95

وادی سندھ کی تہذیب کی تباہی

خیال کیا جاتا تھا پاک و ہند میں تمدن کی بنیاد آریاؤں نے ۱۵۰۰ ق م میں ڈالی تھی ۔ اس سے پہلے یہاں کے باشندے جنگلی اور تہذیب و تمذن سے کوسوں دور تھے ۔ بقول ویسنٹ اسمٹھ کے یہاں کبھی تامبے اور کانسہ کا دور آیا ہی نہیں ۔ مگر ہڑپا اور موہنجوداڑو کی دریافت نے اس ملک کی تاریخ کو ڈیرھ ہزار پیچھے کردیا اور جو معلومات ہوئیں ان سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ کی ہے کہ کہ آریوں کے آنے سے بہت پہلے یہ ملک تہذیب و تمذن کا گہوارہ بن چکا تھا ۔ 
اس عہد کے بارے میں تاریخی مواد بہت کم ہے ۔ سندھی تہذیب نامعلوم وجوہ کی بنا پر ۱۷۰۰ ق م میں تباہ ہوچکی تھی ۔ تاہم ویدی بیانات کی بنا پر مقامی قبائل کی ریاستیں قائم تھیں ۔ جو خاصہ ترقی یافتہ تھے ۔ ایسی شہادتیں ملتی ہیں کہ سمیریوں اور بابل کا قدیم ہندوستان سے تعلقات تھے ۔ آرین Arian نے ایک بندرگاہ پٹالہ کا ذکر کیا ہے جو کہ موجودہ حیدرآباد کے قریب واقع تھا ۔افسانوی اور زرمیہ قصوں میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ شہر سانپ کو پوجنے والی قوم (ڈراویڈی) کا درالسطنت تھا جو کہ آس پاس کے علاقہ پر حکمران تھا ۔ اس خاندان کا دونوں قوموں کی روایات سے اپنے مورث شاہ واسو کی ذریعے سے خاص تعلق تھا ۔ واسوکی کے نام سے واسوکی سانپ کا خیال آتا ہے ۔ اہل میڈیا بھی سانپ کو زمین کی نشانی کے طور پر پرستش کرتے تھے ۔ جس کو ایرانیوں نے بعد میں انگرامینیوش یعنی شیطان کر دیا ۔ جسے وہ موت اور زندگی کا دیوتا خیال کرتے تھے ۔    
وادی سندھ کے بارے میں ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ محض اس کے آثار کی بنا پر کہہ سکتے ہیں ۔ ہم ان کی تحریروں کو پڑھنے میں کامیاب نہیں ہوئے صرف دریافت شدہ مجسمے ، مہریں ، پتھر اور نقوش ہی ہماری رہنمائی کرتے ہیں اور یہی صرف ہمارے اندازوں اور قیاس کا سرچشمہ ہیں ۔ وادی سندھ کی تہذیب آریاؤں سے آنے سے پہلے کی تہذیب ہے ۔ 
اگرچہ رگ وید کے مطابق جب آریا برصغیر میں آئے تو یہاں انہوں نے جنگیں لڑیں اور ان کی مقامی باشندوں سے لڑنے کی تفیصلات ملتی ہیں ۔ انہوں نے جو پور اندر کی مدد سے تباہ کئے تھے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے ان کے آثار کیون نہیں ملے ۔ کہیں بھی ۱۵۰۰ ق م تا ۶۰۰ ق م درمیان کے آثار کیوں نہیں ملے ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب نہیں مل پارہا ہے ۔  
کسی عہد کی تاریخ کی تدوین میں پرانے کتبات کو دخل ہوتا ہے ۔ برصغٖیر میں سب سے قدیم کتبے وہ ہیں جو وادی سندھ کی مہروں پر پر کندہ ہیں ۔ لیکن بدقسمتی سے وہ اب تک پڑھے نہیں جاسکے ہیں ۔ اس عہد کا سب سے قدیم کتبہ ۳۰۰ ق م کا مہاراجہ اشوک کے دور کا کتبہ ہے ۔ ان دونوں کتبوں کے درمیان ابھی تک کوئی ایسا تحریری مواد دریافت نہیں ہوا ہے جو ہماری معلومات میں اضافہ کرسکے ۔ البتہ اسی دور سے متعلق مذہبی نوعیت کا وہ ادبی سرمایہ جو نسلاً بعد نسلاً بغیر کسی لفظی تغیر و تبدیل کے مودہ دور تک پہنچا اور حیطہ تحریر میں لایا گیا ۔ اس میں رگ وید سب سے پرانا ہے ۔ اس کا عہد ماہرین لسانیات نے بارہویں صدی ق م یا اس سے کچھ قبل اور ۶۰۰ ق م تجویز کیا ہے ۔ خیال کیا گیا ہے کہ یہی وہ عہد ہے جب آریا مغربی ایشیا میں داخل ہوئے ۔ چنانچہ رگ وید کی مدد سے ہم اس دور کی تاریخ تشکیل کرسکتے ہیں جب ۱۵۰۰ قبل مسیح کے لگ بھگ آریا یہاں آباد ہوئے ۔ 
سر مورٹیمر وہیلمر وہیلر کا کہنا ہے کہ رگ وید کے مطابق آریوں نے مقامی باشندوں کیے شہر پناہوں کے اندر بسے ہوئے شہروں کو تاخت و تاراج کیا ۔ ان بستیوں کے لیے رگ وید میں پور کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ جس کے معنی قلعہ یا چہار دیواری کے اندر بسی ہوئی آبادی وغیرہ کے لیے گئے ہیں ۔ ایک شہر کو وسیع (پرتھوی) اور چوڑا (یوروی) کہا گیا ہے ۔ بعض قلعوں کو فولاد کا بنا ہوا یعنی نہایت مظبوط بتایا گیا ہے ۔ بعض قلعے ایسے بتائے گئے ہیں جن کہ گر سرادی یعنیٰ موسمی قلعے تھے ۔ یعنی موسم برسات میں دریاؤں کی طغیانی اور سیلاب کا پانی دشمن کے حملے کے خلاف گویا قلعہ جیسی حفاظت کرتا ہوگا ۔ ایسے قلعے بھی بتائے گئے ہیں ، جن کو ست بھوجا کہا گیا ہے ۔ یعنی جن میں سو دیواریں تھیں ۔ آریاؤں کے دیوتا اندر کو پورم وادارا یعنی قلعہ شکن بھی کہا گیا ہے ۔ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اندر نے اپنے زیر حمایت دیوداس کے لیے نوئے قلعے تخسیر کئے تھے ۔ یہی وہ نوے قلعے تھے جن پر مقامی سردار سمبارا کی عملداری تھی اور جن کو اس نے اس طرح بھسم کردیا تھا کہ جیسے آگ کپڑے کو جلادیتی ہے ۔ 
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ قلعے کہاں تھے ؟ پہلے یہ خیال جاتا تھا کہ یہ سب قلعے فرضی اور اسطوری تھے ۔ لیکن ہڑپہ اور موہجودارو میں دریافت شہر کی پناہیں اور ستکاجن دور علی مراد اور دوسرے مقامات پر دریافت شدہ فصیلوں نے یہ نظریات تبدیل کر دیئے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے یہ فصیلیں رگ وید میں بیان کی ہوئی شہر پناہیں ہیں اور ان کے برباد کرنے والے اندر مہارج تھے ۔ 
سروہیلر اور سٹورٹ پگٹ نے یہ وادی سندھ کی تہذیب کی تباہی آریاؤں کے ہاتھوں تباہی ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ ان کا خیال ہے کہ آریا ہندوستان سے بلوچشتان کی طرف سے آئے ہوں گے ۔ علاقہ ژوب میں راعنا غنڈائی کے تیسرے دور کے اختتتام عینی ۲۰۰۰ ق م کے قریب تباہی بربادی اور لوٹ مار کے نشانات ملتے ہیں ۔ ایسے ہیں نشانات دوسرے مقاماپ پر بھی پائے گئے ہیں ۔ یہ بربادیاں اور ترک سکونت دریاؤں کی عارضی طغیانی ، تبدیلی آب و ہوا یا وباؤں کے سبب نہیں ہوئی تھیں ۔ بلکہ یہ بربریت کی ایک دلدوز داستان کی غمازی کرتی ہیں ۔ وسطی بلوچستان میں اکثر قدیم ٹیلوں پر راکھ کی تہیں اور ڈھیر پائے گئے ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی نے ساری بستی جلا کر پھونک دی ہو ۔ نال کے کھنڈرات کی زمین آگ میں جلنے کے سبب سرخی مائل ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ شور دمب یعنی سرخ کھنڈر کہلاتی ہے ۔ بلوچستان میں اعلیٰ پیامانے پر کھدائی نہیں ہوئی ۔ جس کی وجہ سے آتش زدگی کے مزید نشانات نہیں مل سکے ہیں ۔ لیکن عام تباہی اور بربادی کا ثبوت اکثر نظر آتا ہے ۔ 
یقینا نئے حملہ آور آئے ہوں گے ان کے بعد ہی کچھ ایسے حملہ آور آئے جو گلی ظروف استعمال کرتے تھے ۔ جن پر کوئی رنگ آمیزی نہیں کی جاتی تھی ۔ چنانچہ بلوچستان میں ایک نیا کلچر شاہی تمپ میں پایا جاتا ہے ۔ شاہی تمپ کے یہ لوگ دستہ والی کلہاڑیاں اور تانبے کی گول مہریں استعمال کرتے تھے ۔ ان لوگوں نے یہاں کے قدیم کلچر یعنی کلی کچر کو ختم کیا ۔ موہنجودارو کے آخر دور میں بھی ایسے ظروف گلی اور پتھر کے برتن ملے ہیں جو بلوچستان میں دریافت ہوئے ہیں اور جن سے اندازہ لگایا گیا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگ حملہ آوروں سے شکست کھا کر وادی سندھ میں عافیت کوش ہوئے ہوں گے ۔ 
ڈاکٹر وہیلر کے خیال میں وادی سندھ کے مغربی علاقوں پر حملہ آوروں کی تاخت و تاراج نے وادی سندھ پر گہرا اثر ڈالا ۔ لوگ بھاگ بھاگ کر یہاں آئے آبادی بڑھی ۔ افراط و تفریط ہوئی بڑے بڑے کمرے چھوٹے کمروں میں تبدیل ہوئے ۔ محل مکانات بن گئے ۔ کمہاروں کی بھٹیاں شہر کے اندر حتیٰ سڑک کے اوپر بنائی جانے لگیں ۔ گلیوں کی منصوبہ بندی ختم ہوئی ۔ تازہ واردوں کی آمد سے قانون اور امن میں خلل پڑا ۔ الغرض صورت حال نازک ہوگئی تھی ۔ حملہ آور وادی سندھ کے دروازے پر دستک دے رہا تھا ۔ حکام شہر لوگوں سے صدیوں پرانے بلدیاتی قوانین کی پابندی نہ کراسکے ۔ بدنظمی پیدا ہوئی ۔ جس کے نشانات موہجودارو کی بالائی سطح پر دیکھے جاسکتے ہیں ۔ یہاں تک کہ حملہ آور بڑ آئے ۔ لیکن ان کے آنے سے پہلے ہی کافی تعداد میں لوگ شہر چھوڑ کر بھاگ چکے تھے ۔ پہلے ہی کافی تعداد میں لوگ شہر چھوڑ کر بھاگ چکے تھے اور جو بچ رہے تھے وہ حملہ آوروں کے قتل و غارت کا نشانہ بنے ۔ اس بات کے شواہد ملتے ہیں کہ موہنجودارو کے آخر میں مرد عورتیں اور بچے گلیوں اور مکانوں میں قتل کئے گئے ہین اور وہین بے گور و کفن پڑے رہے ۔ چنانچہ ایچ آر ایریا کے ایک مکان میں تیرہ مردانہ و زنانہ ڈھانچے اور ایک بچے کا ڈھانچہ جن میں سے چند کڑے ، انگوٹھیاں اور منکے پہنے ہوئے تھے ، کچھ اس طرح پائے گئے جس سے ان کی اچانک موت کا پتہ چلتا ہے ۔ یہ ہڈیاں بڑی خستہ حالت میں تھیں ۔ لیکن ایک کھوپڑی پر ۱۴۶ ملی میڑ کا لمبا گھاؤ تھا ۔ جو کسی تیز اور بھاری ہتھیار کی ضرب سے ہی پڑ سکتا ہے ۔ ایک دوسرے کاسہ سر پر بھی اسی قسم کے نشانات تھے ۔ وی ایس ایریا کی ایک گلی میں سولہ ڈھانچے جن میں ایک بچے کا تھا دریافت ہوئے تھے ۔ ایچ آڑ ایریا کی ایک گلی میں ایک لاش تھی ۔ ڈی کے ایریا میں نو لاشیں ملی تھیں ۔ جن میں پانچ لاشیں بچوں کی تھیں ۔ جو ایک دوسرے کے قریب بے تریتبی سے پڑی ہوئیں تھیں ۔ اس طرح ڈی کے ایریا میں ایک کنویں کے قریب ایک ایسا حادثہ پیش آیا تھا جس میں چار جانین ضائع ہوئیں تھیں ۔ اس کنویں پر جانے کے لیے قریب کی گلی سے ایک راستہ تھا ۔ یہاں کنویں پر چڑھنے کے لیے زینے بنائے گئے ، ان زینوں پر دو لاشیں ملی تھیں ۔ غالباً یہ لوگ زخمی ہوکر زینوں پر چڑھ رہے تھے لیکن طاقت جواب دے گئی اور وہاں ختم ہوگئے ۔ غالباً ان میں ایک عورت تھی ۔ دوسرا فرد مرنے سے پہلے پیٹھ کے بل گرا تھا ۔ دو آدمیوں کی لاشیں باہر گلی میں پائی گئیں تھیں ۔ اسی سطح پر ایک کلہاڑی بھی پائی گئی ہے ۔ جس میں موٹا ڈنڈا ڈالنے کا سوراخ بھی تھا اور جس کا سرا بہت دھاری دار تھا ۔ ظاہر ہے یہ کلہاڑی حملہ آوروں کی ہوگی ۔ کیوں کہ ایسیا عمدہ ہتھیار وادی سندھ کے لوگوں کے پاس نہ تھا ۔ اس کے علاوہ ایسی تلواریں ملیں ہیں جن کی ساخت انوکھی اور جو کافی مظبوط ہیں ۔ ایک برتن میں دفن شدہ ایک منگول نسل کے فرد کا کاسہ سر بھی ملا ہے اور ہوسکتا ہے کہ کسی حملہ آور کا ہو ۔ 
ان واقعات کی تاریخ میں متعین کرنے کے لیے ہم کو مشرق قریب کے حالات کا جائزہ لینا پڑے گا ۔ یہ تقریبا دو ہزار قبل مسیح کی بات ہے کہ وادی عراق مین عکادی تخت کی حالت دگرگوں تھی ، کیوں کہ سارکن کے بیٹے فارم سن کی وفات کے بعد گوتی اور دوسرے قبائل اس سرزمین مین گھس آئے تھے ۔ ان وحشی حملہ آوروں نے اس شدت سے مملکت پر دھاوا بولا تھا کہ اس عہد کے دو سو سال بعد ایک شاعر نے ان لوگوں کے بارے میں لکھا کہ وہ غول جس کی یلغار میں آندھی اور طوفان کا ذور ہے ۔ ایک ایسی قوم جس نے کبھی شہر کی صورت نہیں دیکھی ۔
غرض ایک طرف ایشیا میں ایک غیر حکومت طاقت پکڑ رہی تھی ، دوسری طرف فارس میں ایک نئے دور کی ابتدا ہورہی تھی ۔ شمال کی جانب سے روسی ترکستان سے لے کر بحر کیپسین تک لاتعداد جنگجو قبائک مارے مارے پھر رہے تھے ۔ ان کا انداز فکر مختلف زبان نئی خیالات نئے تھے ۔ یہ لوگ آریا تھے ۔ یہ آریا اس زمانے میں پھیلتے جارہے تھے ، کچھ خراسان کے شمال سے آئے اور کرمان سے ہوتے ہوئے فارس جا پہنچے ۔ کچھ باختر سے جنوب مشرق کی طرف مڑ گئے اور ہندو کشن کی پہاڑیوں کو پار کر کے پنجاب آدھمکے ۔ جو فارس پہنچے وہ مشرق کی طرف ہولیے اور متواتر حملہ کرکے ہوئے آراکوشیا (جنوبی افغانستان) درنگیانیہ اور مکران پر پل پڑے ۔ آریوں کی کی یہ قتل و غارت اور آتش زنی کئی صدیوں جاری رہی اور بلوچستان کے مظلوم باشندے اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے ۔ کچھ نے وادی سندھ میں پناہ لی اور کچھ پنجاب چلے گئے ۔ لیکن سندھ اور پنجاب میں پناہ لینے کے بعد بھی ان کو چین نصیب نہ ہوا ۔ کیوں کہ آریاوں کے قبضہ میں جو علاقہ آیا تھا وہ زیادہ سر سبز و شاداب نہ تھا ۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ پنجاب اور سندھ میں ہرے بھرے کھیت لہلہارہے تھے ۔ ہر طرف مسرت و شادمانی کے چشمے رواں تھے ۔ ایسی ارضی جنت کو دیکھنے کے بعد ان کو بھلا کیوں کر آرام آتا ۔ انہوں نے وادی سندھ پر حملہ کیا اور یہاں کے دیرنہ جمود کو توڑ دالا ۔ مقامی باشندے خونخوار اور جفاکش آریوں کے مقابلے کی تاب نہ لاسکے اور وادی سندھ کی تہذیب کو ایک حیرت ناک موڑ کر آکر ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی ۔  
وادی سندھ کی بربادی کا متذکرہ بالا سسب ڈاکٹر آر ای ایم وہیلر اور اسٹورٹ پگٹ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور کافی عرصہ تک اس تک اس کو وادی سندھ کی بربادی کا صحیح حل سمجھا گیا ۔ لیکن ہندوستان میں حفریات کے نتائج اور پاکستان میں ڈاکٹر فضل احمد خان کی تحقیقات اور دوسرے محقیقن نے ان بنیادیوں کو ہلا دیا جن پر یہ دلچسپ لیکن کمزور قیاسات پر مبنیٰ نظریا قائم کیا گیا تھا ۔ ہڑپہ کے قبرستان ایچ کے بارے میں وھیلر کا یہ قیاس تھا کہ ہڑپہ کے برباد کرنے والوں یعنی آریاؤں کا قبرستان ہے اور ایسا قبرستان صرف ہڑپہ میں ملا ہے اور اسی قسم کی باقیات کسی دوسرے علاقے میں دریافت نہیں ہوئی ۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ اگر آریا سارے شمالی مغربی ہندوستان میں پھیل چکے تھے تو دوسرے قبرستان میں بھی ان علاقوں میں ملنا چاہیے تھے ۔ اور قبرستان ایچ سے دریافت شدہ ظروف گلی سے مماثلت رکھنے والے ظروف کم از کم پنجاب یا ان دوسرے دریاؤں کے کنارے جن کو یہ لوگ مقدس خیال کرتے تھے اور برصغیر میں ان کے ابتدائی مسکن تھے ضرور ملنے چاہیے ۔ لیکن ایسے ظروف ابھی تک کہیں اور سے دریافت نہیں ہوئے ۔ 
ہڑپہ کے قبرستان ایچ کے بارے میں اگر وہیلر کی دلیل تھوڑی دیر کے لیے صحیح بھی فرض کرلی جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو افراد یہاں دفن ہوئے وہ کچھ عرصہ تو آباد رہے ہوں گے ۔ کیوں کہ یہ بات قابل تسلیم نہیں ہے کہ یہ لوگ آباد کہیں ہوں اور ان کے قبرستان کسی بہت دور دراز مقام پر بنائے جائیں ۔ ہڑپہ میں وادی سندھ کی بربادی کے بعد کی تہوں میں جھکر اور جھانگر کلچر کی تہیں ملی ہیں و یقناً آریا دور سے قبل کی ہیں ۔ چنانچہ آریاؤں کی آبادی کے شواہد کی غیر موجودگی اس نظریہ کی قطعی نفی کرتی ہے ۔ 
اس کے علاوہ بیکانیر کے علاقہ میں کئی مقامات پر کھدائی کی گئی ہے ۔ یہاں کئی مقامات پر بالائی سطح بھورے رنگ کے ظروف ملے ہیں ۔ جن کی تاریخ محققین نے ۶۰۰ ق م طہ کی ہے ۔ بھورے رنگ کے ظروف کے نیچے سیلاب کی لائی ہوئی مٹی کی ایک موٹی تہہ ہے اور اس تہہ کے نیچے وادی سندھ کی باقیات ملی ہیں ۔ جو ہڑپہ اور موہنجودارو سے دریافت شدہ باقیات سے پوری مماثلت رکھتی ہے ۔ گویا وادی سندھ کی باقیات اور ۶۰۰ ق م کے دور کے بھورے رنگ کے ظروف کے درمیان کسی درمیان کسی مقام پر اس قسم کے ظروف دریافت نہیں ہوئے جن کا خالق آرہاؤں کو گردانا جاسکے ۔ بھورے رنگ کے ایسے ظروف پنجاب ، مغربی اتر پردیش ، ہستا پور سرسولی اور گھاگھرا کے کنارے جو آریاؤں کا مسکن تھا کثرت سے دریافت ہوئے ہیں ۔ روپڑ میں چمکدار اور اکثر سیا اور اچحی طرح پکائے ہوئے ظروف گلی ملے ہیں ۔ جن کو ماہرین شمالی سیاہ پالش کئے ہوئے ظروف کہا ہے ۔ ایسے ظروف ٹکسلا میں بھی دریافت ہوئے ہیں ۔ جن کی تاریخ ۵۰۰ تا ۳۰۰ ق م طہ کی گئی ہے ۔ 
وادی سندھ کی باقیات بھورے رنگ اور شمالی سیاہ پالش کئے ظروف انبالہ سے پینسٹھ میل شمال کی جانب دریائے ستلج کے کنارے ایک ہی مقام پر چند معمولی وقفوں سے دریافت ہوئے ہیں ۔ یہاں سب سے نچلی تہوں میں وادی سندھ کی تہذیب کے دور کی آبادی کی تمام باقیات یعنی مٹی کے ظروف ، منکے ، چوڑیاں ، چقماقی اوزار اور تانبے کے برتن کافی مقدار میں دریافت ہوئے ۔ ایک ایسی مہر بھی برآمد ہوئی جس پر وادی سندھ کے رسم الخط میں تین حروف کنندہ ہیں ۔ ان کے اوپر سیلاب سے لائی ہوئی مٹی کی موٹی تہہ ملی ہے جس کہ اوپر کی تہوں میں پالش کئے ہوئے شمالی سیاہ ظروف پائے گئے ہیں ۔ ان تہوں کے بعد برصغیر کا تاریخی دور شروع ہوجاتا ہے ۔ چنانچہ یہ بات واضح ہے کہ ایک طرف باقیات کی قدیم ترین تاریخ ۶۰۰ ق م ہے دوسری طرف باقیات کی آخری تاریخ ۱۷۰۰ ق م ہے اور ان دونوں کے درمیان ایک خلا ہے جو ابھی تک پر نہیں ہوسکا ہے اور جس کو مزید تحقیق ہی پر کر سکے گی اور اس وقت ہی اس تہذیب کی بربادی کا صحیح سبب معلوم نہیں ہوسکے گا ۔  

تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں