ۔ یہ نسل جس کے خالص نمونے شمالی یورپ اور خصوصاٗ اسکینڈی نیویا ، جرمنی اور انگلینڈ میں نظر آتے ہیں ۔ یورپ کے مفکروں کے مطابق یہ بنی و نوع انسان کی عظیم نسل ہے ۔ نارڈک نسل کا نظریہ جرمنی میں سرکاری طور پر رائج رہا اور اس نظریہ پر جرمنی اور امریکہ کے نسلی اختلاط کے نظریوں کا مدار ہے ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں