82

ویدانیت

ویدی مذہب کی خصوصیات اور مطالعے کا اندازہ رگ وید میں بہت سے دیوتاؤں کے وجود کی تعلیم ہے ۔ اس میں متوفی آبا و اجداد کی ارواح کی پرستش کا ذکر بھی ہے ۔ جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انسان پرستی ان کے خصائص میں شروع سے تھی ۔ ان میں ابتدا سے ہی یہ خیال عام تھا کہ ایشور کائنات کے ہر ذرے میں موجود ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویادنیت (ہمہ اوست یا وحدت الوجود) کی طرف ان رجحان عہد قدیم سے ہی تھا ۔ بہت سے ایسے اشلوک ایسے ہیں جن کا مفہوم بتاتا ہے کہ مختلف دیوتا صرف اس ذات واحد کے مختلف نام ہیں ۔ اس سے واحدانیت کے خیالات کی تصدیق ہوتی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ خاص تر اور مجرد خیالات رگ وید کی آخری ترتیب کے مابعد کی صدیوں میں پیدا ہوئے ۔ گو وید کے متعلق تسلسل سنین کا ہمیں علم نہیں ہے اور ہمارے قیاسات اور خیالات کی تصدیق ویدوں کی اندرونی شہادتوں سے ہوتی ہے ۔ لیکن ایک حقیقت واضع ہے کہ ویدوں کے مذہب میں بت پرستی کا وجود نہ تھا ۔ عالم کائنات ان کا معبد تھا اور انسانوں کے بنائے ہوئے مکانوں میں اپنے دیوتاؤں کو نہیں بٹھاتے تھے ۔ وہ اپنے شاعرانہ خیالات میں کبھی اپنے دیوتاؤں کو انسانی شکل اور خصائل کے ساتھ بیان کرتے تھے اور انسانی شکل میں قیاس کرتے تھے مگر انہوں نے کبھی بت نہیں بنائے ۔
رگ وید میں واحدانیت کی تعلیم ہے یا نہیں ایک مختلف مسلہ ہے ۔ اس کے متعلق پہلا سوال یہ کہ رگ وید کے آریاؤں میں واحدانت کا احساس تھا یا نہیں ۔ باوجود دیوتاؤں کی کثرت کے یہ سوال کرنا بہ ظاہر فضول معلوم ہوتا ہے ۔ مگر ایک ناپیدا شدہ کے وجود کا خیال جو وقت سے پہلے ، فضا سے ماورا اور واحدنیت کے بہت قریب موجود تھا ۔ ان کے جانشین یعنی برہمن بھی جن کی قوت متخیلہ حد درجہ تیز تھی ۔ اس کے قریب قریب پہونچنے مگر حقیقت کو معلوم کرنے میں ناکام رہے ۔ اس کی نسبت وید کے قدیم شعرا کے قریب تر پہنچ گئے تھے ۔ کیوں کہ جب وہ وارن کی عبادت کرتے تھے جو گناہوں کی سزا دینے والا اور معاف کرنے والا ہے تو لوگوں سے کہتے تھے ’’ڈرو اس سے جس کے ہاتھ میں چاروں پانسے ہیں قبل اس کے اسے پھینکے ، اس شخص کا راستہ سیدھا اور بے خار ہے نیک کام کرتا ہے’’ ۔ مگر اس کے بعد عقلی دلائل نے فرط جوش اور ارتقا روحانی کا خاتمہ کردیا ۔ شاعر بھی وحدانیت کے قریب پہنچ گئے تھے مگر نشانہ ذرا چوک گیا ۔ 
رگ وید میں ایک اور رجحان نظر آتا ہے جو واحدانیت سے مشابہ معلوم ہوتا ہے اس کی دو شکلیں ہیں ۔ پہلے شکل جس طرف اکثر اشارہ کیا ہے کہ ایک وقت میں کسی دیوتا کو دوسرے دیوتاؤں سے برتر قرار دیا گیا ہے اور اس سے وہ افعال اور فرائض منسوب کیے گئے ہیں جو دوسرے بھجنوں میں دوسرے دیوتاؤں سے منسوب ہیں ۔ مذہب کی اس منزل کو میکس مولر نے Kathenotheism یا Henotheism  کا نام دیا ہے ۔ یعنی ایک وقت میں ایک دیوتا کی پرستش کرنا نہ کہ صرف ایک خدا کی ۔ اس خصوصیت کا باعث غالباً یہ ہے کہ پرستش کرنے والا جس دیوتا کو پکارتا ہے اور اس سے وابستہ ہوکر اس سے عنایات کا خواستگار ہوتا ہے ۔ یہ توضیح ایک حد تک صحیح ہے مگر سطحی ہے ۔ ویدک شعرا کی ایک دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک دیوتا کو دوسرے دیوتاؤں کے ساتھ متحد کرتے ہیں اور اس کا بھی باعث وہی ہے ۔ بعض ویدک عالموں کا خیال ہے کہ یہ ایک طفلانہ حرکت ہے جس سے دماغ پریشان ہوجاتا ہے ۔ مگر غور کرنے سے اس طفلانہ حرکت میں ان کی فرانگی عیاں ہے اور اس موضوع پر اشلوک کو جمع کرنے سے اس پر کچھ روشنی پڑتی ہے ۔ بعد زمانے کے جن کی آسانی سے شناخت ہوسکتی ہے ۔ ان میں وش و کرمن اور پرجاپتی ہیں جو اندر ، وارن ، توشتار اور سوتیار وغیرہ پرانے دیوتاؤں کے مرادف ہیں اور اس لیے وش و کرمن (سب کوبنانے والا) اور پرجاپتی (مخلوقات کا مالک) لقب تھے ۔ جب کہ وش و کرمن کو پیدا ہونے والا (کیوں کہ ناپیدا شدہ کی گود (ناف) پر رہنے والا پہلا پیدا شدہ کے معنی کچھ اور نہیں ہوسکتے) کہا جاتا ہے تو اس سے اس کا تعلق ایک دوسری ہستی سے معلوم ہوتا ہے ۔ 
مگر اس سے پہلے اس تعلق ایک دوسری ہستی سے معلوم ہوتا ہے ۔ مگر اس بارے میں تحقیقات کریں پہلے پیدا ہونے والے کی ایک دوسری شکل یعنی ہراینا گربھا (سنہرا انڈا) پر ہم ایک نظر ڈالیں گے جسے میکس مولر نے بجھن (دہم ۱۲۱) کے ترجمہ میں سنہرا بچہ لکھا ہے ۔ اس بھجن میں خالق کی عظمت اور اس کے کاموں کو ایسے بلیغ اشعار میں بیان کیا ہے ۔ جو اس صحیفے سے مقابلہ کرسکتے ہیں جو حضرت ایوب ؑسے منسوب کیا جاتا ہے ۔ ہر شعر کے بعد ایک مصرعہ ہے جسے غالباً کئی آدمی مل کر گاتے تھے ۔ شاعر مستی یکتا کی عظمت کی مدح سرائی کرتا ہے ، مگر جب وہ تناقض کو دیکھتا ہے تو پوچھتا ہے کہ ’’کس دیوتا کے لیے ہم قربانی کریں’’ یعنی ان دیوتاؤں میں جن کو ہم اپنے دیوتاؤں میں مخاطب کرتے ہیں یہ ہستی یکتا کون ہے جس کے لیے آج ہم قربانی کرتے ہیں ۔ ذیل میں پورے بھجن کا ترجمہ درجہ ہے ۔
بھجن دہم ۱۲۹ میں بھی یہی مضمون ہے ۔ گو دوسرے الفاظ میں پیدا ہونے والا وہ خلافی قوت فاعلی ہے جو ایک ناپیدا شدہ یعنی بے حرکت ، غیر مظہر مبدہ حیات سے پیدا ہوئی ۔  
’’ابتدا میں سنہرا بچہ وجود میں آیا ۔ وہ تمام موجودات کا واحد پیدا شدہ مالک تھا ۔ اس نے زمین اور اس آسمان کو قائم کیا ۔ وہ دیوتا کون ہے جس کے لیے ہم قربانی کریں گے’’۔ 
’’وہ سانس (زندگی) دیتا ہے ، وہ طاقت دیتا ہے ، اس کے حکم کی تمام دیوتا عظمت کرتے ہیں ، اس کا پرتو حیات ازلی ہے ، اس کا سایہ موت ہے ، وہ دیوتا کون ہے جس کے لیے ہم قربانی کریں گے’’۔
’’وہ جس کی عظمت کا کوہ ہمات ، سمندر اور راسا ندی اعلان کرتے ہیں ۔ وہ جس کی یہ ملک ہیں مثل دو بازوؤں کے ، وہ دیوتا کون ہے جس کے لیے ہم قربانی کریں گے’’۔
میکس ملر اس کا ترجمہ ’ یخ بستہ پہاڑ ، سمندر اور ندی کیا ہے ۔
’’وہ جس کے سبب سے آسمان درخشاں ہے اور زمین مظبوطی سے جمی ہوئی ہے ، وہ جس کے سبب سے آسمان بلکہ اعلیٰ ترین آسمان بھی قائم ہوا ۔ وہ جس نے ہوائی فضا کو ناپا ، وہ دیوتا کون ہے جس کے لیے ہم قربانی کریں گے’’۔
’’وہ جس کی طرف دونوں لڑنے والی فوجیں دل میں ڈرتی ہوئی دیکھتی ہیں ، اس مقام پر جہاں آفتاب چمکتا ہے ، وہ دیوتا کون ہے جس کے لیے ہم قربانی کریں گے’’۔
’’جب عالم ہر طرف پانی سے گھرا ہوا تھا ، جس میں جر ثوم حیات تھا اور جس سے آگ پیدا ہوئی ، اسی پانی سے ، وہ پیدا ہوا جو دیوتاؤں کا تنہا مایہ حیات ہے ، وہ دیوتا کون ہے جس کے لیے ہم قربانی کریں گے’’۔
’’وہ جس نے اپنی طاقت سے پانی کے اوپر دیکھا جن نے قربانی کو روشن کیا اور اسے قوت دی ، وہ وہی دیوتا ہے جو تمام دیوتاؤں سے اعلیٰ ہے ، وہ دیوتا کون ہے جس کے لیے ہم قربانی کریں گے’’۔
’’وہ خالق اس زمین کا ہمیں نقصان نہ پہنچائے ، جو مقررہ قوانین کے مطابق حکومت کرتا ہے اور جس نے آسمان کو پیدا کیا ، جس نے روشن اور زور دار پانی کو پیدا کیا ، وہ دیوتا کون ہے جس کے لیے ہم قربانی کریں گے’’۔
برہمنوں کے مصنفین نے رشیوں کے تمام سوالات کا جواب دیا ہے ، مگر کاش وہ اس امر سے باز رہتے کم از کم اگر بھجن منقولہ بالا کے سوالات کا وہ جواب نہ دیتے تو بہتر ہوتا ۔ شت پتھ برہمن میں لکھا ہے کہ وہ (نامعلوم دیوتا کے رشی تھے) پرجاپتی ہے ، اسی کی ہمیں قربانی کرنی چاہیے ۔ ایک پر جوش پجاری نے یہ بھی جسارت کی ہے کہ اس خیال کو ایک اشلوک کا جامہ پہنا کر اس نادر بھجن میں شامل کردیا گیا ’’ اے پرجا پتی تیرے سوا کوئی مخلوقات پر حاوی نہیں ، جن چیزوں کو ہم تجھے مخاطب کرکے طلب کریں سب ہمیں مل جائیں ، ہم دولت کے مالک ہو جائیں’’۔ پرجاپتی (مخلوقات کا مالک) ایک اسم بیانیہ ہے جس کا اطلاق تمام بڑے دیوتاؤں پر ہوتا ہے ۔ جن کے ساتھ خلق عالم منسوب کیا جاتا ہے مگر یہ تشریح سطحی ہے ۔ اب ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہم رگ وید کے معمے کو حل کیے بغیر رک نہیں سکتے ۔ یعنی ہمیں مقدس ترین ہستی پر جو پردہ پڑا ہوا ہے اسے اٹھانا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اس کا ’’جسے شاعر اپنے الفاظ سے متعدد کردیتے ہیں’’ اصلی جوہر کیا ہے ۔ کیوں کہ دیوتاؤں کی شخصتیوں کا ایک دوسرے میں مل جانے کا آخری نتیجہ یہی ہے ۔ 
اگر ہم متعلقہ عبارتوں کو جمع کریں اور پھر ان کا بغور مطالعہ کریں تو ہم اس نتیجے کو پہنچیں گے کہ صرف ایک دیوتا ہے جس میں تمام دیوتا جذب ہوجاتے ہیں ۔ جیسے کہ پارے کا ایک بڑا قطرہ چھوٹے قطروں اپنے اندر جذب کرلیتا ہے ۔ مگر جیسے کہ ذرا سے ہلانے پر یہ قطرہ ٹوٹ جاتا ہے اور کئی چھوٹے چھوٹے قطرے ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم نے ایک واحد دیوتا کو معلوم کرلیا تو یکایک وہ غائب ہوجاتا ہے اور اس کی جگہ دیوتاؤں کی ایک فوج نظر آتی ہے ۔ یہ بڑا دیوتا یا دیوتاؤں کا مجموعہ اگنی ہے جس کے تین مساکن اور تین اجسام ہیں ، یعنی سورج ، بجلی اور آگ ۔ دیوتاؤں کی یگانگت ثابت کرنے کا رجحان اکثر مبم رہتا ہے ۔ مگر بعض اوقات وید کے شعرا اسے صاف صاف بیان کرتے ہیں جس سے کوئی شبہ باقی نہیں رہتا ہے کہ ایک پورا بجھن (دوم ااا) جس میں شاعر اگنی کے کئی جنموں کو (پانی سے بادل کے پہاڑ سے ، درختوں سے اور بوٹیوں سے) بیان کرکے یکے بعد دیگر اسے ہر دیوتا متحدہ بتاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے اگنی وارن ہے مترا ہے ہر ایک ادیتا ہے ، وہی اندر ، وشنو ، توشتار ، رورا ، ماروت ، پوشن ، سوتیار ، ربھو وغیرہ ہے ۔ اب اس کی مزید تصدیق ایک طویل اور عارفہ نہ بھجن (یکم ۶۴) کے اشلوک ۴۶ سے ہوتی ہے ۔ جس کے بعض جملوں ہم نقل کرچکے ہیں ۔
ہیلی برائٹ اس بھجن کو دھمے کا بھجن بتاتا ہے ۔ اس کے اکثر حصوں کی اب تک پوری تشریح نہیں ہوئی ہے ۔ مگر رفتہ رفتہ جس قدر کہ رگ وید کے لفظی اور روحانی مطالب پر محقیقین کو عبور ہوتا جاتا ہے اس بھجن کے معافی بھی معلوم ہوتے جاتے ہیں ۔ بعض معمے تو آسانی سے سمجھ میں آجاتے ہیں ۔ مثلاً سال کوریب کا بارہ ڈنڈوں والا پہیہ کہا گیا ہے جو آسمان کو گھیرے ہوئے ہے اور جس دھرے میں نہ کبھی آگ لگتی ہے نہ اس کی لکڑیاں سڑتی ہیں اور ۷۲۰ توام بھائی اس پر چڑھتے رہتے ہیں یعنی ۳۶۰ دن اور راتیں ۔ مگر جن معنوں میں گائے اور بچھڑے کا ذکر ہے ان کو حل کرنا دشوار ہے ۔ کیوں کہ ان سے ہر چیز مراد ہوسکتی ہے ۔ 
’’لوگ اسے اندر ، مترا ، وارن اور اگنی کہتے ہیں ، وہی خوبصورت پروں والی آسمانی چڑیا ہے ۔ وہ جو ایک ہے عقلمند کئی ناموں سے یاد کرتے ہیں ۔ وہ اسے اگنی ، یاما اور ماترا وشن کہتے ہیں ۔ ایک اشلوک میں مذکور ہے ’’عقل مند شاعر اس خوبصورت پروں والے کو جو ایک ہے اپنے الفاظ سے متعد بنا دیتے ہیں’’۔ پھر شاعر کہتا ہے ’’اے اگنی دیوتا ! غیر فانی حاکم ! تو کئی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے’’اور اس بھجن کے آخر صاف صاف لکھا ہے ’’اگنی تمام دیوتا ہے’’ یہی کلید ہے جس کی ہم تلاش کرتے ہیں ۔ 
’’حقیقت میں رگ وید کے آریا آتش پرست تھے ۔ رگ وید کے عظیم الشان مجموعے کا ہر معلوم طریقے سے تکمیل و تجریہ کرنے کے بعد یہی حقیقت ہے جو بالآخر آشکار ہوجاتی ہے اور یہی نتیجہ ان منتخب بھجنوں سے بھی نکلتا ہے جو اس کتاب میں غور و فکر کے ساتھ جمع کیے ہیں ۔ 
ایرانی آریا بھی غالباً آتش پرست تھے مگر زرتشتی آتش پرست نہ تھے ۔ حالانکہ آج تک وہ زبردستی آتش پرست کہے جاتے ہیں ۔ زرتشت کی اصلاح کا اصل اصول یہ تھا کہ اس نے آگ اور سوما کی پرستش کو ایک شئے تمثیلی کردیا ۔
ان بھجنوں سے ناظرین کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ رگ وید کی فطرت پرستی اور عالم اور نظام عالم کا جو تخیل اس میں موجود ہے ۔ ان کا دارو مدار مناظر قدرت کے دو سلسلوں پر ہے ۔ یعنی نور (جس میں حرارت بھی شامل ہے مگر اس کا ذکر آخر عہد میں ہے) اور رطوبت جو اگنی اور سوما میں مضمر ہیں اور جب تک ہم اگنی کو صرف آگ سے متعلق سمجھیں ۔ ہم اس کے اصل جوہر کو نہیں سمجھ سکتے ہیں ۔ کیوں کہ اگنی دارصل نور ہے ، وہ نور جس سے فضا پھری ہوئی ہے ۔ جس کا اعلیٰ ترین مسکن اس ازلی پراسرار عالم ہے جو آسمانوں سے اوپر اور فضا کے ماورا ہے ۔ جہاں تمام اشیا کا مخفی سرچشمہ ہے ۔ وہ مقدس ترین مقام جو ناف عالم ہے ، جہاں دن اور رات جو بہنیں ہیں علحیدہ رہنے کے بعد پھر ملتی ہیں اور ایک دوسرے کا بوسہ لیتی ہیں ۔ (یکم ۱۸۵۔۵) اس آسمانی دنیا سے اگنی نیچے اترتا ہے اور اپنے کو ظاہر کرتا ہے ، وہ آسمان میں پیدا ہوتا ہے یا پایا جاتا ہے بطور آفتاب کے کرہ ہوائی میں بطور برق کے اور زمین پر آگ کی شکل میں ۔ یہ اس کے تین نظر آنے والے جسم یا شکلیں ہیں ۔ مگر غیر مرئی طور پر وہ تمام چیزوں میں پنہاں ہے ۔ پودوں میں بھی ورنہ وہ پودوں میں سے کیسے نکلتا ہے ۔ (یعنی لکڑی سے آگ کیسے نکلتی ہے) پانی میں بھی کیوں کہ آسمانی سمندر سے بجلی چمکتی ہے اور بارش کے ساتھ وہ زمین پر بھی اترتا ہے اور درختوں اور بوٹیوں میں بطور رس کے پہنچ جاتا ہے اور جب اتفاقاً یا قصداً نکالا نہ جائے ان میں پوشیدہ رہتا ہے ۔ اگنی آدمیوں اور جانوروں میں بھی ہے ۔ ورنہ پھر ان کے اجسام کی گرمی کہاں سے آئی اور یہی گرمی حیات ہے ۔ کیون کہ گرمی کے ختم ہوتے ہی حیات بھی ختم ہوجاتی ہے ۔ سوما اگنی کا ایک دوسرا جوہر ہے یعنی اس کی رقیق شکل اور زندگی کا مخفی مبدا رہے جو عالم موجودات کی رطوبت سے وہ قوت دینے والا امرت یعنی آب حیات بناتا ہے جو قدرت کی قوتوں کو ہمیشہ زندہ اور جوان رکھتا ہے ۔ زمین کی مخمور کرنے والی شراب میں اگنی کا طہور سہ گونہ تھا ۔ یعنی اولاً تو وہ شعلہ جو اس شراب کو آگ میں ڈالنے سے پھیلتا تھا ۔ ثانیاً اس حرارت سے شراب پینے والوں کی رگوں میں پھیل جاتی تھی اور ثالثاً اس حرارت سے جو شراب پینے والوں کی رگوں میں پھیل جاتی تھی اور ثالثاً اس جوش اور شراب پینے والوں کی رگوں میں پھیل جاتی تھی اور ثالثاًً اس جوش اور سرور سے جو پینے والوں میں پیدا ہوجاتا تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ خیال کرنے لگتے تھے کہ نہ صرف دیوتا ان میں حلول کرگئے ہیں ، بلکہ وہ خود دیوتا ہوگئے ہیں ۔ اگنی سوما کی شکل میں پرستش کرنے والے کے جسم میں حلول کرتا ہے ۔ کیوں کہ دونوں ایک ہی ہیں ۔ سوما اپنے درخشاں پیالے یعنی چاند سے شبنم برساتا ہے ۔ جس سے پودوں کو تقویت ہوتی ہے ۔ مگر شبنم اور بارش بادلوں میں چھپ کر اگنی زمین پر اترتا ہے ۔ کیوں کہ وہ پانی کا بچہ ہے ۔ اس طرح قدیم آریوں کو بمقابلہ قدیم یونانی فلسفیوں کے عالم کا ایک نظریہ قائم کرنے میں سبقت تھی ۔ بلکہ وہ عقل میں یونانیوں سے برتر تھے ۔ کیوں یونانیوں میں سے بعض پانی کو مبدا حیات قرار دیا اور بعض نے آگ کو ، مگر آریوں کو ان سے قرن با قرن پہلے غالباً القاء سے معلوم کرلیا تھا کہ اصل حیات حرارت اور رطوبت کے وصل میں ہے ۔

ٍ چوں کے تمام دیوتاؤں کا نور ، برق ، آگ یا بارش سے تعلق ہے ۔ اس لیے ہمارے خیال سے ممکن ہے کہ ان کا تجزیہ کرکے صرف نام قرار دیں جن کی ایک فرضی شخصیت تھی ۔ یعنی ایک ہی دیوتا یعنی اگنی کے مختلف نام تھے ۔ اس لیے غالباً زمانہ بعد کے عقلا نے ان کو مایا (وہم) قرار دے کر ان سے منہ موڑ لیا اور اس ہستی یکتا کے متلاشی ہوئے جو ان سے برتر ہے ۔ مگر فطرت پرستی دور ختم ہوچکا تھا اور وہ ہستی یکتا اگنی نہ تھا ۔
بقول میکس ملر کے کوئی یہ سوال کرے کہ ویدوں کا دہرم توحید پرستی ہے یا بہت سے دیوتاؤں کی پرستش ؟ تو میرے لیے اس سوال کا جواب دینا بہت مشکل ہے ۔ اگرچہ ایسے کئی منتر پائے جاتے ہیں جن میں ایشور کی وحدانیت صاف طور پر پائی جاتی ہے جیسے کہ انجیل یا قران کی آیات میں ۔ لیکن ویدوں میں مکمل اور قطعی واحدانیت پرستی نہیں پائی جاتی ہے ۔ اگرچہ رگ وید میں آیا ہے کہ وہ پرماتما ایک ہے ۔ اس کو رشی لوگ مختلف ناموں سے پکارتے ہیں وہ اسے اگنی ، یم اور ماترشوا (شیوا کی دیوی کالی) وغیرہ ناموں سے پکارتے ہیں’’۔ دوسری جگہ آیا ہے عقل مندر رشی اسے اپنے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں ۔ یہ پرتما ان کے تصور کے مطابق ہے اور ایک جگہ اسے ہرنیہ گربھ پکارہ کہا گیا ۔ وید میں آیا ہے کہ ’’ابتدا میں ہرنیہ گربھ (سونے کا انڈا) ظاہر ہوا اور سب سے پہلے وہ اعلیٰ دیوتا پیدا ہوا جس نے زمین اور آسمان کو تخلیق کیا ۔ وہ دیوتا کون ہے جس کی ہم پوجا کریں اور اس کے نام پر قربانیاں کریں ۔ وہ ہرنیہ گربھ تمام دیوتاؤں کا دیوتاْ’’۔ یہ اگرچہ یہ ایشور کی وحدانیت کا اہم ثبوت ہے ۔ لیکن ایسے منتروں کی تعداد بہت کم ہے اور اس کے مقابلے میں ہزاروں ایسے منتر ہیں جن میں بہت سے دیوتاؤں کی پرستش اور پراتھنا کی گئی ہے ۔ بعض جگہ ان کی سنکھیا (تعداد) ۳۳ بتلائی جاتی ہے ایک رشی نے گیارہ دیوتا اکاش ، گیارہ پرتھوی اور گیارہ پانیوں میں بیان کی ہے ۔ ان ۳۳ دیوتاؤں کی بیویاں بھی ہیں ۔ مگر بہت کم دیوتاؤں کی پتنیوں کے نام آہیں ۔
اس ۳۳ دیوتاؤں میں تمام ویدک دیوتا شامل نہیں ہیں اور کچھ اہم دیوتا مثلاً اگنی ، سوم ، بارش ، مروت ، اشون ، صبح ، شام ، عشاء جل اور سوریہ کا الگ الگ مقامات پر ذکر آیا ہے ۔ ایسے بھی منتر ہیں جن میں رشیوں نے دیوتاؤں کی تعداد ۳۳۹۹ بتاتے ہیں ۔
وید میں جن دیوتاؤں کو اعلیٰ و برتر مانا جاتا ہے وہ سات رشیوں نے پہلو بہ پہلو کھڑے کیئے ہیں ۔ اس لیے کبھی کسی دیوتا کو سب اعلیٰ بتایا جاتا اور پھر اسے سب سے پست مقام دیا جاتا ہے ۔ کبھی بعض چھوٹے اور محدود صفات والے دیوتا کو تمام دوسرے دیوتاؤں سے برتر بتایا جاتا ہے ۔ لہذا ویدوں میں دیوتاؤں کی پرستش کو دیوتا پرستی کے نام سے منسوب نہ کیا جاسکتا ہے ۔ کیوں ویدوں میں وقت کے ساتھ دیوتاؤں کے مقام میں تبدیلی کے ان کی پرستش میں بھی تبدیلی ہوتی رہی ہے ۔ تاہم اس میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے کیوں کہ ایک بھجن میں دریائے سندھ اور اس کے معاون دریائے سندھ کو مخاطب کیا گیا ہے اور ہندو علما ان کا دیوتا یا دیویاں ترجمہ کیا ہے ۔ اگرچہ دریائے سندھ اور دوسرے دریائے سندھ کی پوجا کی جاتی تھی مگر ہندو ایسی بہت سی اشیا مثلاً پیپل کا درخت وغیرہ کی پوجا کرتے ہیں ۔ زمانہ قدیم کے ایک رشی کا کہنا ہے کہ جس کا ذکر مندر میں آتا ہے وید میں دیوتا ہے اور رشی سے مراد اس منتر کے مضمون یا درشٹا سے ہے ۔ پس ان دیوتاؤں کا جن کا ذکر ویدوں میں آتا ہے کسی باقاعدہ طریقہ سے بیان کرنا بہت مشکل ہے ۔ کیوں کہ ان دیوتاؤں کے گن اور جو منتر ان کی طرف ان کی طرف مخاطب کرکے کہہ گئے ہیں ۔ اس لیے ہم قدیم زمانہ کے ایک برہمنی مذہب کے مورخ کے ساتھ متفق الرائے میں جو ۴۰۰ برس قبل مسیح گزرا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ویدوں کے پڑھنے والے صرف دیوتاؤں کو مانتے تھے ۔
حقیقت میں آریاؤں اور بعد کے ہندوؤں ہر وہ ہستی پرستش کے لائق ہے جس سے نفع یا نقصان ہوسکتا ہے اور یہ خیالات و عقائد پانسو برس قبل مسیح پائے جاتے تھے اور ان کی تصدیق بعض ویدوں کے منتروں سے ہوتی ہے ۔ مثلاً کچھ منتروں میں متر ، ورن اور اگنی کے بارے میں ذکر کرتے ہیں وہ آسمانی پرندے بہت سے ناموں سے مشہور ہیں اور ان پر داستانوں کا رنگ چڑھا ہوا ہے ۔ کچھ منتروں سے ان پر روشنی پڑتی ہے ۔ مثلاً ایک رشی سوال کرتا ہے کہ جب وہ پہلے پیدا ہوا تو اسے کس نے دیکھا ؟ جب کہ پیدا کرنے والے کی کوئی ہڈی نہیں تو اس کو انسانی جسم کے لیے کہاں سے ڈھانچہ ملتے ہیں ؟ خون ، وجود اور سانس وغیرہ کہاں سے آیا ہے ؟ کون کس سے یہ بات پوچھے گا ۔ ویدک علم و ادب کہاں تھے ؟ ۔
ویدک کے دوسرے زمانہ میں ویدانت برہمن گرنتھوں اور اپنشدوں کا جزو ہیں اور اس کی تکمیل اور وضاحت ہوتی ہے ۔ اس طرح ویدانیت جو وید کی رچاؤں سے شروع ہوتا ہے مکمل ہوتا ہے ۔ پرماتما کو مختلف دیوتا سمجھنے کے بجائے اب یہ ایک ہستی کی روپ سمجھے جانے لگے ۔ قدیمی ناموں کو رد کردیا گیا یہاں تک پرجاپتی ، وشوکرما اور دہاتری وغیرہ بالکل معدوم ہوگئے ہیں ۔
آج کل کے مختلف نام پاکیزگی اور آورش کو ظاہر کرتے ہیں ۔ یہ لفظ آتما ایگو Ego سے بھی زیادہ باریک اور بامعنی ہے ۔ وہ تمام چیزوں کا آتما ہے اور تمام قدیمی داستانی دیوتاؤں کا وجود ہے ۔ کیوں کہ وہ فرضی نام نہیں بلکہ کچھ معنی خیز نام تھے ۔ آخر کار یہ آتما ہی جس میں ہر ایک آتما جاکر شانتی حاصل کرتا ہے ۔
ویدانت کا ویدوں کا سب سے بڑا معمہ ہے ۔ ایک اپ نے شد میں ایک لڑکے کی کتھا بیان کی گئی ہے جس کی اس کے باپ نے قربانی کی تھی اور قربانی کے بعد اس کی روح جب یم کے پاس پہنچی تو اس نے یم سے تین سوال کیے اور ان میں ایک سوال یہ تھا کہ مرنے کے بعد انسان کی حالت کیا ہوتی ہے ۔ ’’یم نے جواب دیا بہت سے نادان جن میں عقلمند اپنے کو عالم سمجھتے ہیں اور اندھوں کی طرح ٹھوکریں کھاتے ہیں ۔ اس طرح بعض دولت مند دولت کے نشہ میں مخمور رہتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہی عیش و آرام ہی دنیا ہے ۔ اس لیے وہ بار بار جنم لینے اور مرنے کے چکر میں گرفتار رہتے ہیں ۔ جب کہ عقل مند انسان اپنی آتما پر غور و فکر کرکے اپنی آتما کی حقیقت کو جان کر اندھیرے راستے پر نہیں چلتا ہے جو تاریک گڑہوں کی طرف جاتا ۔ ورنہ وہ وہ سچائی سے دور ہوجاتا ہے ۔ وہ گیان آتما نہ پیدا ہوتا ہے نہ مرتا ہے وہ پیدائشی جاہل نیستی سے آیا ہے ۔ وہ کبھی نہیں مرتا ہے اگرچہ اس شریر کا ناش ہوجاتا ہے ۔ اس آتما کی خصوصیات برباد ہونے والی ہے اور یہ ہر زندہ شے کے پردے میں پہناں ہے ۔ جو انسان حقیقت کو سمجھ لیتا ہے وہ یہ راستہ طہ کرلیتا ہے ۔ وہ پرتما کی وجہ سے آتما کا درشن کرتا ہے ۔ اگرچہ چپ چاپ رہے تو وہ بہت دور تک چلا جاتا ہے ۔ اگرچہ لپٹا پڑا ہو وہ ہر ایک جگہ جاتا ہے ۔ سوائے آتما کے پرماتما کو کون جانتا ہے کہ کون خوش ہے اور کون ناخوش ہے ۔ وہ آتما نہ تو ویدوں سے (حاصل) پراپت ہوتا ہے نہ بدیہی سے نہ ودیا سے باز نہیں آتا جس نے اپنے من اور (اعضا) اندریوں کو قابو میں نہیں کرلیا ۔ جس کے من میں شانتی نہیں ہے ۔ وہ ودیا کے ذریعہ بھی پرماتما کو نہیں جان سکتا ۔ کوئی انسان سانس کے ذریعہ زندہ نہیں ہے ۔ جو اوپر اور نیچے جاتا ہے ۔ بلکہ ہم کسی اور وستو کے ذریعے جیتے ہیں ۔ اب میں تجھے یہ بھید بتلاؤں گا جو نت شبد (برہمن) اور مرنے کے بعد آتما کی کیا (حالت) اوستھا ہوتی ہے ۔ بعض تو پھر (حملے) پرانیوں میں جسم لیتے ہیں بعض برکھشوں (درختوں) اور پتھروں میں داخل ہوتے ہیں ۔ اپنے کرم اور گیان (بنیاد) انوسار (جسم) جونی ملتی ہے ۔ لیکن وہ جو مہان آتما ہے ، جو ہمارے اندر جاگتا ہے ، جب کہ ہم سوئے ہوتے ہیں اور سندر صورتیں یکے دیگر تیار کرتا ہے ۔ اس کو (روشنی) جیوتی برہمن اور امر کہتے ہیں ۔ تمام (سب کے لیے) برہمانڈ اس کے (حمایت) ادہار پر ہیں اور کوئی اس سے پرے نہیں جاسکتا ۔ یہی پرماتما ہے ۔ جس طرح کہ اگنی جب دنیا میں (داخل) پردیش کرتی ہے تو ایک ہوتی ہے ۔ لیکن جس جس چیز کو جلاتی ہے ۔ ویسے ہی مختلف ہوتی جاتی ہے ۔ اس طرح آتما جو تمام دستوؤں کے اندر جس چیز کے اندر جاتا ہے ۔ اس کے انوسار بہن بہن ہوجاتا ہے ۔ لیکن وہ الگ بھی رہتا ہے ۔ ایک ازلی وچار کرنے والا ہے ۔ جو کہ ہر وقت مادی خیالات کو وچار دیتا ہے ۔ اگرچہ وہ ایک ہے ۔ مگر بہتوں کی خواہش کے اندر ہے جو بدہی مان پرش کہ اس کو اپنی آتما میں انوبہو کرتے ہیں وہ شانت اور امر ہوجاتے ہیں ۔ یہ تمام سنسار جب برہمن (جوش و جذبہ) اتپتی کرتا ہے اس کے سوا (بنی نوع) انس میں کانپتا ہے ۔ وہ برہما کھنچی ہوئی تلوار کی طرح بھیانک ہے وہ جو اس کو جان لیتے ہیں ۔ اس برہم تک نہ تو بانی دوارا پہنچ سکتے ہیں ۔ زمن دوارانہ چکھشو دوارا اس کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔ مگر وہ جو کہتا ہے وہی ایک ہے جب دل کی تمام کامنائیں سنتشٹ ہوجاتی ہیں ۔ تب وہ امر ہوجاتا ہے اور برہم کو پراپت ہوتا ہے ۔ جب ہردے کی تمام گانٹھیں کھل جاتی ہیں تب آتما امر ہوجاتا ہے ۔ اسی کا نام ویدانیت یعنی وید کا خاتمہ اور یہی دہرم یا فلسفہ ہے جو ۵۰۰ قبل مسیح سے اب تک آریہ ورت میں پر چلت رہی ہے ۔ اگر ہندوستان کے لوگوں کا کوئی دھرم پتری یگ شرادھ اور ذات پات کے بندھنوں کے سوا اب تک چلا آیا ہے ۔ وہ ویدانت فلاسفی ہے جس کے موٹے موٹے اصول ہر ایک گاؤں کے لوگ تک جانتے ہیں ۔ دھرم کا پتر جیوت کرنا جو رام موہن رائے سے ۵۰ برس پہلے شروع کیا تھا ۔ جس کا نام آج کل برہنو سماج ہے ۔ جس کا بانی بابو کشیب چندر سین ہے ۔ اس کا انحصار اپنشدوں پر تھا ۔ جن کی میں ویدانت کام کر رہا تھا ۔ اس میں شک نہیں کہ ہندو خیالات کے نہایت قدیم و جدید خیالات جو تین ہزار سال سے زیادہ تک پھیلے رہے ہیں ۔ ان کے درمیان اٹوٹ سلسلہ جاری ہے ۔ آج تک ہندو دہرم ، سنسکار ، رواج اور قانون میں سوائے وید کے کسی کو مستند نہیں مانتے ۔ جب تک ہندوستان میں آریہ ورت ہے کوئی شکتی ویدانت کی اس پراچین بہاؤ کو نہیں مٹا سکتی ۔ جس کو ہر ایک ہندو بچپن کے زمانہ سے اپنے رگ وریشہ میں رکھتا ہے جو کہ برہمنوں کی پرارتھناؤں میں فلاسفروں کے دماغ میں اور فقرا کی عام صرب المثلوں یا کہاوتوں میں پایا جاتا ہے ۔
اس لیے ان گپت سروتروں سے کچھ گیان حاصل کرنے کے لیے جن سے آریہ ورت کے سب سے اتم اور نیچ لوگوں کے چلن خیالات اور افعال حاصل کرنے کے لیے جن سے آریہ ورت کے سب اتم اور نیچ لوگوں کے چلن خیالات اور افعال کا نشچہ ہوتا ہے ۔ ان کے دہرم سے واقفیت جس کا انحصار وید ہے اور ان کے فلسفہ میں دسترس ہونا نہایت ضروری ہے ۔ جس کی بنیاد ویدانت پر ہے ۔ جس طرح یورپ کے بعض مدبراں اکثر پوچھتے ہیں اور ساتھ ہی اس خیال پر مخول اڑاتے ہیں کہ دہرم اور فلسفہ کا پالیٹکس سے کیا تعلق ہے ۔ اگرچہ ہندوستان میں مذہبی خیالات سے لاغرض اور بے پرواہی ظاہر کیجاتی ہے ۔ مگر اس وقت تک ہندوستان میں بڑی بھاری طاقت ہیں لہذا آپ دو دیسی مدبراں کے کارنامہ کا مطالعہ کریں جو جونا گڑھ اور بہاؤ نگر ریاست میں بڑے مشہور ہوئے ہیں ۔ جن کے نام گوکل جی اور گوری شنکر ہیں ۔ آپ انہیں پڑھ کر دیکھیں گے کہ ویدانت اس وقت تک ہندوستان میں اخلاقی اور پولیٹکل طاقت سمجھی جاتی ہے ۔ کس طرح تمام دیوتاؤں کے بعد اپنشد کاروں نے آتما کو معلوم کیا ہے ۔ اس آتما کو معلوم کیا ہے ۔ اس آتما سے انہوں نے تین چیزیں معلوم کیں ہیں ۔
یعنی یہ کہ آتما ہے وہ انوبھو کرتا ہے اور کہ وہ سرو آنند بھوگنا ہے ۔ باقی وہ نرگن ہے ۔ یعنی آتما یہ یا وہ نہیں ہے ۔ وہ تمام چیزوں سے پرے ہے جو ہم چنتن کرتے ہین یا انوبھو کرتے ہیں ۔ لیکن وہ آتما جسے پرماتما بھی کہا جاتا ہے سخت تپ کرنے سے پرایت ہوتا ہے ۔ جو لوگ اس تک نہیں پہونچ سکتے تھے ۔ انہیں چھوٹے درجہ کے دیوتوں کے پوجنے کی آگیا تھی اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پورا کرنے کے لیے انا کی تعریف میں شاعرانہ مبالغہ کرتے تھے ۔ وہ لوگ جو دیوتاؤں کو محض نام یا وجود ہی تصور کرتے تھے جنہیں سنسکرت میں وہ پرتیکھش کہتے ہیں جانتے تھے کہ وہ جو ان ناموں یا وجودوں کی پوجا کرتے ہیں فی الحقیقت اودیا سے اس پرماتما ہی پوجا کرتے ہیں ۔ ہندوستان کے دھارمک اہتاس میں یہ امتنیت وشش گن ہے ۔ چنانچہ بھگوت گیتا میں جو ویدانت کی مستند اور ہر دلعزیز کتاب ہے ۔ بھگوان کہتا ہے ’’جو پرماتما کو پوجتے ہیں درحیقت وہ میری پوجا کرتے ہیں ۔ لیکن یہاں ہی تک نہیں ہے ۔ جس طرح اگنی ، اندر اور پرجاپتی ناموں کے پیچھے اور تمام قدیمی داستانوں کی یہ میں ہندوستان کے قدیمی رشیوں نے آتما کو انوبہو کیا تھا انہوں نے شریر ، اندر اور بدہی کے پرے ایک اور آتما میں انو بھو ہوسکتا ہے جو لوگ اسے پراپت کرنا چاہتے ہیں جو اس آتما کو جاننا چاہیے تھے ۔ انہیں سخت تپ کرنا پڑتا تھا ۔ یہ دیو کہلاتے تھے جو کہ محض نام ہی تھے ۔ مگر بے معنی نہیں تھے ۔ یہ خیال ویدانت ورش میں باقاعدہ اور مکمل معلوم ہوتا ہے ۔ جو شخص کہ برکلے کی فلسفہ کی پرشنسا نہیں کرسکتا وہ اپنیشدوں ، برہمن ، سوتروں اور ان کے بہاش کو سوائے بدہی مان اور دیرگیہ وش ہونے کا مطالعہ نہیں کرسکتا ہے ۔ اس کے لیے دہیرج ، دہرتی اور بہت صبر بلکہ برہم چرچ کی ضرورت ہے ۔ قبل اس کے ہم مشرقی فلسفہ کی تاریک معدنیات میں سونے کے ذرات حاصل کرنے کا جتن کریں ۔ نکتہ چینوں کے لیے قدیمی دنیا کی فلاسفی اور مذہبی مضحکہ خیز باتوں پر نکتہ چینی کرنا سہل ہے بجائے اس کے ایک سنجیدہ طالب علم ان کے اندر سے دانائی اور سچائی کو دریافت کرے ۔ تاہم اس تھوڑے سے زمانہ میں بہت کچھ ترقی ہوگئی ہے ۔ اب مشرق کی مقدس کتابوں پادریوں کے لیے مخول اڑانے کی کتابیں نہیں رہیں ۔ اب انہیں تاریخی دستاویز سمجھا جاتا ہے جو انسانی دماغ کی تاریخ میں نہایت ہی قدیمی دستاویز ہیں جو کہ علم تحقیقات حالات قدیم کے باقاعدہ دفتر ہیں ۔ جن کا مطالع کر نا زیادہ دلچسپ اور مفید ہے بہ نسبت اس کے زمین کہ زمین کی قدرتی بناوٹ کا مطالعہ کیا جائے ۔ جس پر کہ ہم کچھ عرصہ کے لیے قیام پزیر ہیں یا انسانی جسم کی بتاوٹ اور آفرنیش کے اعضا بڑھنے کا مطالع کیا جائے ،
شوپن ہار کی رائے ویدانت اور اپنے شد کے بارے میں حسب ذیل ہے ’’ تمام دنیا میں کسی کتاب کا مطالعہ ایسا مفید اور عمدہ خیالات پیدا کرنے والا نہیں جیسا کہ اپنے شدوں کا ۔ یہ میری زندگی میں سکون دینے والے ہیں اور موت کے وقت بھی مجھے اطمعنان دیں گے ۔ بقول میکس ملر کے قوانین کا ماخذ وید تھے جس کی تشریح و تعبیر برہمن کرتے تھے ۔ مگر سزا دینے کا اختیار راجہ کو تھا ۔ شت پتھ برہمن کے مطابق راجہ کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے ۔ وہ اس کے ماتحت نہیں ہے ۔ (شت پتھ براہمن ۵۔۴۔۴۔۷) ویدوں میں جن جرائم کا ذکر ہے ان کی سزا مقرر تھی َ۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں