94

نیرون کوٹ کا محل وقوع

(میری تحقیق کے مطابق حیدرآباد کے مقام پر نیرون کوٹ نہیں بلکہ راوڑ آباد تھا اور یہی گمان شمس العماء ڈاکٹر عمر داؤد پوتا کا ہے میں نے مختصر اسے بیان کیا ہے) 
تحفہ الکرام ہے کہ موجودہ حیدرآباد نیرون کوٹ کی قدیم بستی کی جگہ آباد تھا ۔ محب اللہ بھکری نے بھی لکھا ہے کہ حیدرآباد نیرون کوٹ کے نام سے مشہور تھا اور مغلوں کی تسخیر کے بعد یہ شہر حیدرآباد مشہور ہوا ۔ حیدر علی ارغون نے اس شہر کو نئے سرے سے تعمیر کرایا تھا ۔ ڈاکٹر عمر داؤد پوٹا کا خیال ہے کہ موجودہ حیدرآباد قدیم راوڑ کے مقام پر آباد ہے ۔ مگر اس کا کیا جائے نیرون کوٹ حیدر آباد کے مقام پر آباد تھا اس کی تائید چچ نامہ سے نہیں ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے تعلقات چچ نامہ میں لکھا ہے کہ یہاں یا تو عبارت میں خلل آگیا ہے یا اس وقت فرسنگ کا اطلاق ڈیڑھ میل پر ہوتا تھا ۔ لیکن ہم اس کو مان بھی لیں تو تب بھی محمد بن قاسم نقل و حرکت کی جغرافیائی تفصیل ملتی ہے اس سے اور مسلہ کھڑا ہوجاتا ۔ لہذا اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ 
بالاالذکر آپ پڑھ چکے ہیں کہ میر شیر علی قانع ٹھٹھوی نے حیدر آباد کو قدیم نیرون کا محل کوٹ بتایا ہے اور شمس العماء ڈاکٹر عمر داؤد پوتا نے راوڑ ۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ میر شیر علی قانع ٹھٹھوی کہنا درست ہے یا شمس العماء ڈاکٹر عمر داؤد پوتا ۔ ہمیں اس کے لیے محمد قاسم کی جغرافیائی نقل و حرکت تفصیلی غور کرنا ہوگا ۔ تب ہی ہم اس کے لیے کسی حتمی رائے پر پہنچ سکیں گے ۔ کہ نیرون کوٹ کہاں واقع تھا ۔  
صاحب فتح نامہ نے لکھا کہ دیبل کی فتح اور انتظامات سے فارغ ہوکر محمد بن قاسم نیرون کوٹ کی جانب روانہ ہوا ۔ جو کہ دیبل سے پچیس فرسنگ تھا ۔ ساتویں دن نیرون کوٹ کے سامنے برودی جسے بلہار بھی کہتے ہیں منزل انداز ہوا ۔ گرمی کا موسم تھا دریا میں ابھی پانی آیا نہیں تھا اور پانی کی شدید کمی کی وجہ سے لشکر کو پانی کی شدید تکلیف تھی ۔ پانی کی تکلیف دیکھ کر محمد بن قاسم نے نماز استقاء ادا کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔ سب نے مل کر نماز استقاء ادا کی ۔ اللہ نے اس کی دعائیں قبول کیں اور خوب بارش ہوئی اور ہر طرف جل تھل ایک ہوگیا ۔ نیرن کوٹ کے حکمران ایک شمنی (بدھ) تھا جو باہر گیا ہوا تھا ۔ وہ واپس آیا تو اس نے آکر قلعہ کے دروازے کھلوادیئے اور نیرون کوٹ بغیر کسی جنگ کے فتح ہوگیا ۔ محمد قاسم نے وہاں ایک مسجد تعمیر کرائی اور وہاں کے انتظامات سے فارغ ہوکر اس نے سیوستان کو فتح کرنے کا ارادے سے سیوستان روانہ ہوگیا ۔ 
نیرون کو ٹ سے محمد بن قاسم موج پہنچے جو نیرون کوٹ سے تیس فرسنگ کے فاصلے پر تھا ۔ لغت کے اعتبار سے موج کے معنی نہر یا تیز بہتے ہوئے پانی کے ہیں ۔ اس سے گمان ہوتا ہے کہ اسلامی لشکر کسی برساتی ندی کے قریب پہنچا تھا ۔ نیرون کوٹ میں محمد بن قاسم نے بارش کے لیے نماز استقاء ادا تھی ۔ اس سے گمان ہوتا ہے کہ بارش کا موسم شروع ہوچکا تھا ۔ اس موج کے مقام پر ہی ثمنی (بدھ) راہب آئے اور صلح کا عہد نامہ کیا ۔ بلازری کا بیان ہے کہ محمد بن قاسم مہران کے اسی طرف ایک نہر کو غبور کیا ۔ جہاں سر پیدس کے ثمنی اس کے پاس آئے اور اس سے صلح کا عہد نامہ کیا ۔ یعقوبی کا بیان ہے کہ محمد بن قاسم نے مہران کے اس طرف ایک نہر کو غبور کیا اور وہاں سے سیوستان روانہ ہوا ۔ بلازری اور یعقوبی کے ان حوالوں اور چچ نامہ کی عبارت میں پوری طرح مطابقت رکھتے ہے ہیں ۔ اس طرح ان دو مورخوں کے بیان ہے کہ وہ مہران (دریائے سندھ) کے اس طرف کے معنی یہ ہیں کہ یہ نہر مہران کے مغرب میں تھی ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا نالہ تھا جسے محمد بن قاسم نے سیوستان جاتے ہوئے پار کیا تھا ۔ بلازری کے قول کے مطابق نہر غبور کرنے کے بعد سرییدس کے ثمنی ملنے آئے تھے ۔ اس کا مطلب ہے ثمنوں کی بستی نہر کے پار کہیں تھی ۔ سن ندی کے مغرب میں قدیمی ٹیلے اور کھنڈرات ملتے ہیں ۔ اس مقام پر لکی بھی بہت پرانا مقام ہے ۔ جو اپنے قریب کے پہاڑوں اور پانی کے چشمہ کی بدولت بدھ مذہب کے راہبوں کے رہنے کے لیے ایک موزں مقام ہوسکتا ہے ۔ غالباً یہ ثمنی وہیں رہتے ہوں گے اور وہیں سے سیوستان کے حاکم بجھیرا کو پیغامات بھیج کر صلح کے لیے آمادہ کرتے ہوں گے ۔ اس معنی ہیں وہ سیوستان سے زیادہ دور نہیں ہوں گے ۔ اس لیے کہ لکی سیوستان سے زیادہ دور نہیں ہے ۔
ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کا کہنا ہے کہ نیرون کوٹ (موجودہ حیدرآباد) کا فاصلہ تیس فرسنگ لکھا ہے ۔ جو کہ حیدرآباد اور سیوہن کا درمیانی فاصلہ ہے ۔ جس وقت چچ نامہ لکھا گیا تھا اس وقت فرسنگ ڈیرھ میل ہوگا ، کیوں کہ حیدرآباد سے سن ندی ۴۵ میل ہے یا یہاں عبارت میں خلل ہے ۔ سی فرسنگ کہ تہت دمہ فرسنگ (تیئس فرسنگ) ہے ۔ جو کہ قریب قریب حیدرآباد اور لکی کے درمیانی فاصلے کے ہیں ۔ یہ ساری بحث ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے تعلقات چچ نامہ میں کی ہے ۔ 
مگر اس کا کیا کیا جائے اگر ہم اس کو تئیں فرسنگ مان لیں گے تو دیبل سے فاصلہ تیس فرسنگ لکھا اور اس کا کیا کریں گے ۔ اگر فرسنگ کا اطلاق ڈیڑھ میل پر کریں توکیا نیرون کوٹ موجودہ ٹھٹھ پر تھا ۔ ڈاکٹر صاحب کی دونوں صورتوں میں دیبل ، نیرون کوٹ اور سن ندی اپنے اپنے مقام پر نہیں بیٹھتی ہیں ۔ دوسری طرف ڈاکٹر صاحب کی وضاحت اور بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ محمد بن قاسم نے دریائے سندھ کو پار ہی نہیں کیا تھا ۔ اس سے یہ نتیجہ بآسانی اخذ ہوتا ہے کہ نیرون کوٹ موجود حیدر آباد کے مقام پر آباد ہی نہیں تھا ۔ کیوں کہ محمد بن قاسم نے اس مہم یعنی دیبل سے لے کر سیوستان تک دریا کو پار ہی نہیں کیا تھا اور سیوستان کے بعد محمد بن قاسم نے سیسم پہنچا ۔ وہاں اسے حجاج کا خط ملا ، جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ آگے بڑھنے کا خیال چھوڑ کر واپس نیرون کوٹ لوٹ جائے اور دریائے سندھ غبور کرکے داہر سے مقابلہ کرے ۔ حجاج کے اس جملے کا مطلب یہی ہے کہ نیرون کوٹ دریا کے مغرب میں آباد تھا ۔ جو کہ دیبل سے پچیس فرسنگ یعنی پچتر میل کے فاصلے پر آباد تھا ۔ ہم دیبل (موجودہ بھمبور) سے انڈس ہائی وے پر سفر کریں تو مکلی اور ٹھٹھ کے بعد ہم قدیمی آثار سونڈا کے مقام پر ملتے ہیں ۔ یہاں پتھروں کی قدیم خوشنما قبریں ملیں گی ۔ یہی وہ مقام ہے جو دیبل سے پچیس فرسنگ کے فاصلے پر ہے ۔ یہاں کے قدیم آثار کی تحقیق کریں اور یہاں کھدائی کروائیں تو یقناً اس کی شہادت مہیا ہوسکتی ہے کہ یہاں قدیم نیرون کوٹ آباد تھا ۔ کیوں کہ یہ مقام بھی ایک ٹیلے پر واقع ہے ۔ یہ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے ایک اہم مقام ہے میر شیر علی قانع ٹھٹھوی لکھتا ہے یہاں ایک قلعہ ہوا کرتا تھا ۔  
اور ہم اس مقام سے سیوستان کی جانب چلیں تو ہمیں سن ندی ملے گی ، جس کا فاصلہ یہاں سے تقریباً تیس فرسنگ یعنی ۹۰ میل بنتا ہے ۔ اس کی تائید ہمیں محمد بن قاسم کی نیرون کوٹ سے راوڑ پر قبصہ کے لیے سرگرمی سے ہوتی ہے مزید اصطخری کا یہ کہنا ہے کہ منصورہ سے نیرون کوٹ سے چار دن مسافت پر تھا ۔ یہی وجہ ہے رواٹی نے اعتراض کیا کہ حیدرآبا دو دن کی مسافت پر ہے اور اسی بنا پر راوٹی نے حیدر آباد کو نیرون کوٹ کے خرابہ پر ّآباد ہونے پر اعتراض کیا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں