37

واچ

واج (مجسمہ گفتار) کو بھی برہمنوں نے دیوتائوں کے برابر کر دیا ہے ۔ جس کو رگ وید کی آخری یعنی دسویں کتاب میں بہت پیارا ، ہر چیز پر محیط ، کئی گھروں کے لیے دولت لانے والا کہا گیا ہے ۔ مگر یہ تجسیم حدود شاعری سے تجاور نہیں کرتی اور جن مناظر قدرت سے اس کا ارتقاء ہوا ہے ان سے اس کا تعلق صاف ظاہر ہے ۔ آریاؤں کے قدیم شاعروں کے ان تخیلات کی بلند پروازی کا مقابلہ مشکل سے ہوسکتا ہے ۔ گو یہ تخیل بعد زمانے میں افسانوی شاعری بعض ممالک میں ملتی ہیں ۔ قدیم ترین کلام دیوتاؤں کی آواز یعنی بجلی کی گرج اور طوفان باد و بہاراں ہے ۔ جسے واچ یعنی مقدس کلام کہتے ہیں جو آسمانی گھر میں رہتا ہے اور عقلمند اور کریم النفس اور باعظمت ہے ۔ مگر یہ مقدس کلام انسان کے لیے نہیں ہے ۔ ان کے لیے واچ گفتار انسانی کی صورت میں دنیا میں آتا ہے ۔ چنانچہ شاعر کہتا ہے ۔ 
’’آدمیوں نے اپنے ابتدائی الفاظ سے چیزوں کے نام رکھے اور ان کے دلوں میں جو بہترین چیزیں تھیں وہ ظاہر ہوگئیں’’۔ 
’’جہاں عقلمند لوگ تمیز کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں اور اپنے الفاظ کو چھانتے ہیں ، جیسے کہ آٹا چھلنی میں چھانا جاتا ہے ۔ دوست دوست سے آشنا ہوتا ہے اور خش قسمتی کی دیوی ان پر سایہ افگن ہوتی ہے’’۔ 
’’قربانی کرکے انہوں نے واچ کی راہ اختیار کی اور اس کو رشیوں کے گھر میں پایا ۔ واچ کو لے کر انہوں نے اس کے کئی حصے کیے اور اب سات رشی اس کی تعریفیں گاتے ہیں’’۔
’’ایک شخص بینا ہے مگر واچ کو نہیں دیکھتا ، دوسرا سن سکتا ہے مگر اس کو نہیں سنتا ۔ دوسرے پر جلوہ افگن ہوتی ہے ۔ جیسے کہ ایک خوش لباس اور چہتی بیوی اپنے شوہر کو حسن دیکھائے’’۔
’’ایک شخص اس کا مورو الطاف ہے ۔ محفلوں میں اسے ہزمیت نہیں ہوتی ۔ دوسرا بے سود تفکرات میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے اس نے صرف واچ کو سنا ہے ۔ مگر وہ اس کے لیے ایک درخت ہے جس میں پھل نہ پھول’’۔
’’جو شخص کہ کسی نیک دل دوست کو چھوڑ دیتا ہے ۔ اسے واچ سے کوئی حصہ نہیں ملتا ۔ واچ کو سننے سے کوئی نفع نہیں ہوتا ۔ وہ نیکی کی راہ سے ناآشنا ہے’’۔
’’ان لوگوں میں سے جو اپنی آنکھوں اور کانوں سے اس کے مزے لے سکتے ہیں ۔ ان کے قلوب پر بھی اس کا یکساں اثر نہیں ہوتا ہے ۔ بعض جھیلیں ہیں جن کا پانی گردن اور منہ تک پہنچ جاتا ہے اور بعض پایاب ہیں ۔ جن سے صرف نہانے کا کام نکل سکتا ہے’’۔
’’جب حریف پجاری ان کہاوتوں کو دہرا کر عبادت کرتے ہیں جو روح کے زور سے پیدا ہوئی ہیں ۔ ایک عقل میں پیچھے رہ جاتا ہے اور دوسرے اپنے کو سچا پجاری ہونا ثابت کرتے ہیں’’۔
’’ایک بیٹھا ہوا ایسے گیت سناتا ہے جو کلیوں کی طرح ہیں ۔ دوسرا اونچے سروں میں گیت گاتا ہے ۔ کوئی اشیاء کی ماہیت پر فراست کے ساتھ بحث کرتا ہے ۔ کوئی رسوم کے مطابق قربانی کرتا ہے’’۔
’’اور دوست اپنے دوست پر ناز کرتے ہیں ۔ جب وہ شاعروں کا سرخیل ہوجاتا ہے ۔ وہ ان کی غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے ۔ فلاح و برکت کی راہ دیکھاتا اور محفلوں لیے تیار رہتا ہے’’۔ 
گفتار انسانی کا حسن ، اس کی عظمت و شان اور اس کے ممکنات کا اس سے زیادہ خوبی اور لطافت کے ساتھ بیان کرنا دشوار ہے جو لوگ سن سکتے ہیں ۔ مگر واچ کو دیکھنے اور سننے سے مجبور ہیں ۔ ان میں اور ان لوگوں میں جنہیں یہ برکت عطا ہوئی اسے کس خوبی سے بیان کیا گیا ہے یا اس روح میں جو جھیل کی طرح گہری اور دل کے نالے کی طرح پایاب ہے کی مثال دی ہے جو ان شعرا جن پر میں آمد ہی آمد ہے اور ان لوگوں میں جو خواہ مخواہ دماغ سوزی کرتے ہیں اور ان سے یہ دیوی منہ پھیرے ہوئے ہے ۔ اس سے عام اشعار مراد نہیں ہے بلکہ وہ دیوی مراد ہے جس کی قربت قربانی ، رسوم پرستش اور مقدس بحروں میں سے حاصل ہوتی ہے یعنی بھجنوں کی تصنیف ہیں اور وہ صرف درست طریقے پر وعا (برمھ) کرنے سے حاصل ہوتی ہے ۔ اس بھجن سے پجاریوں کی لغویات نکال دیا جائے تو اس کی حثیت ایک لطیف نظم کی ہوجائے گی ۔ 
واچ کی توصیف میں ایک دوسرا بھجن (رگ وید دہم ۱۲۵) ہے ۔ جس میں یہ دیوی برہمنوں کی صرف ایک اظہار رہ گئی ہے ۔ مگر اس میں نظم مذکورہ بالا کے محاسن نہیں اور نہ اس میں وہ ایک گائے ہوگئی ہے ۔ اس نظم میں شاعر ناخوش نظر آتا ہے کہ وہ کسی ایسے بادشاہ کا پروہت ہے جو فراخ دلی سے انعام و اکرام نہیں دیتا ۔ اپنی شکایت کا وہ واچ دیوی کی زبان سے اظہار کرتا ہے ۔
’’میں واچ گفتار میں مشتاق ہوں ، میں جملہ مقدس رسوم میں شریک رہتی ہوں ۔ وہ مقدس گائے ہوں جو دیوتاؤں کے پاس سے آئی ہے ۔ مگر بدطینت انسان میری طرف رخ نہیں کرتا ہے’’۔ واچ کی اہمیت کچھ نہیں ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں