76

وسستھ

ویدی عہد کہ روایات کے نمایاں ترین رشیوں میں سے ایک ۔ لیکن وید عہد کے بعد کی اساطیر میں اس کے جانشینوں کو اکثر ان کے جد امجد سے گڈ مڈ کردیا جاتا ہے ۔ عظیم رشی ہونے کے باعث رگ وید کے ساتویں منڈل میں اسے ممتاز ترین رشیوں میں شمار کیا جاتا تھا ۔ رگ وید کے ایک منڈل کی تصنف اس سے منسوب ہے ۔ 
دس راجاؤں کی جنگ (دس راجنہ) کے دوران وسستھ ترسو کے بادشاہ سداس کا پروہت تھا ۔ سداس نے اپنے سابقہ پروہت وشوا متر کو وقتی طور پر معزول کردیا تھا اور وہ دشمنوں سے جاملا تھا ۔ شاید وسستھ کے اس منصب پر فائز ہونے کے نتیجے میں بعد ازاں قاعدہ بن گیا کہ دوران یگیہ صرف پروہت برہمن کے فرائض سر انجام دے سکتا ہے ۔ خیال کیا جانے لگا کہ دربار میں باقاعدہ طور پر متعین پروہت کی عدم موجودگی میں حکومت کی کوشش کرنے والا بہر صورت ناکام رہے گا ۔ اگرچہ رگ وید میں ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے ۔ لیکن وشوامتر کے معطل اور وسستھ کے متعین کیئے جانے کے نتیجے میں دونوں رشیوں اور ان کے جانشینوں کے مابین جنگ و جدل کی کئی داستانوں نے جنم لیا ۔ اس کی کئی مثالیں سش سام Sus Sam میں ملتی ہیں ۔ جن میں سے ایک کی ووسرے سے وشوامتر کے تاؤ دلانے پر وسستھ کے ماتھے پر آنے والی بوندیں بہہ کر اس چارے پر گریں جو سورگ کی گائیوں کے لیے ذخیرہ کیا گیا تھا ۔ پسینے کی بوندیں ایسی بہت سی زہریلی مکٹریاں بن گئیں ، جو تک ایک رشی کی حرکت کے نتیجے میں شاہی لبادوں میں پائی جاسکتی ہیں ۔ 
ان دونوں رشیوں کے درمیان ہونے والی جنگ بالآخر راجاں کے درمیان ہونے والی جنگ میں بدل گئی اور رشیوں اور بادشاہوں کے جانشینوں کے مابین بھی جاری رہی ۔ بیان کرنے والے نے اس کے بیان احوال پر خاصہ زور تخیل پر صرف کیا گیا ہے ۔ اس جنگ میں دونوں راجہ مدہیہ دیش پر تسلط جمانے میں کوشاں تھے ۔ یہ جنگ ہر دو سلطنتوں کی سرھدیں حتمی طور پر طے ہوجانے تک جاری رہی اور دونوں شاہی خاندانوں کے مابین رشتوں ناتوں کے ذریعے اتحادی بن جانے تک جاری رہی ۔ 
بلاشبہ وسستھ نے براہمنوں خصوصاً پرہتوں کا مرتبہ مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ نتیجاً وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موت کے بعد بھی وسستھ کے درجات کیئے جاتے رہے ۔ چنانچہ ان سات مہا رشیوں میں شمار کیا جانے لگا ، جن کے ساتھ پدری جد کا تصور وابستہ ہے اور انہی سے بعد ازاں برہمنوں اور دو جمنے ہندوؤں نے جنم لیا ۔ وسستھ کو دیا گیا بلند مقام اس کی معزاتی پیدائش سے بھی ظاہر ہے ۔ رگ وید کی رو سے وہ طلوع آفتاب کی دیوی اروشی کے لیے سورج کے دیوتاؤں ورن اور متر کی محبت کا نتیجہ ہے ۔ ویدوں کے بعد کی اساطیر وشنو پران کی رو سے وسستھ نے وکش کی بیٹیوں میں سے ایک ارجا سے شادی کی ۔ یہ رشی بالآخر سات مہا رشیوں میں شمار ہوا اور کوہ میرہ پر مقیم ہوگیا ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں