62

وحشتوں کی سرزمین

رڈک کا علاقہ تبت کے مغربی کنارے پر دنیا کے چند وحشت ناک اور ویران مقام میں ایک ہے ۔ یہاں طبقات زمین کے نہایت دلچسپ عجائبات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ اس میدان کے جنوب میں کوئین لین Kuen Lun کے پہاڑوں کا سلسلہ ہے ۔ اس کی اوسط بلندی 20000 فٹ بلند ہے اور اس کی پشت پر یعنی جنوب میں مسطح میدان واقع ہے جو 17000 فٹ بلند ہے ۔ جس کی بلندی گو بتدیح کم ہوتی جاتی ہے ۔ لیکن کہیں 13000 سے کم نہیں ہے اور یہ میدان ہمالیہ تک پھیلا ہوا ہے ۔ جس کے ود مقامات جہاں دریا دونوں طرف بہتے ہیں 18000 فٹ بلند ہیں اور اس چوٹیاں ان سے بھی 10000 فٹ اونچی ہیں ۔ یہ بلند چوٹیاں سندھ و گنگا میدان کے درمیان جو سطح سمندر سے کچھ زیادہ ہی بلند ہے فصیل کا کام دیتی ہے ۔ رڈک اس عظیم انشان مرتفع میدان کے سب سے اونچے حصہ پر واقع ہے ۔ اس کی جانب مغربی لداخ اور قراقرم کے پہاڑ ہیں ۔ یہ ایک نہایت طویل سلسلہ پہاڑوں کا ہے ۔ جس میں کے ٹو 28250 فٹ بلند اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے ۔ اس کے شمال جانب چنگ Chang کا ہوا بیابان یا صحرا ہے اور اس سے ہٹ کر کوین لن کے پہاڑ ہیں ۔ کوین لن کے پہاڑوں میں درے موجود ہیں لیکن ہمیشہ برف سے ڈھکے رہتے ہیں ۔ اس لیے ادھر سے تاجروں کا گزرنا ممکن نہیں تھا ۔ اس کے علاوہ ان دروں کے ذریعہ چینی ترکستان کے ایک بیابان اور ویران خطہ میں نکلتا ہے جہاں کسی قسم کی سہولتیں میسر نہیں ہیں ۔ 

اس علاقہ میں جنگلی یاکوں ، گدھوں اور بارہ سنگھوں کے جھنڈ کے جھنڈ پھرتے رہتے ہیں ۔ جنہیں کھانے کو سبزہ مشکل سے میسر آتا ہے یہاں پانی کا قحط ہے ۔ کیوں کہ یہاں کی زمین کا ڈھال اس قسم کا ہے کہ دریاؤں کے پانیوں کو راستہ نہیں ملتا ہے ۔ اس لیے یہاں بہت سی جھیلیں ہیں مگر ان کا پانی نمکین ہے اور پینے کے قابل نہیں ہے ۔ سوڈا ، نمک اور شورہ ہر جگہ ملتا ہے مگر درخت ناپید اور آبادی کا نام و نشان نہیں ہے ۔ البتہ کچھ سونے کی تلاش میں سرگرداں لوگ ضرور پھرتے تھے ۔ کاشغر اور شمال کے سوداگر بمقابلہ کوین لن کے دروں کے جو دشوار گزار اور تقریبا ناگزار ہیں درہ قراقرم سے جو  18550فٹ بلند ہے اور جہاں ہر سال بار برداری کے جانور کثرت سے ضائع ہوجاتے تھے جانا پسند کرتے تھے ۔ وسط ایشیا کے کارواں دررہ لیہ سے ہوتے ہوئے موگلاری Mognalare جھیل کے پاس سے گزرتے تھے ۔ جس کے شمالی اور جنوبی کنارے پر نوح Noh اور رڈک کے شہر واقع ہیں اور وہاں سے لاہسہ کے میدانوں میں ہوتے ہوئے جاتے ہیں جو ٹھوک جالنگ کے شمال میں 16000فٹ بلند دنیا کا وہ مقام ہے جو سارا سال آباد رہتا ہے یا جنوب کی جانب گارتنگ سے ہوکر کیلاش اور مان سرور جھیل کے قریب اس راستہ سے جاتے تھے جو تبت کے دالحکومت جاتا تھے اور اس راستہ پر کثرت سے آمد و رفت رہتی تھی ۔ گارتنگ سے رڈک تک آٹھ دس روز کا سفر تھا اور وہاں آبادی بھی تھی ۔ وہاں جو کاشت کی جاتی ہے ، نمک کثرت سے ہوتا اور اس مقام کے قرب و جوار کا علاقہ عمدہ گھوڑوں کے لیے مشہور تھا ۔ جو گھوڑوے گارتنگ میں گھڑ دور میں جیتے تھے وہ اچھے داموں میں بکتے تھے ۔ گارتنگ سے لہہ کا فاصلہ دو سو میل ہے اور یہ سڑک تاشی گانگ اور دموک سے ہوکر گزرتی ہے ۔ یہاں سے اون ، پشم ، مشک ، نمک ، قیمی پتھر اور چائے جاتی تھی اور کشمیر سے اون ریشم کے ولایتی کپڑے ، اناج ، شکر چائے جاتے تھے اور قیمی پتھر آتے تھے ۔ اس کے علاوہ تبت میں ہندوستانی روپیہ کی بھی بہت مانگ تھی اس لیے انڈین وہاں روپیہ بھی جاتا تھا ۔ پشم ان چھوٹی نسل کی بکریوں کے پیٹ کے بال ہوتے ہیں ہیں اور دنیا کی سب سے ہلکی اون ہے جو زیادہ تر تبت کے مرتفع میدان کے بلند حصوں میں ہوتی ہے ۔ اس کی بڑی مانگ تھی اور مہنگی بکتی تھی ۔ اس اون سے ہی کشمیری نور باف صدیوں سے شالیں بنتے آرہے ہیں اور بلتستان سے خشک خوبانی ، مغز اور مکھن آتا تھا ۔

یہاں زمین کی ساخت میں لاکھوں سالوں کے دوران تبدیلیاں واضح نظر آتی ہیں ۔ کروڑوں سال پہلے برصغیر کا ٹکڑا افریقہ سے کٹ کر ایشیاء سے جڑ گیا تھا ۔ اس سے پہلے یہاں ٹھائیں ٹھائیں مارتا سمندر تھا ۔ یہاں سمندری جانوروں اور نباتات کے فوسلز زمین اوپر اور نیچے دونوں طرف پائے گئے ۔ جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں کی زمین کئی مرتبہ زیر آب ہوئی اور بلند ہوئی ۔ موجودہ پہاڑی سلسلے کوئی ایک ہزار ملین سال پہلے وجود میں آئے ۔ جب ارضیاتی تبدیلوں کے نتیجے میں وسط ایشیا کی سطح مرتفع جنوب کی جانب برصغیر کی طرف ڈھکیلنا شروع ہوئی ۔ ایک ٹھوس گہری جڑوں والی چٹان جو شاید دنیا کی سب سے قدیم چٹان تھی برصغیر کے نیچے ڈبی رہی ۔ لاکھوں سال تک شمال کی جانب ایک ناقابل مزاحمت قوت اس میں مسلسل روکاٹ پر ڈباؤ ڈالتی رہی اور آہستہ آہستہ ان کے درمیان زمین کی سطح بلند ہونا شروع ہوئی اور اس طرح قراقرم اور ہمالیہ کے سلسلے وجود میں آئے اور سمندر برصغیر کے شمال میں دریا کے پہنچنے کا راستہ بناتے ہوئے مشرق و مغرب کی طرف بہہ گیا ۔ جنوب کی سمت میں دباؤ مسلسل جاری رہا اور تقریباً پانچ لاکھ سال پہلے سلسلہ ہمالیہ اور قراقرم کے درمیان کیلاش کا پہاڑی سلسلہ ابھرنا شروع ہوا ۔ جس نے پہلوں سے نکلنے والے آبی راستوں کو روک کر جنوب اور مشرق کی جانب گنگا اور برہم پتر اور شمال و مغرب کی طرف سندھ اور ستلج دو علحیدہ علحیدہ دریائی نظاموں کو جنم دیا ۔

سندھ اور گنگا کے منبع صرف ساٹھ میل کے فاصلے پر ہیں اور دونوں دریا مخالف سمتوں میں بہتے ہوئے دو مختلف سمندورں میں گرتے ہیں جن سے درمیان برصغیر کی سرزمین کو مثلث بن جاتی ہے ۔ یہ ثبوت ہے کہ یہاں کبھی سمندر تھا اور یہاں دریاؤں میں دو ایسے عجیب و غریب جانور ملتے جو کہ دنیا میں کہیں نہیں پائے جاتے ہیں ۔ ایک دریائے سندھ کی اندھی ڈلفن اور دوسرا گھڑیال جو کہ دریائے گنگا کا باسی ہے ۔ وسط ایشیا کی سطح اب بھی ابھر رہی ہے اور وہ پہاڑ جنہوں نے دریائے سندھ کو گھیر رکھا ہے اب بھی آہستہ آہستہ بلند ہو رہے ہیں اور جنوب کی سے طرف کسک رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے یہاں زلزلے اکثر اور لینڈ سلائڈنگ ہوتی رہتی ہے ۔ 

ہمالیہ کا مطلب ہے برف کا مسکن اور قراقرم کا مطلب ہے کالی مٹی ۔ یہاں مون سون کے بادل ہمالیہ کے مغربی پہلو سے ٹکراتے ہیں اور اس لیے یہاں بلندی تک پہاڑوں کو سبزہ نے دھانپ دیا ہے ۔ اس کی نسبت شمال کی جانب دریائے کی گزرگا کی سمت بارش نہ ہونے کے برابر ہے ۔ سالانہ تین انچ سے بھی کم بارش ہوتی ہے ۔ یہاں پہاڑ بنجر اور کچھ کھلے میدان ریت سے بھرے ہیں , ہوا خشک اور گرد آلودہ ہے ۔ برف باری چھوٹے دانے چنوں کی طرح ہوتی ہے ۔ سطح کی چٹانیں ٹوٹی پھوٹی اور ڈراروں والی ہیں ۔ زمین کی سطح رتیلی ہے یا ڈھیلوں کی صورت میں ہے جس کی میں مٹی میں سنگریزے ہیں ۔ کٹاؤ کے عمل میں دریائے سندھ اور معاون ندیوں نے ایسے نشانات چھوڑے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کسی وقت بلند سطح پر بہتے تھے ۔ ان کی گزر گاہیں پانی سے گول گئی چٹانوں اور پتھروں پر مشتمل ہیں ۔ یہ پرانے گلشیر کی باقیات بھی ہوسکتی ہیں یا گرمیوں کے پانی کے تیز ریلوں میں یہ پتھر لڑک لڑک کر گول ہوگئے ہیں ۔ سردیوں اور گرمیوں کے درجہ حرارت کے بہت زیادہ فرق نے زمین کی سطح کو کمزور کر دیا ہے ۔ جس کی وجہ سے زمین کے ٹکروں ، گاروں اور چٹانوں کا پھسلنا عام بات ہے ۔ بلند و بالا گھاٹیوں میں گلیشر دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں میں گلیشر کے بڑے بڑے ٹکرے شامل کر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات کوئی گلیشر دریا میں بند باندھ کر دریا کو مہینوں کے لیے روک لیتا ہے اور جب دریا کا پانی اس گلیشر کو توڑتا ہے تو یہ سمندری طوفان کی طرح اچلتا چلتا ہے اور راستے میں آنے والی ہر چیز ، دیہاتوں فضلوں اور درختوں کو ملیا میٹ کر دیتا ہے ۔

تنگ اور پتھریلی دیواروں کے درمیان دریائے سندھ زیادہ تر ڈھلان والی چٹانوں میں پھنسا ہوا بہتا ہے ۔ یہ سرخ خاکستری اور بھورے رنگ کی چٹانیں ہیں ۔ جنہیں ہوا اور برف نے کلسوں ، کنگروں اور آری کے دندانوں کی طرح کاٹ رکھا ہے ۔ یہاں کے مناظر پرہیبت اور پرشکوہ ہیں ۔ عظیم انشان گھاٹیوں کا اس قدر لمبا سلسلہ کرہ ارض پر کہیں اور نہیں پایا جاتا ہے ۔ تنگ راستہ پر ایک سمت میں بلند و بالا عمودی چٹانیں اور طرف عمودی گہرائی میں جھاگ اڑاتا بہتا ہوا دریا ۔ یہاں دور دور تک کوئی کوئی جھاڑ جھنکار نظر نہیں آتا ہے ۔ ان پہاڑوں پر آنے والوں کے لیے اس کے جاہ و جلال کو زیادہ دیر تک براشت کرنا ممکن نہیں ۔ اس کے عظیم انشان پہاڑ عمودی چٹانوں کے سلسلے ، پتھریلی چٹانیں اور تنگ گھاٹیاں ، گری پڑی ٹوٹی چٹانوں کے جنگل سب کے سب یکسانیت کے شکار ہیں ۔ اس کی بلند و بالا چٹانوں سے گزرنے والوں کو دریا اس وقار اور عظمت کے ساتھ بہتا نظر آتا ہے جس میں صدیوں سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ بلاشبہ ارضی عجائبات اور تبدیلوں کا جو شاندار مشاہدہ یہاں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اس کی مثال اور نہیں ملتی ہے ۔     

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں