52

وایو

وید کا ایک دوسرا دیوتا جسے ہم اندر کے پہلو بہ پہلو پاتے ہیں جس کا وجود قبل ایرانی یا یا ابتدائی آریائی زمانے سے ہے ۔ وایُو یا وات یعنی ہوا ہے اور اس سے زیادہ ہیبت ناک آندھی کا ہے جسے مروت کہتے ہیں ۔ وایو سے مراد تند و آندھی سے نہیں بلکہ اس مفید اور خنک ہوا ہے جو کرہ مہرہ کو صاف کرتی ہے اور انسان و حیوان کو گرمیوں کی اذیت سے نجات دلاتی ہے ۔ چنانچہ وایو کے بارہ میں ایک رشی کہتا ہے ’’وہ کہاں پیدا ہوا تھا کہاں سے نکلا تھا ۔ وہ دیوتاؤں کی زندگی اور دنیا کا محور ہے ۔ یہ دیوتا جہاں چاہتا ہے حرکت کرتا ہے ۔ اس کی آواز سنائی دیتی ہے مگر وہ نظر نہیں آتا ہے’’۔ وایو کی رگ وید میں ادنی حثیت ہے ۔ اس کی تعریف میں بہت کم بھجن ہیں ۔ مگر دوسرے دیوتاؤں کے ساتھ اس کا ذکر اعزاز اور شکر گزاری کے ساتھ آیا ہے ۔ اسے آسمان (دیاؤس) کا ایک بیٹا قرار دیا گیا ہے اور اس سے نہ صرف سوما کی قربانیوں میں شیریک ہونے کی استدعا کی جاتی ہے ۔ بلکہ شراب کا پہلے پیالے بھی اس کا حق تھا ۔ برہمنوں میں اس کے متعلق ایک قصہ لکھا ہے کہ پہلے پیالے کے لیے دیوتاؤں میں ایک دفعہ دوڑ ہوئی اور وایو (ہوا) جیت گئی ۔ نیچے دیئے بھجن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خاموش دیوتا کی کس قدر تعظیم ہوتی تھی اور قدیم شعرا کو اسرار قدرت کا کتنا احساس تھا اور بعد کے دور میں بھی ان کے خیالات میں زیادہ فرق نہیں آیا ۔
’’میں وات کے بڑے رتھ کی تعریف کر رہا ہوں جو ہوا کو چیرتا ہوا بجلی کی گرج کے ساتھ آتا ہے ۔ جو آسمان کو چھوتا ہوا چلا جاتا ہے اور اس کو سرخ کردیتا ہے اور زمین پر گرد اڑاتا ہے ۔۔۔ باد صرصر اس کے پیچھے دوڑتی ہے ۔ جیسے کوئی دوشیزہ میلے چلی جارہی ہے ۔۔۔۔ وات اپنی پرواز میں ایک دن بھی آرام نہیں کرتا ہے ۔۔۔ وہ کہاں پیدا ہوا اور کہاں سے آیا ؟ جو کہ دیوتاؤں کی سانس اور دنیا کی اولاد میں سب سے بڑا ہے ۔ یہ دیوتا جہاں چاہتا ہے اپنی مرضی سے چلا جاتا ہے ۔ اس کی سرسراہٹ کو ہم سنتے ہیں مگر اس کی شکل کبھی نہیں دیکھتے’’ ۔  

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں