33

ولیم جونز کی مخالفت

ولیم جونز کے خسرو کی کتاب دبستان مذب سے بٍہت متاثر تھا ۔ اس نے یورپ میں لوگوں کی توجہ اس کتاب کی طرف دلائی تھی کہ یہ نایاب اور اہم رسالہ ہے ۔ اس کا خیال تھا اس کتاب نے قدیم ایران بلکہ نوع انسانی کے اہم رخ کو ہمارے سامنے رکھا ہے ۔ اس کا کہنا تھا کہ دبستان مذہب بارہ مذاہب کے بارے میں ہے اور اس کے پہلے باب میں لکھا ہے کہ زرتشتی مذہب سے پہلے ہوشنگ کا مذہب رائج تھا اور وہ اب تک تعلیم یافتہ ایرانیوں کا خفیہ مذہب ہے ۔ گبریوں اور ان کے درمیان بہت اختلاف ہے ۔ شاہان ایران نے ان کے بعض پیرؤں پر ظلم و ستم توڑے تھے ، اس لیے یہ لوگ ہندوستان چلے آئے اور یہاں انہوں نے بعض کتابیں لکھیں تھیں جو اب ناپید ہیں ۔ اس کتاب کے مطابق کیومرث کی تخت نشینی سے ہزاروں سال پہلے ایران میں سلاطین کا ایک سلسلہ گزرا ہے اور ان میں سے سات آٹھ کے نام اس کتاب میں دیئے گئے ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران کی سلطنت دنیا میں سب سے پرانی سلطنت ہے ۔ تاہم ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ اس کے ابتدائی بادشاہ نسلاً عرب تھے یا ہندو یا تاتاری یا کوئی اور ؟ یہ شبہ اس وقت رفعہ ہوسکتا ہے کہ ہم قدیم ایران کے علم و ادب ، فلسفہ ، مذہب ، زبان و حکمت اور ضمنی طور پر علم و فنون پر غبور حاصل کرلیں ۔

ولیم جونز سائرس اور شاہنامہ کے کیخسرو ، اوستا کاوہ یا ہروہ کو ایک ہی شخص سمجھتا تھا اور افسانوی سلاطین پیشدادی کو آشور سمجھتا تھا ۔  کیم بی سیز ، قدیم کتبوں اور کموجا کو فارسئی جان (کام بخشٰ) سے مشتق اور نام کے بجائے اسے شاہی خطاب کہتا تھا ۔ زرکسیر (خشاریا) شیروائی سے مشتق کہتا تھا ۔ جب آکتیل نے انوہ مینیوش سے مشق بیان کیا تو ولیم جونز نے اس اشتقاق کو جو درست تھا رد کردیا ۔ اس کا خیال تھا کہ اس واقت ژند اور پہلوی کی کوئی کتاب باقی نہیں رہی تھی اور اس کے حوالے میں وہ دبستان مذہب کو پیش کرتا تھا جس کے مطابق زرتشتی مذہب کی تصانیف ناپید ہوچکی ہیں اور نئی تالیف گھڑی گئی ہے ۔ اس کا خیال تھا کہ ایران کی قدیم زبانیں کلدانی اور سنسکرت تھیں اور کلدانی سے پہلوی اور سنسکرت سے ژند نکلی ہیں اور فارسی زبانی یا تو ژند سے نکلی ہے یا براہ راست سنسکرت سے ۔ ایرانیوں کی طرح اس کا خیال تھا کہ پرسی پولس (استخر) کو جمشید (اوستا اور سنسکرت کی کتھاؤں میں یمہ) نے آباد کیا تھا ۔ ہخامنشی کتبوں کے مطلق اس کا خیال تھا کہ یہ زبان کے حروف نہیں بلکہ مقدس نشانات اور اسراری علامات یا محض رموز ہیں جن کا مطالب شاید مذہبی پیشوا جانتے ہیں ۔ ولیم جونز دساتیر کو اصلی اور اس کی زبان کو آسمانی زبان خیال کرتا تھا اور اس کا خیال ہے اس کا مولف نے اس میں قدیم دور کے ایسے تاریخی واقعات بتاتا ہے جس سے آرین قوم کی اصلیت پر بالکل نئی روشنی پڑتی ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ کیومرث سے قبل ایران میں برہمننوں کا مذہب تھا اور اہل ایران کیومرث کو تعظیماً سب سے پہلا انسان مانتے ہیں اور اگرچہ وہ اس کے قائل ہیں کہ کیومرث سے پہلے ایک عالم عالمگیر طوفان برپا ہوچکا تھا ۔

تاہم تحقیق سے ثابت یہ ہوچکا ہے کہ دساتیر اور دبستان مذہب کی روایات حقیقی نہیں ہیں بلکہ خرافات کا مجموعہ اور اس کی زبان کوئی زبان نہیں ہے بلکہ مروجہ فارسی کا ایک ناقص چربہ ہے ۔ اگرچہ ولیم جونز نے بعد میں برصغیر آیا اور اس نے سنسکرت سیکھی اور سنسکرت کے بارے اہم تحقیقات اور انکشافات کیے اور اس کو اس کی علمی خدمات پر سر کا خطاب بھی ملا ۔ لیکن ایران ، اوستا ، دساتیر اور دبستان کے بارے وہ جو حسن ظن رکھتا تھا اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی اور انہیں کسی نے قابل اعتماد نہیں سمجھا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں