104

وادی سندھ کی تہذیب

سکھر بیراج سے دریا کچھ آگے بڑھتا ہے تو دریا کے مشرقی کنارے پر خیرپور کی ریاست تھی ۔ تالپور جو کے کلہوڑوں کے بعد سندھ کے حکمران بنے تھے اور فاتح میر فتح علی خان کے بھتیجے میر سہراب خان نے خیر پور کی ریاست کی بنیاد رکھی تھی ۔ میر مراد علی خان تالپور نے انگریزوں کی شرائط خم تسلیم کرکے اپنی ریاست کو بچالی تھی اور یہ ریاست قیام پاکستان تک قائم رہی ۔ ایک عجیب بات یہ ہے میران خیر پور بلوچ تھے اور بلوچ پکی چھت کے نیچے سونا پسند نہیں کرتے ہیں ۔ میران خیرپور نے اس روایات کی پوری پاسداری کی اور ہمیشہ آراستہ خیموں میں جو ان کی شاندار حویلوں کے احاطہ میں لگے رہتے تھے رہائش کے لیے استعمال کرتے تھے ۔ْ آخری حکمران بھی اپنے عالی شان فیض محل کے احاطے میں ایک خیمہ میں رہائش پزیر رہے ۔

خیرپور کے سامنے دریا کے پار لاڑکانہ کا شہر آباد ہے ۔ اس سے چند میل کے فاصلے پر دنیا کی ایک عظیم انشان تہذیب کے آثار 1922ء میں دریافت ہوئے ۔ اس سے ایک سال پہلے راوی کے کنارے ہڑپہ کے آثار دریافت ہوئے تھے ۔ اس تہذیب کی دریافت ہونے سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا برصغیر میں تمدن کی بنیاد آریوں نے رکھی ہے ۔ برصغیر کے قدیم آثار ، وید کے بیانات ، یونانیوں کے بیانات چینی سیاحوں کے بیانات کے مطابق آریائوں سے پہلے یہاں وحشی لوگ آباد تھے ۔ اس لیے وسنٹ اسمتھ کا خیال تھا یہاں کانسہ کا دور کبھی آیا ہی نہیں ۔ اس کی تائید اس طرح بھی ہو رہی تھی اس سرزمین پر موریہ عہد سے پہلے کے کوئی آثار دریافت ہی نہیں ہوئے تھے ۔ مگر ان آثار کے دریافت ہونے کے بعد سارے نظریے ایک دم بدل گئے ۔ 1925 ماہرین آثار قدیمہ نے اس شاندار دریافت کا اعلان کا اعلان کیا جس کا قدیم ادب میں کوئی ذکر ہی نہیں تھا ۔ جس خاص کھنڈر دو شہروں کے تھے ۔ ہر شہر دو اور تین ہزار قبل مسیح کے درمیان اپنے عروج کے زمانے میں ایک مربع میل تھے ۔ اس میں جنوبی شہر سندھ موہنجوداڑو اور بالائی شہر ہڑپہ پنجاب میں راوی کے کنارے آباد تھے ۔ ان شہروں کے مکان کئی منزلہ ٹھوس پختہ اینٹوں بنے تھے ۔ ان میں رہائشی سہولتیں مثلاً پانی کی نکاسی غسل خانے اور بیت الخلا تھے ۔ آبادی کا نقشہ لاجواب تھا ۔ عمارتوں کے400 × 200گز کے مستطیل سلسلے تھے ۔ جن میں وسیع سڑکیں اور عمدہ چھوٹی گلیاں تھیں ۔ دنیا میں کہیں اور شہری آبادی ایسا انتظام نہیں ملا جو اس قدر پیچیدہ اور نفیس ہو ۔ اتنے قدیم زمانے میں اسے ایک منصوبے کے تحت قائم کیا گیا تھا ۔ مصر کے شہر اس کے حکمرانوں لے کوہ پیکر مقبروں اور عظیم معبدوں کے مقابلے میں فن تعمیر کے لحاظ سے ہیچ تھے ۔ سمریا ، عکاد بابل کے عظیم شہر بغیر کسی منصوبے کے بنتے چلے گئے ۔ ان تمام شہروں کی سڑکیں روم ، لندن ، پیرس اور بعد کے ہندوستانی شہروں کی طرح بے ترتیبی کا نمونہ تھیں ۔ جب کہ اس کے مقابلے وادی سندھ کے شہر ھیرت انگیر شہری منصوبہ بندی کا مظہر تھے ۔ زاویہ قائمہ بناتی سیدھی سڑکیں ، پانی کی نکاسی کا اعلیٰ نظام جس کا شعور اٹھاویں صدی عیسوی تک یورپ میں پیدا نہیں ہوا تھا ۔        

تقریباً تین لاکھ مربع میل کا علاقہ ہے جس میں اس تہذیب نے جنم لیا ۔ اس میں نصف دریائی مٹی کا وہ میدان ہے جسے دریائے سندھ اور وہ دریا جو وادی سندھ اور گنگا کے درمیان بہتے ہیں اس عظیم تہذیب نے جنم لیا ۔ جو اپنی باقیات اور آثاریات کی یکسانیت کی وجہ سے ممتاز ہے ۔ اس تہذیب جو شہری حثیت کی حامل تھی اور اس کی انتظام شاید دو مرکزی شہروں ہڑپا اور موہنجوڈارو سے وابستہ تھا ۔ جو ایک دوسرے سے تین سو پچاس میل کے فاصلے پر تھے اور ہر شہر تقریباً ایک مربع میل میں پھیلا تھا ۔ اس تہذیب کے دریافت ہونے کے پینتس سال کے اندر نوے آثار دریافت ہوچکے ہیں اور اب تک ایک ہزار سے زائد چھوٹے بڑے شہر اور قصبات جو ایک لاکھ میل کے رقبہ میں پھیلے ہوئے ہیں دریافت ہوچکے ہیں ۔ تاہم اندازہ کیا گیا ہے کہ ابھی اور بہت سے شہر اور آبادیاں ایسی ہیں جو دریافت نہیں ہوئیں ہیں ۔ ان میں سے بہت سی آبادیاں موجودہ شہروں کے نیچے مدفون ہیں ۔ بہت سی بستیاں سیلابوں اور ریت کی نظر ہوگئیں اور دریائوں نے ان کو کاٹ کر بہا دیا ۔ شہروں اور دیہاتوں کے علاوہ بہت سے لوگ خانہ بدوزش ہوں اور چھاڑیوں اور چٹانوں کی بنی ہوئی جھوپڑیوں میں رہتے ہوں گے ۔

یہ شہر تقریباً تین میل کے دائرے کے اندر تھے اور موہن جوڈارو کی کہدائی سے ثابت ہوا ہے کہ یہ گنجان آبادی کا شہر تھا ۔ خاص کر اپنے آخری دور میں ایک مکان کو کاٹ کر کئی حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا ۔ عموماً ایک مکان 27 ×50 کا یعنی ڈیڑھ سو گز کا اور دو یا تین منزلہ تھا ۔ اندازہ ہے اور اس کی آبادی پینتس ہزار کے لگ بھگ ہوگی ۔ اس طرح پورے ملک کی آبادی ساڑھے سترہ لاکھ کے لگ بھگ ہوگی ۔ موہن ڈارو ایک ہزار سال تک خوشحالی کے دور سے گزرا اور اس دوران اس میں کئی مرتبہ دریائے سندھ کے پانی نے اس شہر میں تباہی مچائی اور دوبارہ اسے نقشہ کے مطابق تعمیر بھی کیا گیا ۔

یہ تہذیب اپنے مرکز وادی سندھ سے نکل کر برصغیر کے ایک بڑے علاقہ میں پھیل گئی تھی ۔ جس میں گجرات ، راجستان ، کچھ ، پنجاب ، دہلی کا علاقہ ، اتر پردیش ، جنوبی ہندوستان اور جنوبی افغانستان کے علاقے اس مملکت میں شامل رہے ۔ اسے ماہرین آثار نے سندھو تہذیب Indus Civilizatin کا نام دیا ہے ۔ 

ابھی ہم متاخر حجری عہد سے گزرتے ہی سندھ کی وادی میں ہماری نظر تمذن کے ایسے آثاروں پر پڑتی ہے کہ ہم ٹھٹھک کر رہ جاتے ہیں ۔ جہاں ہمیں اچانک عالی شان شہر دیکھائی دیتے ہیں ۔ جہاں کے مکانات پختہ اور مظبوط دو دو تین تین منزلہ اونچے ہیں ۔ ان میں سڑکیں اور بازار ہیں ۔ ان کے باشندوں کی زندگی و رواج اور عادات سانچے میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی ہے ۔ یہ عجیب بات وادی سندھ کے وہ آثار جو سب سے زیادہ گہرائی میں ہیں سب سے زیادہ ترقی کا پتہ دیتے ہیں ۔ یعنی جب یہاں کے شہر پہلے پہل بنے تب یہاں کی تہذیب اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی اور بعد میں اسے ذوال آتا رہا ۔ وادی سندھ کی تہذیب کی بے نقابی اور تشریح شاید بیسویں صدی کا عظیم ترین عصریاتی واقعہ ہے ۔ اس تہذیب کی وسعت اور معنویت کو 1922ء میں موہنجودڑو کی کھدائی سے پہلے کسی کے گمان میں نہیں تھی ۔

اس تہذیب کی منفرد بات ہے کہ یہاں نہ عظم انشان بادشاہوں کے محلات اور نہ ہی عبادت گاہیں ہیں ۔ یہاں ٹیری میڑی گلیاں اور کچے راستے بھی نہیں ہیں بلکہ قائمہ الزاویہ پر قائم پکی سڑکیں ہیں ۔ یہاں باقیدہ نکاسی آب اور پانی کی فراہمی کا نظام ہے ۔ یہ تہذیب اس لحاظ سے منفرد ہے یہاں تعمیرات اور بلدیاتی سہولتوں کا وہ تصور ہے جس کا شعور یورپ میں انیسویں عیسویں صدی سے پہلے تصور ہی پیدا نہیں ہوا تھا وہ یہاں موجود تھیں ۔ یہ سہولتیں کسی بلدیاتی انتظامیہ کے بغیر ممکن ہی نہیں ہیں ۔ یہاں حیرت انگیز طور پر پردہ اور حفاظت کا انتظام تھا ۔ عجیب بات ہے سڑک پر مکانوں کی کھڑیاں اور دروازے نہیں کھلتے ہیں ۔ ہر مکان کا دروازہ سامنے سڑک پرکھلنے کے بجائے بغلی گلی میں کھلتا ہے ۔ بڑے مکانوں میں دروازے کے ساتھ چوکیدار کا کمرہ بھی ہے ۔ خاص کر ان کے فن تعمیر پر کی جزویات پر غور کرنے سے ہمیں جو معلومات حاصل ہوئیں ان کے مطابق ہم بآسانی کہہ سکتے ہیں وہ لوگ تعمیرات کے سلسلے میں بڑی سوجھ بوجھ کے مالک تھے ۔ ان کی تمام تعمیرات جن میں مکانات ، دوکانیں ، درسگاہیں ، کنویں ، سڑکیں اور دوسری تعمیرات باقیدہ منصوبہ بندی کے تحت عمل میں آئیں تھیں ۔ ان کی ٹاؤن پلانگ اتنی شاندار تھی کہ ان کھنڈرات میں جدید طرز تعمیر کی جھلک نظر آتی ہے ۔ ایک انگریز صاحب قلم انہیں دیکھ کہا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا میں آج کے لنکا شائر کے کھنڈرات پر کھڑا ہوں ۔ موہجوداڑو کی شاہراہ اول کا شاہراہ مشرق کا اتصال تو آکفسورڈ سرکس کا چوراہا معلوم ہوتا ہے ۔ اس تہذیب کے دو شاندار شہر ہڑپہ اور موہنجودارو ہیں باقی بستیاں یا ان کے کھنڈر اس کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں ۔

لیکن یہاں جو بات عجیب لگی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں ہر چیز ساکن ہے اور ان پر جمود طاری ہے ۔ موہجوڈارو اور ہڑپہ کے درمیان چار سو میل کا فاصلہ ہے اور دونوں میں حیرت انگیز یکسانیت ہے ۔ جو کہ ایک بڑی سلطنت جس کا نظم و نسق نہایت طاقتور نہ ہو تو ممکن نہیں ہے ۔ موہنجودارو نو دفعہ برباد ہوا اور دوبارہ بسا ۔ لیکن حیرت انگزی بات یہ ہے نچلی تہہ زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور دبارہ بسنے پر انہی بنیادوں پر مکانات کی تعمیر ہوئی ہے ۔ ان دونوں شہروں کی منصوبہ بندی میں آخر تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ۔ شہروں کی سطح بلند ہوتی گئیں تو اور مکان قدرتی طور پر خستہ حال ہوئے تو اس کے ملبے کے اوپر مکان انہی نقشوں کے مطابق دوبارہ تعمیر کردیئے گئے یا ان میں معمولی ترمیم کرکے ان کی بلندی کچھ بڑھادی گئی ۔ اس طرح کنؤں کی دیواریں مزید بلند کر دی گئی ۔ وہ اب کھدائی میں نکلنے کے بعد فیکٹری کی چمنی معلوم ہوتے ہیں ۔

یہ تہذیب جو 3500 ق م پر اپنے عروج پر پہنچی تھے اور 1500 ق م میں تباہ ہوگئی ۔ کہا جاتا ہے کہ اس تہذیب کے سربستہ رازوں میں اہم راز وادی سندھ کا رسم الخط ہے ۔اسے پڑھنے کوششیں دنیا بھر کے ماہرین نے کی ہیں ۔لیکن خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی ۔ وادی سندھ کی کل تحریریں 5000 سے بھی زائد ہیں ۔ جو مختلف مہروں ، ٹکیوں اور برتنوں پر ثبت ہیں ۔ ان میں سے بعض عبارتیں دہرائی گئی ہیں ۔ اس اعتبار سے کل عبارتیں 1500 سو ہیں ۔ ان عبارتوں میں بنیادی علامات 396 ہیں ۔ جو اپنے زمانے کے اعتبار سے خاصی مختصر ہیں اور زبان کے ترقی یافتہ ہونے کا ثبوت بھی ہیں ۔ اس رسم الخط کو پڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ تو یہ ہے کہ دستیاب عبارتیں نہایت مختصر ہیں ۔ کوئی بھی تحریر ایک آدھ جملے سے زیادہ نہیں ۔ سب سے طویل عبارت میں صرف سترہ علامتیں یا شکلیں ہیں ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ شاید بعض افراد کے نام ہیں یا قبیلوں کے نام یا خطابات یا کسی تجارتی ادارے یا مذہب (مندر) یا تجارت کے نام ہیں ۔ یہ دستاویزات میں سے اب تک کسی کا مفہوم سمجھ سے بالا تر ہے ۔ جنہیں پڑھ بھی لیا جائے تو چند دیوتاؤں اور تجارتی اداروں کے نام معلوم ہوسکیں گے اور یہاں کسی ْقسم کے کتبہ یا تحریریں نہیں ملی ہیں ۔ اس لیے ان قدیم تاریخ کے بارے میں جو بھی اندازے لگائے گئے ہیں وہ اثری شہادتوں پر ہیں ۔ یہی وجہ ہے ہم نہیں جانتے ہیں کہ یہ کون تھے ؟ کون سی زبان بولتے تھے ؟ اور ان کی تباہی کس طرح ہوئی ؟ 

کہا جاتا ہے اس تہذیب کو آریاؤں نے تباہ کیا ہے ۔ مگر حیرت کی بات یہ اس تہذیب سب آخری باقیات کا زمانہ 1700 ق م ہے اور اس کے بعد ایک ہزار سال یعنی تاریخ 600 ق م کے آثار کھدائیوں میں ملتے ہیں ۔ یعنی بیچ میں ایک ہزار سال کا خلا ہے ۔ اس طرح اس تہذیب کا ذوال ایسا راز ہے جو کہ جو ابھی تک عیاں نہیں ہوا ۔ یعنی آریاؤں نے تباہ کیا ہے تو ان کے کوئی تو آثار ہوں گے ۔ مگر ہمیں کسی قسم کے آثار نہیں ملے ہیں ۔

سوتی کپڑے بننے کا فن قدیم زمانے میں صرف وادی سندھ میں ہی ملا ہے ۔ میں وادی سندھ کے باشندے اونی اور سوتی کپڑے بنانے میں ماہر تھے ۔ سر جان مارشل نے لکھا ہے کہ کپاس کا اصل وطن وادی سندھ تھا اور وہیں یہ مصر اور وسط ایشیا پہنچی ۔ ۴۰۰ ق م پہلے وادی سندھ کا کپڑا بابل و مصر جاتا تھا ۔ مصری ممیوں کے کفن میں سندھ کا کپڑا استعمال ہوتا تھا ۔ جنرل ہیگ کا کہنا ہے سندھ کی بندرگا پتالہ سے حضرت سلیمان کے جہاز کے بیڑے آکر ٹہرتے تھے ۔ یہ کپڑا ان ملکوں میں بھیجا کرتا تھا اور اس نسبت سے یہ کپڑا سندھو کہلاتا تھا ۔

 ایرانیوں نے یہ کلمہ سندھو سے ہندو کردیا یہودیوں اسے مزید بگاڑ کر ہودو Hoddu  کردیا ۔ جو کہ بائیبل میں آیا ہے ۔ یونانی اس کپڑے کو سنڈن کہتے تھے ۔ جو کہ سندھ کا ہی تلفظ ہے ۔       

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں