74

وارُن

رگ وید میں دوسرا مرتبہ وارن کا ہے ۔ اس کے ماننے والے غلاموں کی طرح کھڑے ہوتے ہیں ۔ دوسرے کسی دیوتا کے سامنے پجاری ایسے عاجز نہیں ہوتے ہیں ۔ وارن رسیوں اور جال سے باندھتا ہے ۔ وہ کائنات کا مقتدر اعلیٰ ہے ۔ جو کائناتی رِت (اصول ، قانون) کی حفاظت کرنا گناہگار اس کی نگہ سے بچ نہیں سکتا ہے ۔ وہ ضرور انہیں سزا دیتا ہے ۔ وارن کا معنی باندھنے والا ۔ لہذا قوانین ، حلف اور احکامات کا دیوتا ہے ۔ وہ قانون قدرت کا متبادل بھی ہے اور حکمران طبقات کے اجتماعی ضمیر کے مطابق قانون سازی کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس کا تعلق جادو سے بھی ہے ۔ گویا جادو گر کا مرتبہ قانون ساز اور قانون کے شارع کا بھی ۔ یہ دوسرا ثبوت ہے اس دور میں کشتری اس دور میں سیاسی اقتدار پر قابض تھے ۔ جس نے دوسرا درجہ جادو کو دیا ۔ چونکہ جادو گروں کا طبقہ محدود تھا اس لیے وارن کی تعریف میں صرف ایک درجن منتر ہیں ۔ 
کوئی شاعر جب کسی مشہور دیوتا کی مختلف صفتوں یا خصلتوں کو بیان کرتا تو رفتہ رفتہ وہ صفتیں جداگانہ الگ ہستیاں یا الگ دیوتا ہوجاتے ہیں اور ان کی الگ پرستش ہونے لگتی ہے اور یہ فراموش کر دیا جاتا ہے کہ یہ ایک ہی دیوتا کی مختلف نام یا صفیتیں ہیں ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کوئی دیوتا رفتہ رفتہ فراموش کردیا جاتا ہے اور وہ اس کی خصوصیات ایک نئے دیوتا میں منتقل ہوجاتی ہے ۔ اس طرح رفتہ رفتہ دیاؤس کی جگہ وارن نے لے لی ۔ رگ وید میں دیوتاؤں کے تخیل اس قدر الجھا ہوا ہے کہ یہ معلوم کرنا دشوار ہے کہ کس دیوتا کا تعلق کس سے ہے ۔ آسمان کا دیوتا وارُن اس کی بین مثال ہے ۔ کیوں کہ پہلے وارن دیاؤس کی صفت کا نام تھا مگر رفتہ رفتہ ویدوں کا سب سے ممتاز دیوتا وارن ہوگیا اور دیاؤس پس پشت پر چلا گیا اور شخصیت کی تبدیلی کو بہ آسانی دیکھ سکتے ہیں ۔ 
وارن کوئی دیوتا نہیں اور یہ صرف ایک نام ہے جس کے اصل معنی ڈھانپنے یا چھپانے کے ہیں جو کہ ستاروں والے آسمان کو منسوب کیا جاتا تھا اور پھر رفتہ رفتہ خالق پرماتما کی طرف منسوب ہوا جو کہ ستاروں والے آسمان سے بھی ہٹ کر ہے ۔ یہی حالت وید کے دوسرے دیوتاؤں کی ہے ۔ خواہ وہ تین ہیں یا ۳۳ یا ۳۳۳۹ یہ سب نام ہی نام ہیں جیسے جوپیٹر ، اپالو اور مزوا جساکہ تمام مذاہب میں دیوتاؤں کے نام رکھے ہوئے ہیں ۔ اگر کوئی شخص ہندوستان میں ویدک زمانہ یا یونان میں پرکلس کے زمانہ میں ایسی باتیں کرتا تو وہ سقراط کی طرح کافر یا ناستک پکارا جاتا ۔ لیکن ویدوں کے کئی رشیوں اور ویدانیت کے فلاسفروں نے بھی ایسے خیالات ظاہر کیے ہیں ۔
زمانہ قدیم کی تمام قوموں کا خیال تھا کہ آسمان زمین اپنے اندر سمائے ہوئے یا گھیرے ہوئے ہے اور اس کی مثال خیمے یا چھت کی تھی جس کے اندر ہے جو زمین ہے ۔ یہ استعارہ نہیں بلکہ ان کا اعتقاد بھی تھا ۔ کیوں کہ وہ جو دیکھتے تھے اسی پر ایمان رکھتے تھے ۔ نیلے آسمان کے متعلق ان کا خیال تھا یہ ایک ٹھوس چھت ہے ۔ سنسکرت میں ایک مادہ وِرِی یعنی ڈھانپنا ہے ۔ جس سے بہت سے الفاظ نکلے ہیں ۔ جس میں وارُن بھی ہے ۔ یعنی ہم آسمان کو ڈھانکنے والی والی یا لپٹنے والی کوئی چیز ۔ کوئی شاعر آسمان کو تمام دنیا کو ڈھانکنے والی یا لپٹنے والی چیز بیان کرے تو ہم اسے شاعرانہ تخیل کی تعریف کریں گے ۔ مگر جب یہ خیال عقیدہ بن کر ایک خاص شخصیت کا نام بن جائے اور مذہباً اسے تسلیم کیا جائے تو یہ خیال ایک شخصیت بن جاتی ہے ۔ یہ قدیم زمانے میں اس وقت کا رجحان تھا جب انسان نے ہوش سمبھالا تھا ۔ اسی لیے اس عہد کو افسانہ سازی کا زمانہ کہا جاتا ہے ۔ اس زمانہ میں جب علم اپنی ابتدائی سطح پر تھا اور ہر نظر آنے والی چیز معمہ تھی اس نے اپنے خیالات اور تخیل کو الفاظوں میں بدل دیا ۔ اس زمانے کے رواج کے مطابق پرستش کے طریقے بھی ان نظموں شامل ہوگئے ہیں اور رگ وید میں اس کی جھلک ہمیں ملتی ہے ۔  
چنانچہ وارن کے بارے میں ایک رشی کہتا ہے ’’وارن جو تمام کائنات کا بڑا مالک ہے ۔ اس طرح گویا وہ ہمارے پاس کھڑا ہے ۔ خواہ کئی منیش (انسان) کھڑے ہیں ، سیر کرتے ہیں ، یا کوئی لیٹا ہے ، اٹھتا ہے یا کہیں دو آدمی سن کر بات چیت کرتے ہیں ۔ راجا وارن سب کچھ معلوم کرلیتا ہے ۔ وہ تیسرے آدمی کی طرح وہاں موجود ہے ۔ یہ زمین بھی وارن کی اور یہ بڑا آسمان آخیر سرے تک وارن کا ہے ۔ دو سمندر یعنی اکاش اور ساگر وارن کے کمر بند ہیں وہ پانی کے چھوٹے قطرے میں بھی موجود ہے ۔ اگر کوی آدمی آسمان سے دور بھاگ جائے تو راجہ وارن سے بچ نہیں سکتا ہے ۔ اس کے مخبر آسمان سے اس دنیا کی طرف آتے ہیں اور ہزاروں آنکھوں کے ساتھ اس دنیا کو دیکھتے ہیں ۔ ورن زمین اور آسمان کے درمیان اور اس سے پرے جو کچھ ہو رہا ہے سب کچھ دیکھتا ہے ۔ وہ آنکھ کی جھپک بھی گن لیتا ہے ۔ جس طرح کھلاڑی قرعہ پھینکتا ہے وہ تمام اشیا کا فیصلہ کرتا ہے ۔ تیرے مہلک پھندے جو کہ ۱۱۶ ہیں جھوٹ بولنے والے کو پھنسا لیتے ہیں اور راستباز کے قریب سے گزر جاتے ہیں’’۔ (اتھرا وید ۴۔۱۶)
وارُن نے سوریا کو اس کی راہ بتائی اور پانی کو سمندر (آسمانی یا ہوائی) کی طرف بہایا ۔ دونوں کی راہ اس نے مقرر کردی ہے اور ان کی رہبری کرتا ہے جیسے کوئی شہوار اپنے گھوڑوں کی ۔ اس کی سانس آندھی ہے جو کرہ ہوائی میں دوڑتی رہتی ہے ۔ (رگ وید ۸۔۸۷) اس کے ہاتھ میں باگ ہے مقدس اور بڑے آفتابی گھوڑے کی جس کی ہزاروں برکتیں ہیں ۔ جب میں اس کے (سوریا) کے چہرے کی طرف دیکھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ دہکتی ہوئی آگ کو دیکھ رہا ہوں ۔ (رگ وید ۸۔۵۸) ستارے جو رات کو نظر آتے ہیں دن کو کہاں چھپ جاتے ہیں ۔ مگر وارن کے قوانین میں کبھی تغیر نہیں ہوتا اور چاند رات بھر چمکتا رہتا ہے ۔ وہی طیور کی پرواز کو جانتا ہے جب کہ وہ فضا میں اڑتے ہیں اور سمندر میں جہازوں کی آمد و رفت کو ہوائوں کے بہاؤ کو بھی وہ جانتا ہے اور وہ اپنے محل میں بیٹھا قانون کی حفاظت کرتا ہے ۔ وارن ایک زبردست بادشاہ ہے جو وہاں بیٹھا ہوا ہر چیز کو جو مخفی ہے غور سے دیکھتا ہے اور ان افعال کو بھی دیکھتا ہے جو ہو رہے ہیں یا ہونے کو ہیں ۔ سنہری زرہ کو پہنے ہوئے اس نے اپنی درخشانی کو اپنا لباس بنالیا ہے اور اس کے ارد گرد اس کے جاسوس (رات کو تارے اور دن کو سوریا کی کرنیں) ۔
وارن کی تعریف میں رگ وید میں بہت سے بھجن ہیں ۔ کبھی تنہا اور کبھی دوسرے دیوتاؤں کے ساتھ ۔ رگ وید کے آٹھویں حصے کو ایک رشی کو سشتتھ سے منسوب اس کے خاندان میں مستعمل اور محفوظ تھے ۔ وارُن کی تعریف میں بھجنوں کو جمع کرکے یکجا تو اس دیوتا کی تصویر بن جائے گی اور بہت سے مشاہدات فطرت جو آسمان کے بارے میں ہیں سے اس کا تعلق معلوم ہوتا ہے ۔ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ وارن کے نام میں اس کی فطرت وابستہ ہے اور اس کا نیچے تین عبارتوں سے اس کی حقیقت چھپی ہوئی ہے ۔ 
’’وہ عالموں کو چھپائے ہوئے گویا ایک لبادے سے اور تمام مخلوقات اور ان کو مکانوں کو’’۔      
’’وہ ناپتا ہے زمین کو اور اس کی انتہائی حدود کا تعین کرتا ہے (یعنی افق جہاں زمین اور آسمان ملتے ہوئے نظر آتے ہیں)’’۔
’’اس نے راتوں کو گھیر لیا ہے اپنی عقلمندی سے شفق صبح بنایا ، وہ علانیہ سب چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے’’۔ 
ان بھجنوں سے اس دیوتا حقیقت معلوم ہوتی ہے ۔ آخری بھجن میں عقلمندی کی اخلاقی خصوصیت بھی دیوتا کی جسمانی خصوصیات میں شامل کردی گئی ہیں ۔ یہ ابتدا ہے اس روحانیت کی جو دیوتاؤں میں بعد میں آجاتی ہے ۔ وارُن پہلے تو آسمان تھا ، پھر آسمان کا دیوتا ہوگیا اور اسی طرح جملہ کرشمہ ہائے قدرت میں جلوہ گر نظر آنے لگا جو آسمان میں نظر آتے ہیں ۔ اجزام فلکی سب اس کے تابع خیال کیے جانے لگے اور لیل و نہار کا تسلسل بھی اسی کی ذات سے وابسطہ کیا ہے اور چونکہ اجزام فلکی مقرہ قانون کے پابند ہیں اور دن اور رات ایک دوسرے کے بعد برابر آتے جاتے ہیں اس لیے وارُن پہلے تو اس قانون کا محافظ اور پھر ایک معمولی انتقال ذہنی سے جملہ قوانین اخلاقی و دنیاوی کا بنانے والا اور انسان اور دیوتاؤں کا راجہ ہوگیا ۔ اسے راجہ کے خطاب سے اکثر یاد کیا جاتا ہے ۔ اسے اَسُور بھی کہتے ہیں اور اکثر اس کی جسمانی اور روحانی خصوصیات ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں اور کبھی علحیدہ ہوجاتی ہیں ۔ اس لیے یہ معلوم کرنا دشوار ہوجاتا ہے کہ بعض تعریفیں اس سے بحثیت آسمان کے متعلق ہیں یا اس قوت کے جو اس پر حکران ہے ۔ اس کی تعریف کے بھجنوں میں نہایت اعلیٰ درجہ کی نظمیں ہیں ۔ جن امور کو پہلے بیان کیا گیا ہے اگر ان کو مدنظر رکھا جائے تو انہیں سمجھنا کچھ دشوار نہیں ۔ سوریا و سوم اس کی آنکھیں ہیں اور سوریا کا اس سے تعلق کا مختلف طریقوں سے اظہار کیا گیا ہے ۔ بعض جگہ سوریا کو وارُن کا گھوڑا بیان کیا گیا ہے ، کبھی سنہرے پر والا طائر پیامبر بتایا گیا ہے جو روشنی کے سمندر میں غوطہ مارتا ہے ۔ ایک جگہ ہے کہ سوریا ایک سنہرا جھولا ہے جو ایک اونچے مقام پر ٹنگا ہوا ہے ۔ رشیوں کو معمہ گوئی میں بھی کمال حاصل تھا ۔ چنانچہ ایک جگہ لکھا ہے وارن اس زبردست درخت کو مع اس کی جڑوں کے اس کی چوٹی سے فضا میں گھوڑے کے چمڑے کو دھوپ میں پھیلاتا ہے ۔ وہی جنگلوں میں ٹھنڈی ہوائیں بھیجتا ہے ۔ گھوڑے (سوریا) کو تیزی دیتا ہے ، گایوں (بادلوں) کو دودھ دیتا ہے ، دماغ میں عقل پیدا کرتا ہے اور پانی میں اگنی (یعنی بادلوں میں بجلی) کو قائم رکھتا ہے ۔ اس نے آسمان پر سوریا کو قائم کیا اور سوما کو پہاڑوں پر اگایا ۔ اس نے بادلوں کے برتن کو الٹ دیا اور ان کا پانی آسمان زمین اور ہوا پر بہنے لگا ۔ جس سے زمین اور فضلیں تر ہوگئیں ۔ وہ زمین اور آسمان کو تر کر دیتا ہے اور جیسے وہ گایوں کے دودھ کی خواہش کرتا ہے پہاڑ کڑکنے وال بادلوں میں ڈھپ جاتے ہیان اور تیز چلنے والے بھی تھک جاتے ہیں ۔ (رگ وید ۵۔۸۵)
 چنانچہ نیچے رچا میں اس کی طرف مخاطب کرکے لکھی گئی ہے ۔
’’او وارن ! ہم تیری پرستش کی اور کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے ۔ کیوں کہ تیرے قوانین اٹل ہیں ۔ میرے تمام پاپوں کو جو میں نے کیے ہیں ۔ ہم سے دور اور مجھے ان کاموں سے لیے سزا نہ دے جو کے ساتھ زمین ، ہوا اور آسمان کے دیوتاؤں سے قدیمی مذہبی اور داستانی خزانہ ویدک آریوں کا پُر ہے’’۔ 
’’یہ دیوتا تمام دنیا کی نگہبانی کرتا ہے ۔ برے کام کرنے والوں کو سزا دیتا ہے اور جو اس سے معافی مانگتے ہیں ۔ وہ ان کے گناہ بخش دیتا ہے’’۔ 
’’او وارن ! ہم تیری سیوا کرنا مبارک سمجھیں ۔ کیوں کہ ہم ہر وقت تیرا دھیان کرتے ہیں ۔ تیری ہی پوجا کرتے ہیں اور روز مرہ جس طرح کہ پراتہ کال ہون کنڈ میں آگ روشن کرتے ہیں ، تیری پرستش ہم کرتے ہیں’’۔
’’او وارن ! تو ہمارا رہبر ہے ، ہمیں اپنی حفاظت میں رکھ ، تو جو بہادروں میں بڑا دولت مند ہے اور ہر جگہ تیری ہی پرستش ہوتی ہے ۔ تو آدتی کا اجات پتر ہے ۔ ہمیں اپنا متر بنانا سویکار کر’’۔ 
’’آدیتہ جو حاکم ہے ۔ اس نے ان دریاؤں کو بھیجا وہ ورن کی آگیا پر چلتے ہیں ، وہ نہ تھکتے ہیں ، نہ ٹہرتے ہیں ۔ وہ ہرجگہ تیزی سے مثل پرندے کے پرواز کرتے ہیں ۔ او ورن ! میرے پابوں کو مجھ سے دور کر جس طرح قیدی کے پاؤں سے بیڑیاں کاٹی جاتی ہیں ۔ ہم تیری آگیا پالن کرنے والی اولاد پیدا کریں گے ۔ جب کہ میں اپنا گیت بناتا ہوں تو اس اس کی سور کو نہ کاٹ اور وقت پر کام ختم کرنے میں ہماری سہائتا کرے’’۔
’’او ورن ! اے سچے راجا تو مجھ پر دیا (رحم) کر کہ جس طرح کہ بچھڑے سے رسی الگ کی جائے ایسا ہی مجھ سے گناہوں کو دور کر ۔ اے ورن ان شستروں سے ہم کو نہ مار جن سے تو پاپیوں کو تلاش کرتا ہے ۔ ہمیں وہاں نہ بھیج جہاں روشنی معدوم ہوچکی ہے ۔ ہمارے دشمون کو منتشر کر کہ ہم آرام سے زندہ رکھ سکیں’’۔ (رگ وید منڈل ۲۔۲۸)

ٍ مستحکم قانون کا وارن نگہبان ہے اور جس کو وہ وجود میں لایا ہے اور قائم رکھتا ہے وہ ’ریت’ وہ نظام ہے جو جو سوریا اور سوما اور ستاروں کی حرکتوں اور رات دن اور موسموں کے تسلسل کو درست رکھتا ہے اور بادلوں سے پانی برساتا ہے ۔ یعنی وہ ابتری کو رفع کرکے باقیدگی قائم کرتا ہے اور یہ باقیدگی اس قانون کا نتیجہ ہے جس کی پابندگی دیوتاؤں (سوریا ، سوما اور وایو وغیرہ) پر فرض ہے ۔ اس قانون کے بابرکت ہونے میں شک نہیں ۔ اس لیے ریت پاک ہے ، صحیح اور راہ راست ہے ، بذات خود راستی ہے ، خیر مجسم ہے اور عالمگیر ظاہری اور باطنی دونوں پر اس کی حکومت ہے ۔ راستی کی عالم روحانی میں وہی حثیت ہے جو قانون کی عالم ظاہری میں اور دونوں ریت ہیں ۔ اس لیے جو دیوتا دنیاوی قوانین کا بنانے والا اور قائم رکھنے والا ہے وہی اخلاقی قانون کا نگہبان ہے اور گناہوں کو سزا دینے والا ہے ۔ اس کی ظاہری قیام گاہ آسمان ہے ۔
آریاؤں کو جتنی روشنیوں سے عشق تھا اتنا ہی تاریکی سے نفرت اور خوف کھاتے تھے ۔ دروغ گوئی اور ہر قسم کے گناہوں کو وہ ایک قسم کی اخلاقی تاریکی خیال کرتے تھے ۔ وارن تاریکی اور روشنی دونوں کا پیدا کرنے والا ہے تھا ۔ جب وہ انسان فانی سے خفا ہوجاتا تو اس سے منہ پھیر لیتا اور رات ہوجاتی اور اس کو وید میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’وارن گناہ گاروں کو زنجیر میں کس دیتا ہے‘‘ ۔ کیوں کہ انسان تاریکی میں اسی قدر بے دست پا ہوجاتا ہے جتنا کہ اگر اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے جائیں اور وہ ایسے خطروں میں ڈال دیا جائے جس کو وہ دیکھ نہ سکے ۔ وارن کی دو اور زنجیریں تھی یعنی موت اور بیماری ۔ انسان کو جب اپنے گناہوں سے پریشانی ہوتی تو وہ وارن ہی سے رحم و عفو کا ہوتا ۔ رگ وید میں کئی توبہ کے بھجن ہیں جو جذبات و حسن بیان کی گہرائی اور دوسری زبانوں کی بہترین نظموں کا مقابلہ کرتی ہیں ۔ آٹھویں حصہ میں وسشتھا کا بھجن نہایت پر اثر ہیں ۔
کوی نہایت پرجوش کے ساتھ اس وقت کو یاد کرتا ہے جب کہ وہ وارن کا منظور نظر تھا ۔ وہ اپنے ایک پر اثر خواب کو بیان کرتا ہے جیساکہ اس نے اس دیوتا کو روبرہ دیکھا تھا ۔ وارن نے اسے اپنے جہاز میں بٹھایا اور دونوں آسمانی سمندروں میں گشت لگاتے رہے ۔ اسی جہاز میں اسی بابرکت دن وارن دیوتا نے اسے شیریں کلامی کا اعجاز عطا کیا اور تا ابد اپنا منشی بنایا ۔ مگر ایک زمانہ آیا کہ یہ باتیں رفت و گشت ہوگئیں ۔ دیوتا ورسشتبھا سے کسی بات پر ناراض ہوگیا اور اس پر عذاب نازل کیا اور بیمار کر ڈالا ۔ وسشتھبا عاجزی سے آہ وازاری کرتا ہے ۔
’’کیا وہ دن تجھے یاد نہیں جب تو میرا دوست تھا اور ہم میں تعلق روحی تھا اور جب میں تیرے ہزار دروازے والے محل میں بے خوف و خطر چلا جاتا تھا ۔ اے وارن اگر تیرے رفیق اور دوست نے تجھے ناخوش کردیا ہے تو اے مقدس ہستی ہمیں سزا اتنی ہی دے جتنی کہ ہمارا گنا ہے اور شاعر کا ملجا مادی بن جا’’۔ (رگ وید ۸۔۸۸)
’’میں اپنے دل سے پوچھتا ہوں کہ میں کیا وارن سے پھر ملوں گا ؟ کیا وہ پھر میری پیشکش کو بغیر کسی ناخوشی کے قبول کرلے گا ؟ کیا میرے دل کو چین ہوگا اور وہ مجھ سے پھر راضی ہوجائے گا ؟ میں عقلمندوں کے پاس جاتا ہوں اور ان سے پوچھتا ہوں کہ آخر میرا قصور کیا ہے ؟ مگر وہ بھی کہتے ہیں کہ شاہ وارُن تجھ سے خفا ہے ۔ اے وارن وہ بدترین گناہ کیا ہے جس کی پاداش میں تو اپنے دوست کو پرستش کرنے والے کو سزا دیتا ہے ؟ ہمیں اپنے والدین کے گناہوں کے بوجھ سے سبکدوش کردے اور ان گناہوں کو بھی معاف کردے جو خود ہم سے سرز ہوئے ہیں ۔ ورسشتبھا کو رہا کر دے جیسے کہ بچھڑا رسی سے چھڑایا جاتا ہے ۔ ہمارے گناہوں کے باعث ہماری ذات نہ تھی بلکہ اغوا ، کبھی نشہ والی چیزوں سے ، کبھی شہوت سے یا بے خیالی سے یا قماربازی سے (ہم گناہوں کے مرتکف ہوتے ہیں) طاقت ور کمزور کو بگاڑتا ہے اور نیند سے بھی بدکرداری پیدا ہوتی ہے’’۔ (رگ وید ۸۔۸۸)
’’اے وارن ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ میں خانہ گلی میں داخل ہوں ، رحم اے مہابلی رحم ۔ اگر میں ادھر اُوھر بھٹکوں جسے ہوا پریشان کرتی ہے مجھ پر رحم کر ۔ اے ذات بے لوث میں نے راہ راست راہ راست کو کمزور ہونے کی وجہ سے چھوڑا ہے رحم کر ، رحم کر ۔ تیرے پرستش کرنے والے کو پیاس لگی حالانکہ وہ پانی کے بیچ میں تھا رحم کر رحم ۔ اے وارن جب ہم آسمانی دیوتاؤں کو دیکھتے ہوئے گناہوں کے مرتکب ہوں اور تیرے قوانین کی خلاف ورزی کریں تو رحم کر رحم ۔ (رگ وید ۸۔۸۸)
ورسشتبھا کے ان بھجنوںکا ایک کامل مجموعہ ہے جس کی رگ وید میں کوئی نظیر نہیں ۔ مگر اس قسم کے چند خیالات دوسرے بجھنوں میں ملتے ہیں مثلاً
’’اے وارن آدمیوں کی طرح خواہ ہم ہر روز تیرے قوانین کی کتنی ہی خلاف ورزی کریں مگر تو ہمیں موت کے حوالے نہ کر اور غضبناک اور کینہ ور لوگوں کا شکار نہ بنا ۔ میرے گیت تیرے طرف اڑتے ہیں ۔ جیسے کہ چڑیا اپنے گھونسلے کی طرف یا گائے چراگاہ کی جانب’’۔ (رگ وید ۱۔۲۵)
’’مجھ سے صرف میرا گناہوں کا مواخذہ کر نہ کہ دوسروں کے گناہوں کا’’۔ (رگ وید ۲۔۲۸)
’’میرے جسم سے اوپر کی رسی ہٹالے بیچ کی رسی کو ڈھیلا کردے اور نیچے کی رسی کو نکال دے’’۔ (رگ وید ۲۔۲۵) (گویا ایک شخص ستون سے بندھا ہے اور شانوں اور ناف اور گھٹنوں پر رسیوں سے جکڑ دیا ہے) ۔
رگ وید میں وارن کی پرستش کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ زیادہ تر اپنے بھائی متر ساتھ مخاطب کیا جاتا ہے ۔ جس سے مراد کبھی سوریا ہوتی ہے ، کبھی نور اور کبھی وہ قوت جس کا سوریا تابع ہے اور جو اسے ٹھیک وقت پر دنیا میں روشن کرتی ہے ۔ یہ نیک مزاج اور مخیر دیوتا وہی ہے جس کو ایرانی متھرا کہتے تھے اور جس کا اوستا میں اکثر بیان آیا ہے ۔ مگر رگ وید میں اس کا خاکہ دھندلا سا ہے اور وہ غیر شخصی ہے ۔ گو اس کی تمام خصوصیات باقی رہیں ۔ جو اس کے ساتھ ہندی اور ایرانیوں کی علحیدیگی سے قبل منسوب کی جاتی تھیں ۔ مگر رگ وید میں بھی اس کو ہر چیز کو دیکھنے والا (ناظر) اور سچائی کو بیان کرنے والا بیان کیا گیا ہے مگر اس کی شخصیت زائل ہوچکی تھی ۔ کیوں کہ اسے صرف ایک ہی بھجن (رگ وید ۳۔۵۹) میں علحیدہ مخاطب کیا گیا ہے اور وہ گویا وارن میں بالکل مل گیا ہے ۔ جس کی صفات ، فرائض اور اعزاز میں وہ بھی شریک ہے ۔ سوریا کو متر اور وارن کی آنکھ بیان کیا گیا ہے اور کبھی صرف وارن کی ہی ۔ کبھی دونوں دیوتاؤں کی رتھ ہے جس پر وہ سوار ہوکر فضا میں اپنے مقررہ راستے پر چلتے ہیں ۔ ایک مقام پر بیان کیا گیا ہے کہ صبح کے وقت روشنی سنہری ہوتی ہے اور غروب آفتاب کے وقت اس کا رنگ بھورا ہوجاتا ہے اور دونوں دیوتا (ریت) کے محافظ ہیں اور سزا دینے والے ہیں ۔ مگر گناہوں کو معاف بھی کرتے ہیں ۔ مختصر یہ وارن میں کوئی صفات ایسی نہیں ہیں جو متر میں نہیں ہو ۔ البتہ اس کی صفات میں وہ جوش و جذبہ نہیں ہے ۔ متر کا ذاتی فرض یہ تھا کہ آدمیوں کو جگا کر انہیں روز مرہ کے ہر کام پر لگائے ۔ اس لیے رفتہ رفتہ اس کو نور سے منسوب کیا جانے لگا اور وارن آسمان کا تعلق رات سے ہوگیا ۔ گو ابتدا میں اس قسم کی تفریق نہ تھی اور سیکڑوں مقامات سے ثابت ہوسکتا تھا وہ تاریکی اور نور دونوں کا دیوتا تھا ۔ مگر یہ خیال رفتہ رفتہ جڑ پکڑتا گیا اور ویدوں کی تفسیر کرنے والے اس پر اصرار کرنے لگے ۔ اس طور پر ایک عجیب تغیر شروع ہوگیا جس کی وجہ سے زمانہ مابعد کے برہمنوں کی دیو مالا کا وارن رشیوں کے عظیم انشان آسمان کے دیوتا سے بالکل مختلف ہوگیا ۔ گو اس تغیر کی ہر منزل کو ہم ویدوں میں بتاسکتے ہیں ۔ موجودہ زمانہ کے افسانوں میں وارن پانی کا دیوتا ہوگیا ۔ اس کی تمام آسمانی صفات غائب ہوگئیں اور لوگوں صرف اس کا پانی (کرہ مہریر کا سمندر اور بارش کی ندیاں) سے تعلق یاد رہے گیا اور رفتہ رفتہ بجائے آسمانی سمندروں کے سطح زمین کا خیال پیدا ہوگیا ۔ اس کی اخلاقی صفات میں سے وہی لوگوں کے دلوں میں رہیں جو ڈرانے والی تھیں ۔ یعنی وہ صرف سزا دینے والا خیال کیا جانے لگا اور اس کے متعلق زنجیروں ، رسیوں اور پھندوں کے جو الفاظ رسماً مستعمل ہوگئے تھے ان میں سے ایک گونہ اس کی بے رحمی اور بدنیعتی کا اظہار ہوتا تھا ۔ حالانکہ اس رحیم اور انصاف پسند آسمان کے بادشاہ کی ذات سے یہ صفات بالکل دور تھیں جس کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ وہ گناہگاروں پر بھی رحم کرتا ہے ۔
زمانہ قدیم کے رشیوں نے بھونڈے انداز میں وارن کا خاکہ کھنچا ہے ۔ گو اس میں کوئی درشتی نہیں ہے مگر ہم تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ اس آسمانی دیوتا کی مختلف شکلوں کو بھونڈے انداز میں بیان کی ہے ۔ جو ہندوستان کی قدیم نظم اور فنون لطیفہ پر ایک دھبہ ہے ۔ غنیمت ہے ویدی ہند عہد میں بت پرستی رائج نہ تھی اور جہاں بیان کیا گیا ہے کہ وارن کے چار چہرے ہیں اور اس سے چار اسمات مراد ہے ۔ اگر کوئی ہندی اس کا بت بناتا تو انسانی صورت بناکر اس کے چار چہرے یا ایک گردن پر چار سر بنا دیتا ۔ بعد کے زمانہ میں مندروں میں جو لغویات بھری ہوئی ہیں اس کی بناء پر ہم آسانی سے قیاس کرسکتے ہیں کہ ہندی صناع اس دیوتا کس قسم کے مجسمے بناتے ۔ مثلاً وارن ے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ اس کی تین چمکتی زبانیں تھیں ۔ (اتھرون وید) یا وہ اپنی زبان سے آگے بڑھاتا تھا یا آسمان پر چڑھ کر اپنے پاؤں سے جس میں شعلے نکلتے تھے (سوریا) دشمنوں کے جادو کو دور کرتا تھا ۔ (رگ وید ۸۔۴۱)
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں