43

ویدوں میں قربانی

دعاؤں اور قربانی کے زور سے بعض غیر معمولی نعمتوں کا حاصل کرنا ہمارے تخیلات سے اس قدر دور نہیں ہے جتنا کہ ان کی وجہ سے بعض حوادث کا وقوع میں آنا ، مثلاً بارش اور روشنی ، لیل و نہار کا تواتر یا سپید صبح ، آفتاب چاند ، تاروں کا نکلنا ۔ مگر اس میں کوئی امر خلاف عقل نہیں ہے ۔ جب یہ تسلیم کرلیا گیا کہ دیوتا اپنا کام قربانی کے جواب میں کرتے ہیں تو اس کی عکسی شکل بھی خلاف قیاس نہ ہوگی ۔ یعنی دیوتا کوئی کام نہ کریں گے اگر ان سے درخواست نہ کی جائے ۔ اب صرف یہ دریافت کرنا باقی ہے کہ برہما (رسوم کے مطابق صحیح دعا خوانی) اور یجنا (قربانی) میں کیا بات تھی جو دیوتاؤں کو مجبور کر دیتی تھی ۔ یعنی ہمیں یہ دریافت کرنا چاہی کہ آریوں کی قربانی کس قسم کی تھی اور اس کا اصل اصول کیا تھا ۔ 
قربانی کا ایک سلسلہ تھا جس مطالعہ اور ان کی سماجی توجیہ ایک تفصیل طلب مسلہ ہے ۔ لیکن اتنا طہ ہے کہ ویدوں کی تعلیمات کا ایک ترین عنصر قربانی (یگیہ ، یِجنہ) ہے ۔ قربانی کی رسومات اور ان کے ادائیگی کے طریقہ مقرر ہیں ، مگر بعد میں یہ رسومات اس قدر پیچیدہ گورکھ دھندہ بن گئیں کہ ماہر پنڈت ہی انہیں سمجھ اور برت سکتے تھے ۔ تاہم رگ وید میں قربانی کے متعلق کئی ایسی اصطلات ہیں جن کا صحیح مفہوم آج تک سمجھا نہیں جاسکا ۔ مثلاً ہوتر ، ادھ وریُو ِ آؤیاس ، اگنی مِندج ، پوتر ، پَرَ شاستر اور سب سے بڑے پجاری کو پروہت کہتے تھے ۔ 
قربانی میں جو نذرانے دیئے جاتے تھے ان میں مکھن اجناس اور روتی وغیرہ شامل ہیں ۔ جانوروں کی قربانی دی جاتی تھی ۔ ان میں بھیڑ ، بکری اور گھوڑا شامل ہیں ۔ ان کا گوشت پکا کر کھایا جاتا تھا ۔ قربانی ایک طرف دیوتاؤں کو دی جاتی تھی اور دوسری طرف مرنے والوں (پتروں) کو بھی جاتی تھی جن کی تعظیم ہر فرد پر لازم تھا اور قدیم پتروں کو تقدس کا درجہ حاصل تھا ۔ قربانی رسم میں جادو ٹونے کا انداز بھی پایا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان رسومات کی ادائیگی سے کچھ نہ کچھ طاقت پیدا ہوجائے گی ۔ قربانی کی رسم کے موقع پر جشن کا سماں ہوتا تھا ۔ جس میں ناچنا گانا بجانا حمد و ثنا اور گائیگی وغیرہ شامل ہوتی تھی اور طرح طرح کے تحفہ تحائف دیئے جاتے تھے ۔ ضیافت ہوتی تھی ، طرح طرح کے سوانگ بھرے جاتے تھے اور بہروپ دھارے جاتے تھے ۔ پھر ان چیزوں کا مقابلہ ہوتا تھا ۔ رتھ ڈورانے کے مقابلے ہوتے تھے ۔ تیر اندازی اور چوسر کے کھیل ہوتے تھے ۔ اور خوب انداز ہوتے تھے ۔ گویا قربانی کی مذہبی رسم حکمران طبقات کا زندگی سے لطف انداز ہونے کا بہانہ تھا ۔ البتہ بعض ایسی قربانیاں ہوتی تھیں جن کا تعلق لوگوں کی عملی زندگی سے تھا ۔ مثلا وُرون پر گھانس کی قربانی تھی جس میں دلیا اور بھیڑ وارن دیوتا اور ایک بھیڑ مُاروت کی بھینٹ چرھائی جاتی ہے ۔ اس قربانی کے موقع پر ایک رسم یہ بھی تھی کہ گھر کی مالکن اپنی خفیہ ناجائز محبتوں کو پرتی پستھا تری کے آگے تسلیم کرتی تھی اور معافی ماانگتی تھی ۔ سوم دیوتا کی قربانیاں بھی شراب کے ایک عوامی جشن سے کم نہ تھی ۔ سوم رس کا رنگ بھورا تھا اور اسے پانی یا دودھ یا مکھن ملا کر پیا جاتا تھا ۔ جو شخص اس کی قربانی دینا چاہتا وہ طویل عرصہ تک منشیات سے پرہیز کرتا اور کھانے پینے کا بھی روزہ رکھتا ۔ کافی روز تنہائی میں رہتا ۔ پھر علامتی طور پر سوم بوٹی خریدی جاتی تھی اور اس کا سوگت ایک مہمان کی طرح کیا جاتا ۔ پھر مٹی کا ایک برتن جس کا نام مہا ویر ہوتا گرم کیا جاتا ۔ گرم کرنے کے بعد اس میں مکھن اور دودھ ڈالا جاتا اور پھر یہ اشون دیوتا کی نذر کیا جاتا ، پھر مہاویدی (قربان گاہ) تعمیر کی جاتی ، پھر سوم کو ایک جلوس کی صورت میں قربان گاہ لایا جاتا ۔ سوم بوٹی کو کچل کر رس نکالنے کے لمبے چوڑے انتظامات ہوتے اور آخری دن سوم رس کو جھان کر چھان کر پیالوں میں بھر کر صبح ، دوپہر اور شام تین مرتبہ پجاریوں اور لوگوں کو پیش کیا جاتا تھا ۔ اس موقع پر جانور قربان کیے جاتے اور ان کا گوشت کھایا جاتا تھا ۔ کئی دنوں پر پھیلے اس جشن میں جلسے جلوس، فانا بجانا اور تفریح کی کئی چیزیں ہوتی تھیں ۔ بظاہر یہ خوشحال معاشرت کی رنگ رلاں تھیں ۔ 
آریائی مذہب کا مرکزی نقطہ قربانی تھا ۔ چھوٹی موٹی قربانیاں گھروں پر ہوتی تھیں اور نجی معاملہ تھیں ۔ مگر کبھی کبھی اجتماعی قربانیاں بھی ہوتی تھیں ۔ جن میں پورا گاؤں یا قبیلہ شریک ہوتا تھا ۔ کئی اور قربانیاں اس سے بھی مفصل تھیں ۔ ایک قربانی اشو میدھا تھی جس میں پجاریوں کو چارہزار گائیں اور ہزار سونے کے ٹکڑے نذر کیے جاتے تھے ۔ یہ عموماً راجہ کی طرف سے ہوتی تھی ۔ راجہ ایک گھوڑے کو آزاد چھوڑ دیتا اور ایک مسلح فوج دستہ اس کے ساتھ رہتا ۔ سال بھر گھوڑا گشت کرتا ۔ راجہ بھی اپنی چار رانیوں کے ہمراہ اس کی مسلسل نگرانی کرتا اور مناجاتیں پڑھتا رہتا ۔ سال کے بعد اس گھوڑے کو قربان کیا جاتا ۔ گھوڑے کا آورہ پھرنا سورج کی آوارہ خرامی سے مشابہ اور راجہ کی سلطنت کی وسعت اور اس کے اقتدار کی مظبوتی کا مظہر ہوتی ۔ 
ویدک عالموں میں ایبل بربگین نے اس مسلے پر تفصیلی بحث کی ہے اور وہ اس کی تہہ میں تحقیق سے اور پہنچا اور جو نتائج اس نے اخذ کیے اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔
قربانی آسمان اور کرہ ہوائی کے اہم حوادث کی نقل کی ہے ۔ بنی نوع انسان کا ایک قدیمی عقیدہ ہے کہ جس چیز کی حد درجہ آرزو ہو اس کو وجود میں لانے کی تدبیر یہ ہے کہ اس کا ایک پتلا بنایا جائے ۔ یہ احقانہ خیال عرصے تک جاری رہا ۔ 
دو چیزیں ضروری ہیں روشنی اور بارش یعنی آگ اور پانی یا اگنی اور سوما ۔ یہ اشیا تین عالموں میں سے دو یعنی آسمان اور کرہ ہوائی میں پیدا ہوتی ہیں ۔ دیو (فطرت کی قوتیں) انہیں ہر وقت بناتے رہتے ہیں ۔ اگنی سمندروں میں پایا جاتا ہے ، برق کی شکل میں بادل کے سمندر میں اور سوریا کی شکل میں نور کے سمندر کے سنہرے پانیوں میں ۔ گائیں ہمیشہ پکڑ کر دوہنے کے لیے واپس لائی جاتی ہیں ۔ ان میں ایک تو بادلوں کی گائیں ہیں ۔ جن کے پستان بارش بھری ہوتی ہے اور دوسرے سنہرے دودھ والی روشنی کی گائیں ہیں ۔ یعنی سپید صبح اور ان کی کرنیں ۔ یہ دیوتاؤں کا فرض مقرر ہے جسے وہ دواماً ریت (قانون) کے اصول کے مطابق انجام دیتے ہیں ۔ انہیں صرف خورش کی ضرورت ہے تاکہ وہ ہمیشہ تازہ دم ، جوان اور طاقت ور ہیں ۔ یہ قوت انہیں امرت (آب حیات) یعنی آسمانی سوما پینے سے حاصل ہوتی ہے ۔ جس کو وہ عنصر آبی سے اعلیٰ ترین آسمان میں کشید کرتے ہیں جو انسان کی نظروں سے پوشیدہ ہے ۔ دیوتاؤں کی اس تمام مشقت یعنی دنیا کی مشین کے کل پرزوں کو درست رکھنے کی وجہ صرف ایک ہی ہے یعنی بنی نوع انسان کو نفع پہنچانا ۔ 
بنی نوع انسان سے آریوں کی مراد غالباً اپنی قوم اور مدگاروں سے تھی اور ان کا فرض تھا کہ وہ دیوتاؤں کو خوش رکھیں ۔ وہ اگر وہ ناراض ہو اپنا کام چھوڑ دیں تو پھر دنیا و مافیہا کا کیا حشر ہوگا ۔ وہ نہ صرف ان کے مرحون منت ہیں اور اظہار تشکر زبان و نذر و نیاز سے ہوسکتا ہے ۔ اس لیے ان میں کمی نہ ہونی چاہیے ۔ جو لوگ ان الفاظ کو ادا نہیں کرسکتے اور نذر چڑھانا چاہتے ہیں مگر اس کے طریقوں سے ناواقف ہیں اور غلط طریقہ سے دیوتاؤں کے خفا ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ اس لیے آریا پوجا کے معاملات کو اپنے پجاریوں کے سپرد کرتے تھے ۔ جن کے بارے میں خیال تھا کہ یہ پراسرار قوتیں رکھتے ہیں اور دوسرے انسانوں سے بالاتر اور ان میں واچ (گفتار کی دیوی) حلول کرگئی ہے ۔ اس لیے یہ اپنی شیریں زبانی سے دیوتاؤں سے ہم کلام ہوتے ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ کسی قسم کی نذریں دیوتاؤں کو پسند ہیں اور انہیں کس طرح پیش کرنا چاہیے ۔ انسان جب گزشتہ عنایتوں پر شکر گزار ہوتا ہے تو وہ ان عنایتوں کی بقا اور ان میں اضافے کا بھی متمنی رہتا ہے ۔ یعنی اظہار تشکر کی دعا ایک ایک تجارت کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور دیوتاؤں کی ستائش اور نذر کے بدلے تحفظ اور مزید ترقی کی امید ۔ کیوں کے دیوتا اور انسان کسی سے نذر لیے کر اس کا صلہ نہ دینا گوارا نہ کرے گا ۔ 
پجاریوں کے بارے میں یہ تصور کہ وہ دیوتاؤں کے آداب و آئین اور دونوں عالموں کے باہمی تعلقات سے واقف ہوتے ہیں جو بادی النظر میں دو متصل قریوں کی طرح ہیں ۔ یہ اہم امور ہیں اور ان پر ہستی کا دارومدار ہے ۔ لہذا ان فرائض دل جمعی سے ادا کرنا ضروری ہے ۔ لہذا انہیں گراں قدر معاوضہ دیا جائے کہ وہ صدق دلی اور درست طریقہ سے دعائیں کریں تاکہ ان کی دعائیں اپنا اثر دیکھائیں ۔ قربانی اور پجاریوں کے متعلق اس قسم کے عقائد دنیا کی دوسری قدیم اقوام میں بھی رائج تھے ۔ مگر آریوں کی قربانی میں جسے ہندوستان کے برہمنوں نے انتہا تک پہنچا دیا تھا اور جو اب تک قائم ہے ۔ اس کی طرف برگین نے اشارہ کیا ہے ۔ 
دیو کریم النفس اور نیک مزاج ہیں اور برضا و رغبت نہ صرف انسان کو موروعنایات رکھتے بلکہ دنیا کو بھی چلتی ہوئی رکھتے ہیں ۔ مگر آریوں کا ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ انسان کو جائز ذرائع سے دیوتاؤں کو اپنی ضروریات پوری کرنے پر قادر ہونا چاہیے ۔ تاکہ پھر کوئی خطرہ باقی نہ رہے ۔ یہ وہی قدیم خیال ہے یعنی کسی چیز کی نقل بنا کر وجود میں لاتا ۔ ریت کے مقررہ قوانین کے مطابق آسمانی سوما اور آسمانی اگنی کے تلاش کرنے پر دنیا کے قیام اور بقا کا دارومدار ہے ۔ اس لیے ریت یعنی قربانی کے قانون اور ضابطے کے لحاظ سے زمین پر اگنی اور سوما کا بنانا (پیدا کرنا) ضروری ہوا ۔ ان دونوں کو زمین پر پیدا کرنے کی رسم ادا کی جائے ۔ اس کا ٹھیک جواب آسمان پر بھی ہوگا اور اس دنیاوی رسم کا یہ آسمانی جواب اس کا اسی قدر مشابہ ہوگا جتنی کہ پجاریوں میں قوت ایجاد اور تخیل شاعرانہ ہو ۔ زمین کی اگنی پودوں میں پائی جاتی ہے ۔ یعنی ارانی کی لکڑی اور زمین کے سوما میں ۔ سوما وہی پودا ہے جس سے وہ شراب آتشیں بنتی ہے جو انسان کو گرم کردیتی ہے اور فرحت بخشتی ہے ، یہاں تک وہ پکار اٹھتا ہے ہم نے سوما پی لی ، ہم غیر فانی ہوگئے ، ہم نے دیوتاؤں کو دیکھ لیا ۔ 
ریت کے معنی قانون و ضابطہ کے ہیں ۔ یہ کلمہ کا مادہ ری Ri کے معنی بہنے کے ہیں جو یونانی لفظ Riao  اور انگریزی لفظ River میں موجود ہے ۔ اعلیٰ ترین قانون یا نظام عالم کا حوادث قدرت کی ہم آہنگی ہے ۔ اگنی پانی میں بھی پایا جاتا ہے ۔ کیوں کہ سوما کے ڈنٹھل توڑ کر پانی میں ڈال دیئے جاتے ہیں تاکہ ان میں خمیر آجائے جس سے شراب آتشیں بنتی ہے اور یہ پانی آسمانی پانیوں کا جواب ہے جو اگنی کی مائیں ہیں اور اسی مناسبت سے جس دیگ یا برتن میں سوما کی کشید ہوتی ہے اسے سمندر کہتے ہیں ۔ سوما کا دوسرا جزو دودھ ہے ، زمین کی گائے کا دودھ جو آسمانی اور کرہ ہوائی کی روشنی اور بارش کی گایوں کا جواب ہے ۔ اگنی اور سوما بہت دور سے لائے گئے تھے ۔ اگنی دِوَس دَت سے اور سوما توش تار کے مکان سے یعنی درخشاں آسمان سے اس لیے قربانی کے مقام پر دِوَس دَت کی گدی کہتے تھے ۔ ویدی یعنی جس مقام پر کش گھاس بچھائی جاتی ہے وہ دیوتاؤں کی گدی کہی جاتی تھی ۔ گرج (واچ) دیوتاؤں کی آواز زبان اور گیت ہے ۔ یہ واچ رشیوں میں حلول کرگئی ہے اور وہ اس کو دعاؤں اور بھجنوں کی شکل میں زبان سے نکالتے تھے جن کے الفاظ مناسب حال تھے ۔ چکی کے پتھروں کی آواز بھی گرج ہے اور بارش وہ سوما (شراب) ہے جو چھلنی یا اون کے کے کپڑے میں چھاننے سے نکلتا ہے اور دیگ میں زور سے گرتا ہے ۔ اس بارش کی طرح ہے جس کے قطرے آسمان سے گرتے ہیں ۔ بجلی اور گرج کے ساتھ اور جو سوما یعنی ارت ہے ۔ آسمانی اور ارضی رسوم اس طرح ایک دوسرے سے بالکل مشابہ ہیں ۔ قربانی کی رسم یعنی زمین کی ریت سے بڑھ کر دونوں عالموں کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ آسمانی ریت سے مل جاتی ہے اور دونوں مل کر وہ قدیم اور فراخ راستہ بن جاتی ہے ۔ جس کی منزل مقصود صرف ایک ہی ہے ۔ یہ وہی راستہ ہے جو سراما نے اندر اور گانے والے انگیراؤں کو دیکھایا تھا اور ایک دوسرا فراخ راستہ جو قربانی کرنے والوں کو دیوتاؤں کی سخاوت سے ملتا ہے ۔ دکشنا بھی مثل زمین کے دکشنا کے ہے جو پجاریوں کو ان کے مربی دیتے ہیں ، خواہ وہ بادشاہ ہو یا عام لوگ ۔ 
قربانی کی رسم کا درست طریقہ سے ادا کرنے سے دیوتاؤں کو مجبور کرنے کی قوت رکھتی ہے اور رگ وید کی متعدد عبارتوں سے ثابت ہے ۔ جس میں سے چند کو پیش کیا جارہا ہے ۔ پہلا اقتباس دیواپی رشی کی بارش کے بھجن سے ہے جو برہسپتی (دعا کے دیوتا) کو مخاطب کرکے اس سے التجا کرتا ہے کہ مجھے بولنے کی قوت عطا کر اور میری زبان پر ایک ایسا با اثر بھجن لے آ ۔ جس سے میرے مربی شن تانو کے ملک میں بارش ہو ۔ برہسپتی خود اس کی دعا کا یوں جواب دیتا ہے ۔ 
’’قطرے جس میں شہد کی شیرنی ہے آسمان سے گریں گے ۔ اندر ہمارے لیے ہزاروں گاڑیاں پانی سے لاد کرلے آ ۔ دیواپی تم پجاری بنو ۔ ٹھیک وقت پر قربانی کرو اور دیوتاؤں کو نظر نذر چڑھاؤ’’۔
اب اس کے عجر و الحاح کا نتیجہ دیکھئے ۔
رشی دیواپی ابن رشتی شی نانے پجاری کی خدمت انجام دی ، دیوتاؤں کی کرم کی نظر الطاف اس پر ہوئی ، اس نے آسمانی پانی اوپر کے سمندر سے نیچے کے سمندر میں انڈیلا ۔ پانی کو دیوتاؤں نے اوپر کے سمندر میں روک لیا تھا ۔ دیواپی نے پانی کو کھول کر نیچے کی طرف بہادیا ۔ برہسپتی نے رشی (دیواپی) کو ایک با اثر بارش کی دعا یاد کرا دی’’۔
بھجن (یکم ۸۸) میں ماروتوں سے اپنے برق سے لدے ہوئے چمکدار ’’رتھوں پر آنے کی التجا کی گئی ہے ۔ جنہیں طیور سے زیادہ تیز گھوڑے کھنچتے ہیں اور جن کے پیئوں کی آواز سے زمین گونج اٹھتی ہے ۔ اس کے بعد رشی کہتا ہے کئی روز سے فکر مند انسان اس دعا کے ورد میں مشغول تھے اور بارش لانے والی قربانی کرتے تھے ۔ انہیں کی دعاؤں اور بھجنوں سے گوتموں نے بارش کے پانی کو الٹ دیا تاکہ ان کی پیاس بجھ جائے’’۔ یہ تشبیہ ذرا دور کی ہے مگر صاف سمجھ میں آتی ہے ۔ بارش کے ایک دوسرے بھجن (دہم ۱۰۱) میں بھی اس کا ذکر ہے ۔ مگر یہاں بجائے برتن یا مشک کے کنواں ہے ۔
’’موٹو کو تیار کرلو ، موٹ کے رسوں کو خوب کھنچوں ، آؤ ہم اس پانی سے لبریز اور کبھی خالی نہ ہونے والے کنویں کو خالی کردیں ۔ اس پانی سے لبریز کبھی خالی نہ ہونے والے کنویں کو میں مظبوط موٹوں اور رسوں سے خالی کر رہا ہوں’’۔ یہ مضمون گو کس قدر مناقص ہے لیکن وید کے استعاروں کو یہ سمجھنا کہ وہ موجودہ معیار بلاغت کے مطابق ہوں انتہاہی غلطی ہے ۔
دعاؤں اور قربانی کے باثر کرنے کے لیے علم کی ضرورت ہے جو وسیع اور مختلف اقسام کا ہو ، ذر اسی غلطی مہلک ثابت ہوتی ہے ۔ کیوں کہ قربانی حوادث کا جواب یا نقل ہے اور اس میں کسی قسم کی لغزش یا غلطی نہ ہونی چاہیے ۔ ورنہ اس کی وجہ سے آسمانی ریت یا نظام عالم کی ہم آہنگی میں اس قسم کی بے ربطی پیدا ہوجائے گی ۔ جس سے دنیا کے معرض خطرے میں پڑ جانے کا اندیشہ ہے ۔ اس لیے علم کی قدر و قیمت عقلاً جاننے والوں کو راہ راست جس پر دیوتاؤں اور خصوصاً اگنی اور سوما سے جو قربانی کے راجا ہیں درخواست کی جاتی ہے کہ انسان کو جلائیں کی طرف اکثر مقامات میں اشارہ ہے ۔ اس لیے عام لوگوں مذہبی معاملات میں دخیل دینا سخت خطرناک ہے ۔ ایک مقام پر لکھا ہے کہ جاہل عالم سے دریافت کرتا ہے اور جو وہ بتاتا ہے اس پر عمل کرتا ہے ۔ تعلیم حاصل کرنے سے فائد یہ ہے وہ زور سے بہنے والے (پانی) کو حاصل کرتا ہے ۔ ان مفروضات کو تسلیم کرنے کے بعد پجاریوں کے مذکور ذیل دعوے کو تسلیم کرنے میں کوئی امر مانع نہ ہوگا ۔’’وہی بادشاہ خیر و خوبی سے اپنے ملک پر حکومت کرتا ہے ، رعایا اس کی فرمانبردار رہتی ہے ۔ دشمنوں اور اپنی رعایا کے خزانے حاصل کرتا ہے ، جس کے آگے آگے پروہت چلتا ہے’’۔
قربانی (یجنا) اور دعا (برمھ) کا ذکر ہمیشہ ایک ساتھ آتا ہے اور جہاں صرف قربانی کا ذکر ہے ۔ وہاں دعا سے مراد ہے ’’قربانی بغیر دعا کے دیوتاؤں کو پسند نہیں ۔ یہاں تک کہ اگر سوما بغیر دعاؤں کے کشید کی جائے تو اندر اسے پسند نہیں کرتا’’۔ (ہفتم ۲۶۔۱) 
اب بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اجداد قدیم یعنی پہلے قربانی کرنے والوں یا قربانی کی مروج کرنے والوں کا اس قدر اعزاز کیوں ہے اور وہ دیوتاؤں کے قریب اور ہم درجہ کیوں خیال کیے جاتے ہیں ؟ نظام عالم کے قیام کے متعلق بھی ان سے متعدد فرائض منسوب کیے جاتے ہیں ۔ بلکہ وہ آفرنیش عالم کے کام میں شریک خیال کیے جاتے ہیں ۔ قربانی گویا ایک اعلیٰ درجے کا بنا ہوا کپڑا تھا جس کے بننے میں اجداد قدیم کو خاص ملکہ تھا ۔ اس کپڑے کا ایک سرا تو ان کے ہاتھوں میں ہے اور دوسرا زمین پر گرا ہوا ہے ۔ جسے جاننے والے لوگ پکڑے ہوئے ہیں اور اس کے تانے بانے میں اپنے تار ملاتے جاتے ہیں ۔ ہر ایک منتر جو پڑھا جائے یا سامن جو گایا جائے اور ہر قربانی کی رسم جو ادا کی جائے ایک تار ہے ۔ کپڑے میں جو اس طرح بنا جاتا ہے رنگ یا رنگ کے تار بڑھتے جاتے ہیں اور قربانی کا کرگہ کبھی بند نہیں ہوتا ہے ۔  
اگر دنیا کی قربانی ان حوادث سمادی کی نقل ہے جس پر دنیا کی ہستی کا دارو مدار ہے اور جسے کتھاؤں کے محاورے میں اگنی اور سوما کا تلاش کرلینا کہتے ہیں اور دنیا کی قربانی کا حوادث سمادی پر اثر ہوا اور ایک حد تک ان کے وجود میں آنے کا باعث ہو تو دوسرا سوال یہ گا کہ حوادث سمادی کو آسمان میں کون وجود میں لاتا ہے ۔ کھتاؤں کی منطق کے لحاظ سے اس کا یہی جواب ہوسکتا ہے کہ ان کو آسمانی قربانی وجود میں لاتی ہے ۔ کون ذات ہے جو آسمان پر قربانی کرتی ہے ؟ انہیں نتائج کو برآمد کرنے لیے جن کے لیے ہم کوشاں ہیں اور جنہیں ہم قربانی کے متعلق جتنے تخیلات ہیں اس کا اطلاق ہونے لگتا ہے اور تمام عالم ایک وسیع قربان گاہ بن جاتا ہے اور آسمان اور کرہ ہوائی کے حوادث کو کھینچ تان کر ان میں اور زمین پر کی قربانی کی رسوم میں مطابقت پیدا کی جاتی ہے ۔ مثلاً اگنی بصورت آفتاب اور اس سنہری ارانی سے پیدا ہوتا ہے جسے اشون رگڑتے ہیں ۔ اگنی کا دہکتا ہوا کندہ آسمان پر جلتا ہے ۔ پھر نور جس میں سے سوریا (اگنی) صبح کو طلوع ہوتا ہے گھی ہے جو شفق صبح (اشاس) کی گایوں کے سنہرے دودھ سے بنتا ہے اور جو قربان گاہ پر جلایا جاتا ہے ۔ روشنی کے ستون صبح صادق کے وقت تاریکی سے نکلتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں قربانی کے ستون ہیں ۔ روشنی کی ٹیرھی شعاعیں جو آفتاب کے چمکنے سے قبل نظر آتی ہیں ۔ قربانی کی گھاس ہیں جو ویدی (دیوتاؤں کی گدی) پر بچھائی جاتی ہے اور ویدی مشرق ہے ۔ برق کی صورت میں اگنی سمندر میں پایا جاتا ہے ۔ جہاں سے آسمانی قربانی کرنے والے اپنی انگلیوں سے اسے نکالتے ہیں اور پہاڑ (سیاہ بادل) کو بھی توڑ کر نکالا جاتا ہے ۔ طوفان باد و باراں کے واقعات کو بھی بہ آسانی سوما کی قربانی کے مشابہ قرار دے سکتے ہیں ۔ اگر سوما کی زمین کی قربانی کی نشانیوں کو برعکس کر دیا جائے ۔ رگ وید کی نویں جلد میں جو سوما کے متعلق ہے یہی عمل کیا گیا ہے ۔ جس سے پڑھنے والا یہ تمیز نہیں کرسکتا ہے کہ آسمانی قربانی کا بیان ہے یا زمین کی قربانی کا ۔ سوما دیوتاؤں کا گھوڑا ہے جو گھڑ دوڑ جیتنے کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ بہنیں یا کنواری لڑکیاں پانی میں جو اسے چھوتا ہے جیسے کہ دس انگلیاں ہوما کے پودا کے ڈنتھل کو ۔ گرج ماروتوں یا انگیراؤں کے گانے سے بھجنوں کے پڑھنے اور چکی کی آواز سے مراد ہے ۔ آسمان چھلنی یا چھاننے کا کپڑا ہے ۔ سمندر کے پڑھنے اور چکی کی آواز سے مراد ہے ۔ سمندر وہ دیگ ہے جس میں یہ آسمانی شراب بنائی جاتی ہے ۔ زمین وہ برتن ہے جس میں شراب گرتی ہے ۔ آسمانی گائیں جن میں سانڈ سوما ہے دودھ جو شراب میں ڈالا جاتا ہے اور اگنی (بصورت برق) وہ پجاری ہے جو عمدگی کے ساتھ قربانی کرتا ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ قربانی کے جملہ رسوم مع پجاریوں کے نذریں ، چڑھاوے اور دیگر لوزمات کے زمین سے آسمان پر منتقل کردیئے جاتے ہیں ۔
اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آسمان پر قربانی کرنے والے کون تھے ۔ اس کا جواب صریح یہ ہے کہ اجداد قدیم یا پتری جملہ رسوم مع پجاریوں ، نذروں ، چڑھاوے اور دیگر لوازمات کے زمین سے آسمان پر منتقل کر دیئے جاتے ہیں ۔
اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زمین پر قربانی والے کون تھے ۔ اس کا صریح جواب یہ ہے کہ یعنی اجداد قدیم پتری جو نہ صرف پجاریوں کے ممتاز خاندان بنی نوع انسان یا کم از کم قوم آریا کے مورث تھے ۔ یہ لوگ نیم دیوتا اور آسمان پر قربانی کے موجد خیال کیے جاتے تھے ۔ جنہوں نے اپنے زمین پر رہنے والے اخلاق کو یہ علم اور قوت ورثہ میں دیئے تھے ۔ رگ وید کے مختلف مقامات سے اس قول کی تصدیق ہوتی ہے ۔ مگر قطعی تصدیق ایک بھجن (دہم ۱۸۱) سے ہوتی ہے ۔ جس میں نہ صرف بیان کیا گیا ہے کہ وسشٹھا بھارا دراج قدیم قربانی کرنے والوں کی ایک جماعت کا نام مذکور نہیں ہے ۔ آسمان ، آفتاب خالق درخشاں ، سوتیار اور وشنو سے کوئی نذر یا دعا لے آئی یا اس کو عام کیا بلکہ اسی جماعت نے قربانی کا اصل جوہر بھی معلوم کیا جو ان کی دسترس سے باہر اور پہناں تھا (اشلوک ۲) اور انہوں نے دعا سے گری ہوئی قربانی کو پایا جو پہلی قربانی تھی جو دیوتاؤں تک پہنچی ۔ لفظ گری کو ذہن نشین کرلیا جائے ۔ مثل آگ کے قربانی بھی آسمان سے گری ہے اور انسان اس کو دیوتاؤں کو واپس بھیجتے ہیں ۔ جیسے کہ آگ آسمان کو واپس جاتی ہے ۔ 

ٍ اس لحاظ سے آسمان کی قربانی اصل ہے ، زمین کی قربانی نقل ، مگر نقل نقل کی حد تک نہیں ہے بلکہ دونوں میں کامل یگانت ہے ۔ کیوں دونوں کے جزو اعظم ایک ہی ہیں ۔ یعنی اگنی اور سوما اور اسی لیے دونوں میں یکساں اثر اور قوت ہے ۔ ذیل کی عبارت اس خیال کی تائید کرتی ہے ۔
’’جیسے کہ تو نے اے اگنی ہوتر کی خدمت زمین پر انجام دی ، جیسے تونے اے جات دیو ہوتر کی آسمان پر انجام دی ، اسی طرح اس نذر کو دیوتاؤں کو چڑھا اور ہماری آج کی قربانی کو ویسا ہی مقبول بنا ، جیسے تو نے منو کی قربانی کو مقبول بنایا تھا ۔ (پہلے بیان ہوچکا ہے کہ منو نے جو قربانی کی اس سے زمین ازسر نو آباد ہوگئی) ۔
مگر رگ وید کی ان عبارتوں کو یکے بعد دیگر پڑھنے سے جن میں آسمانی قربانی کا ذکر آیا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کرنے والوں نے نہ صرف اجداد قدیم تھے بلکہ دیوتا بھی تھے ۔ مگر نتیجہ ایک ہی ہے یعنی وہ اگنی کو تلاش کوکے فوراً اپنا ہوتر اور پروہت مقرر کردیتے ہیں اور خود اس کے پج مان (جس کے لیے قربانی کی جائے) بن جاتے ہیں ۔ خواہ وہ برق کی صورت ہو یا آفتاب کی ۔ کیوں کہ ایک مقام پر سوریا کو دیوتاؤں کا پروہت کہا گیا ہے ۔ (ہشتم ۹۰۔۱۹)
ایک شاعر کہتا ہے اے زبردست اگنی ! مترا اور وارن اور سب ماروت تیری تعریف کے بھجن گاتے تھے ۔ جب تو اے سوریا اقوام انسانی پر طلوع ہوا ۔ اس کا مطلب بالکل صاف ہے اور ذیل کا شعر ’’اگنی کی توصیف کی ، انہوں نے اسے گھی کھلایا ، اس کے لیے متبرک گھاس بچھائی اور اس کو اپنا پجاری بناتے ہی وہ اگنی کو اپنا قاصد بھی بتاتے ہیں’’(یہ آگ کی زمین پر آنے کی ایک دوسری شکل ہے) ایک بھجن (دہم ۸۸) جس کے اکثر اشعار میں دیوتاؤں کی قربانی کا ذکر ہے ۔ ’’زمین تاریکی میں چھپی ہوئی تھی ، دیوتاؤں نے قربانی کی جس سے اگنی پیدا ہوا ، زمین اور آسمان میں اس کی خوشی ہوئی ۔ جب کہ اس نے چمک سے دونوں عالموں اور کرہ ہوائی کو منور کردیا ۔ اس اگنی (آگ جو آسمان پر روشن ہوئی) میں عقل مند اور مقدس دیوتاؤں نے بھجن گا کر اپنی نذریں ڈال دیں اور اس کے تین حصے کرکے ایک کو سوریا کی صورت میں آسمان پر رکھ دیا’’ جس کی روشنی کبھی بجھتی نہیں ، جو ہمیشہ گردش میں رہتا ہے اور جو ہر روز چمکتا ہے’’ اس طویل اور پراسرار بھجن کا یہی خلاصہ ہے ۔
اب ایک سوال اور باقی ہے جس کا جواب دینا آسان نہیں ہے یہ آسمانی قربانی کس لیے تھی ؟ اجداد قدیم کے متعلق تو اس سوال کا جواب بہ آسانی دیا جاسکتا ہے ۔ یعنی وہ دیوتاؤں کی قربانی کرتے تھے ۔ مگر دیوتاؤں کی قربانی کس کے لیے کس لیے تھی ۔ دو عبارتوں میں اس کا جواب موجود ہے جو بعد کے زمانہ کی ہیں ۔ ان میں سے ایک تو غیر واضح ہے ۔ مگر دوسری قطعی ہے ۔ (دہم ۹۰۔۱۶) میں مذکور ہے ’’دیوؤں نے قربانی سے قربانی کرنے کا حق حاصل کرلیا اور اعلی ترین آسمان پر پہنچ گئے جہاں قدیم دیوتا رہتے ہیں’’۔ دوسری عبارت (دہم ۱۵۱۔۱۳) شرادھ (ایمان) کے بھجن میں ہے ’’جیسے کہ دیوتا ایمان کے ساتھ زبردست اسوروں کی پرستش کرتے تھے’’۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دیو اسوروں یعنی دیاؤس اور وارن اور غالباً آورا ، تویشتار اور پراجنیا ایسے قدیم دیوتاؤں کی قربانی کرتے تھے ۔ یعنی بعد کے زمانے میں ہندی آریوں کے دیوتا قدیم آریا دیوتاؤں کی قربانی کرتے تھے ۔ جن کا مسکن اعلیٰ ترین آسمان میں ہے اور جن کی حکومت سب پر ہے ۔ رفتہ رفتہ ان قدیم دیوتاؤں کی جگہ نئے دیوتاؤں نے لے لی ۔
برگین کا خیال ہے کہ اسور کے معنوں میں جو تغیر ہوا ہے اس کا باعث یہی ہے ۔ بعد کے زمانے کے ہندی دیوتاؤں کے پیرؤں کو عظیم انشان اور بھیانک قدیم آریائی دیوتاؤں سے بغض ہوگیا اور رفتہ رفتہ یہ بغض ان دیوتاؤں میں میں منتقل ہوگیا اور دشمن خیال کئے جانے لگے ۔ یونانیوں کے دیوتاؤں کے انساب میں اس قسم کی باتیں موجود ہیں ۔
آریوں کی مذہبی بلند پروازی کی صرف ایک منزل باقی رہ گئی ہے ۔ بہت سے بھجن ایسے ہیں جن میں بہت سے دیوتاؤں کی یا تمام دیوتاؤں کو مجموعی طور پر مخاطب کیا ہے ۔ ان میں (دہم ۶۵) قابل تعریف ہے ۔ جس میں تمام عظیم انشان فطری دیوتاؤں کو نام بنام مخاطب کیا گیا ہے اور ہر ایک کے خواص اور فرائض کو بالاختصار بیان کیا گیا ہے ۔ اس بھجن کو وید کے افسانوں کا خلاصہ کہہ سکے ہیں ۔ اسی میں ذیل کا عجیب و غریب شعر ہے ۔
ــــ’’اگنی کی زبان سے پینے والے ، آسمانی جوہر والے ، پاک باطن ، وہ مقام مقدس کے وسط میں بیٹھے ہیں ، انہوں نے پانی کو اوپر سے گرایا ۔ قربانی کو پیدا کرکے انہوں نے قربانی اپنی ذات کو پیش کی’’۔
دوسری عبارتوں میں بھی یہی خیال مضمر ہے مگر واضح نہیں ہے اور اس کی مختلف تاویلیں کی گئی ہیں ۔ مگر عبارت منقولہ بالا میں کوئی شک نہیں ۔ مگر ہمارے دلوں میں یہ خیال جم گیا ہے کہ قربانی صرف کسی اعلیٰ تر ہستی کے لیے اظہار تشکر عبودیت کے لیے کی جاتی ہے اور ان اعلیٰ ہستیوں کا اپنی ذات کو قربانی پیش کرنا لغو معلوم ہوتا ہے ۔ لیکن ہم قربانی Sacrifice کے لغوی معنی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ لاطینی میں اس کے اصل معنی مقدس فعل کے ہیں اور نذر کے لیے مناسب لفظ Oblation ہے تو یہ معمہ حل ہوجائے گا ۔ اس تاویل کے لحاظ سے آسمانی قربانی ایک مقدس فعل ہے جو دیوتا اپنی ذات کو خوش کرنے کے لیے کرتے ہیں ۔ یہ خیال لغو یا خلاف عقل نہیں ۔ کتھاؤں کے مابعدالطبیات کی یہ انتہا ہے اور اس منزل پر پہنچ کر غالباً ہم نے آریوں کی اعلیٰ ترین آسمانی قربانی کی ماہیت کو معلوم کرلیا ۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں