56

ویدوں میں آفرنیش

جب آریاؤں میں زیادہ طاقت ور دیوتاؤں کا عقیدہ پیدا ہوا تو یہ سوال اٹھنے لگا کہ زمین اور آسمان کو کس نے بنایا ہے ۔ ایک رشی کہتا ہے کہ وہ سب سے زیادہ ہوشیار و کاریگر دیوتا ہے جس نے دو روشن دیوتا نے زمین اور آسمان بنائے جو تمام اشیا کو خوش کرتے ہیں ۔ اس نے اپنی دانشمندی کے ساتھ زمین اور آسمان کو ماپا اور اپنا سہارا دے کر قائم کیا ہے ۔ زمین اور آسمان کو بنانے کا یہ بڑا کام اندر دیوتا سے منسوب کیا گیا ۔ پہلے پہل اندر (بارش کے دیوتا) نے چمڑے کی طرح زمین اور آسمان کو پھیلایا اور ان کو اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا اور اب بھی اس نے زمین اور آسمان کو سہارا دے رکھا ہے اور اپنے بھگتوں کو زمین اور آسمان کو برکتیں دیتا ہے ۔ لیکن اس کے بعد اندر کی استتی کی جاتی کے اس نے زمین اور آسمان بنایا اور جب کہ رشی اس بات کا خیال کرتا ہے کہ کسی اور جگہ پر زمین اور آسمان کو دیوتاؤں بلکہ اندر کا بھی ماں باپ مانا گیا ہے تو وہ فوراً کہتا ہے کہ وہ کون دو مہاشکتیاں میں جو ہم سے پہلے گزرے ہیں ، جو تیری مہانتا تک پہنچے ہیں ۔ کیوں کہ تو نے اپنے ماں باپ کو اپنے ہی جسم سے پیدا کیا ہے ۔ یہی خیال ایک اور رشی نے بھی ظاہر کیا ہے کہ اندر زمین و آسمان سے بڑا ہے اور دونوں مل کر اندر کے آدھے کے برابر ہیں ۔ چنانچہ آگے چل کر آتا ہے کہ آسمان نے اندر کے آگے سجدہ کیا اور زمین نے بھی اس کے آگے سر کو چھکایا ۔ تیری پیدائش کے وقت آسمان کانپ اٹھا اور زمین غصہ سے ڈر سے لززہ میں آگئی ۔ پس ایک طرف زمین و آسمان سب سے بڑے دیوتا تھے ۔ وہ ہر چیز کے والدین تھے اور اس لیے اندر وغیرہ تمام دیوتاؤں کے بزرگ تھے ۔ 
لیکن کہیں سوم اور پوشن اور ایک موقع پر ہرن گریہیہ کو اور ایک جگہ پر دہاتری (جانداروں کو پیدا کرنے والا دیوتا ۔ بعض کا خیال ہے کہ اس نے ہی آسمان ، زمین چاند اور سورج اس نے بنایا ہے) یا وشو کرما (تعمیرات و انجینرنگ کا دیوتا) کو زمین و آسمان بنانے والا مانا گیا ہے ۔ متر اور ساوتری کو مانا گیا ہے کہ انہوں نے زمین اور آسمان کو سہارا دیا ہوا ہے اور بعض جگہ وارن دیوتا بھی یہی کام سر انجام دے رہا ہے ۔ اس سے آپ کو ظاہر ہوجائے گا کہ کس طریہ یہ دیوتا جدا جدا اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں ۔ کبھی کوئی بڑا ہوجاتا ہے اور کبھی دوسرا دیوتا اس کے بجائے وہی فرض ادا کر رہا ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ ویدوں کی نظم ہمارے نکتہ سے نہ تو خوبصورت ہے اور نہ ہی بہت گہری ۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ زمین اور آسمان جیسے دو قوی ہیکل دیوتا کبھی تو بہت اعلیٰ درجہ کی اعزاز رکھتے ہیں اور کبھی چھوٹے چھوٹے دیوتاؤں کے تابع پائے جاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دیوتا بنائے جاتے اور کس طرح پرماتما (لامحدود) کو انسانی دماغ میں لانے کے لیے مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ آخر کار اس کے سب صفاتی اور مصنوعی ناموں کو دور کرکے انسانی دل کی خواہشوں کو دور کرنے کے لیے اور منش کے من کے خوف مٹانے لیے آخر میں ایک پرتما کو سہار بنایا گیا ۔
رگ وید میں کبھی یہ سوال نہیں آیا ہے کہ ’’عالم یا عالموں کو کس نے بنایا بلکہ عالم کیوں کہ بنایا گیا یا انہوں نے (دیوتاؤں) نے عالم کو کیوں بنایا یا ایک خالق (دھاتریا پرجاپتی یا وش وکرمن) کے تخیل کے پیدا ہونے کے بعد اس نے عالم کو کیوں کر بنایا اور کس چیز سے ؟ یہ سوال مناسب الفاظ اور خیالات میں کتاب دہم کے دو فلسفیانہ بھجنوں میں موجود ہے ، جس میں تمام دیوتاؤں (وش و دیو) اور وش وکرمن (دنیا کا بنانے والا) مخاطب کیا گیا ہے ۔
’’وہ لکڑی کیا تھی ؟ وہ درخت کیا تھا ؟ جس سے (برھئیوں کی طرح) انہوں نے زمین و آسمان کو بنایا ۔ زمین اور آسمان مظبوطی کے ساتھ اپنی اپنی جگہ باوجود مرور ایام کیوں قائم رہتے ہیں ۔ (دہم ۷۳۱)
’’وش وکرمن کے کھڑے ہونے جگہ کیا تھی ؟ کیا چیز اسے سنبھالے ہوئے تھے اور وہ کس قسم کی تھی ؟ جس سے اس نے جو ہر چیز کو دیکھنے والا ہے زمین کو بنایا اور اپنی قوت سے آسمان کو آشکار کیا ۔۔۔ وہ لکڑی تھی ؟ وہ درخت کیا تھا جس سے اس نے زمین اور آسمان اور زمین کو بنایا ؟ سوچو اے عقلمند لوگوں اور دریافت کرو کہ کس چیز پر وہ کھڑا تھا ۔ جب اس نے دنیا کو مستحکم کر دیا ۔ (دہم ۸۱،۲،۴)    
یہ اشعار یا جو وید میں موجود ہیں اور اس کی ایک شرح ’آاِتریا برہمن’ میں اس کا یہ جواب دیا گیا ہے ۔
’’برہما (غیر ذی روح) وہ لکڑی تھا ، برمھ وہ درخت تھا جس سے انہوں نے زمین اور آسمان کو بنایا ، اے عقلمند لوگوں میں سوچ کر تم سے کہتا ہوں کہ وہ برہما پر کھڑا ہوا تھا جب اس نے دنیا کو مستحکم کیا’’۔
اس زمانے میں جب کہ آریا ویدوں کی فطرت پرستی سے اپ نے شدوں کی روحانیت اور ہمہ اوست کے عقائد کی طرف متوجہ ہو رہے تھے ۔ اس سوال کا اس سے بہتر جواب نہیں ہوسکتا ۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ خیال کیا جاتا تھا کہ برہما ہر جگہ موجود رہنے والی مخفی رہنے والی قوت ہے جو وجود میں آکر شکل مرئی میں مادہ ہوتی ہے اور عالم عمل میں روح مگر اس وقت تک یہ خیال نہ پیدا ہوا تھا کہ برہما جملہ موجودات کے خود وجود میں آنے والی واحد روح یا خالق عالم ہے ۔
رگ وید میں جس طرح دوسرے تخیلات میں ایک کیفیت ارتقائی نظر آتی ہے ۔ اسی طرح آفرنیش عالم کے متعلق میں بھی متعد خیالات کا اظہار کیا گیا ہے ، جن میں قدیم ترین وَسشٹھا کے بھجن کے سطروں میں نظر آتا ہے ۔ ’’وارن نے وسیع آسمانوں کو الگ کردیا ، درخشاں اور عظیم الشان آسمان کو اس نے بلندی پر اٹھایا ، اس نے ستاروں والے آسمان اور زمین کو الگ الگ کردیا’’۔ (ہفتم ۸۶۔۱) صفات مزکور سے دوسرے دیوتا متصف کیے گئے ہیں ۔ مگر تفصیلات پر نظر ڈالنے سے تین متضاد تخیلات اس مضمون کی صدہا عبارتوں میں مضمر نظر آتے ہیں ۔ 
(۱) دیوتاؤں نے دنیا کو بڑھیئوں کی طرح بنایا جیسے کہ آریا اپنے گھر بناتے تھے ۔ 
(۲) دیوتاؤں کے کسی جوڑے نے خصوصاً زمین اور آسمان نے یا دیوتاؤں نے بالعموم مثل جاندار مخلوقات کے دنیا کو پیدا کیا 
(۳) دنیا قربانی کے ذریعے وجود میں لائی گئی اور قربانی کے ذریعے ہی قائم ہے ۔ 
پہلا تخیل تو محض شاعرانہ ہے ، دوسرا بھی شاعرانہ ہے گو اس میں بھی تشبیہ سے بھی کام لیا گیا ہے اور تیسرا جو بالکل مذہبی ہے ۔ تصوف اور عرفان کے دائرے میں پہنچ جاتا ہے ۔ گو عقائد میں سادگی کے بعد پیچیدگی پیدا ہوگئی اور یہ تغیر ترقی اور ارتقاء پر دلالت کرتا ہے ۔ جس میں زمانہ دراز صرف ہوا ہوگا ۔ مگر اس ارتقا کا ہم نہ قدم بہ قدم پتہ لگا سکتے ہیں نہ تاریخیں معین ہوسکتی ہیں ۔ تخیلات مزکور کسی خاص طریقے سے پیش نہیں کیے گئے ہیں ۔ بعض وقت ایک ہی بھجن میں دونوں یا تینوں ایک ساتھ پائے جاتے ہیں ۔ گو جو بھجن اندرونی شہادت سے بعد کے زمانے کے معلوم ہوتے ہیں ان میں تصوف کا رنگ غالب ہے ۔ ان کی کثیر تعداد کتاب دہم میں ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رگ وید کے مجموعے کے باضابطہ مدون ہوجانے کے قبل تخیل کی یہ تینوں منازل طہ ہوچکی تھیں ۔ یہ ایک مزید ثبوت اس مجموعے کے نفس مضمون کی بے انتہا قدامت کا ہے ، جس نے اس کو فراموش ہوجانے اور تخریف سے ایک ایسی نسل کے لیے بچالیا جن میں دو متضاد خصوصیات تھیں ۔ یعنی تخیل کی بلند پروازی اور رسوم پرست پجاریوں کی غلامی ۔
مثل مشہور ہے کہ ایک بے وقوف بعض وقت ایسا ٹیڑھا سوال کربیٹھتا ہے کہ اس کے جواب دینے کے لیے سات عقل مند آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مگر بعض وقت معاملہ برعکس ہوتا ہے ۔ یعنی بعض سوالات کرنے لیے ذہانت اور روحانیت کی ضرورت ہے اور ایسے لوگ جو کامل العقل نہیں ہیں ان کا جواب دینے کا بیڑا اٹھاتے ہیں ۔ یہی حالت رگ وید کے اکثر سوالات کی ہے ۔ ذیل کے سوالات سے تخیل کی کس قدر بلند پروازی اور عمیق عیاں ہے اور تلاش حقیقت کا کتنا شوق ظاہر ہوتا ہے ۔ ’’سب سے پہلے پیدا ہونے والے کو کس نے دیکھا جب کہ ہڈی نہ رکھنے والے (شکل و صورت نہ رکھنے والے) نے ہڈی رکھنے والے کو جنا ۔ دنیا کی زندگی ، خون اور روح کیا ہے ؟ کسی نے اس سوال کو کسی جاننے والے سے پوچھا ہے’’۔ (اول ۴۔۱۶۴) جس کا فلسفی علما نے ترجمہ روح کیا ہے وہ آتما ہے ۔ جس کے لفظی معنی سانس یا روح کے ہیں اور جو مادہ اس سے ماخوذ ہے جس سے ہونا لفظ کی ایک شکل سنسکرت اور دوسری زبانوں میں ہے ۔ اشیا کی مجرد ماہیت کے پردے کو توڑنے کے لیے انسانی دماغ جو وجود مادی سے اپنے کو بالکل علحیدہ نہ کرسکتا تھا ۔ مجبوراً اس باریک رشتہ مادیت کو مظبوط پکڑے رہا ۔ لیکن مادی اشیا میں سب سے کم مادی سانس ہے ۔ جسے ہم دیکھ نہیں سکتے مگر وہ مایہ حیات ہے اور اس کے بند ہوتے ہی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ عالم کی سانس اور زندگی آتما اس کا جوہر اصلی مگر غیر مرئی کیا ہے ؟ اس سوال کو سب سے پہلے زبان پر لانے کے لیے زیادہ روحانیت کی ضرورت ہے ۔ بہ نسبت اس کا جواب دینے کے لیے جس کی اپ نے شدوں کے مصفین نے کوشش کی ہے ۔ برہمنوں کی ان معرکہ آرا فلسفی کتب جس میں اس قبیل کے مضامین پر بحث کی گئی ہے وہ جملہ مضامین میں شامل ہیں جنہیں یونانی فلسفہ کہتے تھے اور جن میں آفرنیش عالم ، ماہیت اشیا اور عالم اور اہل عالم کے متعلق تحقیقات کی اور نظریات شامل ہیں ۔ اس لحاظ سے رگ وید کے ان حصوں کو جو جو آفرنیش عالم کے نظریات اور مابعدالطبعات سے متعلق ہیں اپ نے شد کہہ سکتے ہیں ۔ کیوں کہ اپ نے شد کی کتب کی تصنیف کا زمانہ ٹھیک ان کے بعد ہے ۔ پرش سکتا کو بھی اپ نے شد کہا گیا ہے اور ذیل کا قطعہ (دہم ۱۹۰) جسے ہم ایک مختصر اور جامع آفرنیش عالم کا بیان کہہ سکتے ہیں اسی قبیل کا ہے ۔ چونکہ ہم اس قسم کے تخیلات اور ان کی خالص زبان کو سمجھ چکے ہیں ۔ اس لیے اس کے سمجھنے میں دقت نہ ہوگی ۔
’’روشن کی ہوئی آگ (تپاس) سے حق اور قانون (ستیا اور ریت نظام عالم) پیدا ہوئے اور رات اور پھر طوفان آب سے دور کرنے والا سال پیدا ہوتا ہے ۔ جو دن اور رات کا انتظام کرتا ہے اور آنکھ بند کرنے والوں کا حاکم ہے اور یکے بعد دیگر خالق نے آفتات و ماہتاب ، آسمان و زمین اور اقالیم ہو و نور کو بنایا’’۔
اس قطعہ کو ہم وید کا پیدائش کا باب کہہ سکتے ہیں ۔ مگر اس قسم کی اور بھی بھجن موجود ہیں جو سب زمانہ بعد کے ہیں ۔ جن میں بہترین وش و کرمن کے دوسرے بھجن (دہم ۸۳،۶۵) میں ۔ جس میں سوال جواب کے پیرائے میں آفرنیش عالم کو بعد کے زمانے کے برہمنوں کے عقائد کے مطابق بیان کیا گیا ہے ۔ یعنی پانی میں پہلا یا ازل سے حادث Germ جرثوم آیا جس میں تمام دیوتا تھے ۔ یہ جرثوم ایک زمانے تک آرام کرتا تھا اور ہزاروں سال تک پانی میں تیرتا رہا ۔ یہاں تک کہ مادہ حیات عالم (برہما غیر ذی روح) جو اس میں مخفی و حالت سکوت میں تھا ۔ بطور برہما (مذکر) حرکت میں آکر کارکن عنصر آفرنیش یعنی خالق عالم ہوگیا ۔ 
ناپیدا شدہ سے جو اکثر ایکم (ایک) بھی کہتے ہیں ۔ اس سے مراد ہے اس ہستی سے جو ہمیشہ قائم رہے ، جو کسی شئے سے پیدا نہیں ہوئی ہے ، ہمیشہ سے قائم اور ہمیشہ رہنے والی ہے ، جس سے تمام اشیا پیدا ہوئی ہیں ۔ جب کہ اس میں اپنے اظہار کی خواہش پیدا ہوئی ۔ بعض وقت اس ہستی واحد کو ّآجا ایکاٗ پاد بھی کہتے ہیں یعنی ایک پاؤں والا ناپیدا شدہ ۔ اس بظاہر لغو لقب کی نہایت لغو تشریحیں کی گئیں ہیں ۔ دراصل یہ بھی ایک کوشش ہے ایسے خیالات کو مادی شکل میں ظاہر کرنے کی جن کو الفاظ جن میں وہ شخص رہتا ہو ۔ جس کے پاؤں کا ذکر ہے ۔ مثلاً بیان کیا گیا ہے کہ وشنو اپنے اعلیٰ ترین مسکن (تیسرا آسمان) کو جانتا ہے حالانکہ انسان صرف دو کو جانتے ہیں ۔ منبع نور اس کے پیروں کے پاس ہے ۔ اس کے تین قدموں سے بھی غالباً یہی مراد ہے کہ اس کے پاؤں تین عالموں میں ہیں ۔ جن میں سے دو نظر آتے ہیں اور تیسرا غیر مرئی ہے ۔ علاو ازیں بیان کیا گیا ہے کہ پرش کا ایک پاؤں زمین پر ہے اور تین غیر فانیوں کے آسمانی عالموں میں ہیں ، یعنی دوسرے دو عالموں میں اور چوتھے میں ۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ تعداد معلومہ سے ایک عالم ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے ۔ اگر دو عالم (زمین و آسمان) کا ذکر ہو تو ایک تیسرا عالم بھی ہوتا ہے ۔ اگر تین مذکورہ ہوں (زمین ، آسمان اور کرہ ہوائی) تو ایک چوتھا بھی ہوتا ہے ۔ یہ تیسرا یا چوتھا عالم مخفی ، انسان کی پہنچ سے دور اور غیر معلوم ہے ۔ اسی کو بعض اوقات عالم کا مقدس مقام یا ناف یعنی مورث یا مرکز جملہ آغاز کا کہتے ہیں ۔ ویدوں میں تعداد کا ایک خاص الٹ پھیر ہے ۔ جس کے لحاظ سے ہر عالم کو تین عالموں میں تقسیم کیا گیا ہے اور بجائے دو کے چھ اور سات عالم ہوجاتے ہیں ۔ یہ تعداد سے زیادہ مخفی عالم وہی ہے جس میں وہ ایک ناپیدا شدہ رہتا ہے ۔ یہ پراسرار عالم ایسا ہے کہ خیال میں نہیں آسکتا ، مگر اس کے وجود کے متعلق اعتقاد راسخ تھا ۔ ویدک چیستان میں ایک ہی عالم ہے جس میں اس کا پیر ہے ۔ اس لیے اسے آجا ایکاد کہا گیا ہے ۔ اس فقرہ میں جو شعر نقل کیا گیا ’’کس نے سب سے پہلے پیدا ہونے والے کو دیکھا ہے’’۔ (اول ۱۶۴۔۵) کے بعد حسب ذیل سوالات ہیں جن سے شوق تجس ظاہر ہے ۔ 
برگین کا کہنا ہے کہ اس لیے سوریا کی رتھ مثل اشونوں کے تین پیئے ہوتے ہیں ، جن میں ایک برہمن جانتے ہیں اور دوسرا صرف عمیق تخیل والوں کو نظر آتا ہے ۔ جس میں دنیا کے سانڈ کا ذکر ہے ۔ اس کے دو سر ، تین پاؤں ، چار سینگھ ، سات ہاتھ ہیں اس لیے وہ ہر ایک عالم میں موجود ہے ۔ خواہ وہ دو، تین ، چار یا چھ ہوں اور ہر ایک میں عالم مخفی کا اضافہ کیا جاتا ہے ۔ لکڑی کے سات ڈنڈوں اور مٹی کے ۲۱ تہیں جو پرش پر ڈالے جاتے ہیں ۔ اس میں چھ عالموں اور ساتویں عالم مخفی کی طرف اشارہ ہے ۔ 
’’میں تو نہیں جانتا مگر حصول علم کے لیے جاننے والوں سے پوچھتا ہوں ۔ جس نے ناپیدا شدہ کی شکل میں چھ عالموں کو علحیدہ کیا اور قائم کیا ، اسی نے ساتویں کو بھی قائم کیا ہے ۔ وہی شخص اس سوال کا جواب دے جو خوبصورت چڑیا کے مخفی مسکن کو جانتا’’۔
اپنی جہالت کا اس سادگی اور صداقت سے تسلیم کرنا قلب پر کس قدر اثر کرتا ہے ۔ پوچھنے والا پوچھتا ہے ۔ مگر جواب باصواب ملنے کی امید نہیں ۔ وہ شاعر وش وکرمن (تعمیرات و انجینرنگ کا دیوتا) پانی سے پہلا پیدا ہونے والا اور ہمارا خالق اور صانع قرار دیتا ہے ۔ بھجن کے اختتام پر ادب اور افسوس کے لہجے میں کہتا ہے تم اسے ہر گز نہ دیکھو گے جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ، جو چیز تم کو نظر آتی ہے بالکل مختلف ہے ۔ بھجنوں کے گانے والے تاریکی یاوہ گوئی میں اپنے دن گزارتے ہیں‘‘ ۔ اس سے ظاہر ہے کہ قوم آریا کے اجداد کو جنھوں نے تخیل و مراقبہ کو ایک فن لطیف اور زندگی کا مقصد بنالیا تھا ۔ یہ معلوم ہوگیا تھا کہ بعض سوالات کا بہترین جواب سکوت ہے ۔ یہ وہی تلخ سبق ہے جو زمانہ حال کے مغرور سائنس کو ملا ہے اور وہ اپنی کم مائیگی کا اعتراف بھی کرتا ہے اور مجبوراً اپنے سر کو ختم کرتا ہے اور تاسف آمیز لہجے میں کہتا ہے ’’لااروی’’۔
زمانہ ، زمین ، آسمان اور آسور دیوتاؤں کے وجود میں آنے کے قبل کے تاریک زمانے پر جو پردہ پڑا ہوا ہے اس کو اٹھانے کی کوشش میں ویدک عقلا نے اس قدیم ہیولے کے تخیل کو جب کہ اس میں خالق کے حکم سے جان نہیں پڑی تھی ۔ مگر جس پر وجود الہی کا سایہ تھا ۔ اپنے شاعرانہ قادر الکلامی سے اس خوبی سے الفاظ کا جامہ پہنایا ہے ۔ میکس مولر اس پر وجد میں آگیا ۔ یہ آفرنیش عالم کا مشہور بھجن (دہم ۲۹ٍٍ۱) اور ویدک اپ نے شد ہی جس میں برہمنوں کی بعد کے زمانے کی فلسفیانہ کتب کا خلاصہ موجود ہے ، جنہیں ویدانت اپ نے شد کہتے ہیں یعنی وید کی آخری منزل یا اختتام ۔ اس بے مثل بھجن کی خاص خوبی یہ ہے کہ گو شاعر اس میں تخیل کی انتہا کو پہنچ گیا ہے ۔ مگر کسی مقام پر ابہام نہیں ہے ۔ البتہ جن لوگوں کو اس مضمون سے مس نہیں وہ سمجھنے سے قاصر رہیں گے ۔ 
’’اس وقت نہ ہست تھا نہ نیست ، نہ ہوائی فضا تھی ، نہ اوپر آسمان کا چمکدار تانا بانا ، سب کو کیا چھپائے ہوئے تھا ـ؟ کیا چیز تمام چیزوں کو اٹھائے ہوئے تھی ؟ کیا یہ عمق بے پایاں پانی تھا’’؟ یعنی اس وقت تک وقت کا ظہور نہیں ہوا تھا ۔ کیوں کہ لیل و نہار کے تواتر ہی سے معلم ہوسکتا ہے 
’’اس وقت نہ موت تھی نہ حیات ابدی ، دن رات کا اختلاف بھی نہ تھا ۔ وہ ہستی یکتا موجود تھی ، بغیر اپنے وجود یا قوت کے اظہار کرنے کے اور اس ہستی یکتا کے سوا کچھ نہ تھا’’۔
’’ابتدا میں تاریکی ہی تاریکی کے غلاف میں لپٹی ہوئی تھی ، سب پانی ہی پانی تھا ۔ وہ ہستی یکتا جو خالی فضا میں نیست میں لپٹی ہوئی پڑی ہوئی تھی گرمی کی قوت سے وجود میں آئی’’۔

ٍ اصل میں سنسکرت لفظ تپاساس (گرمی سے یا گرمی میں سے) ہے ۔ مگر تااتریا برہمن میں یہ لفظ تماساس (تاریکی میں سے) ہے کہا جاتا ہے یہی لفظ قدیم تر ہے ۔
’’خواہش پہلے اس میں پیدا ہوئی ۔ یہ دماغ کا پہلا جرثوما تھا ، شاعروں نے اپنے دماغ سے تلاش کرکے اپنے دلوں میں معلوم کیا کہ یہ خواہش وہ رشتہ ہے جو ہست کو نیست سے ملاتا ہے’’۔
اپنی ذات کو ظاہر کرنے کی خواہش یعنی ذی حس قوت ارادی کی پہلی تحریک جو فعل کی پیش رو ہوتی ہے ۔ اس کو سنسکرت میں کام کہتے ہیں ۔ اس لفظ کا اطلاق رفتہ رفتہ عشق اور عشق کے دیوتا پر ہونے لگا ۔ وید (دہم ۱۹) میں بیان کیا گیا ہے طوفان آب رات سے پیدا ہوا ، پہلے ہیولے پیدا ہوا ، پھر وسیع زمین (پرتھوی) اور ایروس جو غیر فانیوں میں سب سے خوبصورت تھا ، یہ ایروس آفرنیش عالم کا کاما (خواہش) ہے جس کی وجہ سے آفرنیش کا فعل وجود میں آیا ۔
’’دن کی روشنی کی کرن جو ان عالموں کو منور کیے ہوئے تھی ۔ وہ اوپر سے آتی تھی یا نیچے سے ؟ اس کے بعد تخم بوئے گئے اور زبردست قوتیں پیدا ہوئیں ۔ مناظر قدرت نیچے اور قوت ارادی اوپر’’۔
’’مگر جانتا کون ہے ؟ کس نے اس کا یہاں اعلان کیا ؟ دیوتا تو آفرنیش عالم کے بعد پیدا ہوئے ، پھر کون جانتا ہے کہ دنیا کہاں سے پیدا ہوئی’’؟
’’وہ ہستی جس سے عالم مخلوق پیدا ہوا ، خواہ اسے سب چیزوں کو دیکھنے والے نے جو آسمان میں رہتا ہے بنایا یا نہیں ، وہی جانتا ہے یا وہ نہیں جانتا’’۔
آخری شعر دل کو ہلا دیتا ہے ۔ کیوں کہ اس میں یاس اور بے بسی کا اظہار ہوتا ہے جو طالب حقیقت کو لب بام تک پہنچ کر گرنے سے ہوتی ہے ۔ اس شعر میں اس بادل کی جھلک بھی نظر آتی ہے جو آریاؤں کی مذہبی زندگی پر چھاگیا ۔ جب کہ طرز زندگی بدل جانے اور ایسے ملک میں آباد ہونے سے جس کی آب و ہوا کمزور مکرنے والی تھی بجائے مسرت آمیز فطرت پرستی کے گنگا کے کنارے آباد ہونے والے آریوں میں فلسفیانہ تخیلات کو سرد کردیتا ہے ۔ اس وجہ سے مذہب سے انہیں روحانی تشفی بھی نہیں ہوتی تھی ۔ واقع یہ ہے کہ انہیں مسرت روحانی کی تلاش نہ تھی بلکہ حقیقت مجرد کی ۔ اس لیے جب ان کے زبرست دماغوں نے ہستی یکتا کے وجود کو محسوس کیا تو اس سے انہیں روحانی خوشی نہ ہوئی بلکہ وہ خوشی جو اہل علم کو کسی علمی نکتے کے دریافت کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور اسی ہستی یکتا کو وہ غیر شخصی اور دور افتادہ خیال کرتے تھے جس کا وجود و عدم برابر تھا ۔ مسرت روحانی کے طالب ہوں یا نہ ہوں مگر اس سے وہ بے بہرور ہیں اور چوں کہ ان میں امید اور اعتقاد کا عنصر نہ تھا اس لیے زندگی ایک بوجھ ہوگئی جس سے نجات حاصل کرنا زندگی کا اصل مقصد ہوگیا ۔ جن کی رگ وید میں صرف جھلک نظر آتی ہے ۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں