88

وراتیہ

خانہ بدوشوں کا ایک قبیلہ جس کے متعلق بہت کم معلومات ہیں لیکن ہندوستان وارد ہونے والے آریاؤں میں یہ قبیلہ بھی شامل تھا ۔ انہوں نے رفتہ رفتہ دکن کی طرف بڑھنا شروع کردیا ، لیکن برہمنی دائرہ اثر سے باہر رہے ۔ 
ان لوگوں کے پاس چھکڑے تھے ، جن میں گھوڑے ، خچر اور بیل جوتے جاتے تھے ۔ یہ لوگ چھکڑوں کو قربانی اور عبادت گاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے ۔ دوران عبادت سروں پر سیاہ پگڑی ، جسم پر سیاہ لبادہ اور کانوں میں تقریباتی مندرے پہنتے تھے ۔
اتھر وید کے مطابق یہ یوگا کی بعض مشقوں کے عامل تھے ، جن میں سال بھر کھڑے رہنا ، حالت استغراق میں چلے جانا اور سانس کی مشقیں بھی شامل تھیں ۔ نامعلوم وجوہات کی بناء پر گزرتے وقت کے ساتھ ان کا سماجی رتبہ گرتا چلا گیا ۔ بعد کی تحریروں میں انہیں سماج دشمن ، شرابی ، زہر دینے والے اور دوغلے کہا گیا ہے ۔ منو نے ان پر خصوصیت سے کڑی تنقید کی ہے ۔ اس کا فیصلہ ہے کہ اعلیٰ طبقات سے رکھنے والا کوئی بھی جس کی رسوم تقدیس INTIATION مقررہ وقت پر ادا نہیں ہوتی ہے ، بلا آخر وراتیہ (ذات یا آشرم سے باہر) قرار دیا جاتا ہے اور سچے آریاؤں کی تحقیر کا نشانہ بنتا ہے ۔ 
ایلیڈا شمنیزم Shamniism میں لکھا ہے کہ یہ قبیلہ آب حیات کی تلاش میں سرگردان تھا ۔ اس خیال کی تصدیق ڈاکٹر بھنڈار کر نے بھی کی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ قبیلہ شیوا وابستہ رسوم سے وابستگی کے باعث غالباً یہی لوگ بعد ازاں شیومت کے نام سے باقائدہ ایک فرقہ کی شکل اختیار کر گئے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں