77

وادی کشمیر

وادی کشمیر جو قدرتی طور پر پاکستان کا حصہ ہے اور جہاں کے باشندے پچاسی فیصد مسلمان ہیں ۔ اس خطہ پر بھارت کا غصفانہ قبضہ ہے اور اس نے وہاں کے باشندوں کی زندگی تنگ کی ہوئی ہے ۔ اس وادی کے حسن و خوبصورتی کی تمام دنیا میں کشمیر بے نظیر مشہور ہے اور یہ خطہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بہشت بھی کہلاتا ہے ۔ مسلمان اس کو بہشت نظیر اور باغ سلیمان کے نام سے پکارتے ہیں ۔ کیوں ان کا خیال ہے کہ حضرت سلمانؑ بھی یہاں آئے تھا ۔ بعض کا اعتقاد ہے کہ حضرت موسیؑ کا بھی یہاں سے گزرے تھے ۔ یہ خطہ اپنے قدتی مناظر جن میں بلند بالا پہاڑوں ، دل آویز سبزہ زاروں (گلمرگ) حسین اور دل فریب چشوں ، جھیلوں اور دلکش باغوں کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہے ۔ اس خطہ کی اوسط بلندی بلندی سطح سمندر سے ۵۴۰۰ فٹ سے لے کر ۷ ہزار فٹ تک بلند ہے ۔ اس کا شمال مشرقی حصہ پست تر ہے اور اوسط سطح ہموار پنجاب کے میدانوں سے کشمیر ۵۰۰۰ فٹ بلند اور سطح سمندر ۶۰۰۰ فٹ بلند ہے ۔ اس کے شمال و مغربی پہاڑوں کی چوٹیاں ۱۲ ہزار سے ۱۳ ہزار تک بلند ہیں ۔ جنوب مغرب کی طرف بڑا سلسلہ پنجال کا ہے جو پنجاب کو کشمیر سے علیحدہ کرتا ہے ۔ یہ پہاڑ ۱۴ سے ۱۵ ہزار تک بلند ہے اور اس کا طول ۸۰ میل ہے ۔ 
وادی کشمیر میں جانے کا سب سے اہم راستہ پنڈی سے جاتا ہے جو کے دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ اس وادی میں داخل ہوتا ہے ۔ دوسرا راستہ زیادہ دشوار گزار ہے اور جموں کے راستے جاتا ہے ۔ یہاں اب بھارتیوں میں بہت عمدہ سڑک بنا رکھی ہے جو کہ کئی سرنگوں میں سے گزر کر وادی کشمیر میں داخل ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ کئی ایک سڑک وادی کشمیر میں ہماچل پردیش سے داخل ہوتی ہے جو کہ زیادہ دشوار گزار ہے ۔  
جب وادی کشمیر کے اندر کھڑے ہوکر چاروں طرف نظر دوڑائیں تو چاروں طرف بلند پہاڑ نظر آتے آئیں گے ۔ بشتر پہاڑ بارشوں کی بدولت ان کی وادیاں سر سبز اور ان کی چوٹیاں برف سے ڈھکیں ہوں ۔ جب کہ ہم میدان میں نظر دوڑائیں تو ہمیں دریا ، تالاب ، دل آویز چنار اور سفیدے درخت وغیرہ کے دیکھائی دیتے ہیں ۔ اس وادی کی خصوصیت سبزہ اور اس کی دلفریبی ہے ۔  
وہ تمام کوہستان نے جو پنجاب ، جموں اور کشمیر واقع ہیں کشمیر کو ہندوستان سے اور وہ کوہستان جو تبت ، لداخ وغیرہ میں واقع ہیں ہندوستان کو وسط ایشیا سے جدا کرتے ہیں ۔ گویا کشمیر وسط ایشیا اور ہندوستان کے درمیان یا دونوں کے متعلق ہے یا ان سے علیحدہ ہے ۔ اس طرح یہ خط چاروں جانب کوہستان بلند سے محصور ہے ۔ گویا قدرت نے اس کی حفاظت کے لیے قدرتی مستحکم دیوار پناہ بنا کر اسے قلعہ بنادیا ہے ۔ 
کشمیر کی حدودی کہاں تک تھیں اس بارے میں بہت اختلاف رہا ہے ۔ بعض نے کشمیر کو دریائے کرشنا سے چناب تک مانا ہے ۔ قدیم شاشتری پستوں میں اس کی حدود بھوٹان تک بتائی گئیں ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے یہ خطہ کبھی بھی سیاسی طور پر کشمیر کا حصہ نہیں رہے ہیں ۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ جغرافیائی اور طبعی طور پر یہ خطہ بھی کشمیر کی طرح ہمالیہ کا حصہ ہیں ۔ مگر ان کے درمیان ہمالیہ سلسلے کے پہاڑ واقع ہیں اور ان کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے درے واقع ہیں ۔جس کی آخری حد شمال میں ننگاپربت ہے جو اس خطہ کا بلند ترین پہاڑ ہے اور اس خطہ کو دریائے سندھ قراقر اور ہندو کش کے پہاڑی سلسلوں کو جدا کر رہا ہے ۔ یہ ہمالیہ کا سلسلہ مشرق میں چلا گیا ہے اور اس کو دریائے برہم پترا ہمالیہ کے سلسلے کو محدود کر رہا ہے ۔ 
کشمیری کے ہندو اس کو زمین کا سر اور آنکھیں کہتے ہیں اور اس کے برابر کسی اور علاقہ کو متبرک نہیں سمجھتے ہیں ۔ یہاں ہندوؤں کے تمام مشہور ترتھ جو برصغیر میں مشہور ہیں ان کے ہم نام یہاں موجود ہیں ۔ مثلاً دیائے سندھ ، دریا گنگا اور کاشی وغیر ۔ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ تمام مقدس ترتھہ یہاں موجود ہیں ۔ پاتال میں جو ترتھ ہیں یا زمین پر جو تیرتھ ہیں یا بہشت میں ہیں وہ سب کشمیر دیش میں ہیں ۔ ہم یہاں کشمیر کی کچھ ان فطرتی نظاروں کی بات کرتے ہیں جو کہ اس خطہ کے حسن کا باعث بنتے ہیں ۔ 
یہ علاقہ برصغیر کے دوسرے خطوں سے اپنے بلند پہاڑوں کی وجہ سے دوسرے علاقوں زہادہ سرد ہے ۔ اس کے شمالی حصہ کا کی آب و ہوا یورپ میں ناروے اور پولینڈ کی طرح سرد ہے ۔ یہاں گرمیوں میں درجہ حرات ۸۵ سے ۹۰ درجہ تک اور سری نگر میں ۹۵ درجہ تک دوپہر میں پہنچ جاتا ہے ۔ اس طرح یہاں گرمی بہت کم ہوتی ہے ۔ دسمبر و جنوری میں یہاں سردی شدت کی پڑتی ہے اور بعض اوقات فروری میں برف باری کے باعث موسم انتہائی سرد ہوجاتا ہے اور جب ہوا چلتی ہے تو وہ جسم کے کھلے حصوں ٹکرا کر اسے سن کردیتی ہے ۔ ناک اور منہ سے جو سانس خارج ہوتی ہے وہ مونچھوں اور ڈارھی پر برف کے موتی بنا دیتی ہے ۔ ہاتھ پھیرنے پر وہ پگھل کر بہہ جاتی ہے ۔ 
سردی کی شدت سے دریاؤں کا پانی جم کر برف بن جاتا ہے ۔ اس کو کشمیری تل کترو کہتے ہیں اور چھتوں سے جو پانی کی دھار صورت میں جم جاتا ہے ۔ اس کو کشمیری ششر گنیٹہ کہتے ہیں اور جو برف جم کر بلور بن جاتا ہے اس کو کٹ کشو کہتے ہیں ۔ کشمیر کی برف باری کابل کی برف باری کی طرح مضر نہیں ہوتی ہے ۔ برف باری پہلے پہل اکتوبر کے مہینے میں پہاڑوں پر پھر دسمبر سے کشمیر کے میدان میں ہوتی ہے اور اپریل کے آخر تک پڑی رہتی ہے ۔

تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں